کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عورتوں اور ان کو جنت میں داخل کرنے والے اعمال کا بیان
حدیث نمبر: 9640
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت پانچ نمازیں پڑھے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے تو اس سے کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہتی ہے، داخل ہو جا۔
وضاحت:
فوائد: … خواتین کی ذمہ داریاں مردوں کی بہ نسبت بہت کم ہیں، پس ہونا یہ چاہیے تھا کہ مردوں کی بہ نسبت عورتیں زیادہ کامیاب ہونے والی ہوتیں، لیکنیہ ان کی نااہلی ہے کہ معاملہ اس کے الٹ ثابت ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کی اکثریت کو جہنم میں دیکھا۔ مسلم عورتوں کو چاہیے کہ وہ آخرت کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں اور حقوق ادا کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9640
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1661»
حدیث نمبر: 9641
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ وَمَعَهَا صَبِيَّانِ لَهَا فَأَعْطَاهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهَا تَمْرَةً قَالَ ثُمَّ إِنَّ أَحَدَ الصَّبِيَّيْنِ بَكَى قَالَ فَشَقَّتْهَا فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ نِصْفًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ بِأَوْلَادِهِنَّ لَوْلَا مَا يَصْنَعْنَ بِأَزْوَاجِهِنَّ لَدَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، جبکہ اس کے ساتھ دو بچے بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ہر بچے کو ایک ایک کھجور دے دی، پھر جب ایک بچہ رونے لگا تو اس نے تیسری کھجور بھی دو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ہر ایک آدھی آدھی دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچوں کو پیٹ میں اٹھانے والی، پھر جنم دینے والی اور پھر ان سے شفقت کرنے والی،یہ خواتین جو کچھ اپنے خاوندوں کے ساتھ کر جاتی ہیں، اگر یہ چیز نہ ہوتی تو نمازی عورتوں نے جنت میں داخل ہو جانا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9641
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة، فھو منقطع بين سالم بن ابي الجعد وابي امامة، أخرجه الحاكم: 4/ 174، وأخرجه بنحوه ابن ماجه: 2013 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22526»
حدیث نمبر: 9642
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا تَحْمِلُهُ وَبِيَدِهَا آخَرُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَهِيَ حَامِلٌ فَلَمْ تَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يَوْمَئِذٍ إِلَّا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، ایک بچہ اس نے اٹھایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں دوسرا بچہ تھا، میرا خیال ہے کہ راوی نے یہ بھی کہا کہ وہ عورت حاملہ بھی تھی اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو چیز مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچوں کو پیٹ میں اٹھانے والیاں، پھر ان کو جنم دینے والیاں، … ۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال دیکھایہ گیا ہے کہ خواتین کی اکثریت اپنے خاوندوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتیں۔ اگرچہ یہ جملہ عورتوں کو اچھا نہیں لگے گا اور وہ فوراً مردوں پر اعتراض کرنا شروع کر دیں گی، لیکنیہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس وقت ہمارا موضوع خواتین کی ذمہ داریاں ہیں اور ہم ان کے منفی اور مثبت پہلو کو بیان کر رہے ہیں، ویسے تو میاں بیوی میں سے ہر ایکیہ سمجھتا ہے کہ وہی درست ہے، غلطی دوسرے کی ہے، لیکن ہر ایک کو قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی ذمہ داریوں اور دوسروں کے حقوق کو سمجھنا چاہیے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۶۴۴) میں خواتین کی اکثریت کے جہنمی ہونے کا ایک سبب خاوندوں کی ناشکری کو قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9642
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22572»
حدیث نمبر: 9643
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ الصُّبْحِ يَوْمًا فَأَتَى النِّسَاءَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَقَفَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُولٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَتَقَرَّبْنَ إِلَى اللَّهِ مَا اسْتَطَعْتُنَّ وَكَانَ فِي النِّسَاءِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَتْ حُلِيًّا لَهَا فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَيْنَ تَذْهَبِينَ بِهَذَا الْحُلِيِّ فَقَالَتْ أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ وَيْلَكِ هَلُمِّي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ فَقَالَتْ وَاللَّهِ حَتَّى أَذْهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَتْ تَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ هِيَ فَقَالُوا امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهَا فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ مَقَالَةً فَرَجَعْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَحَدَّثْتُهُ وَأَخَذْتُ حُلِيًّا أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكَ رَجَاءَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِيَ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ لِي ابْنُ مَسْعُودٍ تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ فَقُلْتُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيْهِ وَعَلَى بَنِيهِ فَإِنَّهُمْ لَهُ مَوْضِعٌ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَيْنَا مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُولٍ قَطُّ وَلَا دِينٍ أَذْهَبَ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعُقُولِنَا فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ فَالْحَيْضَةُ الَّتِي تُصِيبُكُنَّ تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَمْكُثَ لَا تُصَلِّي وَلَا تَصُومُ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ عُقُولِكُنَّ فَشَهَادَتُكُنَّ إِنَّمَا شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ نِصْفُ شَهَادَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِفجر سے فارغ ہوئے ، مسجد میں موجود عورتوں کے پاس آئے، ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آجانے والا کوئی نہیں دیکھا اور میں نے قیامت کے دن جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی، لہٰذا حسب ِ استطاعت اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو۔ عورتوں میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی بھی موجود تھی ، اس نے اپنے خاوند کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی باتوں کی اطلاع دی اور اپنا زیور لے کر نکل پڑی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ زیور لے کر کہاں جا رہی ہے؟ اس نے کہا: اس کے ذریعے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم والوں میں نہ بنائے، انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اِدھر آ اور مجھ پر اور میرے بچوں پر صدقہ کر، ہم اس کا بہترین مصرف ہیں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! اس وقت تک نہیں، جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ جاؤں، پس وہ چلی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ یہ زینب آئی ہے اور آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سی زینب ہے؟ لوگوں نے کہا؛ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دے دو۔پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں نے آپ سے بات سنی، پھر میں اپنے خاوند سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف گئی، ان کو یہ حدیث بیان کی اور اس نیت سے اپنا زیور لے کر چل پڑی کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کرتی ہوں، اس امید میں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم والوں میں سے نہ بنائے، لیکن ابن مسعود نے مجھے کہا: مجھ پر اور میرے بچوں پر صدقہ کر، ہم اس کے مستحق ہیں، میں نے کہا: جی میں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے لوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسی پر اور اس کے بیٹوں پر صدقہ کر دے، وہی اس کے مستحق ہیں۔ پھر اس خاتون نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ صبح ہمارے پاس آئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آجانے والا کوئی نہیں دیکھا اور میں نے قیامت کے دن جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔ اے اللہ کے رسول! گزارش یہ ہے کہ ہمارے دین اور عقل کی کمی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جو نقصانِ دین کی بات کی، وہ یہ ہے کہ تم میں سے جب کسی کو حیض آتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق نماز پڑھنے سے اور روزے رکھنے سے رکی رہتی ہے، اس سے دین میں کمی آ جاتی ہے اور میں نے جو عقل کی کمی کی بات کی ہے تو وہ تمہاری گواہی کا مسئلہ ہے کہ ایک عورت کی گواہی کو مرد کی نصف شہادت کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نقص میں عورتوں کا کوئی قصور نہیں، لیکن ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَشَائُ} (سورۂ مائد: ۵۴) … یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطا کر دیتا ہے۔ اس قانونِ ربانی کے تحت مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور ان میں ایسی صفات ودیعت کر دی گئیں جن سے عورتیں محروم ہیں۔ بہرحال عورت ہو یا مرد ہر ایک اپنے قول و کردار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے۔ میدان کھلا ہے، جو چاہے، جیسے چاہے، زندگی گزار لے۔ اگر حشر کے میدان میں جوابدہی کا احساس پیدا کر لے تو کامیاب ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9643
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 80، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8849»
حدیث نمبر: 9644
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَأَكْثِرْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ لِكَثْرَةِ اللَّعْنِ وَكُفْرِ الْعَشِيرِ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لَبٍّ مِنْكُنَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ قَالَ أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ لَا تُصَلِّي وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو اور کثرت سے کرو، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ جہنم کی اکثریت تم ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن اور خاوند کی ناشکری بہت زیادہ کرتی ہو ، میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آ جانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ ایک خاتون نے کہا: ہمارے عقل اور دین کی کمی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عقل اور دین کی کمییہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے، یہ عقل کا نقص ہے اور عورت حیض کے دنوں میں نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں روزے نہیں رکھتی،یہ د ین کا نقص ہے۔
وضاحت:
فوائد: … خواتین کا کثرت سے لعن طعن کرنا، اس کا سبب یہ ہے کہ وہ کسی سے راضییا ناراض ہونے یا کسی کو اچھا یا برا سمجھنے میں معیار اپنی سمجھ اور ذات کو قرار دیتی ہیں اور اس معاملے میں انتہائی قریبی رشتہ دار کو ٹھکرا دیتی ہیں اور دور کے رشتہ داروں، بلکہ اجنبی لوگوں کی تعریف کرنے لگتی ہیں، جس نے خوشی کے موقع پر کسی کے بچے کو پانچ سو روپیہ دے دیا، وہ جنتی بن جائے گا اور جس نے کسی خاتون کے بچے یا والدین وغیرہ کے بارے میں قابل اعتراض بات کر دی، بس وہ اپنی خیر منائے، جبکہ شرعی تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کے مثبت اور منفی پہلو، دونوں پر غور کرنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ مثبت پہلو ہی غالب رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9644
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 79 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5343»
حدیث نمبر: 9645
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے مسلم عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے، اگرچہ وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ان گھروں والے افراد میں بڑی محبت پائی جاتی ہے، جو اس حدیث ِ مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی قیمتی چیز پکائی جائے تو گھر والے سمجھتے ہیں کہ ہمسائیوں کی دینے کی گنجائش ہی نہیں ہے، جب کوئی عام چیز پکائی جاتی ہے تو اس کو ہمسائے کے مناسب سمجھا جاتا ہے، آہستہ آہستہ تعلق کم ہوتا رہتا ہے اور بالآخر کسی کو اس کے ہمسائے کی خوشی اور دکھ کا کوئی احساس ہی نہیں رہتا، جبکہ ہمسائیوں کے حقوق بہت زیادہ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9645
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10407»
حدیث نمبر: 9646
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ وَلَوْ كُرَاعَ شَاةٍ مُحْرَقٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمرو بن معاذ اشھلی اپنی جدہ سے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں، البتہ اس میں ہے: اگرچہ وہ بکری کا جلا ہوا کم گوشت پنڈلی کا پتلا حصہ ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9646
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه مالك في المؤطا : 2/ 996، والدارمي: 1/ 395 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16611 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16728»
حدیث نمبر: 9647
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ أَوْ فِي جَنَازَةِ قَتِيلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کی جماعت میں کوئی خیر نہیں ہے، ما سوائے مسجد کے یا شہید کے جنازے کے۔
وضاحت:
فوائد: … مختلف اجتماعات میں خواتین کا آنا کیسا ہے؟ ہر اجتماع کی نوعیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، مثلا: حج، عمرہ، نمازِ عیدین، مسجد میں نماز باجماعت، وغیرہ وغیرہ، ہر مسئلہ کی اس کے محل میں وضاحت کی جا چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9647
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه الطبراني في الاوسط : 9355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24880»
حدیث نمبر: 9648
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ اسْتَأْذَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ جِهَادُكُنَّ أَوْ حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جہاد کے لیے جانے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا جہاد حج ہے یا تمہیں حج کافی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9648
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2875، 2876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24887»
حدیث نمبر: 9649
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلَيْكُنَّ بِالْبَيْتِ فَإِنَّهُ جِهَادُكُنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بیت اللہ کو لازم پکڑو، یہی تمہارا جہاد ہے۔
وضاحت:
فوائد: … خواتین، جہاد بالسیف کے حکم سے مستثنی ہیں، اتفاقاً اور ضرورت کے پیش نظر کسی مسلم خاتون کا کسی کافر کو قتل کر دینا اور بات ہے، مزید اگلی حدیث دیکھیں۔
حج مشقت کے اعتبار سے جہاد سے ملتا جلتا عمل ہے، اس لیےیہ خواتین کے لیے حج کا حکم رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9649
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24897»
حدیث نمبر: 9650
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ فَقَدِمَتِ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ فَحَدَّثَتْ أَنَّ أُخْتَهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَتْ أُخْتِي غَزَوْتُ مَعَهُ سِتَّ غَزَوَاتٍ قَالَتْ كُنَّا نُدَاوِي الْكَلْمَى وَنَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى فَسَأَلَتْ أُخْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَلْ عَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَخْرُجَ فَقَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا وَلْتَشْهَدِ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ فَسَأَلْتُهَا أَوْ سَأَلْنَاهَا هَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا إِلَّا قَالَتْ بِيَبَا فَقَالَتْ نَعَمْ بِيَبَا قَالَ لِتَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ أَوْ قَالَتْ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ وَيَعْتَزِلْنَ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى فَقُلْتُ لِأُمِّ عَطِيَّةَ الْحَائِضُ فَقَالَتْ أَوَ لَيْسَ يَشْهَدْنَ عَرَفَةَ وَتَشْهَدُ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: ہم اپنی نوجوان عورتوں کو نکلنے سے منع کرتی تھیں، ایک خاتون آئی، بنوخلف کے محل میں اتری اور یہ بیان کیا کہ اس کی بہن، ایک صحابی کی بیوی تھی، اس صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوے کیے تھے، میری بہن نے کہا: میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چھ غزوے کیے، ہم زخمیوں کا علاج اور بیماروں کی نگہداشت کرتی تھیں، میری بہن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: جس عورت کے پاس اوڑھنی نہ ہو تو عید کے لیے نہ جانے کی صورت میں اس پر کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی سہیلی اس کو چادر دے دے اور وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شرکت کرے۔ پھر جب سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو ہم نے ان سے سوال کیا کہ کیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ایسے فرماتے ہوئے سنا تھا، انھوں نے کہا: جی ہاں ، وہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتی تھیں تو بِیْبًا کہتی تھیں، اس لیے انھوں نے کہا: بِیْبًا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوجوان اور پردہ نشین، بلکہ حائضہ عورتیں بھی نکلیں اور خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ خواتین جائے نماز سے دور رہیں۔ میں نے سیدہ ام عطیہ سے کہا: حائضہ بھی؟ انھوں نے کہا: کیا حائضہ عورت حج کے موقع پر عرفہ اور فلاں فلاں مقام میں نہیں جاتی۔
وضاحت:
فوائد: … مجاہدین اور ان میں سے زخمی اور بیمار ہو جانے والے افراد کی خدمت کے لیے بعض خواتین جا سکتی ہے۔
بِیْبًا کے معانی ہیں:میں ان پر اپنا باپ قربان کرتا ہوں یا میرا باپ ان پر قربان ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9650
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1652، ومسلم: 890 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21070»