کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9436
عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِسْلَامَ مَا فَرِحُوا بِهَذَا مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنَسٌ فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَعْمَلَ كَعَمَلِهِ فَإِذَا كُنَّا مَعَهُ فَحَسْبُنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک شخص کسی آدمی سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس کے عمل جیسے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ محبت کرتا ہو گا۔ پس میں نے صحابہ کرام کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا کہ وہ کسی چیز کی وجہ سے اتنے خوش ہوئے ہوں، جتنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے خوش ہوئے، ما سوائے اسلام کے۔ پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل جتنے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، پس جب ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ مل جائے گا تو وہی کافی ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں اہل خیر و صلاح لوگوں کے ساتھ محبت رکھنے کی فضیلت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا بھی بیان ہے کہ وہ ان سے محبت رکھنے کی وجہ سے ان سے کم مرتبہ لوگوں کو بھی بلند تر درجوں پر فائز کر کے محبوبین کے ساتھ ملا دے گا۔ لیکن اس بشارت کے ساتھ ساتھ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے وعید بھی ہے جو بدکردار لوگوں کے ساتھ خصوصی تعلق اور محبت رکھتے ہیں اور حقیقی محبت نہ ہونے کی صورت میں خوشامد، چاپلوسی اور دو رخی سے کام لیتے ہوئے پرخلوص محبتوں کے دعوے کرتے ہیں، ممکن ہے کہ ان کا حشر بھی ان کے ساتھ ہو۔
حدیث نمبر: 9437
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِطُ وَقَالَ مُؤْمِلٌ مَنْ يُخَالِلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، پس ہر ایک کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی اختیار کیے ہوئے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ضرب المثل ہے: خربوزہ، خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ہر دوست کو اپنے دوست کا طرزِ حیات، عادات و اطوار اور طریقہ و سیرت اختیار کرنا پڑتا ہے، نمازی لوگ بے نمازوں کی مجلسوں میں جانے کی وجہ سے اپنی نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر گانا اور موسیقی سن کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنی پڑتی ہے، اس لیے دوستی لگاتے وقت غور و فکر کرنا چاہیے، اگر کسی کا دین اور اخلاق پسند ہے تو اسے دوست بنا لیا جائے۔ اچھا آدمی اس وجہ سے بدنام ہو جاتا ہے کہ برے لوگ اس کے دوست ہوتے ہیں۔ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ برے آدمی کو سمجھانے کے لیے اس سے حسنِ اخلاق سے پیش آنا اور بات ہے اور کسی سے دوستی لگانا اور بات ہے۔
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ہر دوست کو اپنے دوست کا طرزِ حیات، عادات و اطوار اور طریقہ و سیرت اختیار کرنا پڑتا ہے، نمازی لوگ بے نمازوں کی مجلسوں میں جانے کی وجہ سے اپنی نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر گانا اور موسیقی سن کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنی پڑتی ہے، اس لیے دوستی لگاتے وقت غور و فکر کرنا چاہیے، اگر کسی کا دین اور اخلاق پسند ہے تو اسے دوست بنا لیا جائے۔ اچھا آدمی اس وجہ سے بدنام ہو جاتا ہے کہ برے لوگ اس کے دوست ہوتے ہیں۔ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ برے آدمی کو سمجھانے کے لیے اس سے حسنِ اخلاق سے پیش آنا اور بات ہے اور کسی سے دوستی لگانا اور بات ہے۔
حدیث نمبر: 9438
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَصْحَبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو صرف مؤمن کا ساتھی بن اور تیرا کھانا نہ کھائے، مگر متقی آدمی۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ صاحب ِ ایمان لوگ اس کے دوست ہوں اور پرہیزگار لوگ اس کے مہمان بنیں،یہ بات علیحدہ ہے کہ ہر مہمان کی میزبانی کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 9439
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ بِأَعْمَالِهِمْ قَالَ أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُعِيدُهَا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس جیسے عمل کر نے کی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت رکھے گا۔ میں نے کہا: تو بیشک میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، انھوں نے ایکیا دو دفعہ یہ بات دوہرائی۔
حدیث نمبر: 9440
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن ان کو مل نہیں پاتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … جو آدمی اخلاص کے ساتھ نیک لوگوں سے محبت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے دل کے قرب کو دیکھ کر ان ہی لوگوں میں اس کا شمار کر لیتا ہے، اس میں نیک لوگوں سے محبت دینے کی ترغیب ہے۔ لیکن ان روایات سے یہ مفہوم کشید کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ اگر نیک لوگوں سے محبت ہو تو اعمالِ صالحہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 9441
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً قَالَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا وَمَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ إِنْ لَمْ يُحْذِكَ مِنْ عِطْرِهِ عَلِقَكَ مِنْ رِيحِهِ وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السَّوْءِ مَثَلُ الْكِيرِ إِنْ لَمْ يُحْرِقْكَ نَالَكَ مِنْ شَرَرِهِ وَالْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ مُؤْتَجِرًا أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا بعض بعض کو مضبوط کرتا ہے، اور نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی طرح ہے کہ اگر اس نے تجھے کوئی عطر نہ دیا تو تیرے ساتھ اس کی خوشبو لگ جائے گی، اور برے ہم مجلس کی مثال لوہار کی دھونکنی کی سی ہے کہ اگر اس نے تجھے جلا نہ دیا تو اس کی چنگاریاں تجھ پر ضرور پڑیں گے، اور وہ امانت دار خزانچی بھی صدقہ کرنے والوں میں ایک ہے، جو بنیّت ِ ثواب وہ کچھ دے دیتا ہے، جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9442
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي كَبْشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ كَمَثَلِ الْعَطَّارِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ مُخْتَصَرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا تھا کہ نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی ہے۔ پھر اختصار کے ساتھ اوپر والی حدیث ذکر کی۔
وضاحت:
فوائد: … نیک ہم نشین نیکیوں کا سبب بنے گا اور برا ہم مجلس برائیوں کا۔
حدیث نمبر: 9443
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَفَدْتُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى الْوِفَادَةِ لُقِيُّ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَغَزَوْتُ مَعَهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کہیں روانہ ہوا، اس روانگی پر آمادہ کرنے والی چیز سیدنا ابی بن کعب اور دوسرے صحابہ کی ملاقات تھی، پس میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کو ملا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بلکہ میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوے بھی کیے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … صحابۂ کرام سے محبت نے زِرّ بن حبیش کو آنے پر مجبور کیا۔
حدیث نمبر: 9444
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا لَهُ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِحِمَارٍ لِيَرْكَبَ فَقَالَ صَاحِبُ الْحِمَارِ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحِمَارُ لَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا، پھر ہم زرد سرخی مائل چادر لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے جسم پر لپیٹ لیا، گویا کہ اب بھی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس بوٹی کے نشان دیکھ رہا ہوں، پھر ہم سواری کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک گدھا لائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گدھے کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پس یہ گدھا ہے ہی آپ کے لیے۔
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل حدیث صحیح ہے۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَمْشِی جَاء َ رَجُلٌ وَمَعَہُ حِمَارٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اِرْکَبْ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِکَ مِنِّی إِلَّا أَنْ تَجْعَلَہُ لِی۔)) قَالَ فَإِنِّی قَدْ جَعَلْتُہُ لَکَ فَرَکِبَ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل رہے تھے کہ ایک آدمی آیا، جبکہ اس کے ساتھ گدھا بھی تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سوار ہو جائیں، پھر وہ خود پیچھے ہٹ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تو خود اپنے جانور کے اگلے حصے پر بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے، الا یہ کہ تو اس کو میرے لیے کر دے۔ اس نے کہا: جی میں نے اس حصے کو آپ کے لیے کر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہو گئے۔
(ابوداود: ۲۲۰۸، ترمذی: ۲۷۷۳)
ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تواضع اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا، دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکرام کا حق ادا کر دیا۔
(ابوداود: ۲۲۰۸، ترمذی: ۲۷۷۳)
ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تواضع اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا، دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکرام کا حق ادا کر دیا۔
حدیث نمبر: 9445
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذَلَّ لِي وَلِيًّا (وَفِي رِوَايَةٍ مَنْ آذَى لِي وَلِيًّا) فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ الْفَرَائِضِ وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ إِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ مَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛ جس نے میرے دوست کی توہین کی، ایک روایت میں ہے: جس نے میرے دوست کو تکلیف دی، اس نے میرے ساتھ لڑنے کو حلال سمجھ لیا ہے، اور فرائض کی ادائیگی سے ہی میرا بندہ میرا قرب حاصل کر سکتا ہے، لیکن بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں، پھر جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں اور مجھے جتنا تردّد مؤمن کی وفات پر ہوتا ہے، اتنا کسی اور کام پر نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے غم کو پسند نہیں کرتا۔
وضاحت:
فوائد: … ولی اس پرہیز گار مومن کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی پیروی کرتا ہے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلَا ٓ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْف’‘ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْایَتَّقُوْنَ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ } … خبردار! بیشک اللہ تعالیٰ کے اولیائ، نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے، وہ لوگ جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے تھے، دنیوی اور اخروی دونوں زندگیوں میں ان کے لیے خوشخبری ہے۔ (سورۂ یونس: ۶۴)
اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا اکرام ضروری ہے، ان کی توہین کرنا اللہ تعالیٰ سے لڑنے کے مترادف ہے۔
انسان مرنا نہیں چاہتا، اللہ کی حکمت مصلحت یہ ہے لوگ مرتے ہیں اور نئے آتے رہیں۔ اللہ نے اس کیفیت کو تردد سے تعبیر کیا۔ اس اظہار میں اللہ کا بندے کے ساتھ لطف و کرم ہے۔ پھر اللہ کی مصلحت و حکمت غالب آتی ہے اور اللہ بندے کو بعض عوارض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جس سے اس کی موت کے لیے کراہت ختم ہو جاتی ہے تو اللہ اسے فوت کر لیتا ہے۔ یا فرشتوں کا تردد مراد ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف ملک الموت کو بھیجنے والا واقعہ ہے۔ (مزید دیکھیں: فتح الباری جلد:۱، ص: ۳۴۵ اور مترجم سلسلہ صحیحہ جلد: ۱، ص: ۱۶۵)
اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا اکرام ضروری ہے، ان کی توہین کرنا اللہ تعالیٰ سے لڑنے کے مترادف ہے۔
انسان مرنا نہیں چاہتا، اللہ کی حکمت مصلحت یہ ہے لوگ مرتے ہیں اور نئے آتے رہیں۔ اللہ نے اس کیفیت کو تردد سے تعبیر کیا۔ اس اظہار میں اللہ کا بندے کے ساتھ لطف و کرم ہے۔ پھر اللہ کی مصلحت و حکمت غالب آتی ہے اور اللہ بندے کو بعض عوارض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جس سے اس کی موت کے لیے کراہت ختم ہو جاتی ہے تو اللہ اسے فوت کر لیتا ہے۔ یا فرشتوں کا تردد مراد ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف ملک الموت کو بھیجنے والا واقعہ ہے۔ (مزید دیکھیں: فتح الباری جلد:۱، ص: ۳۴۵ اور مترجم سلسلہ صحیحہ جلد: ۱، ص: ۱۶۵)