حدیث نمبر: 9392
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ إِلَّا الْجَنَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میں اپنے بندے کی پسندیدہ چیز لے لیتا ہوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس کو بطورِ عوض دینے کے لیے میرے پاس صرف جنت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 9393
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ مِنَ الْوَلَدِ) لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ يَعْنِي الْوُرُودَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اس کو آگ نہیں چھوئے گی، سوائے قسم کے پورا کرنے کے۔ قسم کے پورا کرنے سے مراد وہاں سے گزرنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قسم کے پورا ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {وَ إِنْ مِنْکُمْ إِلاَّ وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔} … تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شدہ امر ہے۔ (سورۂ مریم: ۷۱)
اس کی تفسیر صحیح احادیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر ایک پل بنایا جائے گا، جس سے ہر مومن اور کافر کو گزرنا ہو گا، بعض مومن جلد یا بہ دیر گزر جائیں گے، بعض جہنم میں گر جائیں گے، پھر ان کو شفاعت کے ذریعےیا جرم کی سزا بھگتنے کے بعد نکال لیا جائے گا اور کافر اور مشرک اس پل سے نہیں گزر پائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں گر جائیں گے۔
اس کی تفسیر صحیح احادیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر ایک پل بنایا جائے گا، جس سے ہر مومن اور کافر کو گزرنا ہو گا، بعض مومن جلد یا بہ دیر گزر جائیں گے، بعض جہنم میں گر جائیں گے، پھر ان کو شفاعت کے ذریعےیا جرم کی سزا بھگتنے کے بعد نکال لیا جائے گا اور کافر اور مشرک اس پل سے نہیں گزر پائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں گر جائیں گے۔
حدیث نمبر: 9394
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ جَاءَ نِسْوَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ مِنَ الرِّجَالِ فَوَاعِدْنَا مِنْكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ قَالَ مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانٍ وَأَتَاهُنَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلِذَلِكَ الْمَوْعِدِ قَالَ فَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُنَّ يَعْنِي مَا مِنْ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ ثَلَاثًا مِنَ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُهُنَّ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ أَوِ اثْنَانِ قَالَ أَوِ اثْنَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ کچھ خواتین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ مردوں کی مجلس میں تشریف رکھتے ہیں تو ہم آپ کے پاس نہیں آ سکتے، اس لیے آپ ہمارے لیے ایک دن کا تعین کر دیں، ہم اس میں آپ کے پاس آ جائیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا وعدہ فلاں کا گھر ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وعدے کے مطابق اس گھر میں تشریف لے آئے اور خواتین کو جو باتیں ارشاد فرمائیں، ان میں یہ فرمان بھی تھا: جو عورت تین بچوں کو آگے بھیج دیتی ہے اور پھر ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔ ایک خاتون نے کہا: اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ د وہوں۔
حدیث نمبر: 9395
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ الخ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم میں سے جس خاتون کے تین بچے فوت ہو جاتے ہیں تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔ پس ایک عورت نے کہا: … ۔
حدیث نمبر: 9396
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاثْنَانِ قَالَ اثْنَانِ قَالَ مَحْمُودٌ فَقُلْتُ لِجَابِرٍ أَرَاكُمْ لَوْ قُلْتُمْ وَوَاحِدًا لَقَالَ وَوَاحِدًا قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ أَظُنُّ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ محمود راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرا خیال ہے کہ اگر تم ایک بچے کے بارے میں سوال کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما دینا تھا کہ اگرچہ ایک بھی ہو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان بھی یہی ہے۔
حدیث نمبر: 9397
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ قَالَ وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا اثْنَيْنِ قَالَ وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ قَالَ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا وَاحِدًا قَالَ فَقِيلَ لَهُ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَقَالَ إِنَّمَا ذَاكَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو وہ ان کے لیے جہنم سے مضبوط قلعہ ہوں گے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو صرف دو ہی بھیجے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سید القراء ابو المنذر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا تو صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ ان کوجواباً کہا گیا: اگرچہ ایک بچہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اجر صرف اس وقت ملتا ہے، جب صدمہ کے شروع میں صبر کیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … جونہی آدمی غم والی خبر سنتا ہے، اسی وقت سے یہ حکم جاری ہوتا ہے کہ وہ صبر کرے، نوحہ نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی کوئی بات نہ کہے۔
حدیث نمبر: 9398
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثِ بْنِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً فَقَالَ لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ قَالَ حَفْصٌ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ سِتِّينَ سَنَةً وَلَمْ أَبْلُغْ عَشَرَ سِنِينَ وَسَمِعْتُ حَفْصًا يَذْكُرُ هَذَا الْكَلَامَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنا بچہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دو، پہلے تین بچوں کو دفن کر چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو پھر آگ سے بڑی زبردست رکاوٹ بنا چکی ہے۔ حفص راوی کہتے ہیں: ساٹھ سال ہو گئے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ِ مبارکہ سنی تھی، جبکہ اس وقت میری عمر دس برس بھی نہیں تھی۔ علی بن عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میں نے ۲۸۷ھـمیں حفص کو یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا۔
حدیث نمبر: 9399
عَنْ مُحَمَّدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَتْنَا امْرَأَةٌ كَانَتْ تَأْتِينَا يُقَالُ لَهَا مَاوِيَّةُ كَانَتْ تُرْزَأُ فِي وَلَدِهَا فَأَتَتْ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْمَرٍ الْقُرَشِيَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُبْقِيَهُ لِي فَقَدْ مَاتَ لِي قَبْلَهُ ثَلَاثَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمُنْذُ أَسْلَمْتِ فَقَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ قَالَتْ مَاوِيَّةُ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْمَرٍ اسْمَعِي يَا مَاوِيَّةُ قَالَ مُحَمَّدٌ (يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ) فَخَرَجَتْ مَاوِيَّةُ مِنْ عِنْدِ ابْنِ مَعْمَرٍ فَأَتَتْنَا فَحَدَّثَتْنَا هَذَا الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: ہمارے پاس ماویہ نامی ایک خاتون آتی تھی، اس کے بچے فوت ہو جاتے تھے، وہ عبید اللہ بن معمر قریشی کے پاس گئی، جبکہ ان کے پاس ایک صحابی ٔ رسول بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس صحابی نے بیان کیا کہ ایک خاتون اپنا ایک بیٹا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس کو زندہ سلامت رکھے ، اس سے پہلے میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جب سے اسلام قبول کیا ، اس وقت سے تین بچے فوت ہوئے ہیں؟ ‘‘اس نے کہا : جی ہاں ! اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ یہ تو ( آگ سے بچنے کا ) بڑا مستحکم ذریعہ حفاظت ہے۔ ‘‘ ماویہ کہتی ہیں : مجھے عبیداللہ بن معمر نے کہا : اے ماویہ بات اچھی طرح سن (اوراس پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام لے اور اللہ سے ڈرتی رہ ) محمد بن سیرین کہتے ہیں : یہ عورت (ماویہ ) ابن معمر کےپاس سے نکلی اور ہمارے پاس آئی اور ہمیں یہ حدیث بیان کی ۔
حدیث نمبر: 9400
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا رَجَاءُ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ لِي فِيهِ بِالْبَرَكَةِ فَإِنَّهُ قَدْ تُوُفِّيَ لِي ثَلَاثَةٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمُنْذُ أَسْلَمْتِ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ فَقَالَ لِي رَجُلٌ اسْمَعِي يَا رَجَاءُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن سیرین، رجاءنامی ایک خاتون سے بیان کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھی، ایک عورت اپنا ایک بیٹا لے کر آپ ﷺ کے پاس آئی اور کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ میرے لیے اس بچے میں برکت کی دعا کریں ، کیونکہ میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا : ’’کیا قبولیت اسلام کے بعد یہ بچے فوت ہوئے ہیں ؟ ‘‘ اس نے کہا : جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تو (جہنم سے بچنے کے لئے ) بڑی مضبوط ڈھال ہے۔ ‘‘ پس ایک آدمی نے مجھے کہا : اے رجاء سن، رسول اللہ ﷺ کیا فرما رہے ہیں ۔
حدیث نمبر: 9401
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ السُّلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان آدمی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے ملیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 9402
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ قَدَّمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ صُلْبِهِ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ أَوِ امْرَأَةٍ فَهُمْ لَهُ سِتْرَةٌ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان مرد یا عورت نے اپنی نسل سے تین نابالغ بچے اللہ تعالیٰ کے لیے آگے بھیج دیئے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔
حدیث نمبر: 9403
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی ماں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث سنی ہے۔
حدیث نمبر: 9404
عَنْ أَبِي سِنَانٍ قَالَ دَفَنْتُ ابْنًا لِي وَإِنِّي لَفِي الْقَبْرِ إِذْ أَخَذَ بِيَدِي أَبُو طَلْحَةَ فَأَخْرَجَنِي فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قُلْتُ بَلَى قَالَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَا مَلَكَ الْمَوْتِ قَبَضْتَ وَلَدَ عَبْدِي قَبَضْتَ قُرَّةَ عَيْنِهِ وَثَمَرَةَ فُؤَادِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا قَالَ قَالَ حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ قَالَ ابْنُوا لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سنان کہتے ہیں: میں نے اپنا بیٹا دفن کیا اور ابھی تک میں قبر میں تھا کہ ابو طلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے قبر سے نکالا اور کہا: کیا میں تجھے خوشخبری دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: ضحاک بن عبد الرحمن نے سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ملک الموت! کیا تو نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی ہے؟ کیا تو نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کے دل کی محبت قبض کر لی ہے؟ وہ کہتا ہے: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ اس نے کہا: تیری تعریف بیان کی اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا، اللہ تعالیٰ نے کہا: تو پھر اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْد رکھو۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ آزمائش والی خبر سنتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔
ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 9405
عَنِ ابْنِ حَصْبَةَ أَوْ أَبِي حَصْبَةَ عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ تَدْرُونَ مَا الرَّقُوبُ قَالُوا الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ فَقَالَ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ قَالُوا الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ الَّذِي لَهُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا الصُّرَعَةُ قَالُوا الصَّرِيعُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الرَّجُلُ يَغْضَبُ فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ يَحْمَرُّ وَجْهُهُ وَيَقْشَعِرُّ شَعْرُهُ فَيَصْرَعُ غَضَبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارا پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 9406
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا تَعُدُّونَ فِيكُمُ الرَّقُوبَ قَالَ قُلْنَا الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ قَالَ لَا وَلَكِنَّ الرَّقُوبَ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اندر کس کو رَقُوْب (بے اولاد) شمار کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، رَقُوْب تو وہ ہوتا ہے، جس نے کوئی نابالغ بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔
حدیث نمبر: 9407
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَبِي فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ فَقَالَ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ قَالَتْ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس شخص کے دو پیش رو ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے باپ کی قسم! جس کا ایک پیش رو ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ جس کا ایک پیش رو ہو گا، اے توفیق دی ہوئی خاتون! پھر سیدہ نے کہا: آپ کی امت میں سے جس کا کوئی پیش رو نہیں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں اپنی امت کے لیے پیش رو ہوں گا، میری امت کو میری جیسی تکلیف نہیں پہنچی۔
حدیث نمبر: 9408
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوِ اثْنَانِ قَالَ أَوِ اثْنَانِ قَالُوا أَوْ وَاحِدٌ قَالَ أَوْ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت کرنے کی وجہ سے ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ لوگوں نے پھر کہا: اگر ایک ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ایک ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک ناتمام بچہ ناف کے کٹے ہوئے حصے سے اپنے ماں کو کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا، بشرطیکہ وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے۔
حدیث نمبر: 9409
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةُ أَوْلَادٍ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَثَلَاثَةٌ قَالَ وَثَلَاثَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ أَحَدَ زَوَايَاهَا وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَدْخُلُ بِشَفَاعَتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ مِنْ مُضَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حارث بن اُقیش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے چار بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر تین ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ تین ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دوہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں، اور بیشک میرے امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ ان کو آگ کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونہ بن جائیں گے اور میری امت میں ایسے افراد بھی ہیں کہ جن کی سفارش سے مضر قبیلے کے افراد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بات درست ہے کہ بعض جہنمیوں کے جسم بڑے بنا دیئے جائیں گے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ضِرْسُ الْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِثْلُ أُحُدٍ وَعَرْضُ جِلْدِہِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَفَخِذُہُ مِثْلُ وَرِقَانَ وَمَقْعَدُہُ مِنْ النَّارِ مِثْلُ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ الرَّبَذَۃِ۔)) … قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ جتنی ہو جائے گی، اس کی جلد ستر ہاتھ موٹی ہو جائے گی، اس کی ران ورقان پہاڑ جتنی ہو جائے گی اور آگ میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی، جتنا میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ربذہ گاؤں کے درمیان فاصلہ ہے۔ (مسند احمد: ۲/ ۳۲۸، رقم: ۸۳۴۵) جسم کوبڑا کرنے کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ عذاب کو زیادہ محسوس کریں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنَ النَّارِ۔
حدیث نمبر: 9410
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ قُلْتُ مَاتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَنْتَ الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْوَلَدَيْنِ مَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ لَأَنْ يَكُونَ قَالَهُ لَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَيْهِ حِمْصُ وَفِلَسْطِينُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ثعلبہ اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دو بچے اسلام میں فوت ہو چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دو بچے اسلام میں فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو بھی جنت میں داخل کر دے گا۔ بعد میں جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو انھوں نے مجھ سے کہا: تم وہ آدمی ہو، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کے بارے میں خوشخبری سنائی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات میرے لیے فرماتے تو یہ بات مجھے ان چیزوں سے زیادہ پسند ہوتی، جن پر حمص اور فلسطین کو بند کیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … حمص اور فلسطین اور ان کے خزانوں کامالک بننا مراد ہے۔
حدیث نمبر: 9411
عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ مَا بَالُكَ قَالَ لِي عَمَلِي قُلْتُ حَدِّثْنِي قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ أَوْلَادِهِمَا لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: تمہارا کیا حال ہے؟ انھوں نے کہا: میرے لیے میرا کام ہے، میں نے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کرو، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔
حدیث نمبر: 9412
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهِ حَجَبُوهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین بچے آگے بھیج دیئے، وہ اس کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے۔
حدیث نمبر: 9413
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ وَإِيَّاهُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ الْجَنَّةَ وَقَالَ يُقَالُ لَهُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ قَالَ فَيَقُولُونَ حَتَّى يَجِيءَ أَبَوَانَا قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَقُولُونَ مِثْلَ ذَلِكَ فَيُقَالُ لَهُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَبَوَاكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی بڑی رحمت سے ان کو ان کے بچوں سمیت جنت میں داخل کر دے گا، جب ان بچوں سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ کہیں گے: ہمارے والدین آ لیں، (پھر داخل ہوں گے)، تین مرتبہ ان سے یہ بات کہی جائے گی، وہ یہی جواب دیں گے، بالآخر ان سے کہا جائے گا: تم بھی اور تمہارے والدین بھی، سب جنت میں داخل ہو جاؤ۔
حدیث نمبر: 9414
عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ تُوُفِّيَ ابْنَانِ لِي فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا تُحَدِّثُنَاهُ يُطَيِّبُ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا قَالَ نَعَمْ صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ قَالَ أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ أَوْ يَدِهِ كَمَا آخُذُ بِصَنَفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حسان کہتے ہیں: میرے دو بیٹے فوت ہو گئے، پس میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو ہمارے نفسوں کو ہمارے مردوں کے بارے میں خوش کر دے، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے، اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔
حدیث نمبر: 9415
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَوْ لِكُلِّنَا قَالَ بَلْ لِكُلِّكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تھا، جبکہ اس کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ سے اس طرح محبت کرے، جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو گم پایا اور پوچھا: فلاں کے بیٹے کا کیا بنا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے باپ سے کہا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پر آئے، اسی پر اپنے بچے کو انتظار کرتے ہوئے پائے؟ ایک ا ٓدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس شخص کے لیے خاص ہے، یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں،یہ تو تم سب کے لیے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے سوال کے جواب میں اس آدمی نے جو کچھ کہا، اس سے اس کا مقصود محبت کی شدت کو بیان کرنا تھا۔
حدیث نمبر: 9416
عَنْ حَسَّانَ بْنِ كُرَيْبٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْهُمْ تُوُفِّيَ فَوَجَدَهُ عَلَيْهِ أَبَوَاهُ أَشَدَّ الْوَجْدِ فَقَالَ حَوْشَبُ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ ابْنِكَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ كَانَ لَهُ ابْنٌ قَدْ أَدَّبَهُ وَدَبَّ وَكَانَ يَأْتِي مَعَ أَبِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَهُ عَلَيْهِ أَبُوهُ قَرِيبًا مِنْ سِتَّةِ أَيَّامٍ لَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا أَرَى فُلَانًا)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((يَا فُلَانُ أَتُحِبُّ لَوْ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ الْآنَ كَانَ شَطِيَ الصِّبْيَانِ نَشَاطًا أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ أَجْرَى الْغِلْمَانِ جَرَاءَةً أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ كَهْلًا كَأَفْضَلِ الْكُهُولِ أَوْ يُقَالَ لَكَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ثَوَابَ مَا أُخِذَ مِنْكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسان بن کریب کہتے ہیں: ہم میں سے ایک بچہ فوت ہو گیا، اس کے والدین کو بہت زیادہ صدمہ ہوا، صحابی ٔ رسول سیدنا حوشب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیرے اس بیٹے کی طرح کے بیٹے کے حق میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک صحابی کا بیٹا تھا، اس نے اس کو ادب سکھایا تھا، یا ابھی تک وہ زمین پر ہاتھ پیر مار کر گھسٹتا تھا، وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھی آتا تھا، پھر ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا اور اس کے باپ نے اس کی وجہ سے اتنا غم محسوس کیا کہ وہ چھ دن تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھی نہیں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن پوچھا: کیا وجہ ہے کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے اور وہ اس کی وجہ سے پریشان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں آدمی! اچھا بتا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اب تیرا بچہ تیرے پاس ہوتا اور بچوں میں سب سے زیادہ پھرتیلا ہوتا؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ تیر ا بچہ سب بچوں سے زیادہ جرأت والا ہوتا؟ یا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیرا بچہ تیس سے پچاس برس کا بھرپور نوجوان ہو؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ کل قیامت والے دن تجھے کہا جائے: جو بچہ تجھ سے لے لیا گیا تھا، اس کے ثواب میں جنت میں داخل ہو جا؟
حدیث نمبر: 9417
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ حَارِثَةُ بْنُ عَمَّتِي يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا نَظَّارًا مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ قَالَ فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ قَالَ فَجَاءَتْ أُمُّهُ عَمَّتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنِي حَارِثَةُ إِنْ يَكُ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ ((يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میری پھوپھی کا بیٹا سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا، یہ لڑکا لڑائی دیکھنے کے لیے گیا تھا، لڑنے کے لیے نہیں گیا تھا، لیکن اچانک اس کو تیر لگا اور اس کو قتل کر دیا، پس میری پھوپھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا حارثہ رضی اللہ عنہ ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہوں، وگرنہ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں تو بہت زیادہ ہیں اور بیشک حارثہ تو فردوسِ اعلی میں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس خاتون کا مقصد رونا اور نوحہ کرنا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: اِجْتَھَدْتُّ عَلَیْہِ فِیْ الْبُکَائِ۔ … میں اس پر رونے میں کوشش کروں گی۔ امام خطابی نے کہا: چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو اس کے دعوے پر برقرار رکھا، اس لیے اس حدیث سے اس طرح کے رونے کا جواز ملتا ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے ان کا تعاقب کیا اور کہا کہ یہ واقعہ نوحہ کی حرمت سے پہلے کا ہے، کیونکہ غزوۂ احد کے بعد نوحہ کو حرام قرار دیا گیا تھا، جبکہ یہ واقعہ تو غزوۂ بدر کے بعد کا ہے۔