حدیث نمبر: 9566
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ ثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ زُهَيْرٌ لَا شَكَّ فِيهِ قَالَ إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نیک سیرت اور مناسب وقار و تمکنت اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نہ نبوت کے اجزاء بنائے جا سکتے ہیں اور نہ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ان صفات سے متصف آدمی پچیسویں درجے کا نبی ہوتا ہے یا اس کے اندر کا پچیسواں حصہ پایا جاتا ہے۔ اس حدیث مبارکہ کی درج ذیل توجیہات کی جا سکتی ہیں: ۱۔ یہ صفات انبیائے کرام کے فضائل کا پچیسواں حصہ ہیں۔
۲۔ انبیائے کرام جو شریعت لائے اور جس کی طرف لوگوں کو دعوت دی،یہ صفات اس کا پچیسواں حصہ ہیں۔
۳۔ ان صفات سے متصف آدمی اس چیز کا حقدار ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس مقدار کے مطابق تقوی کا لباس پہنا دے۔
بہرحالیہ صفات اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند ہیں کہ اس نے انبیائے کرام کو ان سے متصف کیے رکھا، اس لیے ہمیں بھی خصالِ حمیدہ سے متصف ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔
۲۔ انبیائے کرام جو شریعت لائے اور جس کی طرف لوگوں کو دعوت دی،یہ صفات اس کا پچیسواں حصہ ہیں۔
۳۔ ان صفات سے متصف آدمی اس چیز کا حقدار ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس مقدار کے مطابق تقوی کا لباس پہنا دے۔
بہرحالیہ صفات اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند ہیں کہ اس نے انبیائے کرام کو ان سے متصف کیے رکھا، اس لیے ہمیں بھی خصالِ حمیدہ سے متصف ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 9567
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدَهُمَا مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ أَوْ قَارَبَ وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ عَبْدٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالشُّحُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی آگ میں اس طرح جمع نہیںہو سکتے کہ ان میں سے کسی ایک کو نقصان ہو، وہ مسلمان جو کافر کو قتل کرے اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے اور میانہ روی اختیار کرے، دو چیزیں بندے کے پیٹ میں جمع نہیں ہو سکتیں، اللہ تعالیٰ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں، کسی آدمی کے دل میں دو چزیں جمع نہیں ہو سکتیں، ایمان اور لالچ۔
حدیث نمبر: 9568
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجِيبُوا الدَّاعِيَ وَلَا تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ وَلَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دعوت دینے والے کی دعوت قبول کیا کرو، تحفہ واپس نہ کیا کرو اور مسلمانوں کو نہ مارا کرو۔
حدیث نمبر: 9569
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس نے کسی چیز کو اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا، ثواب کی نیت سے اور دل کی خوشی کے ساتھ زکوۃ ادا کی ہو گی اور حکمران کی بات سن کر اس کی اطاعت کی ہو گی، پس اس کے لیے جنت ہو گییا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 9570
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ رَجُلًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی، لوگوں کو معاف کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں ہی اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئےتواضع اختیار کرتاہے، اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 9571
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَقَى مُؤْمِنًا شَرْبَةً عَلَى ظَمَإٍ سَقَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَطْعَمَ مُؤْمِنًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ كَسَا مُؤْمِنًا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مؤمن کسی پیاسے مؤمن کو مشروب پلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو (جنت کی) مہرزدہ صاف و خالص شراب پلائے گا، جو مؤمن کسی بھوکے مؤمن کو کھانا کھلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مؤمن کسی ننگے مؤمن کو کپڑے پہنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو سبز رنگ کا لباس پہنائے گا۔
حدیث نمبر: 9572
عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ الْجَارُ الصَّالِحُ وَالْمَرْكَبُ الْهَنِيءُ وَالسَّكَنُ الْوَاسِعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نافع بن عبد الحارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیک ہمسایہ، پرسکون اور نرم سواری اور کھلا گھر آدمی کی سعادت میں سے ہیں۔
حدیث نمبر: 9573
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَفْضَلُ الْفَضَائِلِ أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ وَتُعْطِيَ مَنْ مَنَعَكَ وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فضیلت والے اعمال میں سب سے افضل عمل یہ ہے کہ تو اس سے تعلق جوڑے، جو تجھ سے توڑتا ہے، تو اس کو دے جو تجھے محروم کرے اور تو اس سے درگزر کرے، جو تجھے برا بھلا کہے۔
حدیث نمبر: 9574
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَانَ صَائِمًا وَعَادَ مَرِيضًا وَشَهِدَ جَنَازَةً غُفِرَ لَهُ مِنْ بَأْسٍ إِلَّا أَنْ يُحْدِثَ مِنْ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوروزے دار ہو اور پھر مریض کی عیادت بھی کرے اور کسی جنازے میں شرکت بھی کرے تو اس کے حرج والے امور (یعنی گناہ) بخش دیئے جاتے ہیں ، الا یہ کہ وہ بعد میں از سرِ نو کوئی گناہ کرے۔
حدیث نمبر: 9575
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ أَوْ مُكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے، تنگی میں مبتلا قرض کے ضامن اور مکاتَب کی گردن چھڑانے کے حوالہ سے مدد کی، اللہ تعالیٰ اس کو اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 9576
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَفُكُّوا الْعَانِيَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَرْضَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، غلام کو آزاد کراؤ اور مریض کی عیادت کرو۔
حدیث نمبر: 9577
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میری امت میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور صاحب ِ علم کو نہیں پہچانتا۔
حدیث نمبر: 9578
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ تَدْخُلُوا الْجِنَانَ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤ، جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے۔
حدیث نمبر: 9579
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كَرَمُ الرَّجُلِ دِينُهُ وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی سخاوت اس کا دین ہے، اس کے نفسیاتی آداب اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کے اخلاق ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کا شرف اس کے آباء و اجداد نہیں ہوتا، بلکہ اس کا حسن اخلاق ہوتا ہے، اسی کو اپنا کر وہ بلند مقام حاصل کر سکتا ہے اور اسی کو ترک کر کے وہ تمام دوسری صلاحیتیں ہونے کے باوجود لوگوں کی نگاہوں میں گر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 9580
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَفْضَلُ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلَا تَعْجِزْ فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ صَنَعَ وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ فَإِنَّ اللَّوَّ يَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضعیف مؤمن کی بہ نسبت قوی مؤمن زیادہ بہتر، زیادہ فضیلت والا اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے، بہرحال ہر ایک میں خیر و بھلائی پائی جاتی ہے، نفع بخش چیزوں کی حرص رکھ اور عاجز نہ آ جا، اگر کوئی معاملہ تجھ پر غالب آ جائے تو یہ کہا کر کہ اللہ تعالیٰ کا یہی اندازہ تھا اور جو وہ چاہتا ہے، کر دیتا ہے، اور لَوْ سے بچ ، کیونکہ لَوْ شیطان کا کام کھولتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قوی مؤمن اسلام کے تمام ارکان و احکام کو کما حقہ پورا کر سکتا ہے، جیسے جہاد، حج، کمائی وغیرہ، جبکہ کمزور مومن کو رخصتوں پر عمل کرنا پڑتا ہے،بہرحال دونوں میں خیر ہے، کیونکہ دونوں اپنی صلاحیتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔ صحت و قوت مسلمان کے لیے تب مفید ہے، جب وہ اس سے استفادہ کر رہا ہو۔
دین و دنیا کے لیے جو چیز مفید ہو اور اس کا حصول بندے کے لیے ممکن ہو تو اس کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ کر گھر بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ وہ کچھ ہو گا جو اللہ کو منظور ہو گا، لیکن اسی پاک ذات نے مفید چیزوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کا حکم دیا ہے۔
لَوْ (اگر) کااستعمال اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر عدم رضامندی کی نشاندہی کرتا ہے، اگر اسباب استعمال کرنے کے بعد نقصان ہو جائے تو اس پر صبر کرنا چاہیے اور اس سے متعلقہ صبر کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔
دین و دنیا کے لیے جو چیز مفید ہو اور اس کا حصول بندے کے لیے ممکن ہو تو اس کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ کر گھر بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ وہ کچھ ہو گا جو اللہ کو منظور ہو گا، لیکن اسی پاک ذات نے مفید چیزوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کا حکم دیا ہے۔
لَوْ (اگر) کااستعمال اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر عدم رضامندی کی نشاندہی کرتا ہے، اگر اسباب استعمال کرنے کے بعد نقصان ہو جائے تو اس پر صبر کرنا چاہیے اور اس سے متعلقہ صبر کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 9581
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ وَلَا يَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّةَ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا، جب تک اُس کا دل درست نہیں ہوتا اور کسی کا دل اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی زبان راہِ راست پر نہیں آ جاتی اور ایسا شخص تو جنت میں داخل نہیں ہوگا کہ جس کے شرور سے اُس کا ہمسایہ امن میں نہیں ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … دل، زبان اور اعضائ، ہر ایک کے ساتھ ایمان کا تعلق ہے۔
اگر کوئی ہمسایہ اپنے کسی ہمسائے کی بدسلوکی کی وجہ سے تنگ ہے تو اس میں مرکزی کردار ظالم کی زبان کا ہو گا، اس حدیث میں پڑوسی کی خیرو بھلائی کو کامیابی و کامرانی کا معیار قرار دیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ ایمان کی بنیاد دل کی راستی پر ہے، دل کی درستی کا دارمدار زبان کی اصلاح پر ہے اور زبان کی خیر و شرّ کا تعلق پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک یا بدسلوکی سے ہے۔
اگر کوئی ہمسایہ اپنے کسی ہمسائے کی بدسلوکی کی وجہ سے تنگ ہے تو اس میں مرکزی کردار ظالم کی زبان کا ہو گا، اس حدیث میں پڑوسی کی خیرو بھلائی کو کامیابی و کامرانی کا معیار قرار دیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ ایمان کی بنیاد دل کی راستی پر ہے، دل کی درستی کا دارمدار زبان کی اصلاح پر ہے اور زبان کی خیر و شرّ کا تعلق پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک یا بدسلوکی سے ہے۔
حدیث نمبر: 9582
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ الْمُؤْمِنِ قَالَ يَا عُقْبَةُ أَمْلِكْ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ قَالَ ثُمَّ لَقِينِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ ثَلَاثِ سُوَرٍ أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقَانِ الْعَظِيمِ قَالَ قُلْتُ بَلَى جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ فَأَقْرَأَنِي قَالَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} {الإخلاص: 1-4} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} {الفلق: 1-5} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} {الناس: 1-6} ثُمَّ قَالَ يَا عُقْبَةُ لَا تَنْسَاهُنَّ وَلَا تَبِتَنَّ لَيْلَةً حَتَّى تَقْرَأَهُنَّ قَالَ فَمَا نَسِيتُهُنَّ مُنْذُ قَالَ لَا تَنْسَاهُنَّ وَمَا بِتُّ لَيْلَةً قَطُّ حَتَّى أَقْرَأَهُنَّ قَالَ عُقْبَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِفَوَاضِلِ الْأَعْمَالِ فَقَالَ يَا عُقْبَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صِلْ مَنْ قَطَعَكَ وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابتدا کی اور آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مؤمن کی نجات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ ! اپنی زبان کو قابو میں رکھ، تیرا گھر تجھے اپنے اندر سما لے (یعنی ضرورت کے بغیر گھر سے نہ نکل) اور اپنی غلطیوں پر رو۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ابتدا کی اور میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے عقبہ بن عامر! کیا میں تجھے ایسی بہترین سورتوں کی تعلیم نہ دوں کہ ان جیسی سورتیں نہ تورات میں نازل ہوئیں، نہ زبور میں، نہ انجیل میں اور نہ قرآن مجید (کے بقیہ حصے) میں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}، {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَق} اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس} پڑھائیں اور پھر فرمایا:اے عقبہ! ان کو نہیں بھولنا اور ان کی تلاوت کیے بغیر کوئی رات نہیں گزارنی۔ پس جب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ تونے ان سورتوں کو نہیں بھولنا اس وقت سے میں نہ ان کو بھولا اور نہ میں نے ایسی رات گزاری، جن میں ان کی تلاوت نہ کی ہو۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابتدا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فضیلت والے اعمال کے بارے میں مجھے بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ!جو تجھ سے قطع رحمی کرے، اس سے صلہ رحمی کر، جو تجھے محروم کرے، تو اسے عطا کر اور جو تجھ پر ظلم کرے، تو اسے معاف کر۔
حدیث نمبر: 9583
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ أَوْ أَيْنَمَا كُنْتَ قَالَ زِدْنِي قَالَ أَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا قَالَ زِدْنِي قَالَ خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا: مزید نصیحت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برائی کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ برائی کو مٹا دے۔ انھوں نے کہا: اور زیادہ نصیحت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آ۔
حدیث نمبر: 9584
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِظْنِي وَأَوْجِزْ فَقَالَ إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا وَاجْمِعِ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ (مسناد أحمد: 23894)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بلیغ و مختصرنصیحت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز ادا کرے تو (اپنی زندگی کی) آخری نماز سمجھ کر ادا کر اور ایسا کلام مت کر کہ جس سے کل تجھے معذرت کرنا پڑے، نیز جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مکمل ناامید (اور غنی) ہو جا۔
وضاحت:
فوائد: … محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین نصیحتوں میں پوری زندگی کا سکون جمع کر دیا ہے۔ کوئی بشر اپنی موت سے آگاہ نہیں ہے، اس لیے اسے چاہئے کہ وہ ہر نماز کو اپنی زندگی کی آخری نماز سمجھ کر انتہائی خوبصورت انداز میں ادا کرے، تاکہ اگر اس نماز کے بعد اس کو موت آ جاتی ہے تو وہی نماز اس کی نجات کے لیے کافی ہو جائے۔ دوسری نصیحت میں شارع علیہ السلام نے زبان کی حفاظت کی تعلیم دی ہے، تاکہ بعد میں کسی قسم کی شرمندگی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے، یہ زبان ہی ہے جس سے آدمی کی شخصیت عیاں ہوتی ہے، اگر زبان میں وقار ہے تو پورے وجود میں سنجیدگی ہو گی اور اگر زبان ہر چراگاہ میں چرنے کی عادی ہو تو جسم بھی بے حیا ہو جاتا ہے۔ تیسری نصیحت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لالچ اور حرص جیسی مذموم صفات سے گریز کرنے کی تلقین کی ہے، کیونکہ ان قبیح صفات کی وجہ سے انسان میں کمینگی اور گھٹیاپن پیدا ہو جاتا ہے، جو اس کے مقام و مرتبہ کو جانوروں سے بھی گھٹا دیتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرے اور اسے رازق سمجھے، لوگوں کے مال و دولت پر نگاہ نہ رکھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی فاقہ میں مبتلا ہو جائے اور لوگوں کے سامنے اس کا اظہار کرے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا اور جو آدمی اس کا اظہار اللہ تعالیٰ کے سامنے کرے تو اللہ تعالیٰ اسے رزق عطا فرمائے گا، وہ جلد ہو یا بہ دیر۔ (ابوداود، ترمذی)