حدیث نمبر: Q9345
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
حدیث نمبر: 9345
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ وَفِي مَالِهِ وَفِي وَالِدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن مرد و زن کے جسم، مال اور والدین میں آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے تو اس کا کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 9346
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تَمِيلُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَشَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُحْصَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس کھیتی کی طرح ہے، جس کو ہوا کبھی اِدھر جھکاتی ہے اور کبھی اُدھر، یہ حدیث سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
حدیث نمبر: 9347
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ خَامَةِ الزَّرْعِ مِنْ حَيْثُ انْتَهَى الرِّيحُ كَفَتْهَا فَإِذَا سَكَنَتِ اعْتَدَلَتْ وَكَذَلِكَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ يَتَكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ صَمَّاءُ مُعْتَدِلَةٌ يَقْصِمُهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ابتدائی نرم کھیتی کی مانند ہے، جب اس تک ہوا پہنچتی ہے تو وہ جھک جاتی ہے اور جب ہوا تھم جاتی ہے تو وہ سیدھی ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح مؤمن کی مثال ہے، جو آزمائشوں کی وجہ سے ہچکولے کھاتا رہتا ہے، اور منافق کی مثال صنوبر کے اس درخت کی طرح ہے، جو ٹھوس اور سخت ہونے کی وجہ سے ایک حالت پر برقرار رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ مومن اپنے نفس کو بطور عاریہ لی ہوئی ایک چیز سمجھے، اس کو لذات و شہوات سے دور رکھے، مصائب و حوادث کا محور سمجھے، نیز اسے یہیقین ہونا چاہیے کہ اس کے نفس کو تو آخرت کے لیے پیدا کیاگیا ہے، اس طرح سے آزمائشیں اس کے حق میں بہت آسان ہو جائیں گی۔ رہا مسئلہ منافق کا تو سرے سے اس پر نازل ہونے والے امتحانات ہی کم ہوتے ہیں، تاکہ آخرت میں اس کے عذاب میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ مومن اور منافق دونوں کے حق میں ہواؤں کی طرح آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لیکن ان سے متأثر ہونے والا اور عبرت حاصل کرنے والا صرف مؤمن ہوتا ہے، جب بھی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بلا آپڑتی ہے تو وہ اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰکی کوئی نافرمانی تو نہیں ہو گئی کہ وہ مجھے سزا دے رہا ہو۔ ہر جسمانی، ذہنی اور مالی آزمائش اس کے لیےیہی پیغام لاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اس سے دور نہ ہو۔ نیز وہ ہر آزمائش پر صبر کرتا ہے اور اسلامی احکام کے مطابق اس کے تقاضے پورا کرتا ہے، اس طرح اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
لیکن منافق مضبوط تنے والے درخت کی طرح ان آزمائشوں سے متأثر نہیں ہوتا، وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی پروا کرتا ہے نہ اس کے عذابوں کی پروا۔ حتی کہ ایک دن اچانک کوئی بڑی آفت آتی ہے، جو اس کی زندگی کو ختم کر دیتی ہے۔
یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں
وہ پیڑ جسے آندھی میں ہلتے نہیں دیکھا
لیکن منافق مضبوط تنے والے درخت کی طرح ان آزمائشوں سے متأثر نہیں ہوتا، وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی پروا کرتا ہے نہ اس کے عذابوں کی پروا۔ حتی کہ ایک دن اچانک کوئی بڑی آفت آتی ہے، جو اس کی زندگی کو ختم کر دیتی ہے۔
یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں
وہ پیڑ جسے آندھی میں ہلتے نہیں دیکھا
حدیث نمبر: 9348
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو آزمائشوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 9349
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَضَعَ رَجُلٌ يَدَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أُطِيقُ أَنْ أَضَعَ يَدِي عَلَيْكَ مِنْ شِدَّةِ حُمَّاكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ يُضَاعَفُ لَنَا الْبَلَاءُ كَمَا يُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يُبْتَلَى بِالْقُمَّلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ وَإِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى يَأْخُذَ الْعَبَاءَةَ فَيَجُوبَهَا وَإِنْ كَانُوا لَيَفْرَحُونَ بِالْبَلَاءِ كَمَا تَفْرَحُونَ بِالرَّخَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رکھا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ کا بخار اس قدر تیز ہے کہ میں آپ پر ہاتھ رکھنے کی طاقت نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء کی جماعت ہیں، جیسے ہمارے لیے اجر و ثواب کو بڑھا دیا جاتا ہے، اس طرح ہمارے لیے آزمائشوں کو سخت کر دیتا ہے، انبیاء میں ایک ایسا نبی بھی تھا کہ اس کو جوؤں سے اس طرح آزمایا گیا کہ قریب تھا کہ وہ اس کو قتل کر دیں، ایسے نبی بھی تھے کہ جن کو فقر و فاقہ کے ذریعے اس طرح آزمایا گیا کہ وہ چوغہ لے کر اس کو کاٹتے تھے، اور وہ انبیاء آزمائشوں کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتے تھے، جیسے تم خوشحالی کی وجہ سے خوش ہوتے ہو۔
حدیث نمبر: 9350
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ تَعَالَى وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ وَأُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثَةٌ (وَفِي رِوَايَةٍ ثَلَاثُونَ) مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلِعِيَالِي طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا مَا يُوَارِي إِبْطُ بِلَالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ کی وجہ سے تکلیف دی گئی اور اتنی تکلیف کسی کو نہیں دی گئی اور مجھے اللہ تعالیٰ کے بہ سبب ڈرایا گیا اور اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسے تین دن بھی آئے کہ پورا دن اور رات گزر جاتے تھے، جبکہ میرے اور میرے اہل و عیال کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی تھی، جس کو جاندار کھا سکے، ما سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپا کر لاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … خاص طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف دینے کے لیے نشانہ بنایا جاتا تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو بتوں کی پوجاپاٹ سے منع کرتے اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے، کوئی قتل کی دھمکی دیتا، کوئی سوشل بائیکاٹ کرتا، کوئی کسی سزا کی وعید سناتا۔
حدیث نمبر: 9351
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعُودُهُ فِي نِسَاءٍ فَإِذَا سِقَاءٌ مُعَلَّقٌ نَحْوَهُ يَقْطُرُ مَاؤُهُ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ مَا يَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ فَشَفَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عبیدہ اپنی پھوپھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں میں تشریف رکھتے تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا اور اس کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ٹپک رہا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخار کی گرمی کی شدت محسوس ہو رہی تھی، بہرحال ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور وہ آپ کو شفا دے دیتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش والے انبیاء ہوتے ہیں، پھر وہ لوگ جو (نیکی اور تقوی میں) ان سے کم ہوتے ہیں، اور پھر وہ لوگ جو اُن سے کم ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9352
عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ مِنْ أَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ كَانَ ذَلِكَ لَهُ خَيْرًا وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ كَانَ ذَلِكَ لَهُ خَيْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے مؤمن کے معاملے پر تعجب ہے، بیشک اس کا سارے کا سارا معاملہ خیر پر مشتمل ہے اور یہ چیز صرف اور صرف مؤمن کو حاصل ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اس کو خوشی ملتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو اس میں بھی اس کی بہتری ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے۔
وضاحت:
فوائد: … وہ مومن اس حدیث کا مصداق ہے جو اللہ تعال کے احسانات پر اس کا شکر ادا کرتاہے اور اس کی آزمائشوں پر صبر کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ مومن کے لیے کسی نعمت کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے اور اس کے حق میں عرش والے کی طرف سے کوئی صبرآزمافیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھے اور دونوں حالتوںمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے غفلت نہ برتے۔
اگر اللہ تعالیٰ مومن کے لیے کسی نعمت کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے اور اس کے حق میں عرش والے کی طرف سے کوئی صبرآزمافیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھے اور دونوں حالتوںمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے غفلت نہ برتے۔
حدیث نمبر: 9353
عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَشَكَرَ وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَصَبَرَ الْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مؤمن کے لیے ایک فیصلہ کیا ہے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہے، اگر اس کو کوئی خیر پہنچتی ہے تو وہ اپنے ربّ کی تعریف کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ اپنے ربّ کی تعریف کرتا ہے اور صبر کرتا ہے، مؤمن کو ہر چیز میں اجر ملتا ہے، یہاں تک کہ اس لقمے میں بھی، جو وہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔
حدیث نمبر: 9354
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَيْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي يَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجَدْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّالِحِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا حُطَّتْ عَنْهُ خَطِيئَةٌ وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف ہونے لگی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکایت کرنے لگے اور اپنے بستر پر الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، میں (عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا: اگر ہم میں سے کوئی فرد اس طرح کرتا تو آپ نے اس کی بات تو محسوس کرنی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نیکوکاروں پر تکلیف سخت ہوتی ہے، اور صورتحال یہ ہے کہ مؤمن کو جو تکلیف بھی لاحق ہوتی ہے، وہ کانٹا ہو یا اس سے کوئی بڑی چیز، اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9355
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ صَبَرَ فَلَهُ الصَّبْرُ وَمَنْ جَزِعَ فَلَهُ الْجَزَعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو آزماتا ہے، پس جو صبر کرنا چاہے گا تو اس کے لیے صبر ہو گا اور جو بے صبرا بنے گا، اس کے لیے بے صبری ہے۔
حدیث نمبر: 9356
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَجَعَلَ يُلَاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ مَهْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ ذَهَبَ بِالشِّرْكِ (وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً) ذَهَبَ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَجَاءَنَا بِالْإِسْلَامِ فَوَلَّى الرَّجُلُ فَأَصَابَ وَجْهَهُ الْحَائِطُ فَشَجَّهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ لَكَ خَيْرًا إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَفَّى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَيْرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، ایک ایسی خاتون کو ملا، جو جاہلیت میں زانیہ رہ چکی تھی، وہ اس سے اٹھ کھیلیاں کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ اس کو لگا دیا، اس پر اس عورت نے کہا: رک جا، بیشک اللہ تعالیٰ شرک اور جاہلیت کو لے گیا ہے اور ہمارے پاس اسلام کو لے آیا ہے، پس وہ آدمی چلا گیا اور واپسی پر اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور زخمی ہو گیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا واقعہ بتلا دیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کے گناہ کی سزا دینے میں جلدی کرتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ شرّ کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے اس کے گناہ کی سزا روک لیتا ہے، یہاں تک کہ روزِ قیامت اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، گویا کہ وہ عِیر پہاڑ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … عِیْر سے دو چیزیں مراد لی جا سکتی ہیں: (۱) مدینہ منورہ کا عیر پہاڑ، یا (۲) وحشی گدھا، مفہوم یہ ہے کہ ایسے فرد کے گناہوں کو جمع کیا جاتا ہے، تاکہ اس کی ہلاکت کا سبب بن سکیں۔
حدیث نمبر: 9357
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ اس کے پاس اس قدر اعمال نہیں ہوتے کہ جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو غموں کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ ان کے ذریعے اس کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صبر کی تین اقسام ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر صبر کرنا۔
۲۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرنے پر صبر کرنا۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنا۔
اس معنی میں ہر نیکی کرنے اور ہر برائی سے بچنے کا سرچشمہ صبر ہے۔ اگر کوئی حقیقی صابر بن جائے تو اس پر تمام شرعی احکام کے تقاضے پورے کرناآسان ہو جاتے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَیْراً لَّہُ وَلَا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔)) … بندے کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی گئی جو اس کے لیے صبر کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔ (حاکم: ۲/ ۴۱۴، صحیحہ: ۴۴۸)
ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے یہ سبق بھی ملا کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں ہوتیں، بلکہ یہ امتحانات تو بلندیٔ درجات کا سبب بنتے ہیں۔
۲۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرنے پر صبر کرنا۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنا۔
اس معنی میں ہر نیکی کرنے اور ہر برائی سے بچنے کا سرچشمہ صبر ہے۔ اگر کوئی حقیقی صابر بن جائے تو اس پر تمام شرعی احکام کے تقاضے پورے کرناآسان ہو جاتے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَیْراً لَّہُ وَلَا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔)) … بندے کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی گئی جو اس کے لیے صبر کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔ (حاکم: ۲/ ۴۱۴، صحیحہ: ۴۴۸)
ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے یہ سبق بھی ملا کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں ہوتیں، بلکہ یہ امتحانات تو بلندیٔ درجات کا سبب بنتے ہیں۔