کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 9446
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْسَطُ قَالُوا الصَّلَاةُ قَالَ حَسَنَةٌ وَمَا هِيَ بِهَا قَالُوا الزَّكَاةُ قَالَ حَسَنَةٌ وَمَا هِيَ بِهَا قَالُوا صِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ قَالُوا الْحَجُّ قَالَ حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ قَالُوا الْجِهَادُ قَالَ حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ قَالَ إِنَّ أَوْسَطَ عُرَى الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ فِي اللَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کا کون سا کڑا (یعنی نیک عمل) زیادہ ممتاز اور عالی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نماز ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز بھی اچھا عمل ہے اور اس کے بعد والا کون سا عمل ہے؟ لوگوں نے کہا: جی زکوۃ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زکوۃ بھی اچھا ہے اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: جی رمضان کے روزے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ عمل بھی اچھا ہے، اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: جی حج ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج بھی اچھا عمل ہے اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی جہاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد بھی اچھا عمل ہے، اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا: ایمان کا سب سے ممتاز اور اعلی کڑا (یعنی نیک عمل) یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھے۔
وضاحت:
فوائد: … محبت کی دو قسمیں ہیں: (۱) طبعی اور (۲) کسبی
طبعي محبت وہ ہے جو انسان کو طبعی طور پر اپنے قرابتداروں اور محسنوں سے ہوتی ہے، یہ محبت انسان کا کمال اور طرۂ امتیاز نہیں، کیونکہ تقریبا تمام حیوانات بھی اس صفت سے متصف نظر آتے ہیں۔
کسبي محبت سے مراد مومنوں کا آپس میں تعلق اور دوستی ہے، جیسا کہ صحابہ کرام،بالخصوص مہاجرین و انصار کے مابین تھی،یہ دینی محبت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہے، اس سے کوئی دنیوی مفاد اور غرض وابستہ نہیں ہوتی۔ ایسی محبت کو نہ صرف شریعت ِ اسلامیہ میں سراہا گیا ہے، بلکہ ایمان و ایقان کی علامت قرار دیا گیا ہے، یاد رہے کہ ایسی محبت و الفت صرف نیک اور صالح لوگوں سے ہوتی ہے۔
اس باب کی احادیث میں کسبی محبت کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں اور اس کو عزتیں عطا کرتے ہیں۔
یہ مسلمان کا طرۂ امتیاز ہے کہ اس کی دوستی اور دشمنی کا معیار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، وہ اس معاملے میں رنگ و نسل، سیاست و سیادت، ذات پات اور قبیلہ و برادری کو ترجیح نہیں دیتا ہے، اگر اس نے کسی سے تعلق کو مضبوط کیا ہے تو اس بنا پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہے اور اگر کسی سے بغض رکھا تو وہ بھی اس بنا پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔
عصرِ حاضر میں اس قسم کا تعلق انتہائی شاذ و نادر ہے، بلا شبہ ہر کوئی اپنی دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے، لیکن کسی کی بنیاد حسن و جمال ہے، کوئی برادری ازم کو ترجیح دیتا ہے، کوئی سکول کی کلاس اور علاقہ کو مد نظر رکھتا ہے، کوئی اپنے بڑوں کے تعلق کا لحاظ کر رہا ہے، کوئی اپنے پیشے کے لوگوں کو اپنی محبتوں کا مستحق سمجھ رہا ہے، غرضیکہ محض اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دوسروں لوگوں سے محبت کرنے والے بہت کم لوگ ہیں۔
قارئین کرام! یہ نقطہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کسی برے آدمی سے بغض یا عدم دوستی کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے مکمل طور پر قطع تعلقی کی جائے یا جہاں وہ ملے اس سے اعراض کیا جائے۔ شریعت ِ اسلامیہ نے کافروں اور مشرکوں سے بھی حالات کے مطابق حسن سلوک اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیر مسلموں کی دعوت بھی قبول کر لیا کرتے تھے۔ شریعت نے جس دوستی و دشمنی کی تعلیم دی ہے، اس کا تعلق دل سے ہے اور جنگ جیسے مخصوص زمان و مکاں میں ظاہری حالات سے بھی ہوتا ہے۔ اس چیز کو آپ اس مثال سے سمجھیں کہ آپ کے سامنے پانچ پانچ سال عمر کے دو بچے کھڑے ہیں، ایک آپ کا اپنا بچہ ہے اور دوسرا کسی ایسے آدمی کا ہے، جس کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ لیکن آپ شریعت کا لحاظ کر کے دونوں بچوں سے ظاہری طور پر برابر کا پیار کرتے ہیں، دونوں کے سروں پر دست ِ شفقت رکھتے ہیں، دونوں کو کھانے کے لیے برابر مقدار کی چیز دیتے ہیں، لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آپ کے دل میں جتنا پیار و محبت اپنے بچے کا ہے، اتنا کسی دوسرے کا نہیں ہو سکتا، آپ کو جو لطف اپنے بچے سے پیار کر کے ہو گا، وہ دوسروں کے بچوں کے ساتھ محبت کرنے سے محسوس نہیں ہوتا، بلکہ بعض لوگ اپنے غیر نمازی بچے کو دوسروں کے نمازی بچوں پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کے بارے میں ہے کہ آپ کے دل میں جو مقام مکمل مسلمان کا ہو، وہ ناقص مسلمانوں اور دوسرے لوگوں کا نہیں ہو نا چاہیے۔
اب آپ درج ذیل احادیث ِ مبارکہ کا بغور مطالعہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9446
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بشواھده، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 41، والبيھقي في الشعب : 13 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18723»
حدیث نمبر: 9447
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ قَائِلٌ الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ وَقَالَ قَائِلٌ الْجِهَادُ قَالَ إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ ایک آدمی نے کہا: نماز اور زکوۃ، اور کسی نے کہا کہ جہاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی جائے اور اُسی کے لیے بغض رکھا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9447
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بشواھده، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 41، والبيھقي في الشعب : 13 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21628»
حدیث نمبر: 9448
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزَهُمْ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا فِي اللَّهِ فَقَالَ أَهْلُ الْمَجْلِسِ فَبِئْسَ وَاللَّهِ مَا قُلْتَ أَمَا وَاللَّهِ لَنُنَبِّئَنَّهُ قُمْ يَا فُلَانُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبِرْهُ قَالَ فَأَدْرَكَهُ رَسُولُهُمْ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ فُلَانٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُمْ أَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فُلَانًا قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا الرَّجُلَ فِي اللَّهِ فَادْعُهُ فَسَلْهُ عَلَى مَا يُبْغِضُنِي فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَمَّا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ وَقَالَ قَدْ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلِمَ تُبْغِضُهُ قَالَ أَنَا جَارُهُ وَأَنَا بِهِ خَابِرٌ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُصَلِّي صَلَاةً قَطُّ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ الرَّجُلُ سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ رَآنِي قَطُّ أَخَّرْتُهَا عَنْ وَقْتِهَا أَوْ أَسَأْتُ الْوُضُوءَ لَهَا أَوْ أَسَأْتُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فِيهَا فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَا ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يَصُومُ قَطُّ إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ الَّذِي يَصُومُهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ رَآنِي قَطُّ أَفْطَرْتُ فِيهِ أَوِ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُعْطِي سَائِلًا قَطُّ وَلَا رَأَيْتُهُ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فِي شَيْءٍ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِخَيْرٍ إِلَّا هَذِهِ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُؤَدِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ كَتَمْتُ مِنَ الزَّكَاةِ شَيْئًا قَطُّ أَوْ مَا كَسْتُ فِيهَا طَالِبَهَا قَالَ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُمْ إِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، اس نے سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جوا ب دیا، جب وہ آگے گزر گیا تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس آدمی سے بغض رکھتا ہوں، اہلِ مجلس نے کہا: اللہ کی قسم! تو نے بری بات کی ہے، اللہ کی قسم! ہم ضرور ضرور اس کو بتلائیں گے، او فلاں! کھڑا ہو اور اس کو بتلا کے آ، پس ان کے قاصد نے اس کو شخص کو پا لیا اور ساری بات اس کو بتلا دی، وہ آدمی وہاں سے پھرا اور سیدھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا پہنچا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں مسلمانوں کی ایک مجلس سے گزرا، ان میں فلاں آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا، جب میں ان سے تجاوز کر گیا تو ان میں سے ایک آدمی مجھے پیچھے سے آ کر ملا اور کہا کہ فلاں آدمی کہہ رہا ہے کہ اللہ کی قسم ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے تجھ سے بغض رکھتا ہے، اے اللہ کے رسول! اب آپ اس کو بلائیں اور پوچھیں کہ کس وجہ سے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس آدمی کی بتائی ہوئی بات کے بارے میں پوچھا، اس نے اعتراف کر لیا اور کہا: جی اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتا کہ تو اس سے بغض کیوں رکھتا ہے؟ اس نے کہا: جی میں اس کا ہمسایہ ہوں اور اس کے بارے میں باخبر ہوں، اللہ کی قسم! میں نے اس کو دیکھا ہے، یہ صرف فرضی نماز ادا کرتا ہے، جو ہر نیک و بد پڑھ رہا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے ان نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کیا ہے؟ یا میں نے کبھی وضو میں کمی کی ہے؟ یا میں نے رکوع و سجود کو ناقص ادا کیا ہے؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس سے یہ سوالات کیے تو اس نے منفی میں جواب دیا (یعنی واقعییہ بات تو ہے کہ یہ وقت پر اور مکمل نماز وضو کا اہتمام کرتا ہے)۔ پھر اس اعتراض کرنے والے نے کہا: اللہ کی قسم ہے، میں نے اس کو دیکھا کہ یہ صر ف ماہِ رمضان کے روزے رکھتا ہے، جس کے روزے ہر نیک و بد رکھتا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے رمضان میں کبھی کوئی روزہ چھوڑا ہے، یا روزے کے حق میں کوئی کمی کی ہے؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے منفی میں جواب دیا (یعنی یہ بات تو ٹھیک کہ یہ آدمی اچھے انداز میں روزے رکھتا ہے)۔ اعتراض کرنے والے نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کو نہیں دیکھا کہ اس نے کسی سائل کو کبھی کوئی چیز دی ہو، یا اللہ کے راستے میں کوئی مال خرچ کیا ہو، ما سوائے اس زکوۃ کے، جو ہر نیک و بد ادا کرتا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے زکوۃ میں سے کبھی کوئی چیز چھپائی ہے، یا زکوۃ لینے والے سے کمی کروائی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اس کے بارے میں پوچھاتو اس نے منفی میں جواب دیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو جا تو، میں نہیں جانتا ہو سکتا ہے کہ وہ تجھ سے بہتر ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی نے بہتر ہونے کی امید ظاہر کی جو نماز، روزے اور زکوۃ کا بہترین انداز میں اہتمام کرتا تھا اور اعتراض کرنے والے کی حوصلہ شکنی کی،یہ الگ بات ہے کہ نفلی نماز، نفلی صدقہ اور نفلی روزوں کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9448
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث حسن بشواھده، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 41، والبيھقي في الشعب : 13 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24213»
حدیث نمبر: 9449
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روحیں اکٹھے کیے ہوئے لشکر ہیں، جن کی وہاں واقفیت ہو گئی، وہ ایک دوسرے سے مانوس ہو جاتی ہیں اور جن میں وہاں اجنبیت اور نا واقفیت ہو گئی، وہ مانوس نہیں ہوتیں۔
وضاحت:
فوائد: … انسانی مزاجوں میں حیران کن فرق پایا جاتا ہے، ایک آدمی دوسرے پر جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، جبکہ دوسرا اس سے بول کر بھی راضی نہیں ہوتا، کسی کو اپنے بیوی بچے اس قدر پیارے لگتے ہیں کہ وہ سارا وقت ان کے اندر گزارنا چاہتا ہوتا ہے، جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا سارا وقت گھر سے باہر دوستوں یاروں میں گزر جاتا ہے، غرضیکہ ہر آدمی کا میلان اور رجحان دوسرے سے مختلف ہے اور تقریباً ہر کوئی دوسرے کے مزاج پر نقد بھی کرتا ہے۔ دراصل عالَمِ اراوح میں اتفاق و اختلاف اور الفت و نفرت کی صورتیں اور شکلیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں، دنیوی زندگی تو صرف ان کا مظہر ثابت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9449
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2638 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10836»
حدیث نمبر: 9450
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَحَبَّ (وَقَالَ هَاشِمٌ مَنْ سَرَّهُ) أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ وَلَا يُحِبَّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایمان کا ذائقہ پسند کرتا ہو یایہ چیز اس کو خوش کرتی ہو، وہ کسی شخص سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی ذات کو مد نظر رکھ کرکسی سے محبت رکھنا، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات کا پاس و لحاظ ہے، کیونکہ بیچ میں اس کی اطاعت کارفرما ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9450
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2638 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7954»
حدیث نمبر: 9451
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے جلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں، آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا، جبکہ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … میرے جلال کی وجہ سے، یعنی میری عظمت اور میری تعظیم کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9451
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8436»
حدیث نمبر: 9452
وَعَنْهُ أَيْضًا يَرْفَعُهُ قَالَ لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى رَأْسِ ذَلِكَ أَوْ مَلَاكِ ذَلِكَ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ) أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے، جب تک ایمان نہیں لاؤ گے اور اس وقت تک ایمان نہیں لا سکو گے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے، کیا میں ایسی چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کر دوں، جو اس محبت کی جڑ اور جوہر ہے؟ آپس میں سلام کو عام کر دو۔ ایک روایت میں ہے: کیا میں ایسی چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جب تم اس کو کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سلام کے ذریعے باہمی اور شرعی محبت اور دوسروں کے لیے دل میں وسعت پیدا ہوتی ہے، اس لیے بھرپور انداز میں اس نبوی نسخے کا استعمال ہونا چاہیے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ سلام کہنے میں بڑی سستی کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9452
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 54 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9073»
حدیث نمبر: 9453
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ حَقَّ صَرِيحِ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ وَيُبْغِضَ لِلَّهِ فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَأَبْغَضَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوَلَاءَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَإِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک صریح ایمان کا حق ادا نہیں کر سکتا، جب تک اللہ تعالیٰ کے لیے محبت نہیں کرتا اور اُسی کے لیے بغض نہیں رکھتا، پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے اور اُسی کے لیے بغض رکھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت اور دوستی کا مستحق قرار پاتا ہے اور بیشک میرے اولیاء میرے بندوں میں سے ہوتے ہیں اور میری مخلوق میں سے وہ لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، جن کو میرے ذکر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے اور مجھے ان کے ذکر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9453
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد، عبدِ الله بن الوليد، ولانقطاعه، ابو منصور مولي الانصار لم يلق عمرو بن الجموح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15634»