کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عدد سے ابتداء ہونے والی سداسیات کا بیان
حدیث نمبر: 9629
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَشْهَدُهُ إِذَا تُوُفِّيَ وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر نیکی کی صورت میں چھ حقوق ہیں، جب اس سے ملاقات ہو تو سلام کرے، جب وہ چھینکے تو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے، جب وہ اس کو دعوت دے تو قبول کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو نماز جنازہ میں شرکت کرے، جو کچھ اپنے لیے پسند کرے، وہ اس کے لیے بھی پسند کرے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیرخواہی کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9629
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1433، والترمذي: 2736 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 673»
حدیث نمبر: 9630
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُمُ الْجَنَّةَ اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ وَأَدُّوا إِذَا ائْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں (۱)جب بات کرو تو سچ بولو (۲) جب وعدہ کرو تو پورا کرو (۳)جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اداکرو (۴) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو (۵) اپنی آنکھوں کو نیچا رکھو (۶) اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9630
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن حبان: 271، والحاكم: 4/ 358، والبيھقي: 6/ 288 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23137»
حدیث نمبر: 9631
عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ فَمُوجِبَتَانِ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةٍ فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ فَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يَشْعُرَهَا قَلْبُهُ وَيَعْلَمَهَا اللَّهُ مِنْهُ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَبِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةٍ وَأَمَّا النَّاسُ فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَفْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اعمال چھ ہیں اور لوگ چار ہیں، دو واجب کرنے والے ہیں، دو ہم مثل ہیں، ایک نیکی دس گناہ ہے اور ایک نیکی سات سو گناہے، دو واجب کرنے والے یہ ہیں: جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، جنت میں داخل ہو گیا اور جو اس حال میں مرا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ دو ہم مثل یہ ہیں: جس نے نیکی کرنے کا اتنا ارادہ کیا کہ اس کے دل کو سمجھ آگئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جان لیا تو اس کی ایک نیکی لکھی جائے گی اور جو ایک برائی کرے گا، اس کی ایک برائی ہی لکھی جائے گی، جو ایک نیکی کرے گا، اس کو ثواب دس گنا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرکے ایک نیکی کرے گا، اس کا اجر سات سو گنا ہو گا، رہا مسئلہ لوگوں کا ، تو جس پر دنیا میں وسعت کی جائے گی، آخرت میں اس پر تنگی کی جائے گی، جس پر دنیا میں تنگی کی جائے گی، آخرت میں اس پر وسعت پیدا کی جائے گی اور بعض ایسے ہیں کہ دنیا و آخرت میں ان پر وسعت اختیار کی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے میں مذکورہ وسعت سے مرادوہ مال و دولت وغیرہ ہے، جس کے ساتھ شریعت کا حق ادا نہ کیا گیا ہو، اسی طرح جو آدمی دنیا میں تنگی میں مبتلا ہو تو اس کو چاہیے کہ اس آزمائش میں شریعت کے تقاضے پورے کرے۔
آخری جملے میں (اما الناس …) لوگوں کی چار قسمیں بیان ہوئی ہیں۔
۱۔ مال دار ہیں لیکن اس کے حقوق ادا کرنے سے غافل رہے تو آخرت میں ان پر تنگی ہو گی۔
۲۔ دنیا میں مالی لحاظ سے تنگی والے لیکن آخرت میں ان کے لیے فراخی ہو گی کیونکہ وہ مالی لحاظ سے تنگ دست ہونے کے با وصف اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔
۳۔ دنیا میں فقیر و محتاج اور اللہ کے نافرمان، اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے آخرت میں تنگی والے۔
۴۔ دنیا میں مالدار اور اللہ کے مطیع اور صحیح مسلم، ان کے لیے آخرت میں فراخی ہی فراخی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9631
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 4151، والحاكم: 2/ 87، وأخرجه مختصرا الترمذي: 1625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19107»