کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دنیا اور اس کی زینت و سجاوٹ اور نعمتوں سے بے رغبتی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9265
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا فَقُلْتُ لَا يَا رَبِّ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیری سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو تیری تعریف کروں گا اور تیرا شکر ادا کروں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9265
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر الافريقي ضعيف، وعلي بن يزيد بن ابي ھلال الالھاني واھي الحديث، أخرجه الترمذي باثر الحديث: 2347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22543»
حدیث نمبر: 9266
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ مُضْطَجِعٌ مُرْمَلٍ بِشَرِيطٍ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وَسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَدَخَلَ عُمَرُ فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْحِرَافَةً فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبَيْهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَكَى عُمَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ)) قَالَ وَاللَّهِ مَا أَبْكِي إِلَّا أَنْ أَكُونَ أَعْلَمَ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَهُمَا يَعِيثَانِ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَعِيثَانِ فِيهِ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ)) قَالَ عُمَرُ بَلَى قَالَ ((فَإِنَّهُ كَذَاكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا اور اس کا بھرونا کھجور کے پتے تھے، اتنے میں صحابہ کا ایک گروہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی داخل ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف مائل ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلوؤں اور رسی کے درمیان کوئی کپڑا نہیں ہے اور وہ رسی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو پر نشان چھوڑ چکی ہے تو وہ رونے لگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ کسری و قیصر کی بہ نسبت آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ تکریم اور عزت والے ہیں، لیکن وہ تو دنیا میں مال و دولت کو اڑا رہے ہیں اور اے اللہ کے رسول! آپ اس مقام میں ہیں، جو میں دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو جاؤ گے کہ یہ چیزیں ان کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر بات ایسے ہی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر دنیا کوئی بہترین چیز ہوتی تو اس کے سب سے زیادہ مستحق سید الاولین والآخرین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے، چونکہ آپ دائمی اور ابدی نعمتوں کے خواہشمند تھے، اس لیے دنیا کی عارضی نعمتوں سے دور رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9266
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه البخاري في الادب : 1163، وابويعلي: 2782، وابن حبان: 6362 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12444»
حدیث نمبر: 9267
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ بِظَهْرِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كِسْرَى يَشْرَبُونَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَأَنْتَ هَكَذَا فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمِ الدُّنْيَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ کے لیے چھوڑ دیا تھا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالاخانے میں ایک ایسی چٹائی پر تشریف رکھے ہوئے تھے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر پر اپنا اثر چھوڑا ہوا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسری کی طرح کے لوگ تو سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ اس طرح ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی نیکیاں ان کو دنیا میں ہی جلدی دے دی گئیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … گویا نعمتوں کی کثرت میں اس قسم کے خطرے کا امکان ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی صورت میں دنیا میں ہی نیکیوں کا عوض دیا جا رہا ہے، درج ذیل مثال پر غور کریں: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس (افطاری کے لیے) کھانا لایا گیا، جبکہ وہ روزے دار تھے، پس انھوں نے کہا: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی کُفِّنَ فِی بُرْدَۃٍ إِنْ غُطِّیَ رَأْسُہُ بَدَتْ رِجْلَاہُ وَإِنْ غُطِّیَ رِجْلَاہُ بَدَا رَأْسُہُ وَأُرَاہُ قَالَ وَقُتِلَ حَمْزَۃُ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنْ الدُّنْیَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ أُعْطِینَا مِنْ الدُّنْیَا مَا أُعْطِینَا وَقَدْ خَشِینَا أَنْ تَکُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ یَبْکِی حَتّٰی تَرَکَ الطَّعَامَ۔ … سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ایک چادر میں انہیں کفن دیا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاوں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور وہ ہم سے بہتر تھے، پھر ہم پر دنیا وسیع کردی گئی اور ہمیں خوف ہوا کہ ہماری نیکیاں جلد دے دی گئیں پھر رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ (صحیح بخاری: ۱۱۹۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9267
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3676 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7950»
حدیث نمبر: 9268
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا فَقَالَ ((مَا لِي وَلِلدُّنْيَا مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں اپنا اثر چھوڑ چکی تھی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگر آپ اس سے نرم و گداز بچھونا لے لیتے تو اچھا ہوتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے، میری اور اس دنیا کی مثال تو سوار کی سی ہے، جو گرم دن میں سفر کر رہا ہو اور دن کی ایک گھڑی کے لیے کسی درخت کا سایہ حاصل کرے اور پھر اس کو چھوڑ کر چل دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9268
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه وابن حبان: 6352، والطبراني: 11898، والحاكم: 4/ 309 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2744»
حدیث نمبر: 9269
عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَقَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ تَرْغَبُونَ فِيمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهِ أَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُونَ فِي الدُّنْيَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهَا وَاللَّهِ مَا أَتَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةٌ مِنْ دَهْرِهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا لَهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْلِفُ وَقَالَ غَيْرُ يَحْيَى وَاللَّهِ مَا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا وَالَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم تو صبح و شام ایسی چیزوں کی رغبت کرنے لگ گئے، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے رغبتی کرتے تھے، تم دنیا میں راغب ہونے لگ گئے ہو، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس سے دور رہنے والے تھے، اللہ کی قسم! ہر آنے والی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لینا ہوتا تھا، بعض صحابہ نے کہا: تحقیق ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قرض لیتے تھے، یحییٰ کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: اللہ کی قسم! تین دن نہیں گزرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لینا ہوتاتھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9269
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 4/ 326 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17970»
حدیث نمبر: 9270
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِصْرَ يَقُولُ مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَأَمَّا أَنْتُمْ فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر میں خطاب کرتے ہوئے کہا: کس چیز نے تمہارے طرزِ حیات کو تمہارے نبی کی سیرت سے دور کر دیا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبتی کرنے والے تھے، لیکن تم اس میں سب سے زیادہ رغبت کرنے والے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9270
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17925»
حدیث نمبر: 9271
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ ((يَا أَبَا ذَرٍّ)) قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبًا أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَسَارِهِ)) قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ ((يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَسَارِهِ)) قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ ((يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ)) قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي قَالَ فَسَمِعْتُ لَغَطًا وَصَوْتًا قَالَ فَقُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتْبَعَهُ ثُمَّ تَذَكَّرْتُ قَوْلَهُ ((لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ)) فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى جَاءَ فَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ فَقَالَ ((ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ)) قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ ((وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شام کا وقت تھا، میں مدینہ منورہ کے حَرّہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میں نے کہا: جی اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو میں نہیں چاہوں گا کہ تیسرے دن کی شام کو اس میں سے میرے پاس کوئی دینار باقی ہو، ما سوائے اس دینار کے، جس کو میں قرض کے لیے روک لوں گا، میں تو اس کو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں ایسے ایسے تقسیم کر دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چلو بھر کر دائیں، بائیں اور سامنے ڈالے۔ پھر ہم آگے چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابا ذر! بیشک زیادہ مال والے ہی قیامت والے دن کم نیکیوں والے ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح مال کو تقسیم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمثیل پیش کرتے ہوئے دائیں، بائیں اور سامنے چلوؤں سے اشارہ کیا۔پھر ہم مزید آگے چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ذر! تم میرے آنے تک یہیں کھڑے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے، یہاں تک کہ مجھ سے چھپ گئے، لیکن جب میں نےکچھ شور اور آوازیں سنیں تو میں نے کہا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی مسئلہ پیش آ گیا، میں نے آپ کے پیچھے جانے کا ارادہ تو کیا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات یاد آئی کہ تو نے میرے آنے تک یہیں رہنا ہے ۔ سو میں انتظار ہی کرتا رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا ذکر کیا، جو میں نے سنی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ میرے پاس آئے اور کہا: آپ کی امت کا جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ زناکرتا ہو اور چوری کرتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کرتا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۵۴۲۸،۸۹۳۷)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9271
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2388، 6268، ومسلم: ص 687 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21674»
حدیث نمبر: 9272
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((يَا أَبَا ذَرٍّ أَيُّ جَبَلٍ هَذَا)) قُلْتُ أُحُدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ لِي ذَهَبًا قِطَعًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا)) قَالَ قُلْتُ قِنْطَارًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((قِيرَاطًا)) قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ ((يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّمَا أَقُولُ الَّذِي أَقَلُّ وَلَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَكْثَرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! یہ کون سا پہاڑ ہے؟ میں نے کہا: احد پہاڑ ہے، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر (یہ پہاڑ) میرے لیے سونے کے سکّوں میں تبدیل کردیا جائے تو میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کر دوں گا اور مجھے یہ چیز خوش نہیں کرے گی کہ اس میں سے ایک قیراط بھی باقی رہنے دوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قنطار؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیراط، قیراط۔ تین دفعہ فرمایا، پھر فرمایا: اے ابو ذر! میں کم والی بات کر رہا ہوں، زیادہ والی نہیں کر رہا۔
وضاحت:
فوائد: … قیراط= (255.1) ملی گرام
اس کے دو معانی ہیں: (۱) مالِ کثیر، (۲) ایک مقدارِ وزن جو مختلف ممالک میں مختلف ہوتی ہے، مصر میں قیراط (100) رطل کے برابر ہوتا ہے اور رطل (393.660)گرام کے برابر ہوتا ہے، اس طرح ایک قیراط (39) کلو گرام سے زیادہ وزن بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جذبہ یہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخاوت کے وصف سے بدرجۂ اتم متصف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا اور عملا اس وصف کو ثابت بھی کیا۔ غور فرمائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے صرف اس لیے زور دے کر بات کر رہے ہیں کہ انھوں نے قیراط کی بجائے قنطار سمجھا، جس کی مقدار زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9272
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21655»
حدیث نمبر: 9273
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ أَوْ نِصْفُ دِينَارٍ إِلَّا أَنْ أُرْصِدَهُ لِغَرِيمٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو مجھے یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ میری وفات والے دن اس میں دیناریا نصف دینار میرے پاس پڑا ہو، البتہ اتنی مقدار جس کو میں قرضے کے لیے روک رکھوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9273
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21648»
حدیث نمبر: 9274
عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالرَّبَذَةِ وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ مُشْبَعَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا أَثَرُ الْمَجَاسِدِ وَلَا الْخَلُوقِ قَالَ فَقَالَ أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَا تَأْمُرُنِي بِهِ هَذِهِ السُّوَيْدَاءُ تَأْمُرُنِي أَنْ آتِيَ الْعِرَاقَ فَإِذَا أَتَيْتُ الْعِرَاقَ مَالُوا عَلَيَّ بِدُنْيَاهُمْ وَإِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ دُونَ جِسْرِ جَهَنَّمَ طَرِيقًا ذَا دَحْضٍ وَمَزَلَّةٍ وَإِنَّا نَأْتِي عَلَيْهِ وَفِي أَحْمَالِنَا اقْتِدَارٌ أَحْرَى أَنْ نَنْجُوَ عَنْ أَنْ تَأْتِيَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ مَوَاكِيرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو اسماء کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ ربذہ مقام میں تھے اور ان کے پاس کالی سیاہ ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی، اس میں زعفران اور خلوق خوشبوؤں کا کوئی اثر نہیں تھا، انھوں نے کہا: کیا تم اس چیز کی طرف نہیں دیکھتے، جس کا یہ سیاہ فام عورت مجھے حکم دے رہی ہے، یہ مجھے کہتی ہے کہ میں عراق چلا جاؤں، اور جب میں عراق جاؤں گا تو لوگ اپنی دنیا کے ساتھ میرے طرف مائل ہوں گے، جبکہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتلایا تھا کہ جہنم والے پل صراط سے قبل ایک پھسلن والا راستہ ہے اور ہم نے وہاں سے گزرنا ہے، اگر ہم بوجھوں سے ہلکے ہوئے تو زیادہ ممکن ہو گا کہ ہم وہاں سے نجات پا جائیں، بہ نسبت اس کے کہ ہم وہاں اس حال میں جائیں کہ ہم بوجھ والے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … بعض نسخوں میں یہ لفظ اس طرح ہے: مُسْغِبَۃٌ اس کا معنی: بھوکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9274
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21746»
حدیث نمبر: 9275
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ ((إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ فَإِنَّ عِبَادَ اللَّهِ لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: خوش عیشی سے بچو، پس بیشک اللہ تعالیٰ کے بندے خوش عیش نہیں ہوتے۔
وضاحت:
فوائد: … بڑی قابل تعجب بات ہے کہ ایک طرف تو منشائے شریعتیہ ہے کہ انسان کے وجود پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے آثار نظر آنے چاہئیں، لیکن دوسری طرف خوش عیشی کی مذمت کی جا رہی ہے، در اصل خوش عیشی فی نفسہ کوئی مذموم چیز نہیں ہے، لیکن جب اس کے اثرات اور نتائج پر نگاہ ڈالی جائے، تو کئی طرح سے اس میں فساد نظر آتا ہے، جس کی سب سے بڑی مثال فکر ِ آخرت کی کمی ہے۔
ہم اس ضمن میں کچھ اقتباسات نقل کرنا چاہتے ہیں: دنیوی آسائشیں، اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ہیں، وہ مال و دولت کی صورت میں ہوں یا عہدہ و منصب کی صورت میں۔ بہرحال دنیا نے اکثر لوگوں کو اپنے اثرات کا پابند کر دیا اور ان کو اسلامی مزاجوں کا نہیں رہنے دیا۔ وہ آسائشوں اور سہولتوں کے اس قدر غلام بن جاتے ہیں کہ فقر و فاقہ میں مبتلا لوگوں کے مصائب کو پہچاننا ان کے لیے دشوار ہوجاتا ہے۔ ان کے رویے میں ناز نخرے آجاتے ہیں، ان کی مسکراہٹوں اور حسن سلوک کے لیے شخصتیں خاص ہو جاتی ہیں۔ بہرحال کوئی دولتمند ان حقائق سے اتفاق نہیں کرے گا، کیونکہ وہ اپنے دماغ کے فیصلے کے مطابق انسانِ کامل ہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ فیکٹریوں اور صنعتوں کے مالکان، اعلی پیمانے کے تجار، مساجد و مدارس کی انتظامیہ، جن کے گھروں کے ماہوار اخراجات لاکھوں روپوںپر مشتمل ہوتے ہیں، لیکنیہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے ماتحتوں کو تین چار ہزار فی مہینہ پر ہی گزارا کرنا چاہیے اور اس پر مستزاد یہ کہ اتنی معمولی تنخواہ دے کر اپنا رعب جھاڑنا شروع کر دیتے ہیں، جیسے آقا اپنے غلام سے سلوک روا رکھتا ہے۔
رہا مسئلہ قلت ِ مال یا کثرتِ مال کے بہتر ہونے کا، تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار کرنا ناممکن ہے کہ
دین کی حفاظت کے لیے، ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے لیے اور کئی مفاسد سے بچنے کے لیے قلت ِ مال بہترین ذریعہ ہے، یقین مانیے کہ اگر گزر بسر کے بقدر رزق نصیب ہو جائے تو دنیا کا حقیقی سکون مل جاتا ہے۔ یہ غربت ہی ہے جو بچوں کو دینی تعلیم دینے، قرآن مجید حفظ کرنے اور قرآن و حدیث کی تعلیم کے حصول پر آمادہ کرتی ہے اور یہی لوگ ہیں کہ دین کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے جن کی اکثریت کو استعمال کیا گیا۔مزاج میں سادگی اور ہر آدمی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ان ہی لوگوں کا وطیرہ ہے۔ اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے کہ مسکین لوگ امیر لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں جو امیر زادوں اور مال و دولت کے طلبگاروں کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔
قارئین کرام! ذہن نشین رہے کہ جب قلت ِ مال کی مدح اور کثرت ِ مال کی مذمت کی جاتی ہے تو اس وقت کسی خاص امیریا غریب فرد کو سامنے نہیں رکھا جاتا، بلکہ مطلق ماحول پہ نگاہ ڈال کر تبصرہ کیا جاتا ہے۔
مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن بوڑھا آسمان اور پرانی زمین شاہد ہیں کہ اکثر لوگ اس نعمت کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر رہے اور من پسند اور عیش پرست زندگی میں پڑ کر کئی مفاسد میں مبتلا ہو گئے۔ مصیبتیہ ہے کہ ان بیچاروں کو ان حقائق کا اندازہ ہی نہ ہو سکا، جن کی وضاحت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ہے۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اظہار کرنے کے لیے اچھا لباس پہننا اور اچھے ماکول و مشروب کا انتظام کرنا پسندیدہ ہے، لیکن اس پر دوام اختیار کرنا اور تکلف کرنا کسی طرح خطرے سے خالی نہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسا اوقات جان بوجھ کر سادہ لباس پہننے، کنگھی نہ کرنے اور ننگے پاؤں چلنے کا حکم دیا ہے۔
اگر شریعت کی روشنی میں مال و دولت کے تقاضوں کو سمجھ کر ان کو ادا کیا جائے تو اس کو اللہ کی نعمت ِ عظمی سمجھا جائے گا، آخر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی تو مالدار تھے، ان کو اسی وجہ سے غنی کا لقب ملا اور انھوں نے اسی کے بل بوتے پر تائید ِ دین کی ایسی مثالیں قائم کر دیں، جو رہتی دنیا تک مال داروں کے لیے آئیڈیل کی حیثیت سے زندہ رہیں گی۔
اگر خوش عیشی، اللہ تعالیٰ کی کوئی پسندیدہ چیز ہوتی تو یقینا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے لیے بھی پسند کیا جاتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورتحال تو یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تکیہ چمڑے کا تھا اور اس کی بھرتی کھجور کے درخت کی چھال کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9275
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22469»
حدیث نمبر: 9276
عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي إِلَيْهِ فَخَرَجْتُ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ ((أَطْعِمْنَا بُسْرًا)) فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ ((لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ)) قَالَ فَأَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَئِنَّا لَمَسْئُولُونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ((نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ كَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ أَوْ حِجْرٍ يَتَدَخَّلُ فِيهِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقُرِّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو عسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو نکلے، جب میرے پاس سے گزرے تو مجھے بلا لیا، پس میں نکل پڑا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلایا، پس وہ بھی آگئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلا لیا اور وہ بھی آ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ کسی انصاری کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا: نیم پخت کھجوریں کھلاؤ۔ پس وہ ایک گچھا لے کر آیا اور اس کو رکھ دیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوایا اور اس کو پیا اور فرمایا: تم سے اس نعمت کے بارے میں بھی روزِ قیامت ضرور ضرور سوال کیا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ گچھا پکڑا اور اس کو زمین پر مارا، اس سے ادھ کچری کھجوریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گر پڑیں، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ان کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے سوال کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل، ما سوائے تین چیزوں کے، (۱) وہ دھجّی اور چیتھڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی شرمگاہ کا پردہ کر لے، (۲) وہ (روٹی وغیرہ کا) ٹکڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی بھوک پوری کر لے اور (۳) وہ چھوٹا سا کمرہ، جس میں بندہ گرمی اور سردی سے بچنے کے لیے داخل ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9276
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حشرج بن نباتة الاشجعي مختلف فيه، وثقه غير واحد، وقال ابو حاتم: صالح يكتب حديثه ولا يحتج به، وقال النسائي في رواية: ليس بالقوي، وفي اخري: ليس به بأس، وانظر الحديث الآتي، فانه يشھد لبعضه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21049»
حدیث نمبر: 9277
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَطْعَمْتُهُمْ رُطَبًا وَأَسْقَيْتُهُمْ مَاءً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے، میں نے ان کو تازہ کھجوریں کھلائیں اور پانی پلایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں ان نعمتوں میں سے ہیں، جن کے بارے میں تم سوال کیے جاؤ گے۔
وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بڑی بڑی نعمتیں عطا کی ہیں، اگرچہ فقرو فاقہ کی زندگی گزارنے والوں کی تعداد بھی معقول ہے، ہر ایک کے لیے شریعت ِ مطہرہ نے قواعد مقرر کر دیئے ہیں تاکہ نعمتوں والوں کو کسی نعمت سے اور فاقہ مستوں کو فقیری کی وجہ سے کوئی نقصان نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق / حدیث: 9277
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 1799، وابويعلي: 1790، وابن حبان: 3411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14692»