کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9465
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا مَرَّ بِهِ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ فُلَانًا قَالَ لِقَرَابَةٍ قَالَ لَا قَالَ فَلِنِعْمَةٍ لَهُ عِنْدَكَ تَرُدُّهَا قَالَ لَا قَالَ فَلِمَ تَأْتِيهِ قَالَ إِنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ قَالَ فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ أَنَّهُ يُحِبُّكَ بِحُبِّكَ إِيَّاهُ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے کسی بھائی کی زیارت کے لیے نکلا، وہ کسی دوسرے گاؤں میں رہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو مقرر کر دیا، پس جب وہ اس کے پاس سے گزرا تو اس فرشتے نے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: جی فلاں کو ملنے کا ارادہ ہے، فرشتے نے کہا: کسی رشتہ داری کی وجہ سے؟ اس نے کہا: جی نہیں، فرشتے نے کہا: تو پھر اس کا تجھ پر کوئی احسان ہے کہ اس کی خاطر تو جا رہا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اس نے پوچھا: تو پھر اس کے پاس کیوں جا رہا ہے؟ اس نے کہا: بیشک میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں، فرشتے نے کہا: دراصل میں تیری طرف اللہ تعالیٰ کا قاصد ہوں اور یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ اس آدمی سے تیری اس محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9465
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2567 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7906»
حدیث نمبر: 9466
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَارَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ فِي اللَّهِ أَوْ عَادَهُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ طِبْتَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) بَعْدَ قَوْلِهِ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے بھائی کی زیارت یا عیادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پاکیزہ ہوا اور تو نے جنت سے ٹھکانہ تیار کر لیا۔ ایک روایت میں ہے: تو بھی پاکیزہ ہے اور تیرا چلنا بھی پاکیزہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9466
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 1443، والترمذي: 2008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8308»
حدیث نمبر: 9467
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَهُوَ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ وَفِي لَفْظٍ فَهُوَ فِي أَخْرَافِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرنے کے لیے جاتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغوں میں رہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9467
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2568، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22809»
حدیث نمبر: 9468
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ قِيلَ وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ قَالَ جَنَاهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی تیمارداری کی، وہ اتنی دیر جنت کے چنے ہوئے میوے میں رہا۔ کسی نے کہا: جنت کے خُرْفَۃ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا چنا ہوا میوہ۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن ہمارے ہاں بڑی مصیبتیہ ہے کہ ہم تیمار داری اور عیادت جیسا عظیم حق ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کو بنیاد نہیں بناتے، بلکہ اپنے ذاتی تعلقات اور شخصی مراسم کو سامنے رکھتے ہیں۔ ہم اس شخص کی تیمارداری کرنے کے لیے جائیں گے، جس کے ساتھ ہمارا کوئی دنیوی تعلق ہے یا جو ہماری عیادت کرنے کے لیے آیا ہو گا یا جو مالدار ہو گا، ایسے تعلق کو مسکراہٹوں اور احسانات کا تبادلہ کہتے ہیں۔ بیچ میں للہیت کا فقدان ہے۔ ایسے لوگ شاذ و نادر ہیں جو اپنے بھائی کی تیمارداری کرنے کے لیے اسلام کو بنیاد بناتے ہیں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انْطَلِقُوْا بِنَا إِلَی الْبَصِیْرِ الَّذِی فِی بَنِیْ وَاقِفٍ نَعُوْدُہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ رَجُلاً أَعْمٰی۔ ہمیں اس صاحبِ بصیرت آدمی کے پاس لے چلو جو بنو واقف قبیلے
کا ہے، تاکہ ہم اس کی تیمار داری کر سکیں۔ اور وہ نابینا آدمی تھا۔ (أخرجہ أبوسعید بن الأعرابی فی معجمہ: ۱۳۳/۱، صحیحہ:۵۲۱)
بیمار آدمی کا حق ہے کہ دوسرے لوگ اس کی تیمار داری کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حق ادا کرنے میں اعلی و ادنی اور امیر و غریب کا کوئی امتیاز نہیں کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم انسانیت کا احترام کریں، نہ کہ مال ومنال اور اپنے دوستانہ جذبات کا، بیمار پرسی کرنا باعث ِ اجر و ثواب عمل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9468
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22748»