حدیث نمبر: 9585
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ وَرَجُلٌ يُؤَذِّنُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى وَحَقَّ مَوَالِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ قیامت کے روز کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے: (۱) وہ آدمی، جو لوگوں کی امامت کروائے اور وہ اس سے راضی ہوں، (۲) وہ آدمی جو ہر روز پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا ہو اور (۳) وہ غلام، جو اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرتا ہو۔
حدیث نمبر: 9586
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالنَّاكِحُ الْمُسْتَعْفِفُ وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا، پاکدامنی کی خاطر نکاح کرنے والا اور ادائیگی کا ارادہ رکھنے والا مکاتَب۔
حدیث نمبر: 9587
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ ثَلَاثٌ أَوْصَانِي بِهِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهُنَّ أَبَدًا (وَفِي رِوَايَةٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ) الْوِتْرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے تین امور کی نصیحت کی، میں ان کو موت تک نہیں چھوڑوں گا، سونے سے پہلے وتر ادا کرنا، ہر ماہ میں تین دنوں کے روزے رکھنا اور جمعہ کے دن غسل کرنا۔
حدیث نمبر: 9588
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا وَرَضِيَ لَكُمْ ثَلَاثًا رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَأَنْ تَنْصَحُوا لِوُلَاةِ الْأَمْرِ وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کی ہیں اور تین پسند، اس نے تمہارے لیے اِن چیزوں کو پسند کیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور سب کے سب اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھام لو اور یہ کہ تم اپنے امیروں کی خیرخواہی کرو اور تمہارے لیےیہ چیزیں ناپسند کی ہیں: قیل و قال، مال کو ضائع کرنا اور زیادہ سوال کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … امراء کے لیے خیرخواہییہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے۔
قیل و قال سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی حکایات، واقعات اور اخبارات میں دلچسپی لی جائے اور ان کے بارے میں بغیر تحقیق کے باتیں کی جائیں، جبکہ بیچ میں کوئی منفعت والی بات نہ ہو، سب لا یعنی اور بے مقصد باتیں ہوں۔ اس وقت اکثر لوگ ایسی فضول مجلسوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔
مال کا ضائع کرنے کی صورت یہ ہے کہ غیر شرعی صورتوں میں اور نافرمانیوں میں مال صرف کیا جائے، جائز صورتوں میں غلوّ اور تکلّف کے ساتھ خرچ کرنا بھی اس صورت میں داخل ہے۔
سوال کرنے سے مراد یہ ہے کہ حاجت و ضرورت کے بغیر، بلکہ تکلف کرتے ہوئے شرعی مسائل کے بارے میں سوال کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عہد ِ مبارک میں ایسے سوالات سے منع کر رکھا تھا۔ لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
قیل و قال سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی حکایات، واقعات اور اخبارات میں دلچسپی لی جائے اور ان کے بارے میں بغیر تحقیق کے باتیں کی جائیں، جبکہ بیچ میں کوئی منفعت والی بات نہ ہو، سب لا یعنی اور بے مقصد باتیں ہوں۔ اس وقت اکثر لوگ ایسی فضول مجلسوں میں اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔
مال کا ضائع کرنے کی صورت یہ ہے کہ غیر شرعی صورتوں میں اور نافرمانیوں میں مال صرف کیا جائے، جائز صورتوں میں غلوّ اور تکلّف کے ساتھ خرچ کرنا بھی اس صورت میں داخل ہے۔
سوال کرنے سے مراد یہ ہے کہ حاجت و ضرورت کے بغیر، بلکہ تکلف کرتے ہوئے شرعی مسائل کے بارے میں سوال کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عہد ِ مبارک میں ایسے سوالات سے منع کر رکھا تھا۔ لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
حدیث نمبر: 9589
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ عِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَشُهُودُ الْجَنَازَةِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہیں، ہر مسلمان پر حق ہیں، مریض کی عیادت، جنازوں میں شرکت کرنا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے والے چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہنا۔
حدیث نمبر: 9590
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ يَبْقَى عَمَلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں میت کے پیچھے چلتی ہیں، اس کے اہل و عیال، اس کا مال اور اس کا عمل، دو چیزیں واپس آ جاتی ہیں اور ایک باقی رہ جاتی ہے، اہل و عیال اور مال لوٹ آئیں گے اور اس کا عمل باقی رہ جائے گا۔
حدیث نمبر: 9591
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَالشَّهِيدُ وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَأَمِيرٌ مُسَلَّطٌ وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُعْطِي حَقَّ مَالِهِ وَفَقِيرٌ فَخُورٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین افراد اور سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد مجھ پر پیش کیے گئے، پہلے پہل جنت میں داخل ہونے والے افراد یہ ہیں:(۱) شہید، (۲) وہ غلام جو اچھے انداز میں اپنے ربّ کی عبادت کرنے والا اور اپنے آقا کا خیر خواہ ہو، اور (۳) بچوں کے باوجود پاکدامن بننے والے اور پہلے پہل جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد یہ ہیں: (۱) مسلط ہو جانے والا امیر، (۲) مال کا حق ادا نہ کرنے والا مالدار اور (۳) تکبر کرنے والا فقیر ۔
حدیث نمبر: 9592
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ وَمِنْ شَقْوَةِ ابْنِ آدَمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ وَالْمَسْكَنُ الصَّالِحُ وَالْمَرْكَبُ الصَّالِحُ وَمِنْ شَقْوَةِ ابْنِ آدَمَ الْمَرْأَةُ السَّوْءُ وَالْمَسْكَنُ السَّوْءُ وَالْمَرْكَبُ السَّوْءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ابن آدم کی سعادت میں سے اور تین چیزیں ابن آدم کی شقاوت میں سے ہیں، ابن آدم کی سعادت والی تین چیزیں یہ ہیں: نیک بیوی، مناسب گھر اور اچھی سواری اور ابن آدم کی بد بختی والی تین چیزیں یہ ہیں: بری بیوی، برا گھر اور بری سواری۔
حدیث نمبر: 9593
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ قَالَ أَنْتَ رَسُولِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَرْسَلَنِي يَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ لَا تَحْلِفُوا بِغَيْرِ اللَّهِ وَإِذَا تَخَلَّيْتُمْ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَا تَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعَرَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا اور فرمایا: تو اہل مکہ کی طرف میرا قاصد ہے، ان کو کہنا: اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں کو سلام کہا اور تین چیزوں کا حکم دیا: (۱)غیر اللہ کی قسم نہیں اٹھانی، (۲) قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا ہے نہ پیٹھ اور (۳) ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہیں کرنا۔
حدیث نمبر: 9594
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَهُمْ دَعْوَتُهُمُ الْمُسَافِرُ وَالْوَالِدُ وَالْمَظْلُومُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، مسافر، والدین اور مظلوم۔
حدیث نمبر: 9595
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ثَلَاثٌ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالسِّوَاكُ وَيَمَسُّ مِنْ طِيبٍ إِنْ وَجَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین امور ہر مسلمان پر حق ہیں، جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا اور اگر گنجائش ہو تو خوشبو لگائے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تینوں امور مستحب ہیں، لیکن ان کا اجر بہت زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 9596
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ وَالنَّصِيحَةُ لِوَلِيِّ الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین خصائل پر مومن کا دل خیانت نہیں کرتا : خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرنا، اربابِ حل وعقد کی خیر خواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ ان کی دعا سب کو شامل ہوتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مومن کو ان تین امور کا خصوصی طور پر اہتمام کرنا چاہیے، اگر عمل میں اخلاص نہ ہو تو وجود خیر سے محروم ہو جاتا ہے اور اگر امراء کی خیرخواہی اور جماعت کے ساتھ نہ رہا جائے تو معاشرے میں فساد پیدا ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9597
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مَوْتِي وَالدَّجَّالِ وَقَتْلِ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ يُعْطِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں سے نجات پانے والا نجات پا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین دفعہ ارشاد فرمایا، (۱) میری وفات، (۲) دجال اور (۳) اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے خلافت کے حق پر ڈٹ جانے والے خلیفے کاقتل۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے نجات پانے سے مراد یہ ہے کہ جو مسلمان اس وقت زندہ ہو، وہ اپنے دین پر استقامت اختیار کرے اور راہِ صواب پر چلتا رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا ملے، نجات نہ پانے والا وہ شخص ہو گا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد فتنے میں مبتلا ہو جائے گا یا مرتدّ ہو جائے گا۔
ظاہریہی ہے کہ اس حدیث میں مذکورہ خلیفہ سے مراد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ وہ خلیفۂ برحق تھے اور مظلوماً شہید ہو گئے۔
ظاہریہی ہے کہ اس حدیث میں مذکورہ خلیفہ سے مراد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ وہ خلیفۂ برحق تھے اور مظلوماً شہید ہو گئے۔
حدیث نمبر: 9598
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْصَانِي حِبِّي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی نصیحت کی، میں ان شاء اللہ کبھی بھی ان کو نہیں چھوڑوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نمازِ چاشت پڑھنے کی، سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی اور ہر ماہ میں تین روزے رکھنے کی نصیحت کی۔
وضاحت:
فوائد: … سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کر لینے سے اس نماز کے فوت ہو جانے کا خطرہ ٹل جاتا ہے، بہرحال رات کے آخری حصے میں یہ نماز ادا کرنا افضل عمل ہے۔
حدیث نمبر: 9599
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَفِيهِ وَسُبْحَةُ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی مروی ہے، البتہ اس میں ہے: حضرو سفر میں نمازِ چاشت پڑھنے کی وصیت کی۔
حدیث نمبر: 9600
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ أَمَرَنِي بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى كُلَّ يَوْمٍ وَالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَنَهَانِي عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین چیزوں سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ہر روز نمازِ چاشت پڑھنے، سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کرنے اور ہر ماہ میں تین روزے رکھنے کا حکم دیا اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے، (جلسہ میں) کتے کی طرح بیٹھنے اور (نماز میں) لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر متوجہ ہونے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے مراد جلدی جلدی سجدے کرنا ہے۔
کتے کی طرح بیٹھنے سے یہ کیفیت مراد ہے: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس کو اِقْعَائ کہتے ہیں۔
اس حدیث میں جن چھ امور کا ذکر ہے، وہ دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔
کتے کی طرح بیٹھنے سے یہ کیفیت مراد ہے: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس کو اِقْعَائ کہتے ہیں۔
اس حدیث میں جن چھ امور کا ذکر ہے، وہ دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔
حدیث نمبر: 9601
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاهُ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا ذَرٍّ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاكَ فَأَسْأَلَكَ عَنْهُ فَقَالَ قَدْ لَقِيتَ فَسَلْ قَالَ قُلْتُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ)) قَالَ نَعَمْ فَمَا أَخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى خَلِيلِي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا يَقُولُهَا قَالَ قُلْتُ مَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ((رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ مُجَاهِدًا مُحْتَسِبًا فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ)) وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا} ((وَرَجُلٌ لَهُ جَارٌ يُؤْذِيهِ فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ وَيَحْتَسِبُهُ حَتَّى يَكْفِيَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ بِمَوْتٍ أَوْ حَيَاةٍ)) ((وَرَجُلٌ يَكُونُ مَعَ قَوْمٍ فَيَسِيرُونَ حَتَّى يَشُقَّ عَلَيْهِمُ الْكَرَى أَوِ النُّعَاسُ فَيَنْزِلُونَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ فَيَقُومُ إِلَى وُضُوئِهِ وَصَلَاتِهِ)) وَفِي لَفْظٍ ((فَيُصَلِّي حَتَّى يُوقِظَهُمْ لِرَحِيلِهِمْ)) قَالَ قُلْتُ مَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ قَالَ ((الْفَخُورُ الْمُخْتَالُ)) وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} ((وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ وَالتَّاجِرُ الْبَيَّاعُ الْحَلَّافُ)) قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا الْمَالُ قَالَ فِرْقٌ لَنَا وَذَوْدٌ يَعْنِي بِالْفِرْقِ غَنَمًا يَسِيرَةً قَالَ قُلْتُ لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُ إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ صَامِتِ الْمَالِ قَالَ مَا أَصْبَحَ لَا أَمْسَى وَمَا أَمْسَى لَا أَصْبَحَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ قُرَيْشٍ قَالَ وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ثَلَاثًا يَقُولُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مطرف بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مجھے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث موصول ہوئی تو میں ان سے ملاقات کرنے کو پسند کرنے لگا، پھر میں ان کو ملا اور کہا: اے ابو ذر! مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی اور میں نے چاہا کہ آپ کو ملوں اور اس کے بارے میں سوال کرو، انھوں نے کہا: اب ملاقات تو ہو گئی ہے، اس لیے پوچھ لو، میں نے کہا: جی مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین افراد سے محبت کرتا ہے اور تین افراد سے بغض رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں اور میں اپنے بارے میں یہ خیال نہیں کرتا کہ میں اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولوں گا، یہ بات انھوں نے تین بار دوہرائی، میں نے کہا: اچھا وہ تین افراد کون ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، پس دشمن سے اس کا مقابلہ ہوا اور اس نے حصول ثواب کے لیے قتال کیا،یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ اور تم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ آیت تلاوت کرتے ہو: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے، جو صف باندھ کر اس کے راستے میں قتال کرتے ہیں۔ اور ایک وہ آدمی کہ اس کا ہمسایہ اس کو تکلیف دیتا ہے، لیکن وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو موت یا حیات کے ساتھ کفایت کرتا ہے، اور ایک وہ آدمی ہے جو ایک قوم کے ساتھ چلتا رہتا، یہاں تک کہ نیندیا اونگھ ان پر غالب آ گئی اور انھوں نے رات کے آخری حصے میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈال دیا، لیکن وہ آدمی وضو اور نماز کے لیے اٹھ پڑا اور نماز پڑھتا رہا، یہاں تک کہ ان کو وہاں سے کوچ کرنے کے لیے جگایا۔ میں نے کہا: وہ تین افراد کون ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے؟ انھوں نے کہا: فخر کرنے والا تکبر کرنے والا۔ تم قرآن مجید میں پڑھتے ہی ہو کہ بیشک اللہ تعالیٰتکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور احسان جتلانے والا بخیل اور وہ تاجر جو زیادہ قسم اٹھا کر سودابیچنے والا ہو۔ میں نے کہا: اے ابو ذر! مال سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ہماری بکریاں اور اونٹ، میں نے کہا: میں اس کے بارے میں سوال نہیں کررہا، میں آپ سے مال میں سے سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، انھوں نے کہا: اس نے صبح کی نہ شام اور اس نے شام کی نہ صبح۔ میں نے کہا: اے ابو ذر! آپ کو اور آپ کے قریشی بھائیوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہ ان سے دنیا کا سوال کرتا ہوں اور نہ اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں ان سے کوئی بات پوچھتا ہوں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو جا ملوں گا، یہ بات انھوں نے تین دفعہ کہی۔