کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
حدیث نمبر: 9344
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً قَالَ الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الصَّالِحُونَ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي بَلَائِهِ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ خُفِّفَ عَنْهُ وَمَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِي عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگوں کی آزمائش سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام اور پھر دوسرے نیکوکار، اور پھر وہ جو دوسروں سے افضل اور بہتر ہو، دراصل آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس اگر اس کے دین میں سختی اور پابندی ہو گی تو اس کی آزمائش بھی سخت ہو جائے گی اور اگر اس کے دین میں نرمی اور سستی ہو گی تو اس کی آزمائش میں بھی ہلکا پن آجائے گا اور ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک بندہ آزمائشوں میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ روئے زمین پر چل رہا ہوتا ہے اور اس کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور راضی رکھنے کا سب سے بڑا ہتھیار صبر ہے، اس باب کی احادیث اور آخر میں بیان کی گئی شرح پر غور کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9344
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الدارمي: 2783، والطيالسي: 215، والبزار: 1155، وابن ابي شيبة: 3/233 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1481»