حدیث نمبر: 9637
عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ دَعَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ السُّلَمِيَّ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَسَةَ هَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ تَزَيُّدٌ وَلَا كَذِبٌ وَلَا تُحَدِّثْنِيهِ عَنْ آخَرَ سَمِعَهُ مِنْهُ غَيْرُكَ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ قَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَصَافَوْنَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَزَاوَرُونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَبَاذَلُونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَنَاصَرُونَ مِنْ أَجْلِي وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَبَلَغَ مُخْطِئًا أَوْ مُصِيبًا فَلَهُ مِنَ الْأَجْرِ كَرَقَبَةٍ يُعْتِقُهَا مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ وَأَيُّمَا رَجُلٍ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهِيَ لَهُ نُورٌ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَكُلُّ عُضْوٍ مِنَ الْمُعْتَقِ بِعُضْوٍ مِنَ الْمُعْتِقِ فِدَاءٌ لَهُ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَكُلُّ عُضْوٍ مِنَ الْمُعْتَقَةِ بِعُضْوٍ مِنَ الْمُعْتِقَةِ فِدَاءٌ لَهَا مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ قَدَّمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ صُلْبِهِ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ أَوِ امْرَأَةٌ فَهُمْ لَهُ سِتْرَةٌ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ قَامَ إِلَى وُضُوءٍ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَأَحْصَى الْوُضُوءَ إِلَى أَمَاكِنِهِ سَلِمَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ أَوْ خَطِيئَةٍ لَهُ فَإِنْ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا فَقَالَ شُرَحْبِيلُ بْنُ السِّمْطِ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ عَبَسَةَ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ أَوْ سِتٍّ أَوْ سَبْعٍ فَانْتَهَى عِنْدَ سَبْعٍ مَا حَلَفْتُ يَعْنِي مَا بَالَيْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَلَكِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي عَدَدَ مَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو ظبیہ کہتے ہیں: شرحبیل بن سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: اے ابن عبسہ! کیا تم ایسی حدیث بیان کرسکتے ہو، جو تم نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور اس میں کسی زیادتی اور جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو، نیز تم نے وہ حدیث کسی اور آدمی سے بیان نہیں کرنی، جو اُس نے سنی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تحقیق میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی، جو میری وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ خالص تعلق رکھتے ہیں، میری محبت میری وجہ سے ایک دوسرے کی زیارت اور ملاقات کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی، میری محبت میری وجہ سے خرچ کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری وجہ سے ایک دوسروں کی مدد کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی۔ پھر سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جس آدمی نے اللہ کے راستے میں تیر پھینکا، وہ نشانے پر لگا یا نہ لگا، اسے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، جو آدمی اللہ کے راستے میں بوڑھا ہو گیا تو یہ عمل اس کے لیے نور ہو گا، جس مسلمان نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو آزاد شدہ کے ہر ایک عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو آگ سے آزاد ہو جائے گا، جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو آزاد شدہ عورت کے ہر عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہو جائے گا، جس مسلمان مرد یا عورت نے اپنی اولاد میں سے تین نابالغ بچے آگے بھیج دیے (یعنی فوت ہو گئے) تو وہ اس کے لیے آگ کے سامنے آڑ بن جائیں گے (یعنی وہ جہنم میں داخل نہیںہو گا)، جو آدمی نماز کے ارادے سے وضو کرنے کے لیے اٹھا اور اس نے وضو کے پانی کو اس کی جگہ تک پہنچایا تو وہ ہر گناہ یا خطا سے پاک ہو جائے گا۔ اب اگر وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرے گا اور اگر ویسے ہی بیٹھ جاتا ہے تو (گناہوں سے) پاک ہو کر بیٹھے گا۔ شرحبیل نے تصدیق کرنے کے لیے کہا: اے ابن عبسہ! کیا تم نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایکیا دو یا تین یا چار یا پانچ یا چھ یا سات یا آٹھیا نو دفعہ سنی ہوتی تو میں قسم نہ اٹھاتا، یعنی کسی آدمی کو یہ بیان نہ کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتا، اللہ کی قسم! بات یہ ہے کہ مجھے وہ تعداد ہییاد نہیں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنی دفعہ یہ حدیث سنی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس قسم کی احادیث ِ مبارکہ اس لائق ہیں کہ ان کو بار بار پڑھا جائے، ان میں مذکورہ امور پر غور کیا جائے اور ان کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
حدیث نمبر: 9638
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَعْرُوفِ فَقَالَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُعْطِيَ صِلَةَ الْحَبْلِ وَلَوْ أَنْ تُعْطِيَ شِسْعَ النَّعْلِ وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَلَوْ أَنْ تُنَحِّيَ الشَّيْءَ مِنْ طَرِيقِ النَّاسِ يُؤْذِيهِمْ وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْطَلِقٌ وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ فَتُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَلَوْ أَنْ تُؤْنِسَ الْوَحْشَانَ فِي الْأَرْضِ وَإِنْ سَبَّكَ رَجُلٌ بِشَيْءٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ وَأَنْتَ تَعْلَمُ فِيهِ نَحْوَهُ فَلَا تَسُبَّهُ فَيَكُونَ أَجْرُهُ لَكَ وَوِزْرُهُ عَلَيْهِ وَمَا سَرَّ أُذُنَكَ أَنْ تَسْمَعَهُ فَاعْمَلْ بِهِ وَمَا سَاءَ أُذُنَكَ أَنْ تَسْمَعَهُ فَاجْتَنِبْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو تمیمہ ہجیمی اپنی قوم کے آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ کے کسی راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی کے بارے میںپوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نیکی سر انجام دینے کو معمولی خیال نہ کرنا، اگرچہ (وہ نیکی یہ ہو کہ تو کسی کو)رسی کا عطیہ دے دے، کسی کو جوتے کا تسمہ ہبہ کر دے،اپنے ڈول سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی ڈال دے، لوگوںکے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے،اپنے بھائی کو خندہ پیشانی کے ساتھ ملے، اپنے بھائی سے ملاقات کرتے وقت سلام کہہ دے، خوف و گبھراہٹ میں مبتلا آدمی کا دل بہلا دے، اگر کوئی آدمی تیری کسی ایسی خامی کی بنا پر تجھے برا بھلا کہے، جس کو وہ جانتا ہے تو تو اس کو اس کے عیب کی بنا پر برا بھلا مت کہے، اس کاروائی کا اجر تیرے لیے ہو گا اور گناہ اس پر ہو گا، تیرا کان جس چیز کو سننا پسند کریں، اس پر عمل کر اور تیرے کان کو جس چیز کو سننا برا لگے، اس سے اجتناب کر۔
وضاحت:
فوائد: … نیکی نیکی ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سب سے قیمتی چیز ہے، اس کا تعلق بظاہر معمولی امور سے ہو یا غیر معمولی امور سے، اس لیے کسی نیکی کو کم اہمیت سمجھ کر نہ چھوڑا جائے۔
حدیث نمبر: 9639
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ اتَّزِرُوا وَارْتَدُوا وَانْتَعِلُوا وَأَلْقُوا الْخِفَافَ وَالسَّرَاوِيلَاتِ وَأَلْقُوا الرُّكُبَ وَانْزُوا نَزْوًا وَعَلَيْكُمْ بِالْمَعَدِّيَّةِ وَارْمُوا الْأَغْرَاضَ وَذَرُوا التَّنَعُّمَ وَزِيَّ الْعَجَمِ وَإِيَّاكُمْ وَالْحَرِيرَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهُ وَقَالَ لَا تَلْبَسُوا مِنَ الْحَرِيرِ إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تہبند باندھا کرو، چادر اوڑھا کرو اور جوتے پہنا کرو اور موزوں اور شلواروں کو ترک کر دو، اسی طرح (سواریوں سے) رکاب بھی پھینک دو اور کود کر چڑھا کرو، معد بن عدنان کی طرح کی زندگی گزارو، نشانوں پر تیر پھینکا کرو، عیش پرستی اور عجموں کے فیشن اپنانے سے بچو اور ریشم سے بھی دور رہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ریشم نہ پہنا کرو، مگر اتنا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … موزے اور شلوار پہننا جائز ہیں، درج ذیل حدیث پر غور کریں: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَلَی مَشْیَخَۃٍ مِنْ الْأَنْصَارٍ بِیضٌ لِحَاہُمْ فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! حَمِّرُوا وَصَفِّرُوا وَخَالِفُوا أَہْلَ الْکِتَابِ۔)) قَالَ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ یَتَسَرْوَلَونَ وَلَا یَأْتَزِرُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((تَسَرْوَلُوا وَائْتَزِرُوا وَخَالِفُوا أَہْلَ الْکِتَابِ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ یَتَخَفَّفُونَ وَلَا یَنْتَعِلُونَ، قَالَ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((فَتَخَفَّفُوا وَانْتَعِلُوا وَخَالِفُوا أَہْلَ الْکِتَابِ۔)) قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ یَقُصُّونَ عَثَانِینَہُمْ وَیُوَفِّرُونَ سِبَالَہُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((قُصُّوا سِبَالَکُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِینَکُمْ وَخَالِفُوا أَہْلَ الْکِتَابِ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے عمر رسیدہ لوگوں پر داخل
ہوئے، ان کی داڑھیاں سفید ہو چکی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ! اپنی داڑھیوں کو سرخ اور زرد کرو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی!اہل کتاب شلواریں پہنتے ہیں، تہبند نہیں پہنتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شلواریں بھی پہنو اور تہبند بھی پہنو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی پہنو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب اپنی داڑھیاں کاٹتے ہیں اور مونچھیں لمبی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اپنی مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھائو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ (مسند احمد: ۲۲۶۳۹)سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قوت اور نشاط برقرار رکھنے کے لیے رکاب کے استعمال سے منع کیا۔
معد بن عدنان، عربوں کا دادا تھا،یہ تنگ دستی اور سختی والی زندگی گزارنے والا تھا، اس جملے میں دراصل خوشی عیشی سے منع کیا جا رہا ہے، جس کی مفسدت ظاہر ہیں۔
مختلف شارحین نے عجموں کی مختلف قبیح عادتیں بیان کی ہیں، چند ایک درج ذیل ہیں: عورتوںکا سینے اور سرکو ننگا رکھنا، سرخ رنگ کی گدیاں اور لباس اور گدیوں کے لیے ریشم استعمال کرنا، عمدہ اور باریک لباسوں کا اظہار کرنا، تنگ لباس پہننا، خوشحالی اور عیش پرستی پر بہت توجہ دینا۔
اصل قانون یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شریعت میں تمام عبادات اور جائز و ناجائز معاملات کا تعین کر دیا ہے، بس ان ہی کا پابند رہا جائے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں عربوں اور عجمیوں کی تہذیبوں میں واضح فروق تھے، اب تو عربوں کی عیش پرستی اور معصیتوں کا سلسلہ بھی بہت آگے بڑھ گیا ہے۔
ہوئے، ان کی داڑھیاں سفید ہو چکی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ! اپنی داڑھیوں کو سرخ اور زرد کرو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی!اہل کتاب شلواریں پہنتے ہیں، تہبند نہیں پہنتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شلواریں بھی پہنو اور تہبند بھی پہنو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی پہنو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب اپنی داڑھیاں کاٹتے ہیں اور مونچھیں لمبی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اپنی مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھائو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ (مسند احمد: ۲۲۶۳۹)سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قوت اور نشاط برقرار رکھنے کے لیے رکاب کے استعمال سے منع کیا۔
معد بن عدنان، عربوں کا دادا تھا،یہ تنگ دستی اور سختی والی زندگی گزارنے والا تھا، اس جملے میں دراصل خوشی عیشی سے منع کیا جا رہا ہے، جس کی مفسدت ظاہر ہیں۔
مختلف شارحین نے عجموں کی مختلف قبیح عادتیں بیان کی ہیں، چند ایک درج ذیل ہیں: عورتوںکا سینے اور سرکو ننگا رکھنا، سرخ رنگ کی گدیاں اور لباس اور گدیوں کے لیے ریشم استعمال کرنا، عمدہ اور باریک لباسوں کا اظہار کرنا، تنگ لباس پہننا، خوشحالی اور عیش پرستی پر بہت توجہ دینا۔
اصل قانون یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شریعت میں تمام عبادات اور جائز و ناجائز معاملات کا تعین کر دیا ہے، بس ان ہی کا پابند رہا جائے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں عربوں اور عجمیوں کی تہذیبوں میں واضح فروق تھے، اب تو عربوں کی عیش پرستی اور معصیتوں کا سلسلہ بھی بہت آگے بڑھ گیا ہے۔