کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے¤اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9527
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ (قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ أَحَدُ الرُّوَاةِ مِنْ أَدَمٍ) فِي نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا (وَفِي رِوَايَةٍ جَمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكُنْتُ مِنْ آخِرِ مَنْ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّكُمْ مَفْتُوحٌ عَلَيْكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَمَثَلُ الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ كَمَثَلِ بَعِيرٍ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ فَهُوَ يُنْزَعُ مِنْهَا بِذَنَبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ (چمڑے کے) سرخ خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تقریبًا چالیس آدمی بیٹھے تھے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جمع کیا، جبکہ ہم چالیس افراد تھے، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سب سے آخر میں آنے والا میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمھیں فتوحات نصیب ہوں گی، تمھاری مدد کی جائے گی اور تم غنیمتیں حاصل کرو گے۔ جو آدمی ایسا زمانہ پا لے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے، نیکی کا حکم دے، برائی سے رک جائے اور صلہ رحمی کرے۔ جس نے مجھ پرجان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کرے۔ وہ آدمی جو کسی قوم کی غیر حق بات پر مدد کرتا ہے، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنویں میں گرا دیا گیا اور پھر دم سے پکڑ کا کھینچا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ فاتحین کسی علاقہ کو فتح کرنے کے بعد اپنے آپ کو حدود و قیود سے آزاد سمجھ کر من مانیاں کرنے لگتے ہیں، لیکن اسلام نے مسلم فاتحین کو خیر و بھلائی کے امور کا پابند بنا دیا۔ قوم کی غیر حق بات پر مدد کرنے والے کی جو مثال بیان کی گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص گناہ میں پڑا اور اس قدر ہلاک ہو گیا کہ اب اپنے آپ کو چھٹکارا بھی نہیں دلا سکتا۔ موجودہ دور میںاکثر لوگ انانیت و قومیت میں پڑ کر اس مثال کے مصداق بنتے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9527
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح عند من يصحح سماع عبد الرحمن من ابيه مطلقا، أخرجه ابويعلي: 5304 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3801»
حدیث نمبر: 9528
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُورُ بِهَا فِي النَّارِ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَى قَالَ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ يَا فُلَانُ أَمَا كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ فَيَقُولُ بَلَى قَدْ كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ فَلَا آتِيهِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کو روزِ قیامت لایا جائے گا، اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ چکی کے گرد گھومنے والے گدھے کی طرح ان کے ارد گرد چکر لگانا شروع کر دے گا۔ جہنم والے جمع ہو کر کہیں گے: اے فلاں! کیا تو ہمیں نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، میں نیکی کا حکم تو دیتا تھا، لیکن خود نہیں کرتا تھا اور برائی سے منع تو کرتا تھا، لیکن خود باز نہیں آتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس فرمانِ نبوی میں علمائے اسلام کے لیے بہت بڑی وعید بیان کی گئی ہے، ہر عالم اور مبلّغ کو چاہیے کہ وہ جو کچھ بیان کرتا ہے، اس پر خود بھی عمل کرے، وگرنہ نہ اس کی زبان میں کوئی تأثیر ہو گی اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9528
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2989 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22143»
حدیث نمبر: 9529
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ قَالَ تُرِكَ مَا هُنَاكَ يَا أَبَا فُلَانٍ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا طارق بن شہاب کہتے ہیں: پہلا شخص، جس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا، وہ مروان ہے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے، اس نے کہا: اے ابو فلاں! وہ والے امور چھوڑ دیئے گئے ہیں، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں جو آدمی برائی کو دیکھے، اس کو اپنے ہاتھ سے تبدیل کرے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر اتنی طاقت بھی نہ ہو تو دل سے برا سمجھے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … برائی کو دل سے برا سمجھنا ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے، گویا برائی کو پسند کرنا یا اس میں پڑ جانا ایمان کے منافی چیز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9529
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11480»
حدیث نمبر: 9530
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ فَلَا يَسْتَجِيبَ لَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور ضرور نیکی کا حکم دو گے اور ضرور ضرور برائی سے منع کرو گے، وگرنہ قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی عذاب تم پر مسلط کر دے اور پھر تم اس کو پکارو گے، لیکن وہ تمہیں جواب نہیں دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، اس وقت امت ِ مسلمہ کی بھاری اکثریت اس وعید کی مستحق بن چکی ہے۔ عوام تو عوام، خواص نے بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو ترک کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9530
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 2169 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23690»
حدیث نمبر: 9531
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبَكُمْ وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيَكُمْ وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے پہنچان گئی کہ کسی چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ کرنے پر آمادہ کیا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور کسی سے کلام کیے بغیر باہر چلے گئے، میں حجروں کے قریب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے منع کیا کرو، قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو گے، لیکن میں تم کو جواب نہیں دوں گا، تم مجھ سے سوال کرو گے، لیکن میں تم کو عطا نہیں کروں گا اور تم مجھ سے مدد طلب کرو گے، لیکن میں تمہاری مدد نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9531
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4004 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25769»
حدیث نمبر: 9532
عَنْ أَبِي الرُّقَادِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ وَأَنَا غُلَامٌ فَدُفِعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ يَقُولُ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ مُنَافِقًا وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْمَقْعَدِ الْوَاحِدِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَحَاضُّنَّ عَلَى الْخَيْرِ أَوْ لَيُسْحِتَنَّكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا بِعَذَابٍ أَوْ لَيُؤَمِّرَنَّ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ ثُمَّ يَدْعُو خِيَارُكُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو رقاد کہتے ہیں: میں اپنے آقا کے ساتھ نکلا، جبکہ میں لڑکا تھا، پھر جب مجھے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا گیا تو وہ کہہ رہے تھے: بیشک ایک آدمی عہد ِ نبوی میں ایسی بات کرتا تھا کہ وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، لیکن اب میں نے تمہاری مجلس میں وہی بات چار دفعہ سنی ہے، (سنو کہ) تم ضرور ضرور نیکی کا حکم کرو گے، برائی سے منع کرو گے اور خیر پر لوگوں کو ابھارو گے، وگرنہ اللہ تعالیٰ تم سب کو عذاب سے برباد کر دے گا یا تمہارے بدترین لوگوں کو تمہارا حکمران بنا دے گے، پھر تمہارے نیکوکار لوگ اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے، لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … نیکی کا حکم نہ کرنا اور برائی سے منع نہ کرنا، یہ اتنا بڑا شرّ ہے کہ جس عہد میں یہ پایا جائے گا، اس وقت زمانے کے نیک لوگوں کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔
دراصل جس معاشرے میں نیکی کا حکم نہ دیا جاتا ہو اور برائی سے نہ روکا جاتا ہے، اس معاشرے کے افراد اتنے بے حیا، باغی اور ڈھیٹ ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم ہی نہیں آتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9532
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اثر حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 44 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23701»
حدیث نمبر: 9533
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں سے جہاد کرو، وہ قریب ہوں یا دور، اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو اور حضر و سفر میں اللہ تعالیٰ کی حدود قائم کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی ذات بہت عظیم ہے، اس سے سچا تعلق قائم ہو جائے تو ان امور پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے، بہرحال اسلامی اور بڑے راسخ مزاج کی ضرورت ہے، جو اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9533
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23157»
حدیث نمبر: 9534
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالٌ ثُمَّ لَا يَقُولَهُ فَيَقُولُ اللَّهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِيهِ فَيَقُولُ رَبِّ خَشِيتُ النَّاسَ فَيَقُولُ وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ يُخْشَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنے آپ کو اتنا حقیر نہ سمجھ لے کہ جب وہ ایسا معاملہ دیکھے، جس میں اللہ تعالیٰ کے لیے بات کرنا اس کی ذمہ داری بنتی ہو، لیکن وہ خاموش ہو جائے، پھر جب اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کس چیز نے تجھے اُس موقع پر بات کرنے سے روک دیا تھا، وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں لوگوں سے ڈر گیا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اس چیز کا زیادہ حقدار تھا کہ مجھ سے ڈرا جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9534
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو البختري، لم يسمع من ابي سعيد، بينھما راو، وھو رجل مبھم، أخرجه ابن ماجه: 4008 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11275»
حدیث نمبر: 9535
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقُولَ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ تُنْكِرُهُ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ قَالَ يَا رَبِّ وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن بندے سے مختلف امور کے بارے میں پوچھے گا، یہاں تک کہ وہ یہ سوال بھی کرے گا کہ جب تو نے برائی دیکھی تھی تو کس چیز نے تجھے اس کا انکار کرنے سے روک دیا تھا؟ پس جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ذہن میں اس کی دلیل بٹھائے گا تو وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں نے تجھ پر اعتماد کیا اور لوگوں سے ڈر گیا۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ بعض حالات و ظروف کے پیشِ نظر بندے کا عذر قبول ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9535
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 1344 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11265»
حدیث نمبر: 9536
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مِنْكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ وَعَلِمَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ) إِذَا رَآهُ أَوْ عَلِمَهُ أَوْ رَآهُ أَوْ سَمِعَهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ أَوْ يُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی حق کو دیکھ لے، اس کو جان لے اور اس کو سن لے تو پھر لوگوں کا ڈر اس کو یہ حق بیان کرنے سے روکنے نہ پائے، پس بیشک حق بیان کرنے یا عظیم چیز کی نصیحت کرنے سے نہ اس کی موت قریب ہو گی اور نہ اس کا رزق دور ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9536
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: فَاِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ اَجَلٍ وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ اَنْ يَقُوْلَ بِحَقٍّ اَوْ يُذَكِّرُ بِعَظِيْمٍ ، أخرجه ابويعلي: 1411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11494»
حدیث نمبر: 9537
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا وَأَوْثَقَنِي سَبْعًا وَأَشْهَدَ عَلَيَّ تِسْعًا أَنِّي لَا أَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ (الْحَدِيثَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ دفعہ مجھ سے بیعت کی، سات دفعہ عہدو پیمان کیااور نو چیزوں کو مجھ پر گواہ بنایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔
وضاحت:
فوائد: … مضبوط اور راسخ عقیدے کا تقاضا تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کر کے کسی ملامت والے کی ملامت کا پاس و لحاظ نہ رکھے۔
یہاںیہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فریضے کو سر انجام دینے کے لیے حکمت اور مصلحت انتہائی ضروری ہے، نیکی کا حکم دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی پر بے جا سختی کی جائے، کسی کی توہین کی جائے، کسی کو برسرِ عام ڈانٹ دیا جائے، اپنی بے عزتی کے مترادف انداز اپنایا جائیے،ایسا انداز اپنایا جائے کہ اگلا آدمی انتقامی کاروائی پر اتر آئے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔} … اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ (سورۂ فصلت: ۳۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر / حدیث: 9537
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو اليمان عامر بن عبد الله الھوزني في عداد المجھولين، أخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21841»