کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
حدیث نمبر: 9524
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ حَتَّى إِذَا رَمَى الثَّانِيَةَ عَرَضَ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اعْتَرَضَ فِي الْجَمْرَةِ الثَّالِثَةِ عَرَضَ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ كَلِمَةُ حَقٍّ تُقَالُ لِإِمَامٍ جَائِرٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فِي حَدِيثِهِ وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ لِإِمَامٍ ظَالِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرے کو کنکریاں مار رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے جمرے کو کنکریاں ماریں تو پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درپے ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بار بھی خاموش رہے اور جب آگے چلے اور تیسرے جمرے کے پاس پہنچے تو وہی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظالم حکمران کے سامنے حق کلمہ کہنا۔
حدیث نمبر: 9525
عَنْ طَارِقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ إِمَامٍ (وَفِي رِوَايَةٍ سُلْطَانٍ) جَائِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کون سا جہاد سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظالم بادشاہ کے سامنے حق کلمہ کہنا۔
وضاحت:
فوائد: … کلمۂ حق سے مراد امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کی کوئی بات کہنا ہے۔ اس کو افضل جہاد قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ جو مجاہد، دشمن سے لڑتا ہے اسے فتح اور غلبے کی امید بھی ہوتی ہے اور شکست اور مغلوب ہو جانے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص، جابر بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق پیش کرتا ہے، وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں دھکیل رہا ہوتا ہے، اسے جلد ہی بادشاہ کے سامنے مقہور و مجبور کی حیثیت سے حاضر ہونا پڑتا ہے، الا ما شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب و محب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {وَلَایَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ } (سورۂ مائدہ: ۵۴) … وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جسے چاہے دے دیتا ہے۔
جب تک اہل ایمان اس صفت سے متصف ہو کر اللہ تعالیٰ کیلیے بے لوث جذبات کا اظہار نہیں کرتے، اس وقت تک انہیں ایمان کی مٹھاس اور شیریں نصیب نہیں ہو سکتی، معاشرے میں جن برائیوں اور بیہودگیوں کا چلن عام ہو جاتا ہے، جنہیں معاشرہ سرے سے برائی تسلیم کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا، ان کے خلاف نیکی پر استقامت اختیار کرنااور ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر کاربند رہنا اس صفتِ حمیدہ کے بغیر ممکن نہیں۔ وگرنہ بیسیوں لوگ ایسے ہیں جو برائی اور معاشرتی خرابیوں سے اپنا دامن تو بچانا چاہتے ہیں، لیکن ان میں ملامت گروں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہوتی، نتیجتًا وہ ان برائیوں کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں اور حق و باطل کے مکسچر کو اسلام سمجھ کر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی محبت سے محروم رہتے ہیں۔
فرعون و نمرود جیسے باطل پرستوں، جو لمحہ بھر کیلیے نہ مخالفین کو برداشت کرسکتے ہیں اور نہ انہیں کسی قسم کی ایذا پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت کر سکتے ہیں، کے سامنے حق و انصاف کا اعلان نہ صرف دل گردے کا کام ہے بلکہ لقمۂ اجل بننے کے مترادف ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لحاظ کرنا اِن ظالموں کی ایذا رسانی کی بہ نسبت برتر ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے افضل جہاد قرار دے کر ہمیں ہر وقت اس قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔
جب تک اہل ایمان اس صفت سے متصف ہو کر اللہ تعالیٰ کیلیے بے لوث جذبات کا اظہار نہیں کرتے، اس وقت تک انہیں ایمان کی مٹھاس اور شیریں نصیب نہیں ہو سکتی، معاشرے میں جن برائیوں اور بیہودگیوں کا چلن عام ہو جاتا ہے، جنہیں معاشرہ سرے سے برائی تسلیم کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا، ان کے خلاف نیکی پر استقامت اختیار کرنااور ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر کاربند رہنا اس صفتِ حمیدہ کے بغیر ممکن نہیں۔ وگرنہ بیسیوں لوگ ایسے ہیں جو برائی اور معاشرتی خرابیوں سے اپنا دامن تو بچانا چاہتے ہیں، لیکن ان میں ملامت گروں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہوتی، نتیجتًا وہ ان برائیوں کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں اور حق و باطل کے مکسچر کو اسلام سمجھ کر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی محبت سے محروم رہتے ہیں۔
فرعون و نمرود جیسے باطل پرستوں، جو لمحہ بھر کیلیے نہ مخالفین کو برداشت کرسکتے ہیں اور نہ انہیں کسی قسم کی ایذا پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت کر سکتے ہیں، کے سامنے حق و انصاف کا اعلان نہ صرف دل گردے کا کام ہے بلکہ لقمۂ اجل بننے کے مترادف ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لحاظ کرنا اِن ظالموں کی ایذا رسانی کی بہ نسبت برتر ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے افضل جہاد قرار دے کر ہمیں ہر وقت اس قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔
حدیث نمبر: 9526
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جن کو پہلے والے لوگوں کے اجر کی طرح ثواب دیا جائے گا، وہ برائی کا انکار کرتے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ برائی کا انکار نہ کرنے میں سستی اور اسلامی حمیت کے کم پڑ جانے کا بھی دخل ہوتا ہے، لیکن اس معاملے میں اصل رکاوٹ لوگوں کا ظاہری مقام و مرتبہ ہے، ہم اس سستی کو شرمانے سے تعبیر کرتے ہیں، جو دراصل ایسی بزدلی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسلام کا پاس و لحاظ نہیں رکھا جاتا۔