حدیث نمبر: 9300
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَغْبَطَ أَوْلِيَائِي (وَفِي رَوَايَةٍ إِنَّ أَغْبَطَ النَّاسِ) عِنْدِي مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنْ صَلَاةٍ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَكَانَ فِي النَّاسِ غَامِضًا لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فَعَجِلَتْ مَنِيَّتُهُ وَقَلَّ تُرَاثُهُ وَقَلَّتْ بَوَاكِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں میں سے میرا سب سے زیادہ قابل رشک دوست وہ مؤمن ہے، جو کم مال اور کم افرادی کنبے والا ہو، لیکن نماز کی زیادہ مقدار والا ہو، اچھے انداز میں اپنے ربّ کی عبادت کرنے والا، لوگوں میں گمنام ہو، اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ نہ کیا جاتا ہو اور اس کی موت جلدی آ جائے اور اس کی میراث کم ہو اور اس کے رونے والے بھی کم ہوں۔
حدیث نمبر: 9301
عَنِ الْبَرَاءِ السَّلِيطِيِّ عَنْ نُقَادَةَ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَعَثَ نُقَادَةَ الْأَسَدِيَّ إِلَى رَجُلٍ يَسْتَمْنِحُهُ نَاقَةً لَهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ رَدَّهُ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى رَجُلٍ آخَرَ سِوَاهُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ فَلَمَّا أَبْصَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ بِهَا نُقَادَةُ يَقُودُهَا قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا وَفِيمَنْ أَرْسَلَ بِهَا قَالَ نُقَادَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا قَالَ وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَ فُلَانٍ وَوَلَدَهُ يَعْنِي الْمَانِعَ الْأَوَّلَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ فُلَانٍ يَوْمًا بِيَوْمٍ يَعْنِي صَاحِبَ النَّاقَةِ الَّذِي أَرْسَلَ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نقادہ اسدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا نقادہ کو ایک آدمی کی طرف ایک اونٹنی لینے کے لیے بھیجا، لیکن اس آدمی نے اس کو کچھ دیے بغیر واپس کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دوسرے آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اونٹنی دے دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ نقادہ رضی اللہ عنہ اونٹنی لے کر آ رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس اونٹنی میں اور اس کو بھیجنے والے میں برکت فرما۔ سیدنا نقادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور اس میں بھی برکت ہو، جو اس کو لایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اس میں بھی برکت ہوجو اس کو لایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دوہنے کا حکم دیا، پس اس کو دوہا گیا، اس نے خوب دودھ دیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں اور اس کی اولاد کے مال کو زیادہ کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اونٹنی نہ دینے والا پہلا آدمی تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں کی روزی کو یومیہ بنا دے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اونٹنی بھیجنے والا شخص تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یومیہ سے مراد یہ ہے کہ ہر دن کا رزق اسی دن کو ملتا رہے اور اس طرح بقدر کفاف گزر بسر ہوتی رہے۔
حدیث نمبر: 9302
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ بَيْتِي قُوتًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میرے گھر والوں کی روزی گزارے کے بقدر بنا دے۔
وضاحت:
فوائد: … قُوْت سے مراد بدن کی بقاء کے لیے ضروری اشیائے خوردنی، بقدرسد رمق روزی اور قوت لایموت۔
حدیث نمبر: 9303
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِلَفْظٍ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس کے الفاظ یہ ہیں: اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی آل کی روزی گزارے کے بقدر بنا دے۔
حدیث نمبر: 9304
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَنِيٌّ وَلَا فَقِيرٌ إِلَّا وَدَّ أَنَّمَا كَانَ أُوتِيَ مِنَ الدُّنْيَا قُوتًا قَالَ يَعْنِي فِي الدُّنْيَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بروز قیامت ہر کوئی، وہ غنی ہو یا فقیر،یہ چاہے گا کہ کاش اس کو دنیا میں بقدر سد رمق روزی دی گئی ہوتی۔
حدیث نمبر: 9305
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ خَرَّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ لِمَا بِهِمْ مِنَ الْخَصَاصَةِ وَهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ حَتَّى يَقُولَ الْأَعْرَابُ إِنَّ هَؤُلَاءِ مَجَانِينُ فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَأَحْبَبْتُمْ أَنَّكُمْ تَزْدَادُونَ حَاجَةً وَفَاقَةً قَالَ فَضَالَةُ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو بھوک کی وجہ سے لوگ نماز کے قیام کے دوران گر جاتے تھے، ایسے لوگوں کا تعلق اصحاب ِ صفہ سے ہوتا تھا، بدّو لوگ کہتے تھے: یہ تو پاگل ہو گئے ہیں، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کو پورا کرتے تو ان کی طرف پھر کر فرماتے: اگر تم کو پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجرو ثواب ہے تو تم یہ پسند کرو گے کہ کاش حاجت اور فاقے میں اور اضافہ ہو جائے۔ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! اگر کوئی آدمی فقر و فاقہ کے ایام صبر کے ساتھ گزار دے گا تو موت کے بعد والی گھاٹیاں آسانی سے طے کر لے گا۔
حدیث نمبر: 9306
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ الْمَوْتُ وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محمو د بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، ابن آدم تو ان کو ناپسند کرتا ہے (لیکن حقیقت میں وہ دونوں اس کے لیے بہتر ہیں)، ایک موت ہے، اور موت مؤمن کے لیے فتنے سے بہتر ہے اور دوسری قلت مال ہے، حالانکہ قلت ِ مال کی وجہ سے حساب قلیل ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 9307
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ أَيْ رَبِّ عَبْدُكَ الْمُؤْمِنُ تُقَتِّرُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَالَ فَيُفْتَحُ لَهُ بَابُ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا قَالَ يَا مُوسَى هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ فَقَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَوْ كَانَ أَقْطَعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ يُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ مُنْذُ يَوْمَ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ لَمْ يَرَ بُؤْسًا قَطُّ قَالَ ثُمَّ قَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ عَبْدُكَ الْكَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَالَ فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ فَيُقَالُ يَا مُوسَى هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ فَقَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَوْ كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا مُنْذُ يَوْمَ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ كَانَ لَمْ يَرَ خَيْرًا قَطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جناب موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تو اپنے مؤمن بندے کو دنیا میں غربت زدہ اور تنگ حال بنا دیتا ہے؟ اتنے میں جناب موسی علیہ السلام کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا گیا اور وہ اس کی طرف دیکھنے لگے، پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے موسی! یہ جنت میں نے اسی مؤمن کے لیے تیار کی ہے۔ پھر جناب موسی نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت کی قسم! تیرے جلال کی قسم! اگر اس مؤمن کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں اور پھر اس کو اس کے یوم ولادت سے لے کر روزِ قیامت تک چہرے کے بل گھسیٹا جاتا رہے اور لیکن اگر اس کا انجام یہ جنت ہوا تو وہ تو یوں سمجھے گا کہ اس نے کبھی کوئی تنگی دیکھی ہی نہیں۔ پھر موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تو نے اپنے کافر بندے کے لیے دنیا میں بڑی وسعت پیدا کی ہے؟ اتنے میں موسی علیہ السلام کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا گیا اور ان سے کہا گیا: اے موسی! یہ جہنم میں نے اسی کافر کے لیے تیار کی ہے۔ موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت اور جلال کی قسم! اگر اس کو اس کے یوم تخلیق سے روزِ قیامت تک پوری دنیا دے دی جائے، لیکن اس کا انجام یہ ہو تو وہ تو یوں سمجھے گا کہ اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن انجام کے اعتبار سے تو مؤمن اور کافر کییہی سوچ ہو گی، جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتاہے: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَہْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً، ثُمَّ یُقَالُ: یَا ابْنَ آدَمَ! ہَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ؟ ہَلْ مَرَّ بِکَ نَعِیمٌ قَطُّ؟ فَیَقُولُ: لَا وَاللّٰہِ! یَا رَبِّ! وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِی الدُّنْیَا مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِی الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہُ: یَا ابْنَ آدَمَ! ہَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ ہَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ؟ فَیَقُولُ: لَا وَاللّٰہِ! یَا رَبِّ! مَا مَرَّ بِی بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطّ۔)) … قیامت کے دن جہنم والوں میں سے اس آدمی کو لایا جائے گا، جو اہل دنیا میں بہت نعمتوں والا تھا، پھر اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی بھلائی بھی دیکھی ہے؟ کیا تجھے کبھی کوئی نعمت بھی ملی ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! اللہ کی قسم! نہیں۔ پھر اہل جنت میں سے اس آدمی کو پیش کیا جائے گا، جسے دنیا میں لوگوں سے سب سے زیادہ تکلیفں آئی ہوں گی، پھر اسے جنت میں ایک دفعہ غوطہ دے کر پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف بھی دیکھی؟ کیا تجھ پر کبھی کوئی سختی بھی گزری؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! اللہ کی قسم! نہیں، کبھی مجھ پر کوئی تکلیف نہیں پڑی اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی شدت و سختی دیکھی۔ (صحیح مسلم: ۵۰۲۱)
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت میں سکون عطا فرمائے۔ (آمین)
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت میں سکون عطا فرمائے۔ (آمین)
حدیث نمبر: 9308
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَاللَّهِ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نَبِيُّكُمْ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَشْبَعُ مِنَ الدَّقَلِ وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سماک بن حرب کہتے ہیں: سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر ہمیں بیان کیا اور کہا: اللہ کی قسم! تمہارا نبی تو ردّی کھجوروں سے سیر ہو جاتا تھا، لیکن تم قسما قسم کی کھجوروں اور مکھن کے بغیر راضی ہی نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 9309
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ أَحْمَدُ اللَّهَ تَعَالَى فَرُبَّمَا أَتَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ يَظِلُّ يَتَلَوَّى مَا يَشْبَعُ مِنَ الدَّقَلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسے مہینے بھی آتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بل پڑ جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ردّی کھجوروں سے بھی سیر نہیں ہو پاتے تھے۔
حدیث نمبر: 9310
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا كَانَ يَفْضُلُ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جو کی روٹی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں کی ضرورت سے زائد نہیں ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 9311
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ حَدَّثَنِي أَحَدُ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَبْتَلِي عَبْدَهُ بِمَا أَعْطَاهُ فَمَنْ رَضِيَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ وَوَسَّعَهُ وَمَنْ لَمْ يَرْضَ لَمْ يُبَارِكْ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو العلاء کہتے ہیں: بنو سُلَیم کے ایک آدمی نے مجھے بیان کیا، میرایہی خیال ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا، بہرحال اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس چیز کے ساتھ آزماتا ہے، جو اس کو عطا کرتا ہے، پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے رزق میں برکت کرتا ہے اور مزید وسعت عطا کرتا ہے اور جو اس تقسیم پر راضی نہیں ہوتا، اس کے رزق میں برکت نہیں کی جاتی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر فقر وفاقہ کی وجہ سے نیکی اور راست روی کے امور متأثر نہ ہوں تو پھر ایسی فقیری آخرت کے حساب و کتاب کے لیے مفید ہو گی۔