کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: منعِم کا شکر ادا کرنے اور نیکی کا بدلہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 9237
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ حَمَلْتُكَ عَلَى الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَزَوَّجْتُكَ النِّسَاءَ وَجَعَلْتُكَ تَرْبَعُ وَتَرْأَسُ فَأَيْنَ شُكْرُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑے اور اونٹ پر سوار کیا اور عورتوں سے تیری شادی کروائی، پھر تجھے ایسا بنا دیا کہ تو خوشحال ہوا اور بلند رتبے والا بنا، پس اب ان چیزوں کا شکر کہاں ہے؟
وضاحت:
فوائد: … اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ نے اس دور میں انسان کی ظاہری شان و شوکت پر دلالت کرنے والی بے شمار چیزیں عطا کر دی ہیں، پرشکوہ کوٹھیاں، خوبصورت اور قیمتی لباس، حسن میں اضافہ کرنے کے اسباب، قسما قسم کے مشروبات اور مأکولات، گاڑیاں، ٹرانسپورٹ، دنیوی تعلیم، باغات، فصلیں اور صاحب ِ اختیار لوگوںکے ساتھ رابطے۔ شرعی حکم یہ تھا کہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا جائے، لیکن معاملہ برعکس ثابت ہوا اور جس کو جتنا زیادہ دیا گیا، وہ اتنا ہی اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9237
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10383»
حدیث نمبر: 9238
عَنِ الْمُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ قَالَ أَوَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر طویل قیام کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں سوج جاتے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ معصوم ہستی کا شکر ادا کرنے کا انداز ہے کہ کثرت ِ عبادت کی وجہ سے جن کے پاؤں میں ورم آ جاتا تھا، اللہ تعالیٰ کی نعمت کا تعلق دنیا سے ہو یا دین سے، وہ اس لائق ہے کہ ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9238
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4836، ومسلم: 2819 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18384»
حدیث نمبر: 9239
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث نمبر (۹۳۳۵ تا ۹۳۳۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا مفہوم درست ہے، نعمت کا اثر نظر آنے کے دو معانی ہیں، بندے کو نعمتوں کے مطابق اچھے لباس اور اچھی حالت میں رہنا چاہیے، حدیث نمبر (۹۳۳۶) سے یہی معنی ثابت ہوتا ہے، دوسرا معنییہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے عوض اعمال صالحہ سر انجام دینے چاہئیں اور برے اعمال سے اجتناب کرنا چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ۔} … اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کا گھر تلاش کر اور دنیا سے اپناحصہ مت بھول اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (سورۂ قصص: ۷۵) دونوں معانی ہی مراد لینے چاہئیں،یعنی آدمی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال بھی کرے اور ان کے عوض نیک عمل بھی کرے۔
اس آیت ِ مبارکہ میں خزانوں کے مالک قارون سے خطاب کیا جا رہا ہے کہ اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے بدلے احسان کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9239
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4836، ومسلم: 2819 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8092»
حدیث نمبر: 9240
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھانے والا اور شکر ادا کرنے والے صبر کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9240
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 2486، وابن ماجه: 1764 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7793»
حدیث نمبر: 9241
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ حقیقی محسِن ہے اور احسان کرنے والا آدمی مجازی محسِن ہوتا ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے کے لیے اس کو سبب بناتا ہے، اس لیے محسِنِ حقیقی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے اور محسِنِ مجازی کا بھی۔
تمام انعامات کا سرچشمہ اور منعمِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہر وقت اور ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ کھانے پینے کے بعد کی دعاؤں، سوتے اور بیدار ہوتے وقت کی دعاؤں، سواری پر سوار ہونے کی دعاؤں وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کی گئی ہے۔
بسا اوقات انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہِ راست نعمت ملتی ہے، لیکن بعض اوقات ربّ جلیل اپنے بندوں پر انعام کرنے کے لیے اپنے بندوں کو ہی استعمال کرتے ہیں، جیسے وہ لوگ جو ہماری روزی کا سبب بنتے ہیں، ہمیں صدقہ و خیرات دیتے ہیں، ہمیں تحائف و ہدایا عطا کرتے ہیں، ہم کو دعوت دیتے ہیں، وغیرہ۔ ایسی صورت میں لوگوں کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9241
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4811، والترمذي: 1954 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7495»
حدیث نمبر: 9242
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9242
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: غير محدد»
حدیث نمبر: 9243
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9243
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21838»
حدیث نمبر: 9244
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ أَوْ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ وَمَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ التَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ شُكْرٌ وَتَرْكُهَا كُفْرٌ وَالْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ عَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا السَّوَادُ الْأَعْظَمُ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ هَذِهِ الْآيَةُ فِي سُورَةِ النُّورِ {فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ} [سورة النور: ٥٤]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لکڑیوں پر یا اس منبر پر فرمایا تھا کہ جس نے تھوڑی چیز کا شکر ادا نہ کیا، وہ کثیر مقدار والی چیز کا بھی شکریہ ادا نہیں کرے گا اور جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا، وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بیان کرنا بھی شکر ہے اور بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ اور جماعت رحمت ہے اور افتراق و انتشار عذاب ہے۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم بڑے لشکر کو لازم پکڑو، ایک آدمی نے کہا: بڑا لشکر کون سا ہے؟ سیدنا ابو امامہ نے کہا: سورۂ نور کی یہ آیت ہے: پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر لازم کر دیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے۔ (سورۂ نور: ۵۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9244
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قوله: من لم يشكر الناس لم يشكر الله صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، فيه ابو عبد الرحمن لم يعرف، أخرجه البيھقي في الشعب : 9119، والبزار: 1637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18641»
حدیث نمبر: 9245
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أُتِيَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَلْيُكَافِئْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَذْكُرْهُ فَمَنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يَنَلْ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ کوئی احسان کیا جائے تو وہ اس کا بدلہ دے، اگر بدلے کی قدرت نہ ہو تو اس کا ذکر کر دے، پس جس نے اس کا ذکر کر دیا، اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے ایسی نعمت کا اظہار کیا، جو اس کے پاس نہیں ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے، جس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ذکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے، جیسے: آپ کی بہت بہت مہربانی، آپ نے شفقت کی ہے، آپ کا بہت بہت شکریہ اور اس کے لیے دعا کرے، جیسا کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ صُنِعَ إِلَیْہِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِہِ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِی الثَّنَائِ۔)) … جس کے ساتھ نیکی کا سلوک کیا گیا اور اس نے نیکی کرنے والے سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تجھے اچھا صلہ عطا فرمائے، اس نے پوری تعریف کی۔ (ترمذی: ۱۹۵۸) معلوم ہوا کہ دعائیہ کلمات کہنے کے لیے بہترین الفاظ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا ہیں۔
جھوٹ کے دو کپڑے پہننے سے مراد یہ ہے کہ گویا جھوٹ نے اس بندے کے سارے بدن کو ڈھانپ لیا ہے، وہ اپنے حق میں ایسی چیز کا اظہار کر رہا ہے، جو اس کی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9245
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط : 2484، وابن راھويه: 774 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25100»
حدیث نمبر: 9246
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي فِي شِدَّةِ حَرٍّ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ بِشِسْعٍ فَوَضَعَهُ فِي نَعْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَعْلَمُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت گرمی میں چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، پس ایک آدمی تسمہ لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے میں ڈال دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس چیز کو جانتا ہوتا، جس پر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھایا ہے تو تواس چیز کو کم نہ سمجھتا، جس پر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سوار کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لَمْ یَعلُ کے الفاظ اکثر نسخوں میں اسی طرح مروی ہیں، البتہ ایک نسخے میں لَمْ یَغلُ کے الفاظ ہیں، علامہ سندھی نے کہا: میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ یہ الفاظ حاضر کے صیغے کے ساتھ ہیں، جن کے معانی لَمْ تُقِلَّ (کم سمجھنے) کے ہیں،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے عمل کو عظیم قرار دے رہے ہیں، بعض نسخوں میں لَمْ تُعْلِ اور بعض میں لَمْ تُغْلِ کے الفاظ ہیں، لیکن ان الفاظ کی کوئی قریبی مناسبت سمجھ نہیں آ رہی۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9246
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا من اجل علي بن يزيد الالھاني ، وھو واھي الحديث أخرجه الطبراني في الكبير : 7865 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22643»