کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
حدیث نمبر: 9660
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَغَارُ قَالَ ((وَاللَّهِ إِنِّي لَأَغَارُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي وَمِنْ غَيْرَتِهِ نَهَى عَنِ الْفَوَاحِشِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: کیا آپ غیرت نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک میں غیرت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور یہ اس کی غیرت کا ہی تقاضا ہے کہ اس نے گندے کاموں اور بدکاریوں سے منع کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کے حرام کردہ امور سے اجتناب کریں اور فرائض و مستحبّات پر عمل کریں۔
حدیث نمبر: 9661
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((الْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَاللَّهُ يَغَارُ وَمِنْ غَيْرَةِ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ شَيْئًا حَرَّمَ اللَّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی غیرت کرتاہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا ہے کہ مؤمن وہ کام نہ کرے،جو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 9662
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((الْمُؤْمِنُ الْمُؤْمِنُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا يَغَارُ يَغَارُ وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن، مؤمن، غیرت کرتاہے، غیرت کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیرت کرتاہے۔
حدیث نمبر: 9663
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ وَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِدْحَةٌ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے اپنی بیوی کے ساتھ کوئی آدمی دیکھ لیا تو میں اس پر سیدھی تلوار چلاؤں گا، جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں سعد کی غیرت سے تعجب ہو رہا ہے، اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے ظاہری اور باطنی گندے کاموں اور بدکاریوں کو حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو عذر زیادہ پسند ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰنے رسولوں کو خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو تعریف زیادہ پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 9664
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ لَيْسَ ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلُهُ سَوَاءٌ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ لَيْسَ حَدِيثٌ أَشَدَّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ ((لَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِدْحَةً مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عبید اللہ قواریری کہتے ہیں: یہ حدیث جہمیہ پر سب سے زیادہ سخت ہے: اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو تعریف زیادہ پسند ہو۔
وضاحت:
فوائد: … جہمیہ سے مراد جہنم بن صفوان کے پیروکار ہیں، ان کا ایک نظریہیہ تھا کہ انسان نہ کسی چیز پر قدرت رکھتا ہے اور نہ وہ استطاعت سے متصف ہے، بلکہ وہ اپنے اقوال و افعال میں تقدیر کے سامنے مجبور ہے، اس معاملے میں اس کا ذاتی اختیار کوئی نہیں ہے۔
جہمیہ انسان کو مجبور محض سمجھتے ہیں۔ اگر آدمی مجبور محض ہو تو نہ اس کی تعریف ہوسکتی ہے اور نہ اسے جنت کی خوشخبری دینے کا کوئی فائدہ ہے۔ جبکہ حدیث میں اللہ کی طرف سے جنت کے وعدہ کا تذکرہ ہے۔ اس لیےیہ حدیث ان کے جبریہ نظریہ کے سخت خلاف ہے۔ (عبداللہ رفیق)
جہمیہ انسان کو مجبور محض سمجھتے ہیں۔ اگر آدمی مجبور محض ہو تو نہ اس کی تعریف ہوسکتی ہے اور نہ اسے جنت کی خوشخبری دینے کا کوئی فائدہ ہے۔ جبکہ حدیث میں اللہ کی طرف سے جنت کے وعدہ کا تذکرہ ہے۔ اس لیےیہ حدیث ان کے جبریہ نظریہ کے سخت خلاف ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 9665
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ((لَا شَيْءَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر غیرت مند نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 9666
عَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُولُ ((لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ)) وَحَلَّقَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے ہلاکت ہے، جو قریب آ گئی ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار سے اتنا حصہ کھول دیا گیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلقہ بنا کر دکھایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے، جب کہ ہمارے اندر نیک لوگ بھی ہو ں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں جب برائی عام ہو جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … یاجوج و ماجوج کا ظہوراس وقت ہو گا، جب عیسی علیہ السلام دوبارہ زمین میں اتریں گے، سوراخ کھلنے سے مراد یہ ہے کا یاجوج مأجوج کا زمانہ قریب آ چکا ہے۔
حدیث نمبر: 9667
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي الْأَرْضِ أَنْزَلَ اللَّهُ بِأَهْلِ الْأَرْضِ بَأْسَهُ)) قَالَتْ وَفِيهِمْ أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ((نَعَمْ ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب زمین میں برائی ظاہر ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اپنا عذاب زمین والوں پر نازل کر دے گا۔ سیدہ نے کہا: اور ان میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، لیکن پھر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … جب کسی معاشرے میں شرّ کی مقدار بڑھ جائے تو چند افراد کی نیکیوں کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ پوری قوم کو ہلاک کر دیا جاتا ہے، ہاں نیکوں کو یہ سہولت دی گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو پا لیں گے۔
حدیث نمبر: 9668
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس کے دونوں گواہوں پر، اس کو لکھنے والے پر، تل بھرنے والی پر، تل بھروانے والی پر، حلالہ کرنے والے پر، جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر اور صدقہ یا زکوۃ روکنے والے پر لعنت کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ سے بھی منع کیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … تل بھرنے سے مراد خواتین کا اپنے جسم میں تل بھرنا ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق تبدیل ہو جاتی ہے۔ تین طلاق والی عورت کو اس کے خاوند کے لیے حلال کرنے کی نیت سے جو نکاح کیا جاتا ہے، اس کو حلالہ کہتے ہیں، جو کہ لعنتی عمل ہے۔
حدیث نمبر: 9669
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ ((هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا)) قَالَ فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ قَالَ وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ ((إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي انْطَلِقْ وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا وَإِنَّا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ إِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ فَيَثْلَغُ بِهَا رَأْسَهُ فَيَتَدَهْدَهُ الْحَجَرُ هَاهُنَا فَيَتْبَعُ الْحَجَرَ يَأْخُذُهُ فَمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَالَ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ فَإِذَا هُوَ يَأْتِي أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ وَمَنْخِرَاهُ إِلَى قَفَاهُ وَعَيْنَاهُ إِلَى قَفَاهُ قَالَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الْأَوَّلِ حَتَّى يَصِحَّ الْأَوَّلُ كَمَا كَانَ ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِهِ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَالَ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ بَنَاءِ التَّنُّورِ قَالَ عَوْفٌ وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ وَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ قَالَ فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ وَإِذَا هُمْ يَأْتِيهِمْ لَهِيبٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ ضَوْضَوْا قَالَ قُلْتُ مَا هَؤُلَاءِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى نَهْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ أَحْمَرُ مِثْلُ الدَّمِ وَإِذَا فِي النَّهْرِ رَجُلٌ يَسْبَحُ ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي قَدْ جَمَعَ الْحِجَارَةَ فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا حَجَرًا قَالَ فَيَنْطَلِقُ فَيَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ كُلَّمَا رَجَعَ إِلَيْهِ فَغَرَ لَهُ فَاهُ وَأَلْقَمَهُ حَجَرًا قَالَ قُلْتُ مَا هَذَا قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَائِي رَجُلًا مَرْآةً فَإِذَا هُوَ عِنْدَ نَارٍ لَهُ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا قَالَ قُلْتُ لَهُمَا مَا هَذَا قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ مُعْشِبَةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ قَالَ وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِيلٌ لَا أَكَادُ أَنْ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ وَأَحْسَنِهِ قَالَ قُلْتُ لَهُمَا مَا هَذَا وَمَا هَؤُلَاءِ قَالَ فَقَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى دَوْحَةٍ عَظِيمَةٍ لَمْ أَرَ دَوْحَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ فَقَالَا لِي ارْقَ فِيهَا فَارْتَقَيْنَا فِيهَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ وَلَبِنِ فِضَّةٍ فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ فَاسْتَفْتَحْنَا فَفُتِحَ لَنَا فَدَخَلْنَا فَلَقِينَا فِيهَا رِجَالًا شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائِي وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَائِي قَالَ فَقَالَا لَهُمْ اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهْرِ فَإِذَا نَهْرٌ صَغِيرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّمَا هُوَ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ قَالَ فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا وَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ وَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ فَقَالَا لِي هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ قَالَ فَبَيْنَمَا بَصَرِي صَعُدًا فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ قَالَا لِي هَذَاكَ مَنْزِلُكَ قَالَ قُلْتُ لَهُمَا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا ذَرَانِي فَلْأَدْخُلُهُ قَالَ قَالَا لِي أَمَّا الْآنَ فَلَا وَأَنْتَ دَاخِلُهُ قَالَ فَإِنِّي رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ قَالَ قَالَا لِي أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ وَيَنَامُ عَنِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَةِ وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ يُشَرْشِرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ وَعَيْنَاهُ إِلَى قَفَاهُ وَمَنْخِرَاهُ إِلَى قَفَاهُ فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذِبَةَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي بَنَاءٍ مِثْلِ بَنَاءِ التَّنُّورِ فَإِنَّهُمُ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي يَسْبَحُ فِي النَّهْرِ وَيُلْقَمُ الْحِجَارَةَ فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا وَأَمَّا الرَّجُلُ كَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي رَأَيْتَ فِي الرَّوْضَةِ فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ)) قَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ)) ((وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانَ شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنًا وَشَطْرٌ قَبِيحٌ فَإِنَّهُمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ)) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي سَمِعْتُ مِنْ عَبَّادٍ يُخْبِرُ بِهِ عَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((فَيَتَدَهْدَهُ الْحَجَرُ هَاهُنَا)) قَالَ أَبِي فَجَعَلْتُ أَتَعَجَّبُ مِنْ فَصَاحَةِ عَبَّادٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ سے جو باتیں ارشاد فرماتے تھے، ان میں ایک بات یہ ہوتی تھی: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ جواباً اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق بیان کرنے والے بیان کرتے، ایک صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے کہا: گزشتہ رات کو میرے پاس دو فرشتے آئے، انھوں نے مجھے اٹھایا اور کہا: چلو، میں ان کے ساتھ چل پڑا، ہم ایک ایسے آدمی کے پاس گئے، جو لیٹا ہوا تھا، ایک دوسرا آدمی بڑا پتھر لے کر اس کے پاس کھڑا تھا، وہ اس کو یہ بڑا پتھر مارتا تھا اور اس کا سر کچل دیتا تھا، پتھر لڑھک جاتا تھا، جب وہ اس کو اٹھانے کے لیے جاتا اور واپس آتا تو اس آدمی کا سر پہلے کی طرح صحیح ہو چکا ہو تا تھا، پھر وہ اس کے ساتھ وہی کچھ کرتا، جو پہلی دفعہ کیا، میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ دو کون ہیں؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس میں ان کے ساتھ چل پڑا، پھر ہم ایک ایسے آدمی کے پاس گئے، جو اپنی گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا، ایک دوسرا شخص لوہے کا کنڈا لے کر کھڑا تھا، وہ اس کے چہرے کی ایک طرف آتا اور اس کی باچھ، نتھنوں اور آنکھوں کو گدی تک چیر دیتا، پھر وہ چہرے کی دوسری جانب جاتا اور یہی کاروائی کرتا، اتنے میں پہلی جانب صحیح ہو جاتی، پھر وہ اس کی طرف لوٹ آتا اور پہلی بار کی طرح ان کو پھر پھاڑ دیتا، میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ دو کون ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس میں چل پڑا، پھر ایک تنور جیسی چیز کے پاس پہنچے، اس میں شور و غل اور آوازیں تھیں، پس میں نے اس میں جھانکا اور دیکھا کہ اس میں مرد اور عورتیں ننگے تھے، ان کے نیچے سے آگ کا شعلہ اٹھتا تھا، تو وہ چیخ و پکار کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایک نہر کے پاس پہنچے، خون کی طرح اس کا رنگ سرخ تھا، اس میں ایک آدمی تیر رہا تھا، وہ تیرتا تیرتا ایسے آدمی کے پاس آتا، جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے، جب وہ اس کے پاس پہنچتا تو اپنا منہ کھولتا اور وہ اس کے منہ پر پتھر مارتا تھا، پھر وہ تیرنا شروع کر دیتا اور پھر لوٹ آتا اور جب بھی وہ لوٹ کر آتا تو اپنا منہ کھولتا اور وہ اس کے منہ میں پتھر ٹھونس دیتا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایسے آدمی کے پاس پہنچے جو بدترین شکل کا تھا، یوں سمجھیں کہ اگر تو دیکھتا تو اس کو سب سے مکروہ شکل والا پاتا، اس کے پاس آگ تھی، وہ آگ کو سلگا رہا تھا اور اس کے ارد گرد دوڑ رہا تھا، میں نے ان سے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم آگے چلے اور سبز گھاس والے ایک خوبصورت باغ میں پہنچے، اس میں موسم بہار کا ہر رنگ کا پھول تھا، اس باغ کے درمیان میں ایک اتنا دراز قد آدمی کھڑا تھا کہ قریب تھا کہ اس کے لمبے قد کی وجہ سے میں اس کا سر نہ دیکھ سکوں، اس کے ارد گرد بہت خوبصورت اور حسین بچے تھے، میں نے ان سے کہا: یہ کون ہے اور یہ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایک بڑے اور پھیلے ہوئے درخت کے پاس پہنچے، وہ بہت بڑا اور خوبصورت درخت تھا، انھوں نے مجھے کہا: اس پر چڑھو، پس ہم اس میں چڑھے اور ایک ایسے شہر کے پاس پہنچے، جس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک چاندی کی، ہم شہر کے دروازے پر گئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، پس ہمارے لیے وہ دروازہ کھولا گیا، ہم اس میں داخل ہوئے، اس میں جو لوگ تھے، ان کا کچھ حصہ بڑا خوبصورت تھا اور کچھ حصہ بدصورت، پھر ان دونوں نے ان سے کہا: چلو اور اس نہر میں گر پڑو، ایک چھوٹی سی رواں انتہائی سفید نہر تھی، پس وہ گئے، اس نہر میں داخل ہوئے اور جب لوٹے تو ان کی بد صورتی ختم ہو چکی تھی اور وہ مکمل طور پر بہت خوبصورت بن چکے تھے، پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا: یہ عدن جنت ہے اور یہ آپ کا مقام ہے، پھر میری نگاہ اوپر کو اٹھی، وہ سفید بادل کی طرح کا محل تھا، انھوں نے مجھے کہا: یہ آپ کا مقام ہے، میں نے ان سے کہا: اللہ تمہیں برکت دے، مجھے چھوڑو، تاکہ میں اس میں داخل ہو سکوں، لیکن انھوں نے کہا: اب نہیں، بہرحال آپ نے ہی اس میں داخل ہونا ہے۔پھر میں نے ان سے کہا: آج رات سے تو میں نے بڑی عجیب چیزیں دیکھیں، اب یہ تو بتلاؤ کہ یہ چیزیں کیا تھیں؟ انھوں نے کہا: اب ہم آپ کو بتلانے لگے ہیں، جس آدمی کا سر کچلا جا رہا تھا، وہ ایسا شخص تھا، جس نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی اور پھر اس کو چھوڑ دیا اور فرضی نمازوں سے بھی سویا رہا، جس آدمی کی باچھ، آنکھوںاور نتھنوں کو گدی تک چیرا جا رہا تھا، وہ اپنے گھر میں جھوٹ بولتا اور وہ دنیا کے اطراف و اکناف تک پہنچ جاتا، جو ننگے مرد و زن کنویں جیسی چیز میں نظر آ رہے تھے، وہ زناکار تھے، جو آدمی نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر ٹھونسا جا رہا تھا، وہ سود خور تھا، آگ کے پاس جو مکروہ شکل والا آگ کو سلگا رہا تھا، وہ جہنم کا منتظم داروغہ تھا، اس کا نام مالک ہے، باغ میں دراز قد آدمی ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے ارد گرد جو بچے نظر آ رہے تھے، وہ وہ تھے، جو فطرت پر فوت ہوئے تھے۔ اس وقت بعض مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان میں مشرکوں کے بچے بھی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی، مشرکوں کے بچے بھی تھے، وہ لوگ جن کا کچھ حصہ خوبصورت تھا اور کچھ حصہ بدصورت، وہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے نیک عمل بھی کیے تھے اور برے بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کر دیا۔
حدیث نمبر: 9670
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ((هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا فَإِنْ كَانَ أَحَدٌ رَأَى تِلْكَ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَيْهِ فَيَقُولُ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ)) فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ ((هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا)) فَقُلْنَا لَا قَالَ ((لَكِنْ أَنَا رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ فَضَاءٍ أَوْ أَرْضٍ مُسْتَوِيَةٍ فَمَرَّا بِي عَلَى رَجُلٍ)) فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ ((فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَإِذَا بَيْتٌ مَبْنِيٌّ عَلَى بِنَاءِ التَّنُّورِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يُوقَدُ تَحْتَهُ نَارٌ فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ فَإِذَا أُوقِدَتِ ارْتَفَعُوا حَتَّى يَكَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا)) وَفِيهِ ((فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا نَهَرٌ مِنْ دَمٍّ فِيهِ رَجُلٌ وَعَلَى شَطِّ النَّهْرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهْرِ فَإِذَا دَنَا لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ حَجَرًا فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ)) وَفِيهِ ((فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا رَوْضَةٌ خَضْرَاءُ فَإِذَا فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَإِذَا شَيْخٌ فِي أَصْلِهَا حَوْلَهُ صِبْيَانٌ وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يَحُشُّهَا وَيُوقِدُهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ فَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ دَارًا أَحْسَنَ مِنْهَا فَإِذَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ وَفِيهَا نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ فَأَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ مِنْهَا فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ)) وَفِيهِ ((وَأَمَّا الدَّارُ الَّتِي دَخَلْتَ أَوَّلًا فَدَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَأَمَّا الدَّارُ الْأُخْرَى فَدَارُ الشُّهَدَاءِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيكَائِيلُ ثُمَّ قَالَا لِي ارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هِيَ كَهَيْئَةِ السَّحَابِ فَقَالَا لِي وَتِلْكَ دَارُكَ فَقُلْتُ لَهُمَا دَعَانِي أَدْخُلْ دَارِي فَقَالَا إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَكَ عَمَلٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَهُ دَخَلْتَ دَارَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر ادا کرتے اور اپنے چہرے کے ساتھ ہمارے طرف متوجہ ہوتے تو فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا، اس دن ہم نے کہا: جی ہم نے کوئی خواب نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے، دو آدمی میرے پاس آئے، انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک کھلی اور ہموار زمین کی طرف لے گئے، پھر مجھے ایک آدمی کے پاس سے گزارا، … ۔ راوی نے سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ہے: پس میں ان کے ساتھ چلا اور دیکھا کہ تنور کے ڈیزائن پر بنا ہوا ایک گھر تھا، اس کا اوپر والا حصہ تنگ اور نیچے والا حصہ کھلا تھا، اس کے نیچے آگ جلائی جا رہی تھی، اس میں ننگے مرد اور عورتیں تھے، جب ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی تو وہ اتنے بلند ہوتے تھے کہ قریب ہوتا کہ وہ باہر نکل آئیں گے، لیکن جب وہ آگ بجھتی تو وہ نیچے پہنچ جاتے۔ مزید اس روایت میں ہے: پس میں چلا، خون کی ایک نہر تھی، اس میں ایک آدمی تھا اور نہر کے کنارے پر ایک شخص تھا اور اس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے، پس نہر والا آدمی جب متوجہ ہوتا اور نکلنے کے قریب ہو جاتا تو وہ آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا، جس کی وجہ سے وہ واپس اپنی جگہ پر لوٹ جاتا۔ مزید اس میں ہے: پس میں آگے چلا اور دیکھا کہ سرسبز باغ تھا، اس میں ایک بڑا درخت تھا، اس کے تنے کے پاس ایک بزرگ اور اس کے ارد گرد بچے تھے اور ان کے قریب ایک آدمی تھا، اس کے سامنے آگ تھی، وہ اس کو سلگا رہا تھا، وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا، وہ بہت خوبصورت گھر تھا، اس میںبزرگ، نوجوان، خواتین اور بچے تھے، پھر انھوں نے مجھے وہاں سے نکالا اور درخت پر چڑھا کر آگے لے گئے اور ایک ایسے گھر میں داخل کر دیا، جو پہلے گھر کی بہ نسبت زیادہ خوبصورت اور بہتر تھا، اس میں بھی بزرگ اور بچے تھے۔ پھر مجھے کہا: جس گھر میں آپ پہلے داخل ہوئے، وہ عام مؤمنوں کا گھر تھا اور دوسرا شہداء کا گھر تھا اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہے، پھر انھوں نے مجھ سے کہا: اپنے سر کو بلند کرو، پس میں نے اپنا سر بلند کیا، بادلوں کی طرح کی چیز نظر آئی، پھر انھوں نے مجھے کہا: اور وہ آپ کا گھر ہے، میں نے ان سے کہا: تو پھر مجھے چھوڑو، تاکہ میں اپنے گھر میں داخل ہو سکوں، لیکن انھوں نے کہا: جی ابھی تک آپ کے ذمے کچھ عمل باقی ہیں، آپ نے ان کو پورا نہیں کیا، اگر آپ ان کو پورا کر چکے ہوتے تو اپنے گھر میں داخل ہو جاتے۔
وضاحت:
فوائد: … ہم اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محرمات سے بچے اور کثرت سے استغفار کرے۔
حدیث نمبر: 9671
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْمَلُ فِي صَخْرَةٍ صَمَّاءَ لَيْسَ لَهَا بَابٌ وَلَا كُوَّةٌ لَخَرَجَ عَمَلُهُ لِلنَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی ایسی سخت چٹان میں عمل کرے، جس کا دروازہ ہو نہ روشندان، تو پھر بھی اس کا عمل لوگوں کے لیے نکل آئے، وہ جس قسم کا بھی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … مشاہدہ یہی ہے کہ کسی بندے کا نیک عمل مخفی نہیں رہتا، وہ عامل کی زندگی میں لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے، یا اس کی وفات کے بعد، جب نیک شخصیات کے سوانح عمری قلم بند کیے جاتے ہیں تو لکھاری اس کی زندگی کے تمام گوشے منظرِ عام پر لے آتے ہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لوگوں کو اس کی برائیوں کا علم نہ ہو سکے۔
دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔
دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 9672
عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَيِّنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ علی بن خالد کہتے ہیں کہ ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ ، خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے گزرے، اس نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہوئے انتہائی نرم کلمے کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر کوئی جنت میں داخل ہو گا، ما سوائے اس کے جس نے اللہ تعالیٰ پر اس طرح بغاوت کی، جس طرح اونٹ اپنے مالک پر بدک جاتاہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات کو ترک کرنا اور محرمات وممنوعات کا ارتکاب کرنابغاوت اور سرکشی کہلاتاہے۔ جو اونٹ جس مالک کا کھاتا ہے اگر اسی کے سامنے بدکنا شروع کر دے تو اس کا کیا علاج کیا جاتا ہے، ہر کوئی جانتا ہے۔ جو بچہ اپنے غیرت مند اور خیرخواہ باپ کے منصوبوں پر کراس لگاتا ہے، اسے کون سا انجام بھگتنا پڑتا ہے، ہر ایک کے لیے واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھییہی ہے کہ جو بھی اس کے قوانین سے پہلو تہی اختیار کرے گا، اسے اس جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی، لیکن جب سزا کا وقت آئے گا تو اس وقت کا پچھتاوا، اس وقت کاافسوس اور اس وقت کی حسرت کچھ کام نہ آئے گی۔
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فانما المؤمن کالجمل الانف، حیثما قید انقاد۔)) (ابن ماجہ) … مومن کی مثال تو نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہے، کہ جب اس کی نکیلیا لگام کو پکڑ کر اس کے آگے آگے چلا جاتا ہے تو وہ مطیع ہو کر پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فانما المؤمن کالجمل الانف، حیثما قید انقاد۔)) (ابن ماجہ) … مومن کی مثال تو نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہے، کہ جب اس کی نکیلیا لگام کو پکڑ کر اس کے آگے آگے چلا جاتا ہے تو وہ مطیع ہو کر پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔
حدیث نمبر: 9673
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ قِيلَ وَمَنِ الشَّقِيُّ قَالَ الَّذِي لَا يَعْمَلُ بِطَاعَةٍ وَلَا يَتْرُكُ لِلَّهِ مَعْصِيَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدبخت جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ کسی نے کہا: بدبخت کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نہ کوئی اطاعت کا کام کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نافرمانی کو ترک کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 9674
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْرِقُ حَيْنَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَزْنِي حَيْنَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حَيْنَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَغُلُّ حَيْنَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ حَيْنَ يَنْتَهِبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَقَالَ عَطَاءٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ قَالَ بَهْزٌ فَقِيلَ لَهُ قَالَ إِنَّهُ يُنْتَزَعُ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تووہ مؤمن نہیں ہوتا، شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، خیانت کرنے والا جب خیانت کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا اور لوٹ مارکرنے والا جب لوٹ مار کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ عطاء راوی کے الفاظ یہ ہیں: جو لوگوں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے، وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ جب بہز راوی سے اس حدیث کا مفہوم پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ایمان ایسے شخص سے چھین لیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث زانی، شرابی، چور اور ڈاکو کے حق میں سخت وعید پر مشتمل ہے، مسلمانوں کو ایسے جرائم سے گریز کرنا چاہیے، جن کی بنا پر ایمان کی نفی کر دی جاتی ہو۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مجرم کامل ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں اور ان کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، جیسا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا زَنٰی الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْہُ اْلإِیْمَانُ وَکَانَ کَالظُّلَّۃِ فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْھَا رَجَعَ إِلَیْہِ اْلإِیْمَانُ۔)) (ابوداود: ۴۶۹۰، صحیحہ:۵۰۹) … جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان (کا نور) نکل جاتا اوراس کے اوپر سائبان کی طرح (منتظر) رہتا ہے، جب وہ باز آ جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اہل السنۃ نے اس حدیث کییہ تاویل کی ہے کہ ایسا آدمی مکمل ایمان والا نہیں رہتا، اس کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، یعنی زانی، شرابی، چور اور ڈاکو مکمل ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ یہ حدیث احناف کے مخالف حجت ہے، جو سلف صالحین کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر مصرّ ہیں کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔ ان کے نزدیک ایمان کا ایک مرتبہ ہے، وہ ناقص ایمان کا تصور نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب الزاہد الکوثری حنفی نے اس حدیث کو ردّ کرنے کے لیے کوشش کی ہے۔
ابن بطال نے کہا: اہل السنہ نے اس حدیث میں ایمان کی نفی کو کامل ایمان کی نفی پر محمول کیا ہے، کیونکہ نافرمان مومن کے ایمان کی حالت نافرمانیاں نہ کرنے والے مومن سے کم تر ہوتی ہے۔
امام نووی نے کہا: محقق علمائے کرام کا خیالیہ ہے کہ جو آدمی ان برائیوں کا ارتکاب کرے گا، وہ کامل الایمان نہیں رہے گا۔ اس حدیث میں نفی کے سیاق میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ان سے مراد سرے سے ایمان کی نفی نہیں، بلکہ کمالِ ایمان کی نفی ہے۔ یہی رائے راجح ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ ملا علی قاری حنفی نے (المرقاۃ: ۱/۱۰۵) میں اس حدیث کی وہی تفسیر بیان کی، جو ابن بطال اور امام نووی نے کی ہے، انھوں نے کہا: ہمارے اصحاب نے بھی اس حدیث کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کامل مومن مراد لیا ہے۔
پھریہ بھی کہہ دیا: لیکن ایمان کا اطلاق تصدیق پر ہوتا ہے اور اعمال اس سے خارج ہیں۔ ملاعلی قاری کا یہ آخری فیصلہ، سابقہ تاویلوں کے مخالف ہے۔ آپ خود سوچ لیں۔ (صحیحہ: ۳۰۰۰)
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مجرم کامل ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں اور ان کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، جیسا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا زَنٰی الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْہُ اْلإِیْمَانُ وَکَانَ کَالظُّلَّۃِ فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْھَا رَجَعَ إِلَیْہِ اْلإِیْمَانُ۔)) (ابوداود: ۴۶۹۰، صحیحہ:۵۰۹) … جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان (کا نور) نکل جاتا اوراس کے اوپر سائبان کی طرح (منتظر) رہتا ہے، جب وہ باز آ جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اہل السنۃ نے اس حدیث کییہ تاویل کی ہے کہ ایسا آدمی مکمل ایمان والا نہیں رہتا، اس کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، یعنی زانی، شرابی، چور اور ڈاکو مکمل ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ یہ حدیث احناف کے مخالف حجت ہے، جو سلف صالحین کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر مصرّ ہیں کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔ ان کے نزدیک ایمان کا ایک مرتبہ ہے، وہ ناقص ایمان کا تصور نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب الزاہد الکوثری حنفی نے اس حدیث کو ردّ کرنے کے لیے کوشش کی ہے۔
ابن بطال نے کہا: اہل السنہ نے اس حدیث میں ایمان کی نفی کو کامل ایمان کی نفی پر محمول کیا ہے، کیونکہ نافرمان مومن کے ایمان کی حالت نافرمانیاں نہ کرنے والے مومن سے کم تر ہوتی ہے۔
امام نووی نے کہا: محقق علمائے کرام کا خیالیہ ہے کہ جو آدمی ان برائیوں کا ارتکاب کرے گا، وہ کامل الایمان نہیں رہے گا۔ اس حدیث میں نفی کے سیاق میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ان سے مراد سرے سے ایمان کی نفی نہیں، بلکہ کمالِ ایمان کی نفی ہے۔ یہی رائے راجح ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ ملا علی قاری حنفی نے (المرقاۃ: ۱/۱۰۵) میں اس حدیث کی وہی تفسیر بیان کی، جو ابن بطال اور امام نووی نے کی ہے، انھوں نے کہا: ہمارے اصحاب نے بھی اس حدیث کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کامل مومن مراد لیا ہے۔
پھریہ بھی کہہ دیا: لیکن ایمان کا اطلاق تصدیق پر ہوتا ہے اور اعمال اس سے خارج ہیں۔ ملاعلی قاری کا یہ آخری فیصلہ، سابقہ تاویلوں کے مخالف ہے۔ آپ خود سوچ لیں۔ (صحیحہ: ۳۰۰۰)
حدیث نمبر: 9675
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ قَالَ شُعْبَةُ أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیایا ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ پھر فرمایا: وہ جھوٹی بات ہے۔ یا فرمایا: وہ جھوٹی گواہی ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: زیادہ گمان یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹی گواہی کا ذکر کیا۔
وضاحت:
فوائد: … کبیرہ گناہ: ہر وہ گناہ جس کو شریعت میں کبیرہ قرار دیا گیا ہو، یا جس پر اللہ تعالیٰ نے آخرت میں عذاب، غضب اور لعنت کی دھمکی دی ہو، یا جس پر دنیا میں حد لاگو ہوتی ہو، یا جس سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہو یا جس کے مرتکب کو فاسق قرار دیا گیا ہو۔
اصل بات پہلی ہے کہ کتاب و سنت میں جس جس گناہ کو کبیرہ کہا گیا ہے وہ کبیرہ ہے باقی گناہوں کے بارے فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کبیرہ ہے یا صغیرہ۔ کیونکہیہ خالصۃً دینی معاملہ ہے جس کے بارے قیاس و رائے سے بات کرنی مناسب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
اصل بات پہلی ہے کہ کتاب و سنت میں جس جس گناہ کو کبیرہ کہا گیا ہے وہ کبیرہ ہے باقی گناہوں کے بارے فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کبیرہ ہے یا صغیرہ۔ کیونکہیہ خالصۃً دینی معاملہ ہے جس کے بارے قیاس و رائے سے بات کرنی مناسب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 9676
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلَاثًا الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَذُكِرَ الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ وَقَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ راوی کہتا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور یہ فرمانے لگ گئے: اور جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی،یا فرمایا: جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی بار یہ جملہ دوہرایا کہ ہم نے کہا: کاش اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … جھوٹی گواہی کی مذمت، قباحت اور حرمت میں تاکید پیدا کرنے کے لیے اس کا بار بار ذکر کیا گیا، جھوٹی گواہی خود بھی ایک جرم ہے اور کئی جرائم کا سبب بنتی ہے۔
حدیث نمبر: 9677
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللَّهِ يَمِينًا صَبْرًا فَأَدْخَلَ فِيهَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ نُكْتَةً فِي قَلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم سب سے بڑے گناہوں میں سے ہیں، جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹی قسم اٹھائی اور مچھر کے پر کے برابر اس میں (جھوٹ) داخل کیا، مگر اللہ تعالیٰ اس برائی کو قیامت کے دن تک اس کے دل پر نکتہ بنا دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کا عظیم نام لے کر جھوٹی قسم اٹھانے والا اپنے مذموم مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا بھی خیال نہیں رکھتا۔
حدیث نمبر: 9678
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبَائِرُ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ وَفِرَارٌ يَوْمَ الزَّحْفِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں آئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، نماز قائم کی، زکوۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرے تو اس کے لیے جنت ہو گی۔ پھر لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مسلمان جان کو قتل کرنا اور لڑائی والے دن فرار اختیار کرنا۔
حدیث نمبر: 9679
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، جبکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے بچے کو اس وجہ سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی اہلیہ سے زنا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تصدیق اپنی کتاب میں ان الفاظ میں نازل فرما دی: اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئییہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔ (سورۂ فرقان: ۶۸)
وضاحت:
فوائد: … زنا کبیرہ گناہ اور بے غیرتی تو ہے ہی سہی، لیکن جب یہی فعل زیادہ حرمت والی سے کیا جائے گا تو اس کی قباحت و شناعت میں اضافہ ہو جائے گا، جیسے ہمسائے کی بیوی۔ ایک ہمسائے کو دوسرے ہمسائے پر حسن ظن ہوتا ہے، اس بنا پر وہ اس کو اپنی عزتوں کا محافظ سمجھتا ہے اور ہمسائیوں کے حقوق بھی زیادہ ہیں، لیکنیہ برا فعل کرنے والے بدبخت نے کسی چیز کا لحاظ نہیں رکھا۔
حدیث نمبر: 9680
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ أَوْ قَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا یا جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم۔ امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 9681
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَسْرِقُوا قَالَ فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَيْهِنَّ مِنِّي إِذَا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبر دار! صرف چار چیزیں ہیں: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ جان کو قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ، زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو۔ پھر سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہی ان کا سب سے بڑا حریص ہوں، کیونکہ میں نے خود ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کبیرہ گناہوں کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ہیں، مثلا سات، تین، چار۔ ان میں جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ کبیرہ گناہوں کو اس تعداد کے ساتھ منحصر نہیں کیا گیا، بلکہ حالات و حاضرین کے تقاضوں کے مطابق ان گناہوں کی مثالیں بیان کی گئیں، کسی مقام پر سات قسمیں بیان کرنا زیادہ مناسب تھا اور کسی مقام پر تینیا چار، وگرنہ کبیرہ گناہوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 9682
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِيَّاكُمْ الْفُحْشَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ (الْحَدِيثَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا، بدگوئی سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا اور مال کی شدید محبت سے بچو! اس لیے کہ اس چیز نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اِس نے ان کو بخل پر آمادہ کیا، پس انھوں نے بخل کیا اور اس نے ان کو برائیوں کا حکم دیا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بخل اور حرص جیسے اوصاف انسان کے کمینہ ہونے کے لیے کافی ہیں، بخیل آدمی سنگ دل بن جاتا ہے، دوسروں کی خوشی و غمی سے مستغنی ہو جاتا ہے، اپنے روپے پیسے کو بچانے یا اس کو بڑھانے کے لیے وہ قتل و غارت گری جیسے اقدامات کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور شریعت میں گنجائشیں تلاش کر تے کرتے اللہ تعالیٰ کی حدود کو پھلانگنا شروع کر دیتا ہے۔ مال کی شدید محبت کو شُحّ کہتے ہیں۔ جب انسان کے دل میں دنیا اور دنیا کے مال و اسباب کی محبت حد سے تجاوز کر کے شدید ہو جائے تو انسان حرام اور حلال کے درمیان تمیز بھی نہیں کرتا اور دسرے انسانوں کا خون بہانے سے گریز بھی نہیں کرتا۔ جیسے آج کل ہمارے معاشرے کا حال ہے اور یہ حالت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس معاشرے کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ دیریا سویر ہلاکت سے دو چار ہو کر ہی رہے گا۔
دنیا میں کیا گیا ایک ظلم، روزِ قیامت کئی ظلمتوں کا سبب بنے گا، جیسے اگر کوئی آدمی گائے کی خیانت کرتا ہے تو وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر میدانِ حشر میں آئے گا، جبکہ وہ گائے بلبلا رہی ہو گی،یہی معاملہ ہر جانور اور دوسری خیانتوں کا ہے۔ کسی چیز کو بے موقع یا بے محل رکھنا ظلم کہلاتا ہے، اس اعتبار سے برائیوں کا ارتکاب کرنا اور فرائض و واجبات کی ادائیگی میں غفلت برتنا ظلم ہے۔
دنیا میں کیا گیا ایک ظلم، روزِ قیامت کئی ظلمتوں کا سبب بنے گا، جیسے اگر کوئی آدمی گائے کی خیانت کرتا ہے تو وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر میدانِ حشر میں آئے گا، جبکہ وہ گائے بلبلا رہی ہو گی،یہی معاملہ ہر جانور اور دوسری خیانتوں کا ہے۔ کسی چیز کو بے موقع یا بے محل رکھنا ظلم کہلاتا ہے، اس اعتبار سے برائیوں کا ارتکاب کرنا اور فرائض و واجبات کی ادائیگی میں غفلت برتنا ظلم ہے۔