کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مریض کے لیے دعائیہ کلمات کہنے کی اور وہ کلمات ادا کرنے کی ترغیب کا بیان،جو مریض خود کہے گا
حدیث نمبر: 9478
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلَّا عُوفِيَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بندہ ایسے مریض کی تیمارداری کرتا ہے، جس کی موت کا وقت نہیں آ چکا ہوتا، اور سات دفعہ یہ دعا پڑھتا ہے: اَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَشْفِیْکَ، تو اس کو شفا مل جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ تیمارداری کرنے والے کو مریض کے پاس یہ دعا پڑھنی چاہیے: اَسْاَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَشْفِیْکَ۔ (میں اللہ سے سوال کرتا ہوں، جو خود بھی عظیم ہے اور عرش عظیم کا ربّ بھی ہے، کہ تجھے شفا دے دے۔)
حدیث نمبر: 9479
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا قَالَ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا وَيَمْشِي لَكَ إِلَى الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے تو وہ یہ کلمات کہے: اَللّٰھُمَّ اشْفِ عَبْدَکَ، یَنْکَاُ لَکَ عَدُوًّا، وَیَمْشِیْ لَکَ اِلَی الصَّلَاۃِ (اے اللہ! اپنے بندے کو شفا عطا فرما، یہتیرے لیے دشمن کو زخمی کر کے مارے گا اور تیرے لیے نماز کی طرف چلے گا۔
حدیث نمبر: 9480
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ يَدِهِ فَيَسْأَلَ كَيْفَ هُوَ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مریض کی عیادت کا مکمل طریقہیہ ہے کہ بندہ اپنا ہاتھ اُس کی پیشانییا ہاتھ پر رکھے اور پھر پوچھے کہ اس کا کیاحال ہے اور مکمل سلام یہ ہے کہ مصافحہ بھی کیا جائے۔
حدیث نمبر: 9481
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا قَالَ ((أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي وَلَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مریض کی عیادت کرتے تو یہ دعا کرتے تھے: اَذْھَبِ الْبَاْسَ، رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ اِنَّکَ اَنْتَ الشَّافِیْ، وَلَا شِفَائَ اِلَّا شِفَاؤُکَ، شِفَائً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا (اے لوگوں کے ربّ! بیماری کو دور کر دے اور شفا دے دے، بیشک تو ہی شفا دینے والا ہے، اور نہیں ہے کوئی شفا، ما سوائے تیری شفا کے، ایسی شفا عطا فرما، جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے)۔
حدیث نمبر: 9482
عَنْ أُمِّ سَلْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ أَوِ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میت یا مریض کے پاس حاضر ہو تو خیر والی باتیں کیا کرو، کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو، اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی میت کے پاس رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے، لواحقین کو صبر کی اور جزع و فزع سے بچنے کی تلقین کی جائے اور مریض کے پاس شفا کی دعا کی جائے اور صحت و عافیت کی خوشخبری سنا کر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
اس حدیث کا باقی ماندہ حصہ یہ ہے: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَۃَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَا سَلَمَۃَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: ((قُولِی اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبٰی حَسَنَۃً۔)) قَالَتْ فَقُلْتُ فَأَعْقَبَنِی اللّٰہُ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ لِی مِنْہُ مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میرے خاوند سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ابوسلمہ فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو یہ دعا کر: اے اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس کا اچھا بدلہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے عوض ایسا بدلہ دیا، جو میرے لیے اس کی بہ نسبت بہت اچھا تھا، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
اس حدیث کا باقی ماندہ حصہ یہ ہے: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَۃَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَا سَلَمَۃَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: ((قُولِی اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبٰی حَسَنَۃً۔)) قَالَتْ فَقُلْتُ فَأَعْقَبَنِی اللّٰہُ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ لِی مِنْہُ مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میرے خاوند سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ابوسلمہ فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو یہ دعا کر: اے اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس کا اچھا بدلہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے عوض ایسا بدلہ دیا، جو میرے لیے اس کی بہ نسبت بہت اچھا تھا، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
حدیث نمبر: 9483
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ فَقَالَ ((كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ)) فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو کو بخارتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس گئے اور فرمایا: کفارہ بننے والا ہے اور پاک کرنے والا ہے۔ لیکن اس بدّو نے کہا: نہیں، بلکہ یہ بخار ہے، جو بوڑھے آدمی پر ابل رہا ہے اور اس کو قبریں دکھا رہا ہے، اس کی یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بدّو کی بے صبری اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی نہ ہونے کو ناپسند کیا اور چل دیئے۔ معلوم ہوا کہ مریض کے پاس یہ دعا پڑھنی چاہیے: کَفَّارَۃٌ وَطَھُوْرٌ (یہ بیماری گناہوں کا کفارہ بننے والی ہے اور پاک کرنے والی ہے)۔