حدیث نمبر: 9632
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُتَعَلِّقٌ بِالْمَسَاجِدِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ أَخْفَاهَا لَا تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دن سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن صرف اسی کا سایہ ہو گا، (۱)منصف حکمران، (۲) وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں پروان چڑھا، (۳) وہ آدمی جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہو، (۴) وہ دو آدمی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کی، اسی پر جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے، (۵) وہ آدمی نے جس نے صدقہ کیا اور اس کو اس طرح چھپایا کہ جو کچھ اس کے دائیں ہاتھ نے خرچ کیا، اس کے بائیں ہاتھ کو اس کا علم نہ ہوا، (۶) وہ آدمی جس نے خلوت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اس کی آنکھیں بہہ پڑھیں اور (۷) وہ آدمی جس کو منصب اور حسن والی عورت نے اپنے وجود یعنی برائی کی دعوت دی، لیکن اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔
وضاحت:
فوائد: … اگر آدمی غور کرے تو اس حدیث ِ مبارکہ میں بیشتر اعمال بہت آسان ہیں۔
حدیث نمبر: 9633
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ قَالَ فَذَكَرَ مَا أَمَرَهُمْ بِهِ مِنْ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ أَوْ قَالَ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْمَيْثَرَةِ وَالْقَسِّيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن چیزوں کا حکم دیا، وہ یہ تھیں: بیمار کی تیمارداری کرنا، جنازوں میں شرکت کرنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا، قسم اٹھانے والے کی قسم پوری کرنا، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن چیزوں سے منع فرمایا، وہ یہ تھیں: چاندی کے برتن، سونے کا کڑا، استبرق، ریشم، دیباج، ریشم و دیباج سے آراستہ سوارییا کشتی، قسِّیّ۔
وضاحت:
فوائد: … دیباج: ریشمی قیمتی کپڑا جس کا تانا بانا ریشم کا ہوتا ہے۔ استبرق سے مراد موٹا ریشم ہے۔
قسِّیّ: یمن کی ایک بستی کا نام قَسّ ہے، اس میں ایک کپڑا تیار کیا جاتا ہے، اس پر ریشمی پٹیاں لگائی جاتی ہیںیا اس کا تابا یا اس کا بانا ریشم کا ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کپڑا ریشم کی ملاوٹ کی وجہ سے حرام ہے۔
قسِّیّ: یمن کی ایک بستی کا نام قَسّ ہے، اس میں ایک کپڑا تیار کیا جاتا ہے، اس پر ریشمی پٹیاں لگائی جاتی ہیںیا اس کا تابا یا اس کا بانا ریشم کا ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کپڑا ریشم کی ملاوٹ کی وجہ سے حرام ہے۔
حدیث نمبر: 9634
عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ قَالَ فَأَمَّا الثَّلَاثُ الَّذِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَإِنَّهُ مَا نَقَّصَ مَالَ عَبْدٍ صَدَقَةٌ وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ بِمَظْلَمَةٍ فَيَصْبِرُ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عِزًّا وَلَا يَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ لَهُ بَابَ فَقْرٍ وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ فَإِنَّهُ قَالَ إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ عَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حَقَّهُ قَالَ فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ قَالَ وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا قَالَ فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ قَالَ وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقَّهُ فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ قَالَ وَعَبْدٌ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ هِيَ نِيَّتُهُ فَوِزْرُهُمَا فِيهِ سَوَاءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں اور تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، پس اس کو یاد کرو۔ وہ تین چیزیں، جن پر میں قسم اٹھاتا ہوں، یہ ہیں: (۱)صدقہ بندے کے مال میں کمی نہیں کرتا، (۲) جس آدمی پر ظلم کیا جاتا ہے اور پھر وہ صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کر دیتاہے اور (۳) جب بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے فقیری کا دروازہ کھول دیتاہے۔ اب میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس کو یاد کر لو: دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل مرتبے والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے اور ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔
حدیث نمبر: 9635
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ أَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے سات چیزوں کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسکینوں سے محبت کروں اور ان کے قریب ہوا کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سے کم تر افراد کی طرف دیکھوں اور اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں صلہ رحمی کروں، اگرچہ وہ پیٹھ پھیر رہی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ حق کہوں، اگرچہ وہ کڑوا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں کثرت سے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کا ذکر کروں،کیونکہ یہ عرش کے نیچے موجود ایک خزانے میں سے ہیں۔