کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
حدیث نمبر: 9622
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَأْخُذُ مِنْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ يَفْعَلُ بِهِنَّ قَالَ قُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّهُنَّ فِيهَا ثُمَّ قَالَ اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَلَا تُكْثِرِ الضِّحْكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضِّحْكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھ سے ان کلمات کی تعلیم حاصل کرے اور خود ان پر عمل کرے یا ان پر عمل کرنے والے کو سکھا دے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اورشمار کرتے ہوئے پانچ چیزیں بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو، لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے، اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جاؤ، سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے حسن سلوک سے پیش آ ؤ، مومن بن جاؤ گے۔ لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، مسلمان بن جاؤ گے اور کثرت سے ہنسنا ترک کر دو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … محارم سے اجتناب کرنا صبر کی مشقت طلب صورت ہے، یہی عبادت ہے جس کے ذریعے انسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ جب بندے کا نفس کسی برائی کی طرف مائل ہوتا ہے، لیکن دوسری طرف جب وہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے نفسِ اَمّارہ کو شکست دیتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی محبت میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔ مزید اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہونا، اپنے پڑوسیوں سے حسنِ سلوک سے پیش آنا اور اپنے بھائیوں کی خیر خواہی کرتے ہوئے پسند و ناپسند میں ان کو اپنے وجود کے قائم مقام سمجھنا، یہ ایسی نیکیاں ہیں جن سے دلی فرحت و انبساط نصیب ہوتاہے۔ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہنسی اور مسکراہٹ ثابت ہے، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس جنتی آدمی کو پہچانتا ہوں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا اور سب سے آخر میں جنت میں جائے گا۔ اس آدمی کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ حکم دیں گے: اس سے اس کے صغیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کر و اور کبیرہ گناہوں کا تذکرہ ہی نہ کرو۔ سو اسے کہا جائے گا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔
پھر اسے کہا جائے گا کہ تیری ہر برائی کے بدلے تجھے نیکی دی جاتی ہے۔ یہ سن کر وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں نے تو بڑے بڑے گناہ بھی کئے تھے، وہ تو مجھے نظر نہیں آ رہے۔
میں نے دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ (ترمذی)
لیکنیہ واقعات انتہائی شاذ و نادر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کثرت سے ہنسنے سے منع کیا، کیونکہ اس سے انسان کا دل مردہ ہو جاتا ہے اور خیر و بھلائی کے کاموں سے بے رغبت ہو جاتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9622
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث جيّد، أخرجه الترمذي: 2305، وابن ماجه: 4217 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8081»
حدیث نمبر: 9623
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ رَدُّ التَّحِيَّةِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَشُهُودُ الْجَنَازَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازے میں شرکت کرنا، مریض کی عیادت کرنا، اَلْحَمْدُ لَلّٰہ کہنے والے چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9623
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 1435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8378»
حدیث نمبر: 9624
عَنْ أَبِي سَلَامٍ عَنْ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ رَجُلٌ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ) لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبُهُ وَالِدُهُ وَقَالَ بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَيْقِنًا بِهِنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سلام ، ایک مولائے رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، کیا بات ہے پانچ چیزوں کی، وہ کتنی بھاری ہیں ترازو میں۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِاور نیک بیٹا، جو فوت ہو جائے اور اس کے والدین ثواب کی نیت سے صبر کریں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ، کیابات ہے پانچ چیزوں کی، جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ ان پر یقین رکھتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا، وہ اللہ تعالی، آخرت کے دن، جنت، جہنم، موت کے بعد جی اٹھنے اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … بَخٍ بَخٍ (واہ، واہ) یہ تعظیم کا صیغہ ہے، کسی کی تعریف کرنے اور رضامندی کا اظہار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، مبالغہ کے لیے ایک سے زائد مرتبہ کہاجاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9624
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18244»
حدیث نمبر: 9625
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسٍ مَنْ فَعَلَ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ مَنْ عَادَ مَرِيضًا أَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ أَوْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُرِيدُ بِذَلِكَ تَعْزِيزَهُ وَتَوْقِيرَهُ أَوْ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ فَيَسْلَمُ النَّاسُ مِنْهُ وَيَسْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں پانچ چیزوں کی نصیحت کی کہ جو آدمی ان میں سے ایک کام کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ پر ضامن ہو گا، جو مریض کی تیمار داری کرے، یا جنازے کے ساتھ نکلے، یا اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کرنے کے لیے نکلے، یا حکمران کی تائید اور توقیر کے لیے اس کے پاس جائے، یا پھر اپنے گھر میں بیٹھا رہے، تاکہ لوگ اس سے سالم رہیں اور وہ لوگوں سے سالم رہے۔
وضاحت:
فوائد: … حکمران کی تائید و توقیر سے مراد یہ ہے کہ حق پر اس کا ساتھ دیا جائے۔
اگر کسی آدمی میں شرّ کا مقابلہ کرنے اور اس کو ہاتھ یا زبان سے روکنے کی صلاحیت نہیں ہے تو پھر وہ شرّ اور شرّ والوں سے دور ہو جائے، لیکنیہ فیصلہ کرنے والے کے ضروری ہے کہ وہ خود علم و فہم و بصیرت والا ہو یا اہل علم سے مشورہ کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9625
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه البزار: 1649، وابن خزيمة: 1495، وابن حبان: 372، والطبراني في الكبير :20/55 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22444»
حدیث نمبر: 9626
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوْصَانِي حِبِّي بِخَمْسٍ أَرْحَمُ الْمَسَاكِينَ وَأُجَالِسُهُمْ وَأَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ تَحْتِي وَلَا أَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي وَأَصِلُ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ وَأَقُولُ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا وَأَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ يَقُولُ مَوْلَى غُفْرَةَ لَا أَعْلَمُ بَقِيَ فِينَا مِنَ الْخَمْسِ إِلَّا هَذِهِ قَوْلُنَا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى وَقَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے محبوب نے مجھے پانچ امور کی نصیحت کی،یہ کہ میں مسکینوں پر رحم کروں اور ان کے ساتھ بیٹھو، (دنیا کے معاملے میں) اپنے سے کم تر افراد کی طرف دیکھوں، اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں، صلہ رحمی کروں، اگرچہ وہ پیٹھ پھیر رہی ہو، حق کہوں، اگرچہ وہ کڑوا ہو اور یہ کہ میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہوں۔ غفرہ کا غلام کہتا ہے: میرے علم کے مطابق ہم میں ان پانچ امور میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، ما سوائے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن لوگوں نے مسکینوں کے قریب نہ بیٹھنے دیا، دنیا کے معاملات میں اپنے سے اوپر والے افراد کو دیکھا، صلہ رحمی کو ترک کر دیا اور مصلحت و مداہنت میں پڑ کر حق کا پاس و لحاظ نہ رکھا، سچ کہا غفرہ کے غلام نے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر کے علاوہ کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9626
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21849»
حدیث نمبر: 9627
عَنِ الْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ يَعْمَلُ بِهِنَّ وَأَنْ يَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَعْمَلُوا بِهِنَّ فَكَادَ أَنْ يُبْطِئَ فَقَالَ لَهُ عِيسَى إِنَّكَ قَدْ أُمِرْتَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ تَعْمَلَ بِهِنَّ وَأَنْ تَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ فَإِمَّا أَنْ تُبَلِّغَهُنَّ وَإِمَّا أُبَلِّغَهُنَّ فَقَالَ لَهُ يَا أَخِي إِنِّي أَخْشَى إِنْ سَبَقْتَنِي أَنْ أُعَذَّبَ أَوْ يُخْسَفَ بِي قَالَ فَجَمَعَ يَحْيَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلَأَ الْمَسْجِدُ وَقُعِدَ عَلَى الشُّرَفِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ أَعْمَلَ بِهِنَّ وَآمُرَكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ أَوَّلُهُنَّ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ بِوَرِقٍ أَوْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي عَمَلَهُ إِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ فَأَيُّكُمْ يَسُرُّهُ أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ كَذَلِكَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ فَاعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَآمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِوَجْهِ عَبْدِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَلَا تَلْتَفِتُوا وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَهُ صُرَّةٌ مِنْ مِسْكٍ فِي عِصَابَةٍ كُلُّهُمْ يَجِدُ رِيحَ الْمِسْكِ وَإِنَّ خَلُوفَ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ فَشَدُّوا يَدَيْهِ إِلَى عُنُقِهِ وَقَرَّبُوهُ لِيَضْرِبُوا عُنُقَهُ فَقَالَ هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْتَدِيَ نَفْسِي مِنْكُمْ فَجَعَلَ يَفْتَدِي نَفْسَهُ مِنْهُمْ بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ حَتَّى فَكَّ نَفْسَهُ وَآمُرُكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَثِيرًا وَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ فَأَتَى حِصْنًا حَصِينًا فَتَحَصَّنَ فِيهِ وَإِنَّ الْعَبْدَ أَحْصَنُ مَا يَكُونُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِذَا كَانَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللَّهُ أَمَرَنِي بِهِنَّ بِالْجَمَاعَةِ وَبِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَالْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَاءِ جَهَنَّمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى قَالَ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَادْعُوا الْمُسْلِمِينَ بِمَا سَمَّاهُمُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو پانچ کلمات کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، انھوں نے لوگوں کو بتانے میں دیر کی، عیسی علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ کو پانچ کلمات کے بارے میں حکم دیا گیا تھا کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنو اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، اب آپ ان کو بتلائیںیا میں بتلا دیتا ہوں، انھوں نے کہا: اے میرے بھائی! اگر آپ مجھ سے پہلے بتلا دیں تو مجھے یہ ڈر ہو گا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے عذاب دیا جائے یا مجھے دھنسا دیا جائے۔ پس یحییٰ علیہ السلام نے بنو اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا،یہاں تک کہ مسجد بھر گئی، پھر ان کو اونچی جگہ پر بٹھا دیا گیا، پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تم کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں، پہلا حکم یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، پس بیشک مشرک کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے اپنے خالص مال چاندییا سونے کے عوض غلام خریدا، لیکن ہوا یوں کہ وہ غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے لیے کام کرنے لگا، اب تم میں سے کس کو یہ بات خوش کرے گی کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے اور تم کو رزق دیا ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور میں تم کو نماز کا حکم دیتا ہوں، پس بیشک اللہ تعالیٰ اپنا چہرہ بندے کے چہرے کی خاطر اس وقت تک متوجہ کیے رکھتے ہیں، جب تک وہ اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو، اس لیے جب نماز پڑھو تو اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہوا کرو، اور میں تمہیں روزوں کا حکم دیتا ہوں، ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس کے پاس کستوری کی تھیلی ہو اور سارے لوگ کستوری کی خوشبو محسوس کر رہے ہوں، روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے ، اور میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس کو اس کے دشمن نے قید کر کے اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیتے ہوں اور اس کی گردن کاٹنے کے لیے اس کو قریب کر لیا ہو اور وہ آگے سے کہے: اگر میں اپنے نفس کے عوض اتنا فدیہ دے دوں تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گے؟ پھر اس نے کم مقدار اور زیادہ مقدار فدیہ دینا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اپنے آپ کو بچا لیا، اور میں تم کو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کا دشمن جلدی کرتے ہوئے اس کا تعاقب کر رہا ہو، لیکن وہ مضبوط قلعے میں پہنچ کر قلعہ بند ہو گیا، اور بیشک بندہ شیطان سے سب سے زیادہ حفاظت میں اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میںمصروف ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے، (وہ پانچ چیزیں یہ ہیں:) جماعت، امیر کی بات سننا اور اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا، پس جو آدمی ایک بالشت کے بقدر جماعت سے نکل گیا، اس نے واپس پلٹنے تک اپنی گردن سے اسلام کا معاہدہ اتار پھینکا اور جس نے جاہلیت کی پکار پکاری، وہ جہنم کی جماعت میں سے ہوگا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزے بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ روزہ بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے اور یہ گمان بھی کرے کہ وہ مسلمان ہے، پس مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے نام سے پکارو، یعنی مسلمان، مؤمن، اللہ تعالیٰ کے بندے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9627
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2863، 2864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17302»