حدیث نمبر: 9636
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ قَالَ الرَّجُلُ أَكْثَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلِينُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ الطَّعَامِ وَسَمَاحٌ وَحُسْنُ خُلُقٍ قَالَ الرَّجُلُ أُرِيدُ كَلِمَةً وَاحِدَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَلَا تَتَّهِمُ اللَّهَ نَفْسَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، تصدیق کرنا، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا اور حج مبرور۔ اس بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو زیادہ چیزوں کا ذکر کردیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر نرم کلام کرنا، کھانا کھلانا، درگزر کرنا اور حسن اخلاق۔ اس بندے نے کہا: میں تو صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلا جا اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی سے بچانا۔
وضاحت:
فوائد: … اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی سے بچانا یعنی اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور پھر اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں جو فیصلہ کرے، اس پر راضی ہو جا۔
ہم نے ترجمہ میں سَمَاح کا صرف ایک معنی ذکر کیا ہے، اس کے مزید معانییہ ہیں: معاف کرنا، نرمی، چشم پوشی، فراخ دلی، سخاوت۔
ہم نے ترجمہ میں سَمَاح کا صرف ایک معنی ذکر کیا ہے، اس کے مزید معانییہ ہیں: معاف کرنا، نرمی، چشم پوشی، فراخ دلی، سخاوت۔