کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
حدیث نمبر: 9431
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاوَاتِ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُلْقَى حُبُّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَيُحِبُّ وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا قَالَ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ فَيُلْقِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاوَاتِ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ فَيُوضَعُ لَهُ الْبُغْضُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ فَيُبْغَضُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے جبریل! میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس جبریل آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پاس تم بھی اس سے محبت کرو، پھر اس کی محبت اہل زمین میں ڈال دی جاتی ہے اور وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے جبریل! میں فلاں بندے سے بغض رکھتا ہوں، پس تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر جبریل آسمانوں میں یہ اعلان کر تے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر اہل زمین میں بھی اس کا بغض رکھ دیا جاتا ہے اور وہ بھی اس سے بغض کرنے لگ جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9431
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7485، ومسلم: 2637 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10623»
حدیث نمبر: 9432
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ رَبَّكُمْ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ قَالَ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ قَالَ وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ قَالَ وَإِذَا أَبْغَضَ فَمِثْلُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبریل علیہ السلام اہل آسمان سے کہتے ہیں: بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین میں بھی وہ آدمی مقبول ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس آدمی سے بغض رکھتا ہے، اس کے ساتھ اسی قسم کا معاملہ پیش آتا ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ کسی مسلمان کی قبولیت اور عدم قبولیت کے فیصلے عرش پر کیے جاتے ہیں اور پھر ان کو نشر کر دیا جاتا ہے، جس آدمی کے عمل میں اخلاص نہیں ہو گا، اس کا عمل اس کے لیے مذمت کا سبب بنے گا، کیونکہ ایسا عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہیںہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9432
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7614»
حدیث نمبر: 9433
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا رَضِيَ عَنِ الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنَ الْخَيْرِ لَمْ يَعْمَلْهُ وَإِذَا سَخِطَ عَلَى الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنَ الشَّرِّ لَمْ يَعْمَلْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو خیر کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی تعریف کرتا ہے، جن پر ابھی تک اس نے عمل نہیں کیا ہوتا، اسی طرح جب وہ کسی بندے سے ناراض ہو جاتا ہے تو شرّ کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی مذمت کرتا ہے، جن کا ابھی تک اس نے ارتکاب نہیں کیا ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ اس کو سات قسم کی نیکیاں کرنے کی توفیق دے گا، لیکن ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کا تذکرۂ خیر لوگوں میں عام کر دے گا، اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے۔ دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں لوگوں کی معائب و نقائص پر پردہ تو ڈالا جا سکتا ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کی نیکیوں کو مخفی نہیں رہنے دیتا، اگرچہ ان کو خلوت میں سر انجام دیا گیا ہو، جب کسی بندۂ خدا کے سوانح عمری قلم بند کیے جاتے ہیں تو لکھاری اس کی زندگی کے تمام گوشے منظرِ عام پر لے آتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9433
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف دراج في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه ابويعلي: 1331، وابن حبان: 368 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11358»
حدیث نمبر: 9434
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الْوَاسِطِيِّ عَنْ أَبِي طَيْبَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمِقَةَ مِنَ اللَّهِ قَالَ شَرِيكٌ هِيَ الْمَحَبَّةُ وَالصَّيْتُ مِنَ السَّمَاءِ فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَيُنَادِي جِبْرِيلُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمِقُ يَعْنِي يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ أَرَى شَرِيكًا قَدْ قَالَ فَيَنْزِلُ لَهُ الْمَحَبَّةُ فِي الْأَرْضِ وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ قَالَ فَيُنَادِي جِبْرِيلُ إِنَّ رَبَّكُمْ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ قَالَ أَرَى شَرِيكًا قَدْ قَالَ فَيَجْرِي لَهُ الْبُغْضُ فِي الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک محبت اور شہرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے آتی ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی سے محبت کرتا ہے تو وہ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پس جبریل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم سب اس سے محبت کرو، پھر زمین میں بھی اس کی محبت اتر آتی ہے، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی سے بغض رکھتا ہے تو وہ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہوں، پس تو بھی اس سے بغض رکھ، پھر جبریل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر زمین میں بھی اس کے لیے بغض اتار دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9434
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22626»
حدیث نمبر: 9435
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ صَبِيٌّ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ خَشِيَتْ أَنْ يُوطَأَ ابْنُهَا فَسَعَتْ وَحَمَلَتْهُ وَقَالَتْ ابْنِي ابْنِي قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا وَلَا يُلْقِي اللَّهُ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بچہ راستے پر پڑا تھا، وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صحابہ بھی تھے، جب اس بچے کی ماں نے لوگوں کو دیکھا تو اسے یہ ڈر محسوس ہونے لگا کہ بچہ روند دیا جائے گا، پس وہ یہ کہتے ہوئے دوڑی کہ میرا بیٹا، میرابیٹا اور پھر اس کو اٹھا لیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ماں اپنے بچے کو آگ میں تو نہیں ڈالے گی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں نہیں ڈالے گی اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی اللہ تعالیٰ سے محبت کر کے تو دیکھے، اس کی طرف سے جوابی کاروائی محبت کرنے والے کی سوچ سے بڑھ کر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9435
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 3476، وابويعلي: 3747، والحاكم: 1/ 58، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13501»