کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ لوگوں سے علیحدگی بہتر ہے یا ان میں گھل مل کر رہنا؟
حدیث نمبر: 9521
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ قَالَ فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ مَاءٍ وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنَ الْبَقْلِ وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنَ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ وَأَتَخَلَّى عَنِ الدُّنْيَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَلَكِنْ بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمَقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایک لشکر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، ایک آدمی کا ایک نشیبی جگہ کے پاس سے گزر ہوا، وہاں پانی کا چشمہ بھی تھا، اسے خیال آیا کہ وہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر یہیں فروکش ہو جائے، یہ پانی اور اس کے ارد گرد کی سبزہ زاریاں اسے کفایت کریں گی۔ پھر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور یہ معاملہ آپ کے سامنے رکھوں گا، اگر آپ نے اجازت دے دی تو ٹھیک، وگرنہ نہیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں فلاں نشیبی جگہ سے گزرا، وہاں کے پانی اور سبزے سے میری گزر بسر ہو سکتی ہے، مجھے خیال آیا کہ میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر یہیں بسیرا کر لوں، (اب آپ کا کیا خیال ہے)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہودیت اور نصرانیت لے کر نہیں آیا، مجھے نرمی و سہولت آمیز شریعت دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ کے راستے میں صبح کا یا شام کا چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے اور دشمن کے سامنے صف میں کھڑے ہونا ساٹھ سال کی نماز سے افضل ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری صحیح روایات میں رہبانیت کی مذمت کی گئی ہے اور جہاد میں صرف کیے جانے والے وقت کو دوسرے آدمی کی ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ روایات کی تفصیل کے لیے مسند احمد محقق کی زیر مطالعہ حدیث ملاحظہ فرمائیں۔
رہبانیت: دنیا اور علائقِ دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل یا صحرا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مگن ہو جانا۔ نصرانیوں نے یہ رسم نکالی تھی، جسے اسلام نے غلط قرار دیا۔
دین اسلام کی حفاظت وحمایت اور اللہ کے کلمے کی سر بلندی کیلئے باغیوں، سرکشوں، ملحدوں اور بے دین لوگوں سے لڑنے میں پوری جدوجہد کرنا جہاد فی سبیل اللہ کہلاتا ہے،یہ انتہائی باکمال اور باعظمت عمل ہے، حدیث ِ نبوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خاک آلود ہونے والے پاؤں آتشِ دوزخ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ (بخاری: ۲۸۱۱) اگر زندگی میں جہاد کرنے کا موقع مل جائے تو اسے سعادت اور خوش قسمتی سمجھا جائے وگرنہ کم از کم جہاد فی سبیل اللہ کی پختہ نیت رکھنا واجب ہے، موقع میسر آنے پر قطعًا گریز نہ کیا جائے، اسلامی زندگی اسی جذبۂ قربانی سے وابستہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان آداب المجالس / حدیث: 9521
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، أخرجه الطبراني في الكبير : 7868 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22647»
حدیث نمبر: 9522
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ) خَيْرٌ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکالیف پر صبر کرتا ہے، وہ اس سے بہتر ہے جو نہ تو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور نہ ہی ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کسی آدمی میں صبر و برداشت کی صفت موجود ہو، تو خلوت میں رہنے کی بجائے، لوگوں میں رہنا اس کے لیے زیادہ مفید ہوتا ہے، کیونکہ کسی کی اذیت کے عوض اس کو دعا دینایا اس پر صبر کرنا، غصہ دلانے والے کو معاف کرنا، بیماروں کی بیمار پرسی کرنا، کسی مریض کا علاج کروانا، اجنبی کی رہنمائی کرنا، مہمان کی ضیافت کرنا، ایسے سینکڑوں عظیم امور ہیں، جن پر عمل کرنے کا موقع صرف لوگوں میں رہ کر ہی ملتا ہے۔ لیکنیاد رہے کہ اگر کسی معاشرے میں سرِ عام برائیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہو اور کوشش کے باوجود ان سے اجتناب کرنا ناممکن ہو، تو حسب ِ استطاعت ایسے لوگوں سے کنارہ کشی کی جائے۔ اس کی ایک مثال ہمارے بازار ہیں، جہاں موسیقی اور گانوں کی آواز عام ہوتی ہے، بے پردہ، بلکہ نیم برہنہ عورتوں کی آمد و رفت عام ہوتی ہے، جن پر نظر پڑنا تو کجا، تنگ مقامات پر ان کا مردوں کے ساتھ شدید اختلاط ہو جاتا ہے اور ان کے جسم ایک دوسرے کے ساتھ مس ہونے لگتے ہیں، بالخصوص جب درندہ صفت نوجوان بھی پھر رہے ہوں، ایسے بازاروں میں جانا شرّ میں گھسنے کے مترادف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان آداب المجالس / حدیث: 9522
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2507، وابن ماجه: 4032 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5022»
حدیث نمبر: 9523
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مؤمن جو اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: پھر کون سا آدمی افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی ہے، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر اپنے ربّ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے۔
وضاحت:
فوائد: … لوگوں سے الگ تھلگ رہنا اسلام کا کوئی مستقل قانون نہیں ہے، بلکہ جب مسلمان میں معاشرے میں عام ہو جانے والے شرّ کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہ رہے تو تب اس شرّ سے بچنے کے لیے کنارہ کشی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان آداب المجالس / حدیث: 9523
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1888، وعلقه البخاري باثر الرواية: 6494 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11342»