کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فقیر مہاجرین اور کمزور لوگوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9312
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَهُ طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ فَقِيلَ مَنِ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُنَاسٌ صَالِحُونَ فِي أُنَاسٍ سُوءٍ كَثِيرٍ مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ قَالَ وَكُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا آخَرَ حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيَأْتِي أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورُهُمْ كَضَوْءِ الشَّمْسِ قُلْنَا مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْنُ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكُمْ خَيْرٌ كَثِيرٌ فَقَالَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ تُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے: غُرَباء کے لیے خوشخبری ہے۔ کسی نے کہا: غرباء کون لوگ ہیں؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت زیادہ برے لوگوں کے اندر پائے جانے والے نیک لوگ ہوتے ہیں، ان کی بات نہ ماننے والوں کی تعداد بات ماننے والوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ایک اور دن کی بات ہے، سورج طلوع ہو رہا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میرے امت میں سے ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہوں گے؟ ایک روایت میں ہے: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان سے مراد ہم لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اور تم لوگوں میں بھی بڑی خیر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ فقراء مہاجرین ہیں، جن کے ذریعے ناپسندیدہ چیزوں سے بچا جاتا ہے اور ان میں جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اس کی ضرورت اس کے سینے میں ہوتی ہے، ان لوگوں کو زمین کے مختلف خطوں سے جمع کیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … فقراء مہاجرین کے جہاد کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو امن ملتا ہے، سینے میں ضرورت ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے دل کی خواہش پوری نہ کر سکے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے مہمان بن گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9312
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6650»
حدیث نمبر: 9313
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْنَاكُمْ مِمَّا عِنْدَنَا وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ قَالُوا فَإِنَّا نَصْبِرُ فَلَا نَسْأَلُ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک فقراء مہاجرین بروز قیامت مالدار لوگوں سے چالیس سال پہلے سبقت لے جائیں گے۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم لوگ چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنے مال میں سے دے دیتے ہیں اور اگر چاہتے ہو تو ہم تمہارا معاملہ سلطان کے سامنے ذکر کر دیتے ہیں، انھوں نے کہا: ہم صبر کریں گے اور کسی سے کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی تفصیلی روایتیوں ہے: ابوعبدالرحمن کہتے ہیں: وَجَاء َ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَنَا عِنْدَہُ فَقَالُوا یَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّا وَاللّٰہِ مَا نَقْدِرُ عَلَی شَیْء ٍ لَا نَفَقَۃٍ وَلَا دَابَّۃٍ وَلَا مَتَاعٍ فَقَالَ لَہُمْ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَیْنَا فَأَعْطَیْنَاکُمْ مَا یَسَّرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ ذَکَرْنَا أَمْرَکُمْ لِلسُّلْطَانِ وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ فُقَرَاء َ الْمُہَاجِرِینَیَسْبِقُونَ الْأَغْنِیَاء َ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَی الْجَنَّۃِ بِأَرْبَعِینَ خَرِیفًا قَالُوا فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَیْئًا۔)) … تین آدمی سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، میں بھی ان کے پاس موجود تھا، انھوں نے کہا:اے ابومحمد! اللہ کی قسم! ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، نہ خرچ ہے، نہ سواری، نہ مال ومتاع۔ سیدنا عبداللہ نے ان تینوں آدمیوں سے کہا: تم کیا چاہتے ہو، اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تم ہماری طرف لوٹ آؤ ہم تمہیں وہ دیں گے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر تم چاہو تو تمہارا ذکر بادشاہ سے کریں اور اگر تم چاہو تو صبر کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم فقراء مہاجرین قیامت کے دن مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ ان صحابہ نے کہا: ہم لوگ صبر کریں گے اور کچھ نہیں مانگے گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9313
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6578»
حدیث نمبر: 9314
حَدَّثَنَا الْهُذَيْلُ بْنُ مَيْمُونٍ الْكُوفِيُّ الْجُعْفِيُّ كَانَ يَجْلِسُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ يَعْنِي مَدِينَةَ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا شَيْخٌ قَدِيمٌ كُوفِيٌّ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَوَجَدْتُ فِيهَا خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيَّ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَ بِلَالٌ قَالَ فَمَضَيْتُ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ وَالنِّسَاءِ فَقِيلَ لِي أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ فَهُمْ هَاهُنَا بِالْبَابِ يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ وَأَمَّا النِّسَاءُ فَأَلْهَاهُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ فَوُضِعْتُ فِيهَا وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ فَرَجَحْتُ بِهَا ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ فَوُضِعُوا فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجِيءَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا فَرَجَحَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعُرِضَتْ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ فَقُلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَقَالَ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمَشِيبَاتِ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا اور اپنے سامنے سے آہٹ سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کون سی آواز ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہیں، پھر میں آگے کو بڑھا اور دیکھا کہ جنت میں زیادہ تر لوگ فقراء مہاجرین اور مسلمانوں کے بچے ہیں اور سب سے کم مالدار لوگ اور عورتیں ہیں، پھر مجھے بتلایا گیا کہ مالدار لوگوں کا جنت کے دروازے پر ابھی محاسبہ کیا جا رہا ہے اور ان کی مزید جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، رہا مسئلہ خواتین کا، تو دو سرخ چیزوں یعنی سونے اور ریشم نے ان کو غافل کر دیا تھا، پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے باہر آئے، جب میں دروازے پر ہی تھا تو میرے پاس ایک پلڑا لایا گیا اور مجھے اس میں اور میرے امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا، پس میں بھاری ثابت ہوا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور باقی امت کو دوسرے میں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ والا پلڑا جھک گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ایک پلڑے میں رکھا اور باقی ساری امت کو دوسری پلڑے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھاری ثابت ہوئے، پھر میری امت کے ایک ایک آدمی کو پیش کیا گیا، پس وہ آگے کو گزرتے گئے، میں نے اس معاملے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو سست اور متأخر پایا، پھر وہ ناامید ہو جانے کے بعدا ٓیا، میں نے کہا: عبد الرحمن! انھوں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، آپ تک پہنچنے سے پہلے مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میں کبھی بھی آپ کو نہیں دیکھ سکوں گا، مگر بڑھاپوں کے بعد، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: میرے مال کی کثرت کی وجہ سے میرا محاسبہ ہوتا رہا اور مزید جانچ پڑتال کی جاتی رہی۔
وضاحت:
فوائد: … مہاجرین کی فضیلت دوسری احادیث سے ثابت ہے، مذکورہ بالا روایت سے ملتی جلتی ایک حدیث ِ مبارکہ درج ذیل ہے: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَتَعْلَمُ اَوَّلَ زُمْرَۃٍتَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِيْ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ۔فَقَالَ: ((الْمُھَاجِرُوْنَ،یَاْتُوْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِاِلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ وَیَسْتَفْتِحُوْنَ فَیَقُوْلُ لَھُمُ الْخَزَنَۃُ: اَوَقَدْ حُوْسِبْتُمْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: بِاَيِّشَیْئٍ نُحَاسَبُ؟ وَاِنَّمَاکَانَتْ اَسْیَافُنَا عَلٰی عَوَاتِقِنَا فِيْسَبِیْلِ اللّٰہِ حَتّٰی مِتْنَا عَلٰی ذٰلِکَ۔ قَالَ:فَیُفْتَحُ لَھُمْ،فَیَقِیْلُوْنَ فِیْہِ اَرْبَعِیْنَ عَامًا قَبْلَ اَنْ یَّدْخُلَھَا النَّاسُ۔)) … کیا آپ کو میری امت کی اس جماعت کے بارے میں علم ہے جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گی؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ جماعت مہاجرین کی ہے۔ وہ روزِ قیامت جنت کے دروازے پر آ کر دروازے کھولنے کا مطالبہ کریں گے۔ دربان ان سے پوچھے گا: آیا تمھارا حساب و کتاب ہو چکاہے؟ وہ کہیں گے: کس موضوع پر ہم سے حساب کتاب لیا جائے؟ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مرتے دم تک ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر رہیں۔ سو وہ ان کے لیے دروازہ کھول دے گا اور وہ (داخل ہو کر) عام لوگوں کے داخلے سے پہلے چالیس سال کا قیلولہ بھی کر چکے ہوں گے۔ (حاکم:۲/۷۰، شعب الایمان: ۴/۲۸/۴۲۶۰،صحیحہ: ۸۵۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9314
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، علي بن يزيد الھاني واھي الحديث، وعبيد الله بن زحر الافريقي و ابو المھلب مطرح ضعيفان، أخرجه الطبراني في الاوس : 6146، وفي الصغير : 937، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22587»
حدیث نمبر: 9315
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ اللَّخْمِيِّ قَالَ بَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ فَحُمِلَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَرِيدِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْحَوْضِ فَقُدِّمَ بِهِ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ ثَوْبَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ حَوْضِي مِنْ عَدَنٍ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَكَاوِيبُهُ عَدَدُ النُّجُومِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمُ الشُّعْثُ رُءُوسًا الدُّنْسُ ثِيَابًا الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَلَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَقَدْ نَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَفُتِحَتْ لِيَ السُّدَدُ إِلَّا أَنْ يَرْحَمَنِي اللَّهُ وَاللَّهِ لَأَجْرَمَنَّ أَنْ لَا أَدْهُنَ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ وَلَا أَغْسِلَ ثَوْبِي الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عباس بن سالم لخمی سے مروی ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے ابو سلام حبشی کو بلا بھیجا، اس کو پیغام رساں کے ذریعے لایا گیا، وہ ان سے حوض کے بارے میں حدیث سننا چاہتے تھے، پس ان کو ان کے پاس لایا گیا، عمر بن عبد العزیز نے ان سے سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: میں نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے حوض (کی وسعت) عدن سے عمان بلقاء تک ہے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالے ستاروں کی تعدادجتنے ہیں،جس نے اس سے پانی پی لیا، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اس پر سب سے پہلے آنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ وہ ہیں جن کے بال پراگندہ ہوتے ہیں، کپڑے میلے ہوتے ہیں، جو آسودہ حال عورتوں سے شادی نہیں کر سکتے اور جن کے لیے بند دروازے نہیں کھولے جاتے۔ یہ سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: میں نے تو آسودہ حال عورتوں سے شادی بھی ہے اور میرے لیے بند دراوازے بھی کھولے گئے ہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم کر دے، اللہ کی قسم! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میں اپنے سر پر اس وقت تک تیل نہیں لگاتا ، جب تک وہ پراگندہ نہیں ہو جاتا اور زیب ِ تن کیے ہوئے کپڑے نہیں دھوتا، جب تک وہ میلے نہیں ہو جاتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9315
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 4303، والترمذي: 2444 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22725»
حدیث نمبر: 9316
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((ابْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ضعفاء کو میرے لیے تلاش کر کے لاؤ،بیشک تم لوگ انہی کمزوروں کی وجہ سے رزق دیے اور مدد کئے جاتے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے اولین مصداق فقیر مہاجرین ہیں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کمزوروں کی وجہ سے لوگوں کی مدد کی جاتی ہے، یہ تائید و نصرت صالحین کی ذات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی دعا اور اخلاص کی وجہ سے ہوتی ہے،جیسا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ گمان ہو نے لگا کہ وہ اپنے سے کم مال والے صحابہ پر فضیلت رکھتے ہیں، تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا یَنْصُرُ اللّٰہُ
ٰذِہِ الْأُمَّۃَ بِضَعِیْفِھَا: بَدَعْوَتِھِم وَ صَلَاتِھِمْ وإِخْلَاصِھِمْ۔)) … اللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کی وجہ سے اس امت کی مدد کرتا ہے۔ (سنن نسائی: ۲/ ۶۵، الفوائد لتمام: ق ۱۰۵/ ۲، الحلیۃ لأبی نعیم: ۵/ ۲۶)
اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، بلکہ مطلوبہ تفسیر کے علاوہ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے، اور اسی طرح اس کو امام احمد (۱/ ۱۶۳) نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیحہ: ۷۷۹) اس حدیث کامعنییہ ہے کہ ضعیف لوگوں کی عبادات و ادعیہ میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں لذت محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ان کے دل دنیا کیمحبت اور چاہت سے خالی ہوتے ہیں، ان کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ ان کی دعائیں قبول اور ان کے اعمال پاک ہو جائیں۔ امیر اور غریب اور قوی اور ضعیف میں بیان کیا گیا مذکورہ بالا فرق امیر اور قوی لوگوں کے لیے قابل تسلیم نہیں ہے، کیونکہ وہ ان تجربات سے نہیں گزرے اور ان کو سرے سے یہ احساس نہ ہو سکا کہ اِن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تعلق ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9316
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2594، والترمذي: 1702 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22074»
حدیث نمبر: 9317
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ سَلْمَانَ وَصُهَيْبًا وَبِلَالًا كَانُوا قُعُودًا فِي أُنَاسٍ فَمَرَّ بِهِمْ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَقَالُوا مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا بَعْدُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهَا قَالَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ فَلَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى)) فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَيْ إِخْوَتَنَا لَعَلَّكُمْ غَضِبْتُمْ فَقَالُوا لَا يَا أَبَا بَكْرٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم کچھ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سید نا ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، اِن لوگوں نے کہا: اللہ کے دشمن کی گردن اتارنے میں اللہ کی تلواروں نے اپنا حق ادا نہیں کیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم یہ بات قریش کے بزرگ اور سردار کے بارے میں کہتے ہو؟ (کچھ خیال کرو)۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ساری بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! شاید تو نے ان کو ناراض کر دیا ہو اور اگر تو نے ان کو ناراض کر دیا تو تیرا ربّ بھی تجھ پر ناراض ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کی طرف لوٹے اور کہا: اے ہمارے بھائیو! شاید تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تجھ کو بخش دے۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جیسی عظیم ہستی کو فقیر صحابہ کے حقوق کے بارے میں متنبہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ جو واقعہ پیش آیا، اس میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ حق بجانب تھے، کیونکہ سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال کے تبصرے کا مطلب یہ تھا کہ ابو سفیان کو مشرف باسلام ہونے سے پہلے قتل ہو جانا چاہیے تھا، جبکہ یہ تبصرہ اتنا مناسب نہیں تھا، کیونکہ اب سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9317
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2504 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20916»