کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان،¤جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
حدیث نمبر: 9418
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ قَالَ فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً فَأَكَلَ وَشَرِبَ قَالَ ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصْنَعُ قَبْلَ ذَلِكَ فَوَقَعَ بِهَا فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ وَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ قَالَ لَا قَالَتْ فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا)) قَالَ فَحَمَلَتْ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ وَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَبِّ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَقَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى قَالَ تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ فَانْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا قَالَ وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمُوا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعَنَّهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيسَمٌ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ ((لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ)) قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ قَالَ فَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلَاكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ)) قَالَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہما کا بیٹا فوت ہو گیا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے اہل والوں سے کہا: تم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو اس کے بیٹے کے بارے میں نہیں بتلانا، میں خود اس کو بتاؤں گی، پس جب وہ آئے تو اس نے ان کو شام کا کھانا پیش کیا، انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کے لیے اچھی طرح تیاری کی، جیسا کہ وہ پہلے کرتی تھیں، پس انھوں نے ان سے جماع کیا، جب ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ اس کاخاوند خوب سیر ہو گیا اور حق زوجیت بھی ادا کر لیا تو اس نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ لوگ ایک گھر والوں کو کوئی چیز عاریۃً دیتے ہیں، پھر جب وہ ان سے واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا وہ روک سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، نہیں روک سکتے، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: تو پھر اپنے بیٹے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کر، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ چل پڑے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے ماجرے کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری گزشتہ رات میں برکت فرمائے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو حمل ہو گیا، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے اور ام سلیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپسی پر مدینہ آتے تھے تو رات کو شہر میں داخل نہیں ہو تے تھے، پس جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دردِ زہ شروع ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو آگے چل دیئے، لیکن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے پاس رک گئے اور انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند لگتی ہے کہ تیرے رسول کے ساتھ سفر میں نکلوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی مدینہ میں داخل ہوں، لیکن اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں رک گیا ہوں، اتنے میں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: جو چیز میں پہلے پاتی تھی، ابھی وہ نہیں پا رہی، پس ہم چل پڑے اور جب مدینہ پہنچے تو دوبارہ دردِ زہ شروع ہوا اور انھوں بچہ جنم دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے کہا: اے انس! کوئی بھی اس کو دودھ نہ پلائے،یہاں تک کہ تو صبح کو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جائے، وہ کہتے ہیں: میں بچہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانوروں کو داغنے والا ایک آلہ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: شاید ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ جنم دیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ آلہ رکھ دیا، میں بچے کو لے کر آگے بڑھا اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گودی میں رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی عجوہ کھجورمنگوائی، اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا،یہاں تک کہ وہ نرم ہو گئی، پھر اس کو بچے کے منہ میں ڈالا اور بچہ زبان پھیر کر اس کو نگلنے لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو کہ انصاریوں کو کھجور سے کتنی محبت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9418
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: ص 1909 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13057»
حدیث نمبر: 9419
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ قَالَ فَوَلَدَتْ لَهُ بُنَيًّا قَالَ فَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا قَالَ فَمَرِضَ الْغُلَامُ مَرَضًا شَدِيدًا فَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَقُومُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ يَتَوَضَّأُ وَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي مَعَهُ وَيَكُونُ مَعَهُ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ وَيَجِيءُ يَقِيلُ وَيَأْكُلُ فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ تَهَيَّأَ وَذَهَبَ فَلَمْ يَجِئْ إِلَى صَلَاةِ الْعَتَمَةِ قَالَ فَرَاحَ عَشِيَّةً وَمَاتَ الصَّبِيُّ قَالَ وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ نَسَجَتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا وَتَرَكَتْهُ قَالَ فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ كَيْفَ بَاتَ بُنَيَّ اللَّيْلَةَ قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا كَانَ ابْنُكَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ قَالَ ثُمَّ جَاءَتْهُ بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَطَابَتْ نَفْسُهُ قَالَ فَقَامَ إِلَى فِرَاشِهِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ قَالَتْ وَقُمْتُ أَنَا فَمَسَسْتُ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ مَعَهُ الْفِرَاشَ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ رِيحَ الطِّيبِ كَانَ مِنْهُ مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ ثُمَّ أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَهَيَّأُ كَمَا كَانَ يَتَهَيَّأُ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ فَقَالَتْ لَهُ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا اسْتَوْدَعَكَ وَدِيعَةً فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا ثُمَّ طَلَبَهَا فَأَخَذَهَا مِنْكَ تَجْزَعُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ لَا قَالَتْ فَإِنَّ ابْنَكَ قَدْ مَاتَ قَالَ أَنَسٌ فَجَزِعَ عَلَيْهِ جَزْعًا شَدِيدًا وَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهَا فِي الطَّعَامِ وَالطِّيبِ وَمَا كَانَ مِنْهُ إِلَيْهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا)) قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا)) قَالَ فَحَمَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ فَوَلَدَتْ غُلَامًا قَالَ فَحِينَ أَصْبَحْنَا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ احْمِلْهُ فِي خِرْقَةٍ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحْمِلْ مَعَكَ تَمْرَ عَجْوَةٍ قَالَ فَحَمَلْتُهُ فِي خِرْقَةٍ قَالَ وَلَمْ يُحَنَّكْ وَلَمْ يَذُقْ طَعَامًا وَلَا شَيْئًا قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَ ((اللَّهُ أَكْبَرُ مَا وَلَدَتْ)) قُلْتُ غُلَامًا قَالَ ((الْحَمْدُ لِلَّهِ)) فَقَالَ ((هَاتِهِ إِلَيَّ)) فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِي ((مَعَكَ تَمْرُ عَجْوَةٍ)) قُلْتُ نَعَمْ فَأَخْرَجْتُ تَمَرَاتٍ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً وَأَلْقَاهَا فِي فِيهِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُهَا حَتَّى اخْتَلَطَتْ بِرِيقِهِ ثُمَّ دَفَعَ الصَّبِيَّ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ الصَّبِيُّ حَلَاوَةَ التَّمْرِ جَعَلَ يَمُصُّ بَعْضَ حَلَاوَةِ التَّمْرِ وَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَسٌ فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ فَتَحَ أَمْعَاءَ ذَلِكَ الصَّبِيِّ عَلَى رِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ)) فَسَمَّى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَخَرَجَ مِنْهُ رَجُلٌ كَثِيرٌ قَالَ وَاسْتُشْهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بِفَارِسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے شادی کی،یہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا براء رضی اللہ عنہما کی ماں تھیں، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے ایک پیارا سا بیٹا جنم دیا، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس سے بہت محبت کرتے تھے، لیکن ہوا یوں کہ بچہ بہت سخت بیمار ہو گیا، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی روٹین یہ تھی کہ وہ نماز فجر کے لیے اٹھتے، وضو کرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اور نصف النہار کے قریب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی ٹھہرتے، پھر واپس آ کر قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے، پھر نمازِ ظہر کی تیاری کر کے چلے جاتے اور نمازِ عشا تک واپس نہیں آتے تھے، ایک دن جب وہ رات کو واپس آئے تو بچہ فوت ہو چکا تھا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (شروع میں اس کی موت کو چھپانے کے لیے) اسے کپڑے سے ڈھانپ دیا اور اس کو چھوڑ دیا، جب سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو کہا: اے ام سلیم! میرے پیارے بیٹے نے رات کیسے گزاری ہے؟ انھوں نے کہا: اے ابو طلحہ! تیرا بیٹا جس دن سے بیمار ہوا، آج رات کو سب سے زیادہ سکون میں تھا، پھر وہ کھانا لے کر آئیں، انھوں نے کھانا کھایا اور ان کا نفس خوشگوار ہو گیا، پھر وہ اپنے بستر کی طرف گئے اور سونے کے لیے اپنا سر رکھا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے خوشبو لگائی اور ان کے پاس آ کر بستر میں ان کے ساتھ داخل ہو گئی، جب انھوں نے خوشبو محسوس کی تو وہی معاملہ چلا جو میاں بیوی کا ہوتا ہے ، پھر جب صبح ہوئی تو انھوں نے روٹین کے مطابق تیاری کرنا شروع کر دی، جیسا کہ ہر روز کرتے تھے، اب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابو طلحہ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی نے آپ کو امانت دی، آپ نے اس سے استفادہ کیا، پھر اس نے تجھ سے طلب کی اور پھر لے لی، کیا تو اس معاملے میں بے صبری کرے گا؟ انھوں نے کہا: نہیں، سیدہ نے کہا: تو پھر آپ کا بیٹا فوت ہو چکا ہے، وہ بہت زیادہ گھبرائے اور پریشان ہوئے اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے معاملے کی خبردی کہ اس کی بیوی نے اس طرح کھانا کھلایا، خوشبو لگائی اور پھر جو کچھ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے حق زوجیت ادا کیا ہے اور وہ بچہ تمہارے پہلوؤں میں تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اس رات میں برکت فرمائے۔ پس سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو اسی رات حمل ہو گیا، بعد میں جب انھوں نے بچہ جنم دیا تو صبح کو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے میں (انس رضی اللہ عنہ ) سے کہا: اس کو کسی کپڑے میں اٹھا لے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جا اور عجوہ کھجور بھی لیتا جا، پس میں نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر اٹھایا، نہ اس کو گڑتی دی گئی تھی، نہ اس نے کھانا کھایا، بلکہ کوئی چیز نہیں چکھی، جب میں پہنچا تو کہا: اے اللہ کے رسول! سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا بچہ پیدا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (خوشی سے) فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، کیا جنم دیا ہے اس نے؟ میں نے کہا: جی لڑکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لے آ اس کو میرے پاس۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو گڑتی دینا چاہی، اس لیے مجھ سے پوچھا: کیا تیرے پاس عجوہ کھجور ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ہے، پھر میں نے کھجوریں نکالیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اس کو اپنے منہ مبارک میں ڈالا اور اتنی دیر تک چبایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعاب کے ساتھ مکس ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو دی اور فوراً یوں لگا کہ بچہ کھجور کی مٹھاس محسوس کر رہا ہے، وہ کھجور کی حلاوت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تھوک کو چوسنے لگا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پہلی چیز جس نے اس بچے کی انتڑیاں کھولیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھوک تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصاریوں کی محبوب چیز کھجور ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا، اس عبد اللہ کی کافی ساری اولاد پیدا ہوئی تھی،یہ عبد اللہ فارس میں شہید ہو گئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ایک انصاری آدمی نے کہا: رَاَیْتُ تِسْعَۃَ اَوْلَادٍ کُلُّھُمْ قَدْ قَرَؤُوْا الْقُرْآنَ یَعْنِیْ مِنْ اَوْلَادِ عَبْدِ اللّٰہِ۔ … میں نے اس عبد اللہ کے نو بیٹے دیکھے، سب نے قرآن مجید پڑھا ہوا تھا۔
ایک اور روایت کے مطابق ان میں سے اکثر نے علم حدیث بھی حاصل کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9419
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12896»