کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 9421
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِذَا أَصَابَتْ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا)) فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو سَلَمَةَ خَلَفَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَهْلِي خَيْرًا مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو وہ کہے: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ عِنْدَکَ اَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِیْ فَأْجُرْنِیْ فِیْھَا، وَاَبْدِلْنِیْ بِھَا خَیْرًا مِنْھَا۔ (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! میں اپنی مصیبت پر تجھ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں، پس مجھے اس میں اجر عطا فرما اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پس جب سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے عوض میں مجھے بہترین خاوند عطا کیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنے خاوند سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ام المؤمنین بن گئی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9421
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3511، وابن ماجه: 1598 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16454»
حدیث نمبر: 9422
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا)) قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي فَقُلْتُهَا اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا۔ (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر اور بہترین متبادل عطا فرما)تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور اس کو بہترین متبادل عطا کرتا ہے۔ پس جب میرے خاوند سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور میں نے کہا: صحابی ٔ رسول ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے طاقت اور برداشت عطا کی اور میں نے یہ دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس کا بہترین متبادل عطا فرما، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر لی۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ مبتلائے مصیبت کو یہ دعا پڑھنی چاہیے: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا۔ جو احادیث ِ مبارکہ پہلے گزر چکی ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس دعا کے شروع میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کا اضافہ کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9422
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 918 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27170»
حدیث نمبر: 9423
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ طَالَ عَهْدُهَا وَفِي لَفْظٍ وَإِنْ قَدُمَ عَهْدُهَا فَيُحَدِّثُ لِذَلِكَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَأَعْطَاهُ مِثْلَ أَجْرِهَا يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان مرد اور عورت کو کوئی تکلیف پہنچی ہو، اگرچہ اس کو کافی زمانہ گزر چکا ہو، پھر وہ نئے سرے سے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پر پہلی حالت کو واپس کرتا ہے اور اس کو اُتنا اجر عطا کر دیتا ہے، جتنا مصیبت والے دن عطا کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9423
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، ھشام بن ابي ھشام متروك، وامه لايعرف حالھا، أخرجه ابن ماجه: 1600 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1734»