کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مفردات کا بیان
حدیث نمبر: 9548
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ثَنَا الْمُبَارَكُ ثَنَا الْحَسَنُ أَنَّ شَيْخًا مِنْ بَنِي سَلِيطٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُكَلِّمُهُ فِي سَبْيٍ أُصِيبَ لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ وَعَلَيْهِ حَلْقَةٌ قَدْ أَطَافَتْ بِهِ وَهُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ عَلَيْهِ إِزَارُ قُطْنٍ لَهُ غَلِيظٌ فَأَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ يُشِيرُ بِإِصْبَعَيْهِ ((الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا)) يَقُولُ أَيْ فِي الْقَلْبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسن بصری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو سلیط کاایک بزرگ صحابی کہتا ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنے ایک قیدی کی بات کرنے کے لیے گیا، جو دورِ جاہلیت میں پکڑا گیا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ حلقے کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیر کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کاٹن کی موٹی چادر پہنی ہوئی تھی، پہلی بات جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی، وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ وہ اس کو بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے، تقوییہاں ہے، تقوییہاں ہے۔ یعنی دل میں۔
وضاحت:
فوائد: … تقوی کااصل منبع و محور دل اور سینہ ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کی عظمت، خشیت اور مراقبت کی وجہ سے تقوی پیدا ہوتا ہے، پھر ایسے آدمی کے وجود پر اس چیز کے واضح آثار نظر آنے لگتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9548
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه بنحوه ابويعلي: 6228 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23600»
حدیث نمبر: 9549
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَالْقَ أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو ہر گز حقیر نہ سمجھنا، پس اگر تیرے پاس کچھ نہ ہو تو مسکراتے چہرے کے ساتھ مل لیا کر۔
وضاحت:
فوائد: … اگر فرض کریں کہ کسی انسان میں کوئی نیکی کرنے کی ہمت باقی نہ رہے تو یہ تو اس کے بس کی بات ہو گی کہ دوسرے لوگوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کر لے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نیکی کو سب سے آسان قرار دیا تھا، آج ہم نے اس کو سر انجام دینے کے لیے شخصیتوں کو خاص کر لیا ہے اور ہر مسلمان کو اپنی مسکراہٹوںکا حقدار نہیں سمجھا ہے۔ نیکی کا ہر کام مسلمان کا گم شدہ متاع ہے، وہ جہاں سے بھی ملے، وہی اس کا زیادہ مستحق ہو گا، آخرت کا تقاضا یہی ہے کہ چھوٹی اور بڑی نیکی میں فرق نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9549
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2626 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21852»
حدیث نمبر: 9550
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ایسا خیال آیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکوکار بندوں کے لیے میزبانی کا سامان ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9550
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3244، 4779، ومسلم: 2824 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8128»
حدیث نمبر: 9551
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا يُوجَدُ فِيهَا رَاحِلَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی ان سو اونٹوں کی طرح ہیں، جن میں (بوجھ اٹھانے اورسواری کرنے کے) لائق کوئی اونٹ نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … جیسے اونٹوں کی بڑی تعداد میں ایسا عمدہ اور طاقتور اونٹ نہ پایا جاتا ہے، جو بوجھ اٹھانے اور سواری کرنے کے لائق ہو، اسی طرح لوگوں کی کثیر تعداد میں عمدہ اور منتخب قسم کے افراد کم ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9551
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6498، ومسلم: 2547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4516»
حدیث نمبر: 9552
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((حُرِّمَ عَلَى النَّارِ كُلُّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ سَهْلٍ قَرِيبٍ مِنَ النَّاسِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگ پر ہر اس شخص کو حرام قرار دیا گیا ہے، جو نرمی کرنے والا، آسانی کرنے والا اور لوگوں کے ہاں ہر دلعزیز ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9552
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بشواهده، أخرجه الترمذي: 2488 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3938»
حدیث نمبر: 9553
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9553
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6168، ومسلم: 2640 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19862»
حدیث نمبر: 9554
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((النَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا فِي الدِّينِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ کانیں ہیں، ان میں سے زمانہ ٔ جاہلیت کے بہتر لوگ، اسلام میں بھی بہتر ہیں، بشرطیکہ انھیں دین کی سمجھ حاصل ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … جس طرح کانیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، کوئی عمدہ اشیاء پر مشتمل ہوتی ہے تو کوئی ردّی چیزوں پر، اسی طرح لوگ بھی اخلاق و اعمال کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں،یعنی کوئی اچھا ہوتا ہے تو کوئی برا۔ علاوہ ازیں شرف و فضل اور اخلاق و کردار کے اعتبار سے جو لوگ زمانہ ٔ جاہلیت میں ممتاز ہوں، اگر وہ دین میں فہم و فراست حاصل کر لیں تو مسلم معاشرے میں بھی ان کا سابقہ مقام ومرتبہ بحال رہے گا۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں بڑا اہم نقطہ بیان کیا گیا ہے کہ اسلام کا شرف اس وقت مکمل ہوتا ہے، جب اسلام میں سمجھ بوجھ حاصل ہو جائے۔
اس وقت مسلمانوں میں عظمت، بڑائی اور خودپسندی کے عجیب عجیب معیار قائم ہو چکے ہیں، کہیں مال و دولت کو باعث ِ عزت سمجھ لیا گیا، کہیں ذات پات کو ترجیح دی گئی، کہیں دنیوی تعلیم کو کسوٹی بنا لیا گیا، کہیں سیاسی فتح اور سیاسی پارٹی کو حق و باطل کا معیار بنا لیا گیا، کہیں مسکراہٹوں کے تبادلے کو بڑی انسانیت کی علامت سمجھ لیا گیا۔
اگر اس اسلامی معاشرے میں وقعت و اہمیت اور عزت و عظمت نہیں ہے تو وہ فقاہت فی الاسلام، دینی تعلیم اور تقوی کی نہیں ہے، اگر کوئی انسان ان اوصاف سے متصف ہے تو ہمارے معاشرے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ شخص کسی مسجد یا مدرسہ کو سنبھال لے اور حکومتی اور معاشرتی مسائل میں دخل نہ دے۔ یہ دراصل ہمارا معیار ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی کسوٹی کا تقاضا یہ نہیں ہے، وہ جہانگیر بھی تھے، جہانباں بھی، وہ جہاندار بھی تھے اور جہاندیدہ بھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9554
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3496، ومسلم: 2526 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9068»
حدیث نمبر: 9555
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو کسی آدمی کو اس طرح کہتے سنے کہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں، تو وہ خود سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: یہ کہنا کہ لوگ تباہ ہو گئے ہیں، اس شخص کے لیے منع ہے، جو اپنے آپ کو اچھا سمجھے، لوگوں کو حقیر گردانے اور ان پر اپنے آپ کو برتر خیال کرے۔ لیکن جو شخص یہ دیکھتا ہے کہ لوگوں میں دینداری کم ہو گئی ہے اور اس پر اظہار افسوس کرتے ہوئے دینی غیرت و حمیت کی وجہ سے یہ الفاظ اس کی زبان پر آجائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ امام مالک بن انس، امام حمیدی اور امام خطابی جیسے علماء نے اس حدیث کییہی تفصیل بیان کی ہے۔ (ریاض الصالحین)
ہمارے معاشرے میں اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھا سمجھتے ہیں اور دوسروں کو نہ صرف حقیر گردانتے ہیں، بلکہ ان کے عیوب تلاش کرنے اور ان کی نیکیوں کو کوئی دوسرا رخ دینے میں لگے رہتے ہیں۔
ایک دن میں ایک بے دین سے آدمی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک اچھے خاصے دین دار شخص کا تذکرہ ہونے لگا، میں نے اس کی شرعی صفات کی وجہ سے اس کی تعریف کرنا چاہیے، لیکن جناب نے صرف اس بنا پر اس کو انتہائی برا کہا کہ اس نے اسے وعدے کے مطابق قرضہ واپس نہیں کیا تھا، جبکہ وہ بزعم خود اپنے آپ کو دین دار ٹھہرا رہا تھا، حالانکہ پرلے درجے کا بدعمل شخص تھا، آج کل اکثریت کا یہی رویہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9555
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10708»