کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رباعیات کا بیان
حدیث نمبر: 9602
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْبِئْنِي عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ ((أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ وَصِلِ الْأَرْحَامَ وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حکم کے بارے میں بتلائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں، تو جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام کو عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو قیام کر اور پھر جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جا۔
وضاحت:
فوائد: … سلام کو عام کرنا، صلہ رحمی کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر لوگوں کو کھانا کھلانا، یہ تو انتہائی آسان امور ہیں، اگرچہ امت ِ مسلمہ کی اکثریت آسان امور میں غفلت برت رہی ہے، رات کا قیام شروع شروع میں کچھ مشقت طلب عمل لگتا ہے، بعد میں تو وہ بھی آسان ہو جاتا ہے، بہرحال اجر بہت بڑا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9602
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح أخرجه الحاكم: 4/ 129، وابن حبان: 508 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7919»
حدیث نمبر: 9603
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَلَا يَمْنَعْ فَضْلَ مَاءٍ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَاءَ وَمِنْ حَقِّ الْإِبِلِ أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ يَوْمَ وِرْدِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی پتھروں سے استنجا کرے تو طاق پتھر استعمال کرے، جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال جائے تو وہ اس کوسات دفعہ دھوئے، کوئی آدمی گھاس کو بچانے کے لیے زائد پانی سے نہ روکے اور اونٹوں کا حق یہ ہے کہ اس دن ان کو دوہا جائے، جس دن وہ پانی کے گھاٹ پر آئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9603
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرج القسم الرابع منه وھو حق الابل البخاري: 2378، ومسلم: 987 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8710»
حدیث نمبر: 9604
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ وَمَنْ لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سرمہ ڈالے، وہ طاق سلائیاں ڈالے، جو ایسے کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، جو پتھروں سے استنجاء کرے، وہ طاق پتھر استعمال کرے، جو ایسے کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، اسی طرح جو آدمی کھانا کھانے کے بعد دانتوں سے کھانے کے اجزاء نکالے، وہ ان کو پھینک دے اور زبان کو منہ میں پھیر کر کھانے کے جو اجزاء اکٹھے کر لے، ان کو نگل جائے، جو ایسے کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہوگا، جو آدمی پائخانہ کرنے کے لیے آئے، وہ پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے اس کو کوئی چیز نہ ملے، تو وہ ڈھیر سا بنا کر اس کی طرف پیٹھ کر لے، کیونکہ شیطان بنی آدم کی دبروں کے ساتھ کھیلتا ہے، جو ایسا کرے گا، وہ اچھا عمل کرے گا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9604
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده صحيح أخرجه الحاكم: 4/ 129، وابن حبان: 508 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8825»
حدیث نمبر: 9605
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے، اسلام میں معاہدہ نہیں ہے اور جَلَب ہے نہ جَنَب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9605
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 6/ 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12687»
حدیث نمبر: 9606
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَغْلِقُوا أَبْوَابَكُمْ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ)) يَعْنِي الْفَأْرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے دروازوں کو بند کر دیا کرو، برتنوں کو ڈھانک دیا کرو، چراغوں کو بجھا دیا کرواور مشکیزوں کو بند کر دیا کرو، کیونکہ شیطان نہ بند دروازہ کھولتا ہے، نہ برتن سے ڈھکن اٹھاتا ہے اور نہ مشکیزے کی ڈوری کھولتا ہے اور چوہیا گھر کو گھر والوں سمیت جلا دیتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9606
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2012 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14277»
حدیث نمبر: 9607
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا ((إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو فرمایا : جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عمر میں اضافہ ہونے کے دو مفاہیم ہیں: (۱)حقیقی طور پر عمر بڑھ جاتی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی معلّق تقدیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(۲) عمر کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا، لیکن اس میں اتنی برکت پیدا ہو جاتی ہے اور صلہ رحمی کرنے والے کی زندگی کاہر پہلو فوائد سے یوں لبریز ہو جاتاہے کہ دوسرے لوگ جو کام لمبی لمبی عمروں میں سرانجام نہیں دے سکتے، یہ لوگ اپنی مختصر عمروں میں ان سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9607
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25773»
حدیث نمبر: 9608
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ بَدَا جَفَا وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ مَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا، جو شکار کے پیچھے چل پڑا وہ غافل ہو گیا، جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنے میں پڑ گیا اور جو آدمی بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا، وہ اللہ تعالیٰسے اتنا ہی دور ہوتا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … بدّو، دیہاتی اور جنگلی لوگوں میں اکھڑ پن اور اجڈ پن جیسی صفات پائی جاتی ہیں، حق قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، جبکہ شہری لوگوں میں شائشتگی اور نرمی زیادہ ہوتی ہیں اور ان کے دل و دماغ کی زمین زرخیز ہوتی ہے۔ جو آدمی شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے، اس کا دل نہیں بھرتا، حرص، لالچ اور شغل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ دور دور تک نکل جاتا ہے، نماز اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے غافل ہو جاتا ہے۔
جو آدمی سلطانوں اور بادشاہوں کی بارگاہوں میں جا پھنسا، وہ حق سے دور اور باطل کے قریب ہو گیا، اب اسے اربابِ حکومت کی آنکھوں کے اشارے پر نقل و حرکت کرنا ہو گی، ان کی خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہو گی، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر اپنے اوپر کیے گئے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو حقیر سمجھے گا، بڑوں کے درباروں میں ہونے والی معصیات پر خاموش رہے گا، رفتہ رفتہ اسلامی غیرت ختم ہوتی جائے گی اور بالآخر ایسا شخص اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم کا مصداق بن کر دنیا و آخرت میں ذلیل ہو جاتا ہے۔ سلف صالحین نے بادشاہوں سے دور رہنے اور سادہ لوح عوام کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے میں عافیت سمجھی، اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بہترین نتائج سے سرفراز فرمایا اور آج بھی دنیا ان کے گیت گا رہی ہے۔
جو آدمی تبلیغ کے لیے حکمرانوں کے پاس جاتا ہے اور کسی معصیت کا ارتکاب کیے بغیر تبلیغ کے تقاضے پورے کر لیتا ہے، اس کا معاملہ اور ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9608
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني في الصحيحة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8823»
حدیث نمبر: 9609
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ عَنْ بَعْضِ بَنِي رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((حُسْنُ الْخُلُقِ نَمَاءٌ وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ وَالْبِرُّ زِيَادَةٌ فِي الْعُمُرِ وَالصَّدَقَةُ تَمْنَعُ مِيتَةَ السَّوْءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ رافع بن مکیث کا ایک بیٹا، جو حدیبیہ میں بھی حاضر ہوا تھا، سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسن اخلاق اضافہ اور بڑھوتری ہے، بداخلاقی نحوست ہے، نیکی سے عمر بڑھتی ہے اور صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9609
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لابھام راويه عن رافع بن مكيث، ولجھالة عثمان بن زفر الجھني، أخرجه ابوداود: 5162 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16177»
حدیث نمبر: 9610
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ وَمَنْ أَتَى عَلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کا واسطہ دے کر پناہ مانگے، اس کو پناہ دے دو، جو اللہ کے نام پر تم سے سوال کرو، اس کو دے دو، جو تمہیں دعوت دے، اس کی دعوت قبول کرو اور جو تم سے کوئی نیکی کرے، اس کو اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ دینے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ تمہیں اندازہ ہو جائے کہ تم نے گویا بدلہ دے دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کے مفہوم کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۲۴۵)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9610
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5365»