کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 9706
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ قَالَ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ فَذَكَرْتُهُ فَأَبْكَانِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الشِّرْكَ وَالشَّهْوَةَ الْخَفِيَّةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ قَالَ نَعَمْ أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا وَلَكِنْ يُرَاؤُونَ بِأَعْمَالِهِمْ وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضُ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكُ صَوْمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبادہ بن نُسی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رونے لگے، کسی نے ان سے کہا: تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ یاد آ گئی تھی، اس لیے رونے لگ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میں اپنی امت پر شرک اور مخفی شہوت کے بارے میں ڈرتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خبردار! وہ سورج، چاند، پتھراور بت کی عبادت نہیں کرے گی، وہ اپنے اعمال کے ذریعے ریاکاری کریں گے اور مخفی شہوت یہ ہے کہ بندہ صبح کو روزہ رکھے، پھر اس کی کوئی شہوت اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ روزہ توڑ دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دکھاوے، تصنع، عدم خلوص، نفاق، نمود و نمائش اور شہرت طلبی جیسے امورِ خبیثہ کو سامنے رکھ کر کوئی ایسا کام کرنا، جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کے لیے سرانجام دیا جاتا ہے، اسے ریاکاری کہتے ہیں۔
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمُ الشِّرْکُ اْلأَصْغَرُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الشِّرْکُ الأَصْغَرُ؟ قال: ((اَلرِّیَائُ،یقولُ اللّٰہُ عزَّ وجلَّ لِأَصْحَابِ ذَالِکَ یومَ القِیامَۃِ إِذَا جَازٰی النَّاسَ: اِذْھَبُوْا إِلٰی الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُرَاؤُوْنَ فِی الدُّنْیَا، فَانْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ عِنْدَھُمْ جَزَائً؟)) … مجھے تمھارے حق میں سب سے زیادہ ڈر شرکِ اصغر کا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: شرکِ اصغر کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ریاکاری کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن جب لوگوں کو بدلہ دے گا تو ریاکاروں سے کہے گا: ان ہستیوں کی طرف چلے جاؤ، جن کے سامنے دنیا میں ریاکاری کرتے تھے اور دیکھ آؤ کہ آیا ان کے پاس کوئی بدلہ ہے؟ (أحمد: ۵/۴۲۸و۴۲۹، صحیحہ: ۹۵۱)
امام مبارکپوریl نے کہا: لوگوں کو دکھانے کی خاطر عبادت کا اظہار کرنا، تاکہ لوگ اس عبادت گزار کی تعریف کریں۔ جبکہ امام غزالیl نے کہا: ریاکاری کا اصل معنی لوگوں کو محمود اور قابل تعریف خصائل دکھا کر ان کے دلوں میں مقام حاصل کرنا ہے، تو ریاکاری کی تعریفیہ ہوئی کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کے امور سر انجام دینا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۷۹)
ریاکار عارضی طور پر لوگوں کی نظروں میں تو متقی اور پارسا بن جاتا ہے، لیکن اپنے عمل کو برباد اور اس کے اجر کو ضائع کر دیتا ہے، یہ ریاکاری کی شناعت و قباحت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی عبادات میں اخلاص پیدا کریں اور ریاکاری، خوشامد اور چاپلوسی جیسے غیر اخلاقی امور سے مکمل اجتناب کریں۔
شرک اکبر اور شرک صریح کا مرتکب دائمی جہنمی ہے۔ ریاکاری جیسا شرک اصغر قابل معافی جرم ہے، اگر معاف نہ ہوا تو اس کی سزا بھگتنے کے لیے عارضی طور پر جہنم میں جانا پڑے گا۔
آج کل مقابلہ بازی کا دور ہے اور ہمارے ہاں کئی اعمال کی بنیاد دوسرے کو دکھانے اور اپنے آپ کو ظاہر کرنے پر ہے، مثلا نمازِ جنازہ میں شرکت، کسی کی دعوت کرنا یا کسی کی دعوت قبول کرنا، کسی سے حسن اخلاق سے پیش آنا، یہ امور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے نہیں، بلکہ ذاتی دوستی و دشمنی کی بنا پر سر انجام دیئے جا رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9706
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدّا، عبد الواحد بن زيد البصري متروك الحديث، أخرجه ابن ماجه: 4205 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17250»
حدیث نمبر: 9707
عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ يُنَادِي مُنَادٍ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَدًا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابی سعید بن ابو فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: جس بندے نے اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیا، لیکن اس نے اس میں کسی اور کو بھی شریک کر دیا تھا تو وہ اُسی غیر اللہ کے پاس اس کا ثواب تلاش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: میں شریکوں میں شرک سے سب سے بڑھ کر غنی ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9707
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3154، وابن ماجه: 4203 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17888 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18047»
حدیث نمبر: 9708
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ مَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا فَأَشْرَكَ غَيْرِي فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں شرکاء میں بہترین شریک ہوں، جو میرے لیے عمل کرتا ہے اور پھر اس میں میرے غیر کو بھی شریک کر لیتا ہے تو میں اس سے بری ہو جاتا ہوں اور وہ اسی کے لیے ہو جاتا ہے، جس کو وہ شریک کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9708
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7987»
حدیث نمبر: 9709
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ قَالَ قَالَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ ابْنُ غَنَمٍ لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِيَةِ أَنَا وَأَبُو الدَّرْدَاءِ لَقِينَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَأَخَذَ يَمِينِي بِشِمَالِهِ وَشِمَالَ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَمِينِهِ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَنَا وَنَحْنُ نَتَنَاجَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ فِيمَا نَتَنَاجَى وَذَلِكَ قَوْلُهُ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لَئِنْ طَالَ بِكُمَا عُمْرُ أَحَدِ كُمَا أَوْ كِلَا كُمَا لَتُوشِكَانِ أَنْ تَرَيَا الرَّجُلَ مِنْ ثَبَجِ الْمُسْلِمِينَ يَعْنِي مِنْ وَسَطٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ (وَفِي رِوَايَةٍ عَلَى لِسَانِ أَخِيهِ قِرَاءَةً عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ وَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ لَا يَحُورُ فِيكُمْ إِلَّا كَمَا يَحُورُ رَأْسُ الْحِمَارِ الْمَيِّتِ قَالَ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَجَلَسَا إِلَيْنَا فَقَالَ شَدَّادٌ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِنَ الشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ وَالشِّرْكِ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ اللَّهُمَّ غُفْرًا أَوَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَأَمَّا الشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا هِيَ شَهَوَاتُ الدُّنْيَا مِنْ نِسَائِهَا وَشَهَوَاتِهَا فَمَا هَذَا الشِّرْكُ الَّذِي تُخَوِّفُنَا بِهِ يَا شَدَّادُ فَقَالَ شَدَّادٌ أَرَأَيْتُكُمْ لَوْ رَأَيْتُمْ رَجُلًا يُصَلِّي لِرَجُلٍ أَوْ يَصُومُ لَهُ أَوْ يَتَصَدَّقُ لَهُ أَتَرَوْنَ أَنَّهُ قَدْ أَشْرَكَ قَالُوا نَعَمْ وَاللَّهِ إِنَّ مَنْ صَلَّى لِرَجُلٍ أَوْ صَامَ لَهُ أَوْ تَصَدَّقَ لَهُ فَقَدْ أَشْرَكَ فَقَالَ شَدَّادٌ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ ذَلِكَ أَفَلَا يَعْمِدُ إِلَى مَا ابْتُغِيَ فِيهِ وَجْهُهُ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ كُلِّهِ فَيَقْبَلَ مَا خَلَصَ لَهُ وَيَدَعَ مَا يُشْرِكُ بِهِ فَقَالَ شَدَّادٌ عِنْدَ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ لِمَنْ أَشْرَكَ بِي مَنْ أَشْرَكَ بِي شَيْئًا فَإِنَّ حَشْدَهُ عَمَلَهُ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لِشَرِيكِهِ الَّذِي أَشْرَكَ بِهِ وَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن غنم کہتے ہیں: جب میں اور سیدنا ابو درداء جابیہ کی مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ملے، انھوں نے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ اور دائیں ہاتھ سے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا اور ہمارے درمیان چلنے لگے، ہم سرگوشی کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم کس چیز میں سرگوشی کر رہے تھے، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم میں سے ایک کی یا دونوں کی عمر لمبی ہو گئی تو ممکن ہے کہ تم یہ دیکھو کہ درمیانے قسم کے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا ایک آدمی ہو گا، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان کے مطابق قرآن مجید پڑھے گا، پھر وہ اس کو بار بار پڑھے گا اور اس کو ظاہر کرے گا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے گا اور اس کے احکام کا پابند رہے گا، لیکن پھر بھی وہ تمہارے پاس اتنی خیر لائے گا، جتنی کہ مردار گدھے کا سر لاتا ہے، (یعنی وہ آدمی ذرا برابر خیر و بھلائی لے کر نہیں آئے گا)۔ ہم اسی اثنا میں تھے کہ سیدنا شداد بن اوس اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئے، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس چیز کا ہے، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مخفی شہوت اور شرک ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ! بخشنا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ شیطان اس چیز سے ناامید ہو گیا ہے کہ جزیرۂ عرب میں اس کی عبادت کی جائے؟ البتہ مخفی شہوت کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی شہوات ہوتی ہیں، ان کا تعلق عورتوں سے اور ان کی شہوات سے ہوتا ہے، لیکن شداد! یہ شرک کیا چیز ہے، جس کے بارے میں تم ہمیں ڈرا رہے ہو؟ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا اس کے بارے میں تم مجھے بتلاؤ کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھ رہا ہو، یا روزہ رکھ رہا ہو، یا صدقہ کر رہا ہو، کیا اس کے بارے میں تمہاری رائے یہی ہے کہ اس نے شرک کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! جس آدمی نے کسی آدمی کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی،یا روزہ رکھا، یا صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے روزہ رکھا، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے صدقہ کیا، اس نے شرک کیا۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کیااس طرح نہیں ہو گا کہ اس کے وہ اعمال دیکھے جائیں جو اس نے خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے کیے ہوں اور ان کو قبول کر لیا جائے اور شرکیہ اعمال کو چھوڑ دیا جائے؟ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے میرے ساتھ شرک کیا، میں اس کا سب سے بہترین قسیم اور حصہ دار ہوں، جس نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرایا تو اس آدمی کے اعمال کی ساری جمع پونجی، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اس کے اس ساجھی کے لیے ہو جائے گی، جس کے ساتھ وہ شرک کرے گا اور میں (اللہ) اس سے غنی ہوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9709
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه الطبراني في الكبير : 7139، والحاكم: 4/ 329، والطيالسي: 1120 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17270»
حدیث نمبر: 9710
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ رَاءَ رَاءَ اللَّهُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مشہور کر دے گا اور جس نے (خلافِ حقیقت) نیکی کا اظہار کرنا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کا اظہار کروا دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … طلبی، ریاکاری، نمودو نمائش اور دکھلاوے جیسی چیزوں کا طلبگار ہونا انتہائی کمینگی اور گھٹیا پن ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دنیا میں ان کی خواہش کے مطابق مشہور کر دیتے ہیں، پھر ان کی باتیں بھی سنی جاتی ہیں اور عزت تو عزت، ان کی چاپلوسی اور خوشامد تک کی جاتی ہے، لیکن میدانِ حشر میں ذلیل ہو جائیں گے، شہرت سے مراد روزِ قیامت کی ذلت بھی ہو سکتی ہے، یعنی قیامت کے روز ان کو لوگوں کے سامنے ذلیل کیا جائے گا، اس طرح سے ان کی شہرت ہو جائے گی اور ہر ایک پر ان کا معاملہ واضح ہو جائے گا۔
مومن کو چاہئے کہ اپنے عمل میں خلوص پیدا کرے اور اس معاملے میں اچھی خاصی فکر پیدا کرے، امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مَا عَالَجْتُ شَیْئًا اَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ نِیَّتِیْ، لِاَنَّھَا تَتَقَلَّبُ عَلَیَّ۔ … میں نے کسی چیز کا علاج نہیں کیا، جو میرے لیے سب سے زیادہ مشکل ہو، ما سوائے نیت کے، یہ نیت تو مجھ پر الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔
یہ اتنے بڑے امام کی فکر اور رائے ہے، ہم کیسے فرق کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو، آمین۔ مزید ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۸۸۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9710
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3691 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20730»
حدیث نمبر: 9711
عَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ رَاءَى اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ریاکای اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا اظہار کروا دے گا اور اس کو مشہور کر دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9711
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 2748، والبزار: 2026، والطبراني في الكبير : 22/ 803 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22678»
حدیث نمبر: 9712
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ الْكِنَانِيِّ وَكَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّمْلَةِ أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ لِبَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ يَوْمَ قُتِلَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ يَا أَبَا الْيَمَانِ قَدِ احْتَجْتُ الْيَوْمَ إِلَى كَلَامِكَ فَقُمْ فَتَكَلَّمْ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ قَامَ بِخُطْبَةٍ لَا يَلْتَمِسُ بِهَا إِلَّا رِيَاءً وَسُمْعَةً أَوْقَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَوْقِفَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن عوف کنانی، جو کہ عمر بن عبد العزیزi کی طرف سے رملہ پر عامل تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عبد الملک بن مروان کے پاس موجود تھا، اس نے عمرو بن سعید بن عاص کے قتل والے دن بشیر بن عقربہ جہنی سے کہا: اے ابو الیمان! آج مجھے تیرے کلام کی ضرورت پڑ گئی ہے، لہٰذا اٹھو اور کوئی بات کرو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو خطاب کرنے کے لیے کھڑا ہوا، جبکہ کا اس کا مقصد صرف ریاکاری اور شہرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ریاکاری اور شہرت والے مقام پر کھڑا کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ریاکاری اور شہرت والے مقام سے مراد وہ مقام ہے، جہاں اس کو ریاکاری کا بدلہ دیا جائے گا اور اس میں اس کی اس برائی کو ظاہر کر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9712
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 1227 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16170»
حدیث نمبر: 9713
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ وَصَغَّرَهُ وَحَقَّرَهُ)) قَالَ فَذَرَفَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کے سامنے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق کے سامنے مشہور کر دے گا، لیکن پھر اس کو گھٹیا اور حقیر کر دے گا۔ پھر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔
وضاحت:
فوائد: … ریا کار آدمی دنیا میں بھی سلیم الفطرت اور متقی مومنوں کے نزدیک گھٹیا سمجھا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی مومنوں کے دلوں میں اس کی حقیقی محبت پیدا نہیں ہونے دیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9713
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6509»
حدیث نمبر: 9714
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّجَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِيُّ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ وَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى قُتِلْتُ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ لِيُعَرِّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ مِنْكَ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ فَقَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ لِيُقَالَ هُوَ عَالِمٌ فَقَدْ قِيلَ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ ذَلِكَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَّادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: جب لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ارد گرد سے بکھر گئے تو اہل شام کے ایک ناتل نامی آدمی نے کہا: محترم! ہمیں کوئی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے روز سب سے پہلے ان (تین قسم کے) افراد کا فیصلہ کیا جائے گا: (۱)جس آدمی کو شہید کیا گیا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تو کیا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا،حتی کہ شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھو ٹ بول رہا ہے، تو نے تو اس لئے جہاد کیا تھا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے اور ایسے (دنیا میں) کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۲) علم سیکھنے سکھانے اور قرآن مجید پڑھنے والا آدمی، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ اقرار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیری خاطر علم سیکھا سکھایا اور تیرے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، حصولِ علم سے تیرا مقصدیہ تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا کہ قاری کہا جائے، سو ایسے تو کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۳)وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے خوشحال و مالدار بنایا اور اسے مال کی تمام اقسام عطا کیں، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کروائے گا ، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: جن مصارف میں خرچ کرنا تجھے پسند تھا، میں نے ان تمام مصارف میں تیرے لئے خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تیرا خرچ کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے او روہ تو کہہ دیا گیا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا، جس کے مطابق اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ ریاکاروں کا سخت محاسبہ ہو گا۔ شریعت ِ اسلامیہ کا تقاضا ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا، چاہے بظاہر وہ عمل کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ریاکاری کی وجہ سے اس پر ثواب ملنے کی بجائے، عذاب ہو گا اور ایسا نیکوکار جنت کے بجائے جہنم میں جائے گا۔
معلوم ہوا کہ ہر نیک عمل کرنے اور ہر برائی سے بچنے سے پہلے اس چیز کا تعین کر لیا جائے کہ اس عمل کا مقصود کیا ہے، اگر مقصود اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو راضی کرنا ہو تو سرے سے وہ لوگوں کے سامنے نہ کیا جائے، نیز اللہ تعالیٰ سے خلوصِ نیت کی بکثرت دعا کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9714
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1905 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8260»
حدیث نمبر: 9715
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيتُ عِنْدَهُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ وَيَطْرُقُهُ أَمْرٌ مِنَ اللَّيْلِ فَيَبْعَثُنَا فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَهْلُ النَّوْبِ فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ ((مَا هَذِهِ النَّجْوَى أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى)) قَالَ قُلْنَا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ فِي ذِكْرِ الْمَسِيحِ فَرَقًا مِنْهُ فَقَالَ ((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمَسِيحِ عِنْدِي)) قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ ((الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ لِمَكَانِ رَجُلٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے کی باریاں مقرر کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزارتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی ضرورت پڑتی تھی اور رات کو کوئی معاملہ پیش آتا تھا تو ہمیں اٹھا دیتے تھے، اس طرح ثواب کی خاطر آنے والوں اور باری والوں کی تعداد بڑھ جاتی تھی، ایک رات ہم گفتگو کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: یہ سرگوشی ہو رہی ہے؟ میں نے تم کو سرگوشی سے منع نہیں کیا تھا؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور دجال سے ڈرتے ہوئے اس کی بات کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دے دوں، جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خوف والی ہے؟ ہم نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرکِ خفی،یعنی کسی آدمی کے مرتبے کی خاطر عمل کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی اور ریاکاری جیسی آزمائش کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9715
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف كثير بن زيد الاسلمي وربيح بن عبد الرحمن، أخرجه ابن ماجه: 4204 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11272»
حدیث نمبر: 9716
عَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا)) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ فَرَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ ((إِنَّكُمْ لَنْ تَنَالُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ)) قَالَ ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَحْرُسُهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي بِالْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((كَلَّا إِنَّهُ أَوَّابٌ)) قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ذُو الْبِجَادَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کام کے لیے نکلے، جب مجھے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑ لیا، پس ہم چل پڑے اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند تلاوت کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ یہ ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ قرآن کی بلند آواز سے تلاوت کر رہا ہے، (بھلا اس میں کیا حرج ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا: تم اس دین کو غلبے کے ساتھ نہیں پا سکتے۔ وہ کہتے ہیں: پھر ایکرات کو ایسے ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ضرورت کے لیے نکلے، جبکہ میں ہی پہرہ دے رہا تھا، (اسی طرح) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا (اور ہم چل پڑے) اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ اب کی بار میں نے کہا: قریب ہے کہ یہ شخص ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (میرا ردّ کرتے ہوئے) فرمایا: ہر گز نہیں،یہ تو بہت توبہ کرنے والا ہے۔ جب میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبد اللہ ذو االبجادین تھے۔
وضاحت:
فوائد: … بلا شک و شبہ از روئے شریعت نماز میں بآوازِ بلند قرآن مجید کی تلاوت کرنا درست ہے، جیسا کہ اس حدیث کے دوسرے حصے سے بھی ثابت ہو رہا ہے۔ اس حدیث کے پہلے حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس شخص میں ریاکاری کا امکان ظاہر کیا ہے، یقینایہ قرائن یا بصیرتیا وحی کی بنا پر تھا، کیونکہ جب آپ کے ساتھی سیدنا ابن ادرع نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سابقہ حدیث کو نمونہ بناتے ہوئے یہی بات سیدنا عبد اللہ ذو البجادین کے بارے میں کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ردکر دیا، حالانکہ دونوں بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔
ہاں پہلے شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ کہنا کہ تم اس دین کو غلبے کے ساتھ اس دین کو نہیں پا سکتے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یا تو ایسے مقام پر کھڑا تھا کہ اس کے عمل کا بہت زیادہ اظہار ہو رہا تھا اور یہ چیز ریاکاری کا سبب بن سکتی ہے یابہت طویل قیام کر رہا تھا یا اس کی آواز بہت زیادہ بلند تھی، اس طرح وہ اعتدال اور میانہ روی سے آگے بڑھ رہا تھا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم کسی شخص پر ریاکاری کا الزام نہیں لگا سکتے، دونوں آدمی بلند آواز سے تلاوت کر رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کے بارے میں ریاکاری کے شبہ کا اظہار کر دیا، جبکہ دوسرے کے بارے میں کلمۂ خیر کہا۔ ہاں لوگوں کو غلوّ اور افراط سے بچنے کی اور اعتدال کے ساتھ عبادت کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔
اگرچہ آج کل تبصرے کا دور ہے، بری تو بری، دوسروں کی اچھی خصلتوں پر بھی ناقدانہ تبصرہ کیا جاتا ہے یا اچھے شخص کی کمی کوتاہیوں کو ہوا دے کر تبصرہ نگار بزعم خود اپنے آپ کو انسانِ کامل خیال کرتا ہے۔ ایک مسجد کی انتظامیہ کا ایک فرد مسجد کے خادم پر اس بنا پر تبصرہ کر رہا تھا کہ وہ فجر کی اذان بغیر وضو کے دے دیتاہے، میں نے اس سے پوچھا کہ آپ خود نمازِ فجر ادا کرتے ہیں؟ جناب نے منفی میں جواب دیا۔ ہائے خرابی! نماز سے محروم شخص اس بندۂ خدا پر نقد کر رہا ہے، جو فجر کی اذان دیتا ہے اور لوگوں کو باجماعت نمازِ فجر پڑھاتا ہے۔ جرم ہے بغیر وضو کے اذان دینا، جو شریعت میں سرے سے غلطی ہی نہیں ہے، اگرچہ افضل عمل یہی ہے کہ طہارت کا اہتمام کیا جائے۔
قارئین کرام! التماس یہ ہے کہ اگر کسی شخص میں نیکی کے آثار پائے جاتے ہیں تو ان کو قبول کرنا چاہیے اور اس بنا پر اس کی قدر کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9716
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به ھشام بن سعد، وھو ضعيف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19180»