کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے،¤اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 9386
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ فَقَالَ اكْتُبُوا لِعَبْدِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ خَيْرٍ مَا كَانَ فِي وِثَاقِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نگرانی کرنے والے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ دن رات میں جو نیک عمل کرتا تھا، تم اس وقت تک وہی عمل لکھتے رہو، جب تک یہ میری قید میں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آدمی باقاعدگی کے ساتھ جو اعمالِ صالحہ سرانجام دے رہا ہو، اگر بیماری کی وجہ سے اس کی روٹین متاثر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ثواب پورا ملتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9386
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الدارمي: 2/ 316، والحاكم: 1/ 348، وابن ابي شيبة: 3/ 230 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6482»
حدیث نمبر: 9387
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ ثُمَّ مَرِضَ قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ بِهِ اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذَا كَانَ طَلِيقًا حَتَّى أُطْلِقَهُ أَوْ أَكْفِتَهُ إِلَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب بندہ عبادت کے معاملے میں اچھے طریقے پر رواں ہوتا ہے اور پھر بیمار ہو جاتا ہے تو اس پر مقررہ فرشتے کو کہا جاتا ہے: تو اس کے وہی عمل لکھتا رہے جو یہ صحتمندی کی حالت میں کرتا تھا، یہاں تک کہ میں اس کو دوبارہ صحت عطا کر دوں یا پھر موت دے دوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9387
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6895»
حدیث نمبر: 9388
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ عَلَيْهِ فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا رَبَّنَا عَبْدُكَ فُلَانٌ قَدْ حَبَسْتَهُ فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ اخْتِمُوا لَهُ عَلَى مِثْلِ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر دن کے عمل کو اسی دن پر ہی ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن جب مؤمن بیمار ہو جاتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے ربّ! تو نے اپنے فلاں بندے کو پابند کر دیا ہے، (اب اس کے عمل کا کیا جائے)؟ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تم اس کے دن کو اس کے اسی عمل پر ختم کرتے رہو، جو یہ کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ شفایاب ہو یا جائے یا فوت ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9388
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 782، والحاكم: 4/ 260 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17449»
حدیث نمبر: 9389
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ قَالَ اللَّهُ اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ فَإِنْ شَفَاهُ غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ وَإِنْ قَبَضَهُ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی مسلمان بندے کو اس کی جسمانی تکلیف کے ساتھ آزماتا ہے تو وہ فرشتے سے کہتا ہے: یہ آدمی جو نیک عمل کرتا تھا، تو اس کو لکھتا جا، اگر اس کو شفا دے دی تو وہ اس کو دھودے گا اور پاک کردے گا اور اگر اس کو وفات دے دی تو بخش دے گا اور رحم کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … بیمار ہونے سے جہاں مختلف قسم کی آزمائشوں اور بیماریوں سے بندوں کو صبر آزما ساعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں ان کو اجرو ثواب ملتا ہے، گناہوں کے اثرات زائل ہوتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ جب بندہ بیماری کی وجہ سے وہ نفلی عبادات برقرار نہیں رکھ سکتا، جو وہ صحت و تندرستی کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا، یا فرضی عبادات کو ان کی اصل کیفیت میں ادا نہیں کر سکتا، مثلا بیٹھ کر نماز ادا کرنا، تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادات کے اجر و ثواب میں کمی نہیں آنے دیتا، بلکہ اس کی نیت اور ارادے کو دیکھ کر اس کے نامۂ اعمال میں اس کے عبادت والے سلسلے کا انداراج ہوتا رہتا ہے، حالانکہ وہ عملی طور پر عمل کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9389
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 233، وابويعلي: 4233 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12531»