حدیث نمبر: 9331
عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ قَالَ أَجَلْ قَالَ ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى وَطَيِّبُ النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن خبیب کے چچے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر پانی کا اثر تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ طیب النفس اور خوش گوار نظر آ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جی ہاں۔ پھر لوگ غِنٰی کی باتوںمیں مصروف ہو گئے، جن کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، البتہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کے لیے غِنٰی کی بہ نسبت صحت بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی نعمتوں میں سے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تقوی و پرہیزگاری کے بغیر مالداری ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہے، ہر کوئی سرمایہ دار ہونے کو اعزاز اور کامیابی کی علامت سمجھتا ہے، لیکن اس کے تقاضے پورے کرنا بہت مشکل بات ہے۔
اسلام اور ہدایت جیسے عظیم احسانات کے بعد سب سے بڑی نعمت صحت ہے، باقی تمام نعمتیں اس کے تابع ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے رہنا چاہیے۔
اسلام اور ہدایت جیسے عظیم احسانات کے بعد سب سے بڑی نعمت صحت ہے، باقی تمام نعمتیں اس کے تابع ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے رہنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 9332
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَ فَقَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَمْرُو نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے پہن کر اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف اپنی نگاہ کو بلند کیا اور پھر جھکایا اور فرمایا: میں تجھے فلاں لشکر پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ تجھے سالم رکھے گااور غنیمت بھی عطا کرے گا اور میں تیرے لیے اچھے خاصے مال کی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مال کی وجہ سے تو مسلمان نہیں ہوا، میں نے اسلام کی رغبت اور آپ کی صحبت میں رہنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو! نیک آدمی کے لیے مناسب مال بہترین چیز ہے۔
حدیث نمبر: 9333
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا النَّاسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی رشک نہیں ہے، مگر دو آدمیوں پر، ایک وہ آدمی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور پھر اس کو حق میں خرچ کرنے کی بھرپور توفیق دی ہو، اور دوسرا وہ آدمی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت اور دانائی سے نوازا ہو تو وہ اور اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو۔
حدیث نمبر: 9334
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا غَيْرَ مَخِيلَةٍ وَلَا سَرَفٍ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، پیو، صدقہ کرو اور پہنو، بس تکبر اور اسراف نہیں ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 9335
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ وَلَا سَرَفٍ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُرَى نِعْمَتُهُ عَلَى عَبْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی نعمت کا اثر نظرآئے۔
حدیث نمبر: 9336
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ أَوْ شَمْلَتَانِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَرَآنِي رَثَّ الْهَيْئَةِ) فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ قُلْتُ نَعَمْ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ مَالِهِ مِنْ خَيْلِهِ وَإِبِلِهِ وَغَنَمِهِ وَرَقِيقِهِ فَقَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيَرَ عَلَيْكَ نِعْمَتَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ فَلْيَرَ أَثَرَ نِعْمَتِهِ اللَّهُ عَلَيْكَ) فَرُحْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ (وَفِي رِوَايَةٍ فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو الاحوص کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے ایکیا دو چادریں زیب ِ تن کی ہوئی تھیں، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پراگندہ حالت دیکھا اور پھر پوچھا: کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ نے مجھے گھوڑے، اونٹ، بھیڑ بکریاں اور غلام، ہر قسم کا مال دے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے مال عطا کیا ہوا ہے تو پھر اس کو تجھ پر اس کی نعمت کا کوئی اثر بھی نظر آنا چاہیے۔ پھر جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … خالص اور انتہائی سرخ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، لہٰذا اس پوشاک کے سرخ ہونے سے مراد ہلکا سرخ ہے، یا وہ جس میں کسی اور رنگ کی ملاوٹ بھی ہو۔
حدیث نمبر: 9337
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَاهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَشْعَثُ سَيِّئُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا لَكَ مَالٌ قَالَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً أَحَبَّ أَنْ تُرَى عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) جب ابو الاحوص کا باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو وہ پراگندہ اور ردّی حالت میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس مال نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطا کیا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت کرتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس پر اس نعمت کا اثر نظر آئے۔
وضاحت:
فوائد: … بندے کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کیسے استعمال کرنا چاہیے، ملاحظہ ہوحدیث نمبر (۹۲۳۹)
حدیث نمبر: 9338
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى فَأَعْطِيَنَّ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو الاحوص کے باپ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کا ہاتھ، جو سب سے بلند ہے، دوسرا خرچ کرنے والے کا ہاتھ، اس کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے نیچے ہے اور تیسرا سوالی کا ہاتھ، جو سب سے نیچے ہے، پس تو ضرور ضرور زائد مال خرچ کر دے اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جا۔
حدیث نمبر: 9339
عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَلَّمَا يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيَقُولُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتُ قَلَّمَا يَدَعُهُنَّ أَوْ يُحَدِّثُ بِهِنَّ فِي الْجُمَعِ (وَفِي رِوَايَةٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ فَمَنْ يَأْخُذْهُ بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے تو زیادہ تر یہ بھی بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں فقہ عطا کر دیتا ہے اور یہ مال و دولت شیریں اور سر سبز و شاداب یعنی پر کشش ہے، پس جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور ایک دوسرے کی تعریف سے بچو، کیونکہ یہ ذبح کرنے کے مترادف ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد محقق کے لحاظ سے حدیث کی ابتدائی عبارت کا مفہوم یہ واضح ہوتا ہے: معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کم ہی کچھ بیان کرتے تھے اور جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ حدیث کم ہی بیان کرنا چھوڑتے تھے … (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 9340
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَخَاهُ عُمَرَ انْطَلَقَ إِلَى سَعْدٍ فِي غَنَمٍ لَهُ خَارِجًا مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ يَا أَبَتِ أَرَضِيتَ أَنْ تَكُونَ أَعْرَابِيًّا فِي غَنَمِكَ وَالنَّاسُ يَتَنَازَعُونَ فِي الْمُلْكِ بِالْمَدِينَةِ فَضَرَبَ سَعْدٌ صَدْرَ عُمَرَ وَقَالَ اسْكُتْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عامر بن سعد سے مروی ہے کہ ان کا بھائی عمر اپنے باپ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مدینہ منورہ سے باہر اپنی بکریوں میں تھے، جب انھوں نے اس کو دیکھا تو کہا: میں اس سوار سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں، جب وہ آیا تو کہا: ابو جان! کیا آپ اپنے بکریوں میں بدّو بن جانے پر راضی ہو گئے، لوگ تو مدینہ منورہ میں بادشاہت کے مسئلے پر لڑ رہے ہیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عمر کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: خاموش ہو جا، بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرتا ہے، جو متقی، غنی اور گمنام ہو۔
وضاحت:
فوائد: … غنی سے مراد نفس کا غنی ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ مالدار ہو، جس کے مال نے اس کو اللہ تعالیٰ سے غافل نہ کیا ہو۔
حدیث نمبر: 9341
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ جَاءَهُ ابْنُهُ عَامِرٌ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ أَفِي الْفِتْنَةِ تَأْمُرُنِي أَنْ أَكُونَ رَأْسًا لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُعْطَى سَيْفًا إِنْ ضَرَبْتُ بِهِ مُؤْمِنًا انْبَاعَ عَنْهُ وَإِنْ ضَرَبْتُ بِهِ كَافِرًا قَتَلَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ التَّقِيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا بیٹا ان کے پاس آیا اور انھوں نے اس سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! کیا تو مجھے حکم دیتا ہے کہ میں فتنے کا سردار بن جاؤں، نہیں، اللہ کی قسم! نہیں،یہاں تک کہ مجھے ایسی تلوار دی جائے کہ اگر میں اس کو مومن پر چلاؤں تو وہ اس سے ہٹ جائے اور اگر کافر پر چلاؤں تو اس کو قتل کر دے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ غنی، گمنام اور متقی بندے کو پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 9342
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غِنٰی کا تعلق زیادہ مال و دولت اور سازو سامان سے نہیں ہے، غنی تو نفس کا غنی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 9343
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) مِثْلُهُ وَزَادَ وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ (وَفِي لَفْظٍ) وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْخَطَأَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو کثرتِ مال کا ڈر ہے۔ ایک روایت میں ہے: مجھے تمہارے بارے میں بلا ارادہ غلطی کرنے کا ڈر نہیں ہے، جان بوجھ کر گناہ کرنے کا ڈر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ فقر کی مضرّت، غِنٰی کی مضرّت سے زیادہ ہے، کیونکہ فقیری سے صرف دنیا کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ غِنٰی کا ضرر دین کو نقصان پہنچاتا ہے، اس گزارش کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ اکثر و بیشتر مالدار لوگوں کا مال ان کو اللہ تعالیٰ اور موت سے غافل کر دیتا ہے، وہ دنیا کی رنگینیوں میں پڑ جاتے ہیں اور فقراء و مساکین پر شفقت کرنے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ جبکہ فقیری بھی اس آدمی کے لیے مفید ہے جو صبر کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر شریعت کے احکام کا لحاظ رکھنے والا ہو۔
اگر دنیوی مال و دولت کے ساتھ دینی تعلیمات کی روشنی میں تقوی و پرہیزگاری کی نعمت مل جائے تو پھر سرمایہ امورِ خیر کا سبب بن جائے گا، درج بالا تمام احادیث ِ مبارکہ کا مفہوم درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے: سیدنا ابو کبشہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنّمَا الدُّنْیَا لِاَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، عَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فھُوَ یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ، یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حَقَّہُ، قَالَ: فَھٰذَا بِاَفْضَلِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالاً۔))
قَالَ: فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ((فَاَجْرُھُمَا سَوَائٌ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَھُوَ یَخْبِطُ فِیْ مالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَا یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، وَلَا یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ، وَلَا یَعْلَمُ فِیْہِ لِلّٰہِ حَقَّہُ، فَھٰذَا اَخْبَثُ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعْبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَا عِلْمًا فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ھِیَ نِیَّتُہُ۔)) … دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہنچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل منزلت والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے۔ (ترمذی: ۲۳۲۵، مسند احمد:۱۸۰۳۲)
اگر دنیوی مال و دولت کے ساتھ دینی تعلیمات کی روشنی میں تقوی و پرہیزگاری کی نعمت مل جائے تو پھر سرمایہ امورِ خیر کا سبب بن جائے گا، درج بالا تمام احادیث ِ مبارکہ کا مفہوم درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے: سیدنا ابو کبشہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنّمَا الدُّنْیَا لِاَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، عَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فھُوَ یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ، یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حَقَّہُ، قَالَ: فَھٰذَا بِاَفْضَلِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالاً۔))
قَالَ: فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ((فَاَجْرُھُمَا سَوَائٌ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَھُوَ یَخْبِطُ فِیْ مالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَا یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، وَلَا یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ، وَلَا یَعْلَمُ فِیْہِ لِلّٰہِ حَقَّہُ، فَھٰذَا اَخْبَثُ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعْبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَا عِلْمًا فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ھِیَ نِیَّتُہُ۔)) … دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہنچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل منزلت والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے۔ (ترمذی: ۲۳۲۵، مسند احمد:۱۸۰۳۲)