حدیث نمبر: 9556
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ لَهُ ((إِنْ أَرَدْتَ تَلْيِينَ قَلْبِكَ فَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے دل کی سختی کا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلایا کر اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا ہم سے یہ مطالبہ ہے کہ ہم دوسروں کے حق میں نرم دل،رحمدل اور خیر خواہ بن جائیں، لیکن ممکن ہے کہ ایک آدمی طبعی طور پر ہی سخت دل ہو۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں سنگ دلی کو دور کرنے کا ایک نسخہ بیان کیا گیا ہے کہ دنیوی وسائل سے محروم لوگوں کے لیےخورد و نوش کا اہتمام کیا جائے اور دنیوی سہاروں سے محروم افراد کی دلجوئی کی جائے۔
حدیث نمبر: 9557
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْأَجْوَفَانِ قَالَ ((الْفَرْجُ وَالْفَمُ)) قَالَ ((أَتَدْرُونَ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرنے والی چیز اَجْوَفَانِ ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اَجْوَفَانِ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرمگاہ اور منہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرنے والی چیز کون سی ہو گی؟ اللہ تعالیٰ کا ڈر اور حسن اخلاق۔
حدیث نمبر: 9558
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ فَقَالَ ((مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ)) قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ((مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مؤمن جو اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: پھر کون سا آدمی افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی ہے، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر اپنے ربّ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے۔
حدیث نمبر: 9559
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ الصِّحَّةَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک صحت اور فراغت اللہ تعالیٰ کی ایسی دو نعمتیں ہیں کہ بہت سے لوگ ان کی وجہ سے گھاٹے میں مبتلا ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بہت سے لوگ صحت اور فراغت سے فائدہ حاصل نہیں کرتے، بلکہ جب وہ ان دو نعمتوں کو ان کے غیر محل میںصرف کرتے ہیں، تو یہی دو بڑی نعمتیں ان کے حق میں وبال جان بن جاتی ہیں، جبکہ اگر وہ ان کا صحیح استعمال کرتے تو یہ ان کے لیے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کا سبب بنتیں، گویا کہ انھوں نے خیر کے عوض وبال حاصل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 9560
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ ((اعْبُدِ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ وَكُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے جسم کا ایک حصہ پکڑا اور فرمایا: اللہ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور دنیا میں اس طرح ہو جاؤ کہ گویا کہ تم اجنبی یامسافر ہو۔
وضاحت:
فوائد: … جیسے آدمی سفر کے دوران یا اجنبی لوگوں کے درمیان نہ دل لگاتا ہے اور نہ اپنے وجود کا خاص خیال رکھتاہے، اسی طرح کامعاملہ دنیا کا ہے، یہ دل لگانے کی جگہ نہیں ہے اور یہاں کسی کی پروا نہیں ہونی چاہیے، سوائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے۔
اللہ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو حدیث ِ جبریل میں عابد کی اس کیفیت کو احسان کہا گیا ہے۔
حافظ ابن حجرl نے کہا: عبادت کے اس انداز یا احسان کا معنی و مفہوم یہ ہوتا ہے کہ عبادت کو پرخلوص بنایا جائے، اس میں خشوع و خضوع کا خوب اہتمام کیا جائے، عبادت کے دوران اسی کی طرف مکمل توجہ کی جائے اور دل میں معبودِ برحق کا خوف رکھا جائے۔ سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں دو کیفیتوں کو بیان کیا گیا ہے، سب سے اعلی کیفیت اور حالت یہ ہے کہ عبادت کرنے والے پر یہ تصور غالب آجائے کہ وہ دل سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا تھا اور یہ تصور اتنا مضبوط ہو کہ بالآخر اسے یوں محسوس ہو کہ وہ اپنی آنکھوں سے حق تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کأنک تراہ کا یہی معنی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کم از کم وہ یہ حقیقت تو ذہن نشین کر لے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عمل سے آگاہ ہے، فانہ یراک کا یہ مفہوم ہے۔ ان دونوں حالتوں کا نتیجہیہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ سے معرفت ہو گی اور دل میں اس کی خشیت پیدا ہو گی۔
امام نووی نے کہا: اس کا معنییہ ہے کہ جب تم اور اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو گے تو تم تمام آداب کا لحاظ کرو گے، بہرحال تم نہیں دیکھ رہے ہوتے، جبکہ وہ ہر وقت تم کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ عبادت میں حسن پیدا کرو۔ اس حدیث کا تقدیری معنییہ ہو گا: اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو پھر بھی اچھے انداز میں عبادت کو جاری رکھو، کیونکہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، حدیث ِجبریل کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اصولِ دین میں سے ایک عظیم اصل اور قواعد المسلمین میں سے ایک اہم قاعدہ ہے۔ یہ صدیقوں کا سہارا ہے، سالکین کا مقصد ہے، عارفین کا خزانہ ہے اور صالحین کی عادت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو جوامع الکلم عطا کیے گئے، یہ جملہ ان میں سے ایک ہے۔ غور فرمائیے کہ اہل تحقیق نے صالح لوگوں کی مجالس میں بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاکہ ان کے احترام میں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہوئے معائب و نقائص سے بچا جا سکے، تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ظاہری ومخفی حالات سے آگاہ رہتا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۶۰) امام نووی نے کہا: اس کا معنییہ ہے کہ جب تم اور اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو گے تو تم تمام آداب کا لحاظ کرو گے، بہرحال تم نہیں دیکھ رہے ہوتے، جبکہ وہ ہر وقت تم کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ عبادت میں حسن پیدا کرو۔ اس حدیث کا تقدیری معنییہ ہو گا: اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو پھر بھی اچھے انداز میں عبادت کو جاری رکھو، کیونکہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، حدیث ِجبریل کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اصولِ دین میں سے ایک عظیم اصل اور قواعد المسلمین میں سے ایک اہم قاعدہ ہے۔ یہ صدیقوں کا سہارا ہے، سالکین کا مقصد ہے، عارفین کا خزانہ ہے اور صالحین کی عادت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو جوامع الکلم عطا کیے گئے، یہ جملہ ان میں سے ایک ہے۔ غور فرمائیے کہ اہل تحقیق نے صالح لوگوں کی مجالس میں بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاکہ ان کے احترام میں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہوئے معائب و نقائص سے بچا جا سکے، تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ظاہری ومخفی حالات سے آگاہ رہتا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۶۰)
اللہ کی عبادت اس طرح کروکہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو حدیث ِ جبریل میں عابد کی اس کیفیت کو احسان کہا گیا ہے۔
حافظ ابن حجرl نے کہا: عبادت کے اس انداز یا احسان کا معنی و مفہوم یہ ہوتا ہے کہ عبادت کو پرخلوص بنایا جائے، اس میں خشوع و خضوع کا خوب اہتمام کیا جائے، عبادت کے دوران اسی کی طرف مکمل توجہ کی جائے اور دل میں معبودِ برحق کا خوف رکھا جائے۔ سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں دو کیفیتوں کو بیان کیا گیا ہے، سب سے اعلی کیفیت اور حالت یہ ہے کہ عبادت کرنے والے پر یہ تصور غالب آجائے کہ وہ دل سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا تھا اور یہ تصور اتنا مضبوط ہو کہ بالآخر اسے یوں محسوس ہو کہ وہ اپنی آنکھوں سے حق تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کأنک تراہ کا یہی معنی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کم از کم وہ یہ حقیقت تو ذہن نشین کر لے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عمل سے آگاہ ہے، فانہ یراک کا یہ مفہوم ہے۔ ان دونوں حالتوں کا نتیجہیہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ سے معرفت ہو گی اور دل میں اس کی خشیت پیدا ہو گی۔
امام نووی نے کہا: اس کا معنییہ ہے کہ جب تم اور اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو گے تو تم تمام آداب کا لحاظ کرو گے، بہرحال تم نہیں دیکھ رہے ہوتے، جبکہ وہ ہر وقت تم کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ عبادت میں حسن پیدا کرو۔ اس حدیث کا تقدیری معنییہ ہو گا: اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو پھر بھی اچھے انداز میں عبادت کو جاری رکھو، کیونکہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، حدیث ِجبریل کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اصولِ دین میں سے ایک عظیم اصل اور قواعد المسلمین میں سے ایک اہم قاعدہ ہے۔ یہ صدیقوں کا سہارا ہے، سالکین کا مقصد ہے، عارفین کا خزانہ ہے اور صالحین کی عادت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو جوامع الکلم عطا کیے گئے، یہ جملہ ان میں سے ایک ہے۔ غور فرمائیے کہ اہل تحقیق نے صالح لوگوں کی مجالس میں بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاکہ ان کے احترام میں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہوئے معائب و نقائص سے بچا جا سکے، تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ظاہری ومخفی حالات سے آگاہ رہتا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۶۰) امام نووی نے کہا: اس کا معنییہ ہے کہ جب تم اور اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو گے تو تم تمام آداب کا لحاظ کرو گے، بہرحال تم نہیں دیکھ رہے ہوتے، جبکہ وہ ہر وقت تم کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے تم کو چاہیے کہ عبادت میں حسن پیدا کرو۔ اس حدیث کا تقدیری معنییہ ہو گا: اگر تم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو پھر بھی اچھے انداز میں عبادت کو جاری رکھو، کیونکہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، حدیث ِجبریل کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اصولِ دین میں سے ایک عظیم اصل اور قواعد المسلمین میں سے ایک اہم قاعدہ ہے۔ یہ صدیقوں کا سہارا ہے، سالکین کا مقصد ہے، عارفین کا خزانہ ہے اور صالحین کی عادت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو جوامع الکلم عطا کیے گئے، یہ جملہ ان میں سے ایک ہے۔ غور فرمائیے کہ اہل تحقیق نے صالح لوگوں کی مجالس میں بیٹھنے کو مستحب قرار دیا ہے، تاکہ ان کے احترام میں اور ان سے شرم محسوس کرتے ہوئے معائب و نقائص سے بچا جا سکے، تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ظاہری ومخفی حالات سے آگاہ رہتا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۶۰)
حدیث نمبر: 9561
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے کچھ لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور کہا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ تمہارے بد ترین لوگوں میں سے بہترین لوگ کون سے ہیں؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہی جملہ دوہرایا، بالآخر ایک بندے نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید رکھی جاتی ہو اور تم میں بدترین وہ ہے، جس کی خیر کی امید نہ رکھی جاتی ہو اور جس کے شرّ سے امن بھی نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کے وجود میں خیر بھی ہو اور وہ ایسا خیر رساں بھی ہو کہ کسی کو اس سے کوئی خطرہ نہ ہو، ہر کوئی اس اپنی جان و مال او رعزت و عظمت کا محافظ سمجھے۔
حدیث نمبر: 9562
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عَثْرَةٍ وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بردبار کوئی نہیں ہوتا، مگر لغزشوں والا اور دانا کوئی نہیں ہوتا، مگر تجربے والا۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال لغزشوں اور تجربوں کے بعد ہی بردباری اور دانائی نصیب ہوتی ہے، اسی لیے اچھے معاشرے میں بزرگوں کے پند و نصائح کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9563
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقوی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لوگوں کے ہاں جس چیز کی وجہ سے آدمی کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے، وہ مال ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں جس چیز کی وجہ سے عظمت ملتی ہے، وہ تقوی ہے۔
حدیث نمبر: 9564
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يُخْنَزِ اللَّحْمُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت کو خزانہ نہ کیا جاتا اور اگر سیدہ حوا علیہاالسلام نہ ہوتیں تو کوئی بیوی اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔
وضاحت:
فوائد: … بنواسرائیل پر من و سلوی نازل ہوتا تھا، امام قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: بنو اسرائیل نے سلوی کا گوشت ذخیرہ کیا، جبکہ ان کو ایسا کرنے سے روکا گیا تھا، سو ان کو اس چیز کا بدلہ دیا گیا۔
جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کے لیے بات کو مزین کیا تو سیدہ حواء علیہا السلام نے اس کو قبول کیا اور وہ اچھی شکل میں پیش کی گئی اس بدی کی طرف مائل ہو گئیں،یہاں تک کہ آدم علیہ السلام اور سیدہ حواء علیہا السلام دونوں نے جنت کے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا، جس کی وجہ سے ان کو جنت سے زمین کی طرف نکال دیا گیا۔
جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کے لیے بات کو مزین کیا تو سیدہ حواء علیہا السلام نے اس کو قبول کیا اور وہ اچھی شکل میں پیش کی گئی اس بدی کی طرف مائل ہو گئیں،یہاں تک کہ آدم علیہ السلام اور سیدہ حواء علیہا السلام دونوں نے جنت کے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا، جس کی وجہ سے ان کو جنت سے زمین کی طرف نکال دیا گیا۔