کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
حدیث نمبر: 9278
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق وہ کامیاب ہو گیا، جس نے اسلام قبول کیا اور پھر اس کو بقدر ضرورت رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جو کچھ دیا، اس کو اس پر قناعت کرنے والا بنا دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9278
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1054، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6572 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6572»
حدیث نمبر: 9279
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا متن یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((طُوْبٰی لِمَنْ ھُدِیَ اِلَی الْاِسْلاَمِ، وَکَانَ عَیْشُہُ کَفَافًا وَقَنِعَ۔)) … اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس کو اسلام کی طرف ہدایت دی گئی اور اس کی گزران برابر برابر تھی، لیکن اس نے اس پر قناعت کی۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۶۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9279
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2349 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24442»
حدیث نمبر: 9280
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ سِوَى ظِلِّ بَيْتٍ وَجِلْفِ الْخُبْزِ وَثَوْبٍ يُوَارِي عَوْرَتَهُ وَالْمَاءِ فَمَا فَضَلَ عَنْ هَذَا فَلَيْسَ لِابْنِ آدَمَ فِيهِ حَقٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گھر، موٹی اور خشک روٹی اور شرمگاہ کو چھپانے والا کپڑا، جو چیز ان کے علاوہ ہے، وہ زائد ہے اور ابن آدم کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9280
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ولا يصح عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، حريث بن السائب مختلف فيه، أخرجه الترمذي: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 440»
حدیث نمبر: 9281
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَكْسَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَسَانِي خَيْشَتَيْنِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَلْبِسُهُمَا وَأَنَا مِنْ أَكْسَى أَصْحَابِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لباس طلب کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو موٹے سے کپڑے پہنا دیے، لیکن جب میں نے ان کو زیب ِ تین کیا تو دیکھا کہ اپنے ساتھیوں میں زیادہ لباس والا میں ہی تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی دوسرے صحابۂ کرام کے تن پر اتنا لباس بھی نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9281
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4032 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17806»
حدیث نمبر: 9282
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ يَا بُنَيَّ مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ فَيَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتِ وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ قَالَ لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ بدری صحابی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے میرے پیارے بیٹے عبد اللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لشکر میں بھیجتے تھے، ہمارا زادِ راہ صرف چمڑے کے تھیلوں میں ہوتا تھا، وہ اس طرح تقسیم کیا جاتا کہ ہر ایک کو ایک ایک لپ آتی تھی، پھر ایک ایک کھجور تک نوبت جا پہنچی۔ بیٹے نے کہا: اے ابا جان! وہ ایک کھجور تم سے کیا کفایت کرتی ہو گی؟ انھوں نے کہا: بچو! یہ بات نہ کرو، جب وہ بھی نہیں ملتی تھی تو ہمیں اس کی بھی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9282
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، المسعودي اختلط،ويزيد قد سمع منه بعد الاختلاط، أخرجه البزار: 3679، وابويعلي: 7199 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15780»
حدیث نمبر: 9283
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقَمْتُ بِالْمَدِينَةِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَنَةً فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا لَنَا ثِيَابٌ إِلَّا الْبُرَدُ الْمُتَفَتِّقَةُ وَإِنَّا لَيَأْتِي عَلَى أَحَدِنَا الْأَيَّامُ مَا يَجِدُ طَعَامًا يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَأْخُذُ الْحَجَرَ فَيَشُدُّهُ عَلَى أَخْمَصِ بَطْنِهِ ثُمَّ يَشُدُّهُ بِثَوْبِهِ لِيُقِيمَ بِهِ صُلْبَهُ فَقَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَنَا تَمْرًا فَأَصَابَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَبْعَ تَمَرَاتٍ فِيهِنَّ حَشَفَةٌ فَمَا سَرَّنِي أَنَّ لِي مَكَانَهَا تَمَرَةً جَيِّدَةً قَالَ قُلْتُ لِمَ قَالَ تَشُدُّ لِي مِنْ مَضْغِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سال تک سکونت اختیار کی، ایک دن انھوں نے مجھے کہا، جبکہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تھے: میں نے دیکھا کہ ہمارے پاس پھٹ جانے والی پرانی چادریں ہوتی تھیں اور ایسے دن بھی آ جاتے تھے کہ ہم کھانے کی کوئی ایسی چیز نہیں پاتے تھے، جس کے ذریعے اپنے کمر کو کھڑا کر لیتے،یہاں تک کہ اس چیز کی نوبت آ جاتی کہ لوگ اپنی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے پتھر اٹھا کر اپنے بھوکے پیٹ پر رکھ کر اس کو کپڑے سے کس دیتے تھے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے مابین کھجوریں تقسیم کیں، ہر انسان کو سات سات کھجوریں ملیں، ان میں خشک اور ردّی کھجوریں بھی تھیں، اور مجھے یہ بات خوش نہیں لگتی تھی کہ اس ردّی کھجور کی بجائے مجھے عمدہ کھجور ملتی، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: اس کو سختی سے چبانا پڑتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9283
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 4/ 106 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8284»
حدیث نمبر: 9284
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَأَرْبُطُ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ وَإِنَّ صَدَقَتِي الْيَوْمَ لَأَرْبَعُونَ أَلْفًا (وَفِي رَوَايَةٍ وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس حالت میں دیکھا تھا کہ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، لیکن آج میرے مال کی زکوۃ کی مقدار چالیس ہزار ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9284
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن كعب لم يسمع من علي، وشريك النخعي سييء الحفظ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1367»
حدیث نمبر: 9285
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّمَا كَانَ طَعَامُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ وَاللَّهِ مَا كُنَّا نَرَى سَمْرَاءَ كُمْ هَذِهِ وَلَا نَدْرِي مَا هِيَ وَإِنَّمَا كَانَ لِبَاسُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ النِّمَارَ يَعْنِي بُرُودَ الْأَعْرَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمارا کھانا دو سیاہ چیزیں کھجور اور پانی ہوتی تھیں، اللہ کی قسم! ہم نے نہ تو تمہاری اس گندم کو دیکھا تھا اور نہ جانتے تھے کہ یہ کیا ہوتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمارا لباس بدوؤں والی چھوٹی چھوٹی چادریں ہوا کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9285
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن حبان: 5805، والبزار: 3677 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8638»
حدیث نمبر: 9286
عَنْ أَبِي حِسْبَةَ مُسْلِمِ بْنِ أُكَيْسٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَقَالَ نَبْكِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمًا مَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَيُفِيءُ عَلَيْهِمْ حَتَّى ذَكَرَ الشَّامَ فَقَالَ إِنْ يُنْسَأْ فِي أَجَلِكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَحَسْبُكَ مِنَ الْخَدَمِ ثَلَاثَةٌ خَادِمٌ يَخْدُمُكَ وَخَادِمٌ يُسَافِرُ مَعَكَ وَخَادِمٌ يَخْدُمُ أَهْلَكَ وَيَرِدُ عَلَيْهِمْ وَحَسْبُكَ مِنَ الدَّوَابِّ ثَلَاثَةٌ دَابَّةٌ لِرَحْلِكَ وَدَابَّةٌ لِثَقَلِكَ وَدَابَّةٌ لِغُلَامِكَ ثُمَّ هَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى بَيْتِي قَدِ امْتَلَأَ رَقِيقًا وَأَنْظُرُ إِلَى مَرْبَطِي قَدِ امْتَلَأَ دَوَابَّ وَخَيْلًا فَكَيْفَ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا وَقَدْ أَوْصَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي مَنْ لَقِيَنِي عَلَى مِثْلِ الْحَالِ الَّذِي فَارَقَنِي عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ایک آدمی ان کے پاس گیا اور ان کو روتا ہوا پایا، اس نے کہا: اے ابو عبیدہ! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ان چیزوں کا ذکر کیا، جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتوحات اور غنیمتوں کی صورت میں عطا کرے گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کا ذکر بھی کیا اور مزید فرمایا: ابو عبیدہ! اگر تیری زندگی لمبی ہو جائے تو تین خادم تجھے کفایت کرنے چاہئیں، ایک خادم تیری خدمت کے لیے، ایک تیرے ساتھ سفر کرے کے لیے اور ایک خادم تیرے اہل خانہ کی خدمت کرنے کے لیے، جو ان کے پاس آتا جاتا رہے، اور تجھے تین سواریاں کافی ہو جانی چاہئیں، ایک تیری سواری کے لیے، ایک تیرے سامان کے لیے اور ایک سواری تیرے غلام کے لیے۔ اب توجہ کر، میں اپنے گھر کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ غلاموں سے بھرا ہوا ہے اور اصطبل جانوروں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا، ان چیزوں کے ہوتے ہوئے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس منہ سے ملوں گا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہے، جو مجھے اسی حالت میں ملے، جس پر میں اس کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9286
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، مسلم بن اكيس مجھول، وروايته عن ابي عبيدة مرسلة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1696»
حدیث نمبر: 9287
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ يَعُودُهُ قَالَ فَبَكَى قَالَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ يَا خَالُ أَوَجَعًا يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصًا عَلَى الدُّنْيَا قَالَ فَقَالَ فَكُلًّا لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا هَاشِمٍ إِنَّهَا عَلَّكَ تُدْرِكَ أَمْوَالًا يُؤْتَاهَا أَقْوَامٌ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ فِي جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنِّي أُرَانِي قَدْ جَمَعْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ماموں سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی تیماری داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ماموں جان! کیوں رو رہے ہو، کوئی تکلیف پریشان کر رہی ہے یا دنیوی حرص رونے کا سبب بن رہی ہے؟ انھوں نے کہا: ان میں سے کوئی وجہ بھی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: اے ابو ہاشم! ممکن ہے کہ تم ایسے اموال پا لو، جو لوگوں کے مابین تقسیم ہونا ہوں گے، بس صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔ لیکن اب میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں نے مال جمع کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا آخری جملہ وَاِنَّمَا یَکْفِیْکَ فِی جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْکَبٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَاِنِّی اُرَانِی قَدْ جَمَعْتُ۔ (صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔) شواہد کی بنا پر حسن ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9287
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، شقيق بن سلمة لم يسمع ھذا الحديث من ابي ھاشم، بينھما سمرة، وھو مجھول، أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 219 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15749»
حدیث نمبر: 9288
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي وَائِلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ يَبْكِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ بیمار تھے اور رو رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9288
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15750»
حدیث نمبر: 9289
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فَقَالَ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا لَقِيَ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَقِيتُ لَوْ لَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْلِكُ دِرْهَمًا وَإِنَّ فِي جَانِبِ بَيْتِي الْآنَ الْأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِكَفَنِهِ فَلَمَّا رَآهُ بَكَى وَقَالَ لَكِنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ إِذَا جُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ وَإِذَا جُعِلَتْ عَلَى قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهِ حَتَّى مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ وَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ الْإِذْخِرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حارثہ بن مضرب کہتے ہیں: میں سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ ان کو جسم کے سات مقامات پر داغا گیا تھا، انھوں نے کہا: میرے علم کے مطابق جو تکلیف مجھے ہے، وہ کسی اور کو نہیں ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے میں موت کی تمنا کرتا۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، تو میرے پاس ایک درہم بھی نہیں تھا اور اب تو میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہوئے ہیں، پھر ان کا کفن لایا گیا اور انھوں نے اس کو دیکھ کر رونا شروع کر دیا اور کہا: لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے لیے کفن نہیں تھا، ما سوائے سفید و سیاہ رنگ کی ایک چادر کے، جب وہ ان کے سر پر رکھی جاتی تو پاؤں سے سکڑ جاتی اور جب پاؤں پر رکھی جاتی تو سر سے ہٹ جاتی، پھر اس کو ان کے سر پر ڈالا گیا اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9289
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني: 3674 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21387»
حدیث نمبر: 9290
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خَبَّابٍ أَيْضًا قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ لَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً إِذَا غَطَّوْا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَطُّوا رَأْسَهُ وَجَعَلْنَا عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا قَالَ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ ثِمَارُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، ہم میں بعض ایسے افراد تھے کہ وہ دنیا میں اپنے اجر کی کوئی چیز کھائے بغیر فوت ہو گئے، ان میں سے ایک سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے کہ جنھوں نے صرف اپنے ترکہ میں ایک دھاری دارچادر چھوڑی تھی، جب لوگ اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو ان کی ٹانگیں ننگی ہو جاتیں اور جب ٹانگوں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس کے سر کو ڈھانپ دو۔ اور ہم نے ان پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دی تھی، لیکن بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کا پھل پکا اور وہ اسے چن رہے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … پھل پکنے سے مراد فتوحات اور دنیوی مال و دولت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9290
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3853 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21392»
حدیث نمبر: 9291
عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصُرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا مَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّهُ أَفَعَجِبْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ عَامًا وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ كَظِيظُ الزِّحَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقَ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا وَإِنِّي الْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدٍ فَاتَّزَرَ بِنِصْفِهَا فَمَا أَصْبَحَ مِنَّا أَحَدٌ الْيَوْمَ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرَ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتَّى يَكُونَ عَاقِبَتُهَا مُلْكًا وَسَتَبْلُونَ أَوْ سَتَخْبُرُونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ خالد بن عمیر کہتے ہیں: سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر کہا: اَمَّا بَعْدُ! پس دنیا نے اپنے ختم ہونے کی خبر دے دی ہے اور یہ جلدی پھرنے والی ہے، اب یہ اتنی ہی باقی رہ گئی، جتنا کہ برتن میں تھوڑا سا پانی باقی رہ جاتا ہے، جس کو اس کا مالک پی لیتا ہے، اور تم لوگ ختم نہ ہونے والے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو، پس اپنے پاس موجود بھلائی کے ساتھ منتقل ہو جاؤ، ہمیں یہ بات بتلائی گئی کہ ایک پتھر کو جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکا جاتا ہے اور وہ ستر سال گرتے رہنے کے باوجود اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتا، اللہ کی قسم! اتنی وسیع جہنم کو بھر دیا جائے گا، کیا تم لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے؟ اللہ کی قسم! ہمیں بتلایا گیا کہ جنت کے ایک دروازے کے دو پٹوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، لیکن اس پر بھی ایک ایسا دن آئے گا کہ یہ ہجوم سے بھرا ہوا ہو گا، میں نے خود دیکھا کہ ہم سات افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا کھانا صرف درخت کے پتے تھے،جس کہ وجہ سے گوشۂ دہن پر زخم ظاہر ہونے لگتے تھے اور میں نے ایک چادر اٹھائی اور اس کو اپنے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے مابین دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا، نصف سے انھوں نے ازار باندھ لیا، لیکن اب ہم میں سے ہر کوئی ایک ایک شہر کا امیر بن بیٹھا ہے، میں اس چیز سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اپنے نفس میں تو عظیم سمجھوں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں کم قدرہوں، نبوت جب بھی ختم ہوتی تھی تو اس کا انجام بادشاہت کی صورت میں نکلتا تھا، اور ہمارے بعد عنقریب تم بھی بادشاہوں کا تجربہ کرو گے۔
وضاحت:
فوائد: … نبوت جب بھی ختم ہوتی تھی تو اس کا انجام بادشاہت کی صورت میں نکلتا تھا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب نبی فوت ہو جاتا تو اس کے امتیوں میں بادشاہت شروع ہو جاتی، امت ِ مسلمہ کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9291
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2967 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17718»
حدیث نمبر: 9292
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُ (وَفِي لَفْظٍ خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ) لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّى قَرَحَتْ أَشْدَاقُنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم سات افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارا کھانا صرف اور صرف لوبیے جیسی ترکاری کے پتے تھے، اس سے ہمارے گوشۂ دہن زخمی ہونے لگتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … جن صحابہ نے اسلام کے ابتدائی کٹھن حالات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کو ترجیح دی، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فقرو فاقہ کو پسند کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9292
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17717»
حدیث نمبر: 9293
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ كُنْتُ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فَذَكَرُوا مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ لَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعَ أَهْلُهُ مِنَ الْخُبْزِ الْغَلِيظِ قَالَ مُوسَى يَعْنِي الشَّعِيرَ وَالسَّلْتَ إِذَا خُلِطَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ موسیٰ کے باپ علی بن رباح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اسکندریہ میں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، لوگوں نے اپنی خوشحالی کا ذکر کیا، اس موقع پر ایک صحابی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں فوت ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل و عیال نے جَو اور سَلْت کی مکس روٹی نہیں کھائی۔
وضاحت:
فوائد: … سَلْت: یہ جَو کی ہی ایک قسم ہے، گندم کے مشابہ ہوتی ہے اور اس پر چھلکا نہیں ہوتا۔ الْخُبْز الغَلِیْث: وہ روٹی جس میں دو قسم کے آٹے ڈالے جائیں، جیسے گندم اور جو، راوی نے جو تفسیر بیان کی ہے، اس میں جَو کی دو قسموں کا بیان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9293
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17924»
حدیث نمبر: 9294
عَنْ أَبِي حَرْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ طَلْحَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ لِي بِهَا مَعْرِفَةٌ فَنَزَلْتُ فِي الصُّفَّةِ مَعَ رَجُلٍ فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ تَمْرٍ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَوْ وَجَدْتُ خُبْزًا أَوْ لَحْمًا لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ أَمَا إِنَّكُمْ تُوشِكُونَ أَنْ تُدْرِكُوا وَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ أَنْ يُرَاحَ عَلَيْكُمْ بِالْجِفَانِ وَتَلْبَسُوا مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ قَالَ فَمَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا وَلَيْلَةً مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرَ حَتَّى جِئْنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَوَاسَوْنَا وَكَانَ خَيْرَ مَا أَصَبْنَا هَذَا التَّمْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے ہیں، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا، جبکہ میری کسی سے معرفت نہیں تھی، میں صفہ میں ایک آدمی کے ساتھ ٹھہرا، مجھے اور اس کو روزانہ ایک مُدّ کھجوروں کا ملتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اصحاب ِ صفہ میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کھجور نے ہمارے پیٹ جلا دیئے ہیں اور گھٹیا روئی کے سخت کپڑے ہمارے جسم کو کھا گئے ہیں،یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میرے پاس روٹی یا گوشت ہوتا تو میں تم کو ضرور کھلاتا، خبردار! قریب ہے کہ تم ان نعمتوں کو پا لو، تم میں سے جس نے اس چیز کو پا لیا کہ تم پر بڑی بڑی دیگیں لائی جائیں، (تو پھر تو اس کو کفایت کرے گا) اور تم کعبہ کے پردوں کی طرح کپڑے پہنو گے۔ پھر اٹھارہ دنوں تک میرے اور میرے ساتھی کا کھانا پیلو کے درخت کا کالا پھل رہا، پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس گئے، پس انھوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا، بہرحال ہم کو وہاں سے بھی کھجور ہی ملی، البتہ وہ بہترین قسم کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال و دولت کی کثرت کی جو پیشین گوئی، حرف بہ حرف پوری ہوئی، لیکن اپنے ساتھ بہت سارے مفاسد لائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9294
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 3673، وابن حبان: 6684، والطبراني في الكبير : 8160 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16084»
حدیث نمبر: 9295
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عُمَرَ وَأَبِي مَسْعُودٍ (يَعْنِي أَبَا مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا فَيُحَامِلُ فَيَجِيءُ بِالْمُدِّ وَإِنَّ لِبَعْضِهِمِ الْيَوْمَ مِائَةَ أَلْفٍ قَالَ شَقِيقٌ فَرَأَيْتُ أَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عتبہ بن عمر اور سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقے کا حکم دیتے تھے، پس ہم میں سے ایک آدمی جاتا اور بوجھ اٹھانے کا کام کر کے ایک مد لے کر آتا، جبکہ آج بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم موجود ہے۔ شقیق کہتے ہیں: میرا خیال ہے وہ ایک لاکھ والے سے اپنے آپ کو مراد لیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9295
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1415، 4668، ومسلم: 1018 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22703»
حدیث نمبر: 9296
عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا احْتُضِرَ سَلْمَانُ بَكَى وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا عَهْدًا فَتَرَكْنَا مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ يَكُونَ بُلْغَةُ أَحَدِنَا مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ قَالَ ثُمَّ نَظَرْنَا فِيمَا تَرَكَ فَإِذَا قِيمَةُ مَا تَرَكَ بِضْعَةٌ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا أَوْ بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ دِرْهَمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسن بصری کہتے ہیں: جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی وفات کاوقت قریب ہوا تو وہ رونے لگ گئے اور انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک نصیحت کی تھی، لیکن ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کو چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحت یہ تھی کہ سوار کے زادِ راہ کی طرح ہماری روزی بقدر ضرورت ہونی چاہیے۔ پھر سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ جو ترکہ چھوڑ کر فوت ہوئے، جب ہم نے اس کو دیکھا تو وہ پچیس چھبیس یا پینتیس چھتیس درہموں کی قیمت کا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9296
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4104 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24112»
حدیث نمبر: 9297
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَكْفِ أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو دنیا سے ایک خادم اور ایک سواری کافی ہونی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9297
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4104 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23431»
حدیث نمبر: 9298
عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ تَرَكْتُهُ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْهَا بِشَيْءٍ غَيْرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک میں روزِ قیامت سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قیامت کے دن وہ شخص سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا، جو دنیا سے اسی حالت پر جائے گا، جس حالت میں میں اس کو چھوڑ رہا ہوں۔ اور اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ہر آدمی کسی نہ کسی طرح دنیا میں ملوث ہوا ہے، ما سوائے میرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس امت کا سب سے بہترین گروہ صحابۂ کرام کی جماعت ہے، لیکن انھوں نے دنیوی وسائل کے اعتبار سے کیسی زندگی گزاری، چند ایک مثالیں اس باب میں بھی مذکور ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9298
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4104 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21790»