کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9380
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَابَنِي رَمَدٌ فَعَادَنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا بَرَأْتُ خَرَجْتُ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ عَيْنَاكَ لِمَا بِهِمَا مَا كُنْتَ صَانِعًا)) قَالَ قُلْتُ لَوْ كَانَتَا عَيْنَايَ لِمَا بِهِمَا صَبَرْتُ وَاحْتَسَبْتُ قَالَ ((لَوْ كَانَتْ عَيْنَاكَ لِمَا بِهِمَا ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَلَقِيتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا ذَنْبَ لَكَ)) قَالَ إِسْمَاعِيلُ ((ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ إِلَّا أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری آنکھ خراب ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری تیمار داری کے لیے تشریف لائے، جب میں شفایاب ہوا اور باہر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر تیری آنکھوں کی بیماری برقرار رہتی تو تو کیا کرتا؟ میں نے کہا: اگر میری آنکھوں کی بیماری برقرار رہتی تو میں صبر کرتا اور ثواب کی نیت رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بیماری کے برقرار رہنے کی صورت میں اگر تو صبر کرتا اور ثواب کی نیت رکھتا تو تو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملتا کہ تجھ پر کوئی گناہ نہ ہوتا۔ اسماعیل راوی کے الفاظ یہ ہیں: پھر تو صبر کرتا اور ثواب کا ارادہ رکھتا تو اللہ تعالیٰ تیرے لیے جنت کو واجب کر دیتا۔
حدیث نمبر: 9381
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعُودُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَقَالَ لَهُ يَا زَيْدُ لَوْ كَانَ بَصَرُكَ لِمَا بِهِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی تیمار داری کے لیے گئے، ان کی آنکھ خراب تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زید! اگر تیری آنکھوں کی بیماری برقرار رہتی؟ … پھر مذکورہ بالا روایت کی طرح کے الفاظ نقل کیے۔
حدیث نمبر: 9382
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذْهَبْتُ كَرِيمَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ كَانَ ثَوَابُهُ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں کسی کی دو آنکھوں کی بینائی سلب کر لیتا ہوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس کا اجرو ثواب جنت ہو گا۔
حدیث نمبر: 9383
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ آدَمَ إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْكَ فَصَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! جب میں تجھ سے تیری دونوں آنکھیں سلب کر لیتا ہوں اور تو صدمے کی ابتداء میں ہی ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے، تو میں تیرے لیے اس کے ثواب کے طور پر جنت سے کم پر راضی نہیں ہوں گا۔
حدیث نمبر: 9384
عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَزِيزٌ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْخُذَ كَرِيمَتَيْ مُسْلِمٍ ثُمَّ يُدْخِلَهُ النَّارَ قَالَ يُونُسُ يَعْنِي عَيْنَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان بندے کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے زیادہ ہے کہ وہ اس کی دو آنکھیں بھی سلب کر لے اور پھر آگ میں بھی داخل کر دے۔
حدیث نمبر: 9385
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذْهَبْتُ عَيْنَيْهِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ لَمْ أَرْضَ لَهُ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں جس آدمی سے اس کی آنکھیں سلب کر لوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کے ثواب میں جنت سے کم پر راضی نہیں ہوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … قوتِ بینائی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اگر آدمی کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ گہرا تعلق نہ ہو تو اس نعمت کے بغیر زندگی اندھیر ہے، ہاں اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہو اور اس نعمت پر شکر اور صبر کیا جائے تو پھر اس کا صلہ بھی بہت بڑا ہے۔