کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فقیر لیکن سوال سے بچنے والے میاں بیوی کے قصے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی کی گئی تکریم کا بیان
حدیث نمبر: 9329
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَمَا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ لَهُ فِي السَّلَفِ الْخَالِي لَا يَقْدِرَانِ عَلَى شَيْءٍ فَجَاءَ الرَّجُلُ مِنْ سَفَرِهِ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ جَائِعًا قَدْ أَصَابَتْهُ مَسْغَبَةٌ شَدِيدَةٌ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ أَعِنْدَكِ شَيْءٌ قَالَتْ نَعَمْ أَبْشِرْ أَتَاكَ رِزْقُ اللَّهِ فَاسْتَحَثَّهَا فَقَالَ وَيْحَكِ ابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ قَالَتْ نَعَمْ هُنَيَّةً نَرْجُو رَحْمَةَ اللَّهِ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيْهِ الطَّوَى قَالَ وَيْحَكِ قُومِي فَابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ خُبْزٌ فَأْتِينِي بِهِ فَإِنِّي قَدْ بَلَغْتُ وَجَهَدْتُ فَقَالَتْ نَعَمْ الْآنَ يَنْضَجُ التَّنُّورُ فَلَا تَعْجَلْ فَلَمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا سَاعَةً وَتَحَيَّنَتْ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ لَهَا قَالَتْ هِيَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا لَوْ قُمْتُ فَنَظَرْتُ إِلَى تَنُّورِي فَقَامَتْ فَوَجَدَتْ تَنُّورَهَا مَلَآى جُنُوبَ الْغَنَمِ وَرَحَيَيْهَا تَطْحَنَانِ فَقَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَنَفَضَتْهَا وَأَخْرَجَتْ مَا فِي تَنُّورِهَا مِنْ جُنُوبِ الْغَنَمِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ عَنْ قَوْلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَوْ أَخَذَتْ مَا فِي رَحَيَيْهَا وَلَمْ تَنْفُضْهَا لَطَحَنَتْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گزرے ہوئے زمانے کی بات ہے کہ ایک آدمی اور اس کی بیوی کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے تھے، (یعنی ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی)، ایک دن وہ آدمی سفر سے واپس آیا اور اپنی بیوی پر داخل ہوا، جبکہ وہ سخت بھوک میں مبتلا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا: کیا تیرے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، خوش ہو جاؤ، بس ابھی تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا رزق آیا، پھر اس شخص نے اس خاتون کو ترغیب دلائی اور کہا: تو ہلاک ہو جائے، اگر تیرے پاس کوئی چیز ہے تو وہ پیش کر؟ اس نے کہا: جی بالکل، لیکن تھوڑی دیر، ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کرتے ہیں، لیکن پھر جب بھوک کا وقفہ زیادہ ہوا تو اس نے کہا: او تو مر جائے، کھڑی ہو ، کوئی روٹی تلاش کر کے میرے سامنے پیش کر، میں تھک چکا ہوں اور مجھ پر مشکل بن رہی ہے، اس نے کہا: جی ابھی تنور کھانے پکانے کے قابل ہوتا ہے، جلدی نہ کرو، پھر جب خاوند تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہا اور اس عورت نے سمجھا کہ وہ پھر بات کرے گا تو اب کی بار وہ خود سے ہی کہنے لگی کہ اگر میں کھڑی ہو کر اپنے تنور کو دیکھ ہی لوں (کیا پتہ کہ واقعی اس میں کوئی چیز پک رہی ہو)، پس وہ اٹھی اور اپنے تنور کو اس حال میں پایا کہ وہ بکری کی دستیوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کی دونوں چکیاں غلہ پیس رہی تھیں، پس وہ چکی کی طرف گئی اور اس کا جائزہ لیا اور تنور سے بکری کی دستیاں نکالیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر وہ دونوں چکیوں سے آٹا نکال لیتی اور ان کا جائزہ نہ لیتی تو وہ قیامت کے دن تک غلہ پیستی رہتیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9329
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9445»
حدیث نمبر: 9330
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إِلَى الْبَرِيَّةِ فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَوَضَعَتْهَا وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ ثُمَّ قَالَتْ اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلَأَتْ قَالَ وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا قَالَ فَرَجَعَ الزَّوْجُ قَالَ أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا قَالَتِ امْرَأَتُهُ نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا قَامَ إِلَى الرَّحَى فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ)) قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ ((وَاللَّهِ لَأَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ صَيْرًا ثُمَّ يَحْمِلُهُ يَبِيعُهُ فَيَسْتَعِفَّ مِنْهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا يَسْأَلَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) راوی کہتا ہے: ایک آدمی اپنے اہل کے پاس آیا، جب اس نے ان کی حاجت کو دیکھا تو وہ دوسری مخلوق کی طرف نکل گیا، جب اس کی بیوی نے یہ صورتحال دیکھی تو وہ چکی کی طرف گئی اور اس کو سیدھا کیا اور تنور کی طرف جا کر اس کو آگ لگائی اور پھر کہا: اے اللہ! ہمیں رزق دے، پس اس نے دیکھا کہ ٹب بھرا ہوا ہے، پھر اس نے تنور کی طرف دیکھا تو وہ بھی بھرا ہوا ہے، اُدھر سے جب خاوند لوٹا تو اس نے کہا: کیا میرے جانے کے بعد کوئی چیز ملی ہے؟ اس کی بیوی نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے (بہت کچھ مل گیا ہے)۔ پھر وہ چکی کی طرف گیا اور … ۔ جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو نہ اٹھاتا تو وہ قیامت کے دن تک چلتی رہتی۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی درختوں کی شاخیں اٹھا کر لائے اور ان کو بیچ کر سوال سے بچ جائے تو یہ عمل اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جائے اور اس سے سوال کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا درج ذیل آخری جملہ دوسرے شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی درختوں کی شاخیں اٹھا کر لائے اور ان کو بیچ کر سوال سے بچ جائے تو یہ عمل اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جائے اور اس سے سوال کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9330
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابي بكر بن عياش، فمن رجال البخاري، وھو له اغاليط نص عليه بعض اھل العلم، منھم الامام احمد، وھذا الحديث قد تفرد به، وقد سلف الحديث الآن بالطريق الأول، أخرجه البزار: 3687، والطبراني في الاوسط : 5584 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10667»