حدیث نمبر: 9538
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: لوگو! بیشک تم یہ آیت پڑھتے ہو: اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ (سورۂ مائدہ: ۱۰۵) ، لیکن ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک جب لوگ برائی کو دیکھ کر اس کو تبدیل نہیں کریں گے تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کردے۔
وضاحت:
فوائد: … بعض لوگوں کے ذہن میں ظاہری الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اگر اپنی اصلاح کر لی جائے تو کافی ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری نہیں ہے، لیکنیہ مطلب صحیح نہیں ہے، کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی نہایت اہم ہے، اگر ایک مسلمان یہ فریضہ ہی ترک کر دے تو وہ ہدایت پر قائم کیسے رہے گا۔
اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریںیا برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لیےیہ نقصان دہ نہیں ہے کہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے مجتنب ہو۔
اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریںیا برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لیےیہ نقصان دہ نہیں ہے کہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے مجتنب ہو۔
حدیث نمبر: 9539
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ قَالَ يَزِيدُ أَحْسِبُهُ قَالَ وَأَسْوَاقِهِمْ وَوَاكَلُوهُمْ وَشَارَبُوهُمْ فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَلَعَنَهُمْ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى تَأْطِرُوهُمْ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بنو اسرائیل میں نافرمانیاں شروع ہوئیں تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا، لیکن جب وہ باز نہ آئے تو ان کے علماء نے ان کے ساتھ ان کی مجلسوں اور بازاروں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا شروع کر دیا، پس اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور داود علیہ السلام اور عیسی بن مریم علیہ السلام کی زبانوں کے ذریعے ان پر لعنت کی،یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نافرمانی اور زیادتی کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (اس وقت کام بنے گا) جب تم ان کو حق کی طرف موڑو گے۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال اہل علم کو چوکنا اور متنبہ رہنا چاہیے، عوام اور معاشرے میں کسی برائی کے عام ہو جانے کا یہ مطلب نہیں کہ اہل علم بھی اس کے بارے میں غیر محتاط ہو جائیں۔
((فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ)) اس ترکیب کے دو معانی ہو سکتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور نتیجتاً وہ سب برے دلوں والے ہو گئے۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کے دلوں کے وجہ سے فرمانبرداروں کے دل بھی کالے کر دیئے، اس طرح سب کے دل حق، خیر اور رحمت کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہو گئے۔
((فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ)) اس ترکیب کے دو معانی ہو سکتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور نتیجتاً وہ سب برے دلوں والے ہو گئے۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کے دلوں کے وجہ سے فرمانبرداروں کے دل بھی کالے کر دیئے، اس طرح سب کے دل حق، خیر اور رحمت کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہو گئے۔
حدیث نمبر: 9540
عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ قَوْمٍ يَعْمَلُونَ بِالْمَعَاصِي وَفِيهِمْ رَجُلٌ أَعَزُّ مِنْهُمْ وَأَمْنَعُ لَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا عَمَّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ أَوْ قَالَ أَصَابَهُمُ الْعِقَابُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ نافرمانیاں کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ ان میں سے ایک ایسا آدمی بھی موجود ہوتا ہے جو سب سے زیادہ عزت والا ہوتا ہے اور اس کے لیےیہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ ان کو اس برائی سے روک سکے، لیکن وہ روکتا نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر عام سزا نازل کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … خاندانوں کے سربراہوں کی سب سے بڑی ذمہ دارییہ ہے کہ وہ اپنے ماتحت افراد کو خیر کے قریب کریں اور ان کو شرّ سے دور رکھیں، جبکہ یہ ذمہ داری ادا کرنے والے مسئولین عنقا بن چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 9541
عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ هِيَ حَيَّةٌ الْيَوْمَ إِنْ شِئْتَ أَدْخَلْتُكَ عَلَيْهَا قُلْتُ لَا حَدِّثْنِي قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ بِكُمِّ دِرْعِي فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقَالَتْ نَعَمْ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ قَالَتْ وَمَا قَالَ قَالَتْ قَالَ ((إِنَّ الشَّرَّ إِذَا فَشَا فِي الْأَرْضِ فَلَمْ يُتَنَهَّ عَنْهُ أَرْسَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَأْسَهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ)) قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِيهِمُ الصَّالِحُونَ قَالَ ((نَعَمْ وَفِيهِمُ الصَّالِحُونَ يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ثُمَّ يَقْبِضُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرِضْوَانِهِ)) أَوْ إِلَى رِضْوَانِهِ وَمَغْفِرَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسن بن محمد کہتے ہیں: مجھے ایک انصاری خاتون نے بیان کیا، وہ ابھی تک زندہ ہے، اگر تو چاہتا ہو تو میں تجھے اس کے پاس لے جاتا ہوں، اس نے کہا: نہیں، بس تم مجھے بیان کرو، اس خاتون نے کہا: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، لیکن یوں لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں ہیں، میں نے اپنی قمیص کی آستین کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پردہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ کلام کیا، لیکن میں نہ سمجھ پائی، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، کیا تو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی نہیں ہے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب زمین میں شرّ پھیل جائے گا اور پھر اس سے باز نہیں رہا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کر دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسی حالت میں کہ ان میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان میں نیکوکار بھی ہوں گے، لیکن لوگوں پر نازل ہونے والا عذاب ان کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی بخشش اور رضامندی کی طرف لے جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ ممکن ہے کہ بعض نیک لوگ معذور ہوں، جو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں آ جانے کے باوجود اس کی بخشش کے مستحق ٹھہریں۔
حدیث نمبر: 9542
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِذَا رَأَيْتَ أُمَّتِي لَا يَقُولُونَ لِلظَّالِمِ مِنْهُمْ أَنْتَ ظَالِمٌ فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو میری امت کو اس طرح دیکھے گا کہ وہ ظالم کو یوں نہیں کہے گی کہ تو ظالم ہے تو (سمجھ لینا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت) ان سے اٹھا لی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 9543
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَأْخُذَ اللَّهُ شَرِيطَتَهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَيَبْقَى فِيهَا عَجَاجَةٌ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین سے خیر اور دین والے لوگوں کو لے جائے اور ایسے گھٹیا لوگ رہ جائیں، جو نہ نیکی کو پہچانتے ہوں گے اور نہ برائی سے روکتے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … دنیا میں آخر میں گھٹیا اور برے لوگ ہی رہ جائیں گی اور ان ہی پر قیامت قائم ہو گی۔
حدیث نمبر: 9544
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پرشفقت نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے۔
حدیث نمبر: 9545
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى وَالْمُدْهِنِ فِيهَا وَفِي رِوَايَةٍ وَالْوَاقِعِ فِيهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ فِي الْبَحْرِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا يَصْعَدُونَ فَيَسْتَقُونَ الْمَاءَ فَيَصُبُّونَ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا لَا نَدَعُكُمْ تَصْعَدُونَ فَتُؤْذُونَنَا فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا فَإِنَّا نَنْقُبُهَا مِنْ أَسْفَلِهَا فَنَسْتَقِي قَالَ فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ فَمَنَعُوهُمْ نَجَوْا جَمِيعًا وَإِنْ تَرَكُوهُمْ غَرِقُوا جَمِيعًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے اور ان کو پھلانگنے والے کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے، جنھوںنے سمندری سفر کرنے کے لیے کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کی، بعض اس کے نچلے حصے میں آ گئے اور بعض اوپر والے حصے میں، نچلے حصے والے پانی لینے کے لیے اوپر والے حصے کی طرف چڑھتے تھے اور اوپر والوں پر پانی گر جاتا تھا، پس انھوں نے کہا: ہم تم کو اس طرح نہیں چھوڑیں گے کہ تم اوپر چڑھتے رہو اور ہمیں تکلیف دو، یہ سن کر نیچے والوں نے کہا: تو پھر ہم پانی حاصل کرنے کے لیے نیچے سے سوراخ کر لیتے ہیں، پس اگر اوپر والوں نے ان کے ہاتھوں کو پکڑ کر ان کو ایسا کرنے سے روک لیا تو وہ سارے کے سارے نجات پا جائیں گے اور اگر انھوں نے اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا تو سارے غرق ہو جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اہل علم کو ان کی ذمہ داری سمجھانے کے لیے بڑی واضح مثال بیان کی گئی ہے، جبکہ حدیث میں بیان کی گئی مثال کا انجام غرق تھا اور تبلیغ کی ذمہ داری ادا نہ کرنے والوں کا انجام ہمیشہ کی ناکامی ہے۔ نَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ۔
حدیث نمبر: 9546
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى نَدَعُ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ ((إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا كَانَتِ الْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ وَالْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ وَالْعِلْمُ فِي رِذَالِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کب نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کو ترک کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ امور دکھائی دینے لگیں، جو بنو اسرائیل میں نمودار ہوئے تھے اور وہ یہ ہیں کہ جب بے حیائی بڑوں میں، بادشاہت چھوٹوں میں اور علم گھٹیا لوگوں میں آ جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تینوں نحوستیں امت ِ مسلمہ میں پائی جا رہی ہیں۔
حدیث نمبر: 9547
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبَكُمْ وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيَكُمْ وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے پہنچان گئی کہ کسی چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ کرنے پر آمادہ کیا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور کسی سے کلام کیے بغیر باہر چلے گئے، میں حجروں کے قریب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے منع کیا کرو، قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو گے، لیکن میں تم کو جواب نہیں دوں گا، تم مجھ سے سوال کرو گے، لیکن میں تم کو عطا نہیں کروں گا اور تم مجھ سے مدد طلب کرو گے، لیکن میں تمہاری مدد نہیں کروں گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس دنیا میں خیر و بھلائی کو عام کرنے کے لیے اور شرو معصیت کو ختم کرنے کے لیے انبیاء و رسل کا مبارک سلسلہ شروع کیا گیا، جو بالآخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ تو بند ہو گیا، لیکن انبیائے کرام کی ذمہ داری علمائے اسلام کو سونپ دی گئی، جبکہ اس دنیا میں سعادت مند وہی ہیں، جن کو امورِ خیر کو عام کرنے اور شرّ کا وجود ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔