کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حیوان کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9197
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابَّ وَرَوَاحِلَ فَقَالَ لَهُمْ ارْكَبُوهَا سَالِمَةً وَدَعُوهَا سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جو ایک جگہ پر کھڑے چوپائیوں اور سواریوں پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان جانوروں پر سوار ہو، اس حال میں کہ یہ صحت مند ہوں اور ان کو صحت و سا لمیت کی حالت میں ہی چھوڑا کرو اور راستوں اور بازاروں میں باتیں کرنے کے لیے ان کو کرسیاں نہ بنا لو (یعنی خواہ مخواہ ان پر نہ بیٹھے رہو)، پس کتنی ہی سواریاں ہیں، جو اپنے سواروں سے بہتر اور ان کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہوتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بنی آدم پر احسان ہے کہ اس نے جانوروں کو قوت ِ گویائی عطا نہیں کی، وگرنہ اس سے لوگوں کو کافی ساری پریشانی ہو سکتی تھی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان من مانی پر اتر آئے اور بے زبان مخلوق کا کوئی لحاظ نہ کرے، اگر اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کی خاطر جانوروں میں بھوک، پیاس اور مشقت کا اظہار کرنے کے لیے ان کو بولنے کی قوت نہیں دی تو انسان کو یہ وصیت کر دی کہ وہ نہ صرف اس چیز کا احساس کرے، بلکہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنا خوف ِ خدا کا تقاضاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9197
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن الي قوله: ولا تتخذوھا كراسي۔ وھذا اسناده ضعيف، أخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 432 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15714»
حدیث نمبر: 9198
عَنْ سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ لَهُ بِذَوْدٍ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا غَذَاءَ رِبَاعِهِمْ وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ وَلَا يَعْبِطُوا بِهَا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سوادہ بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے کچھ اونٹنیوں کا حکم دیا اور مجھے فرمایا: جب تو اپنے گھر پہنچے تو انھیں کہنا کہ موسم بہار میں پیدا ہونے والے ان کے بچوں کو اچھی غذادیں، نیز انھیں کہنا کہ وہ اپنے ناخن تراش لیں تاکہ دودھ دوہتے وقت مویشیوں کے تھنوں کو خون آلود نہ کر دیں۔
وضاحت:
فوائد: … دودھ دوہتے وقت نرم انداز اختیار کیا جائے اور دوہنے کے وقت ناخن کٹے ہوئے ہوں، تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9198
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 6482 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16057»
حدیث نمبر: 9199
عَنْ ضَرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ لِقْحَةً (وَفِي رَوَايَةٍ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلُقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا) قَالَ فَحَلَبْتُهَا قَالَ فَلَمَّا أَخَذْتُ لِأُجْهِدَهَا قَالَ لَا تَفْعَلْ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دودھ والی اونٹنی بطورِ تحفہ دی، ایک روایت میں ہے: میرے بعض اہل خانہ نے مجھے دودھ والی اونٹنیاں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کو دوہوں، پس میں نے ان کو دوہا اور جب میں نے مشقت کے ساتھ سارا دودھ نکالنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر، بلکہ(مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) چھوڑ دیا کر۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے آخری الفاظ کا یہ معنی بیان کیا: دوہنے والے کو چاہیے کہ وہ دودھ کی کچھ مقدار تھنوں میں باقی رہنے دے اور ان کو مکمل نہ نچوڑ لے، کیونکہ دوہنے کے بعد تھنوں میں باقی رہنے والا دودھ مزید دودھ کے اترنے کا سبب بنے گا اور تھنوں کو مکمل نچوڑ لینے کی صورت میں پچھلا دودھ کافی دیر کے بعد اترے گا۔ (صحیحہ: ۱۸۶۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9199
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19190»
حدیث نمبر: 9200
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْلُبُ فَقَالَ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ دودھ دوہ رہا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) رہنے دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9200
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18999»
حدیث نمبر: 9201
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَادِيَةِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَى نِسَاءَهُ بَعِيرًا غَيْرِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَهُنَّ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي فَأَعْطَانِي بَعِيرًا آدَمَ صَعْبًا لَمْ يُرْكَبْ عَلَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي بِهِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يُخَالِطُ شَيْئًا إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُفَارِقُ شَيْئًا إِلَّا شَانَهُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ صدقہ کے اونٹوں کی طرف جنگل میں گئے اور میرے علاوہ اپنی تمام بیویوں کو اونٹ دیے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے میرے علاوہ سب کو ایک ایک اونٹ دیا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک سخت اونٹ دیا، اس پر ابھی تک سوار نہیں ہوا گیا تھا، پس میں اس کو مارنے لگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! نرمی کرنا، کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اُس کو مزین کردیتی ہے اور جس چیز سے نرمی جدا ہوتی ہے، وہ اُس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9201
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 2478، 4808 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25319»
حدیث نمبر: 9202
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيَادٍ عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ الْمُسْلِمَيْنِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ الرَّجُلُ مِنَّا يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَضْرِبُهَا بِالسَّوْطِ وَيَكْفَحُهَا بِاللِّجَامِ هَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ قَالَا مَا سَمِعْنَا فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَإِذَا امْرَأَةٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ أَيُّهَا السَّائِلُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ} [الأنعام: 38] فَقَالَ هَذِهِ أُخْتُنَا وَهِيَ أَكْبَرُ مِنَّا وَقَدْ أَدْرَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن زیاد کہتے ہیں: بسر کے دو مسلمان بیٹے تھے، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، بات یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی سواری پر سوار ہوتا ہے اور اسے کوڑے سے مارتا بھی ہے اور لگام کے ذریعے کھینچتا بھی ہے، کیا تم نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نے تو اس کے بارے میں کچھ نہیں سنا، لیکن پھر اچانک گھر کے اندر سے ایک عورت کی آواز آئی، اس نے کہا: سوال کرنے والے! اللہ تعالیٰ کہتا ہے: اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرندے ہیں کہ اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں،یہ سب تمہاری طرح کے گروہ ہیں، ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی۔ (سورۂ انعام: ۳۸) پھر اس نے کہا: یہ ہماری بہن ہے، عمر میں ہم سے بڑی ہے اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9202
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17837»
حدیث نمبر: 9203
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا، اس کو چہرے پر داغا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ کام کیا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9203
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14211»
حدیث نمبر: 9204
عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ قَالَ فَطَفِقْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَا أَذْكُرُ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقَالَ اذْكُرْهُ قَالَ وَكَانَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ أَنْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الضَّالَّةُ (وَفِي رِوَايَةٍ الضَّالَّةُ مِنَ الْإِبِلِ) تَغْشَى حِيَاضِي وَقَدْ مَلَأْتُهَا مَاءً لِإِبِلِي فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِيَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فِي سَقْيِ كُلِّ كَبِدٍ أَجْرٌ لِلَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنا شروع کر دیا (اور اتنے سوالات کیے کہ) مزید کوئی سوال یاد ہی نہیں آ رہا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اور یادکرو۔ بہرحال میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو سوالات کیے تھے، ان میں ایک سوال یہ تھا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ میرے حوضوں پر آ جاتا ہے، جبکہ میں نے ان کو اپنے اونٹوں کے لیے بھرا ہوا ہوتا ہے، تو کیا اس کو پانی پلا دینے میں میرے لیے اجر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ہر تر جگر کو پلانے میں اللہ تعالیٰ کے لیے اجر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہر جانور کے ساتھ احسان کرنا چاہیے،یہاں تک کہ شریعت میں جن جانوروں کو قتل یا ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان کو آرام دہ انداز میں قتل اور ذبح کرنا چاہیے، نہ کہ ظالمانہ انداز میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9204
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3686 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17730»
حدیث نمبر: 9205
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَانْطَلَقَ إِنْسَانٌ إِلَى غَيْضَةٍ فَأَخْرَجَ بَيْضَ حُمَّرَةٍ فَجَاءَتِ الْحُمَّرَةُ تَرِفُّ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرُؤُوسِ أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَيُّكُمْ فَجَعَ هَذِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا أَصَبْتُ لَهَا بَيْضًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْدُدْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد الرحمن بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا، ایک آدمی ایک جھاڑی کی طرف گیا اور (چڑیا کی طرح کے) سرخ پرندے کے انڈے نکال لایا، پس وہ پرندہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سروں پر پھڑپھڑانے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے اس کو تکلیف دی ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں نے اس کے انڈے لیے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واپس رکھ دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9205
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 2675، 5268 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3835»
حدیث نمبر: 9206
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) رُدَّهُ رَحْمَةً لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری روایت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پرندے پر رحم کرتے ہوئے فرمایا: واپس رکھ دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9206
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انطر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3836»
حدیث نمبر: 9207
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي وَهُوَ بِطَرِيقٍ إِذْ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ فَقَالَ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَنِي فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّيْهِ مَاءً ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ بِهِ فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ) ایک آدمی راستے پر چلا جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی، اس نے ایک کنواں پایا، پس اس میں اتر کر اس نے پانی پیا، پھر باہر نکل آیا، وہیں ایک کتا تھا جو پیاس کے مارے زبان باہر نکالے (ہانپتے ہوئے) کیچڑ چاٹ رہا تھا، پس اس آدمی نے (دل میں) کہا کہ اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس نے ستایا ہے جس طرح میں اس کی شدت سے بے حال ہو گیا تھا، چنانچہ وہ دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے پانی سے بھرے اور انہیں اپنے منہ سے پکڑ کر اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل اور جذبے کی قدر کی اور اسے معاف کر دیا۔ (یہ سن کر) صحابہ ؓنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے چوپایوں (پر ترس کھانے) میں بھی اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ہاں) ہر تر جگر والے (جاندار کی خدمت اور دیکھ بھال) میں اجر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9207
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2363، 2466، ومسلم: 2244 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8861»
حدیث نمبر: 9208
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَغَفَرَ لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک زانی عورت نے گرمی والے دن میں ایک کتا دیکھا، وہ ایک کنویں کا چکر لگا رہا تھا اور پیاس کے مارے زبان باہر نکالی ہوئی تھی، پس اس نے اپنا موزہ اتارا (اور اس کو پانی پلایا) اور اس کے سبب اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9208
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3467، ومسلم: 2245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10591»
حدیث نمبر: 9209
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تُرْسِلْهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت بلی کی وجہ سے آگ میں داخل ہوگئی، اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ خود اس کو کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ از خود زمین کے حشرات کھا سکتی ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9209
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3318، ومسلم: 2242 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7538»
حدیث نمبر: 9210
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخُزَاعِيُّ عَنْ سَيَّارٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ إِنَّهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَذَا قَالَ أَبِي) فَقَالَتْ هَلْ تَدْرِي مَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ كَانَتْ كَافِرَةً وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ علقمہ کہتے ہیں: ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں آ گئے، سیدہ نے ان سے کہا: تم یہ بیان کرتے ہو کہ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا،یعنی اس نے اس کو باندھ دیا تھا اور نہ اس کو کھلاتی تھی اور نہ پلاتی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، سیدہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ عورت کون تھی؟ اس عورت نے جو کچھ کیا، بہرحال وہ کافر تھی اور بیشک اللہ تعالیٰ کے ہاں مؤمن کی عزت اس سے زیادہ ہے کہ وہ بلی کی وجہ سے اس کو عذاب دے، پس جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث بیان کرو تو غور بھی کیا کرو کہ کیسے بیان کر رہے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ یہ روایت اوپر گزر چکی ہے، امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو بیان کیا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث میں اس عورت کو کافر قرار دیا ہے، لیکن مسند احمد اور صحیح مسلم کی جو روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس میں ہے کہ وہ خاتون حِمْیَر قبیلے کی تھی، صحیح مسلم کی اسی سند کے ساتھ مروی حدیث میںہے کہ یہ عورت بنی اسرائیل سے تھے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: ان روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ حِمْیَر قبیلے کاایک گروہ یہودیت میں داخل ہوا تھا، اس لیے کبھی اس کو اس کے دین کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور کبھی اس کو اس کے قبیلے کی طرف۔ حافظ صاحب نے مزید کہا: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ اس خاتون کو اس وجہ سے عذاب دیا گیا کہ اس نے بلی کو قید کر دیا تھا، عیاض نے کہا کہ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ خاتون کافر ہو اور اس کو حقیقت میں آگ کا عذاب دیا گیا ہو، یا اس کو حساب کا عذاب دیا گیا ہو، کیونکہ جس سے تفصیلی حساب لیا گیا، اس کو عذاب دیا گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ عورت کافر ہو اور اس کو اس کے کفر کی وجہ سے عذاب دیا گیا ہو، لیکن بلی کو قید کر لینے کی وجہ سے عذاب میں اضافہ کیا گیا ہو، یا وہ خاتون مسلمان ہو اور اس کو بلی کے جرم کی وجہ سے عذاب دیا گیا ہو۔ امام نووی نے کہا: ظاہر تو یہی ہے کہ وہ خاتون مسلمان تھیاور بلی کو یہ عذاب دینے کی وجہ سے آگ میں داخل ہوئی۔
سیدنا ابودردائ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْغَفَرَلَکُمْ مَاتَأْتُوْنَ إِلٰی الْبَھَائِمِ لَغُفِرَلَکُمْ کَثِیْراً۔)) (مسند أحمد: ۶/۴۴۱) … جو تم چوپائیوں سے (ظلم) کرتے ہو‘ اگر وہ بخش دیا جائے‘ (تو سمجھ لو کہ) بہت کچھ معاف کر دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ بندہ جانوروں کے ساتھ نرمی کرنے میں بھی مکلَّف ہے، اگر کوئی جانور پر ظلم کرتا ہے تو اس کا مؤاخذہ ہو گا، آج کل جن لوگوں کا جانوروں کے ساتھ تعلق ہے، جیسے بیوپاری، چرواہے وغیرہ، وہ اسلام کے ان اصولوں کا قطعی طور پر کوئی خیال نہیں رکھتے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَخِّرُوْا الأَحْمَالَ عَلٰی اْلإِبِلِ فَإِنَّ الْیَدَ مُعَلَّقَۃٌ، وَالرِّجْلُ مُوْثَقَۃٌ۔)) (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: ۱۱۳۰) … اونٹوں سے بوجھ اتار دیا کرو‘ کیونکہ (اس حالت میں) ان کے ہاتھ بھی بندھے ہوتے ہیں اور ٹانگیں بھی باندھی ہوتی ہے۔
شریعت ِ اسلامیہ میں ہر ذی روح چیز کے ساتھ احسان کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔
دنیا میں اس وقت جتنے مذاہب، ادیان اور تہذیبیں موجود ہیں، ان میں اسلام وہ واحد مذہب ہے، جس نے سب سے پہلے جانوروں کے ساتھ نرمی برتنے کا سبق دیا، ہم بجا طور پر اس حقیقت پر نازاں ہیں، ہاں اس معاملے میں اس دین نے بعض ایسے احکام بھی وضع کیے، جو مغرب اور مغرب نواز طبقے کو چبھتے ہیں اور وہ ان کو بنیاد بنا کراسلام پر طعن کرنے لگتے ہیں۔
شیخ البانی نے اپنی صحیحہ میں جانوروں کے حقوق سے متعلقہ نصوص بیان کرنے کے بعد کہا: ہمارے علم کے مطابق یہ وہ احادیث و آثار ہیں، جو اس موضوع سے متعلقہ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیوانات کے ساتھ نرمی کرنے کی جتنی توجیہات بیان کی ہیں، قرونِ اولی کے مسلمان ان سے متاثر تھے، جتنے دلائل ہم نے ذکر کیے ہیں، ان کو سمندر میں سے ایک قطرہ سمجھیں۔
یقینی طور پر کہنا پڑے گا کہ اسلام وہ مذہب ہے، جس نے سب سے پہلے جانوروں کے ساتھ نرمی برتنے کا سبق دیا۔ اس کے برعکس بعض جاہلوں کا خیال ہے کہ یورپی کفار نے حیوانات کے ساتھ نرمی کرنے کی تعلیم دی ہے، حالانکہ حقیقتیہ ہے کہ اہل یورپ کو قرونِ اولی کے مسلمانوں کے جتنے آداب موصول ہوئے، ان میں سے ایکیہ بھی تھا کہ حیوانات سے نرمی برتی جائے۔ پھر انھوں نے اس میں وسعت اختیار کی اور غلو سے کام لیا، اس کی تنظیم و تنسیق کی اور اس کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیں۔ ان کی محنت کا نتیجہیہ نکلا کہ یہ خوبی ان کی طرف منسوب ہونے لگی، بلکہ بعض جاہلوں نے تو یہ سمجھ لیا کہ یہی لوگ اس خصلت کے موجِد ہیں، ان کو یہ وہم اس بنا پر بھی ہوا کہ اسلامی سلطنتوں میں کوئی ایسا نظام نظر نہیں آ رہا، حالانکہ وہ اس خصلت سے متصف ہونے کے سب سے زیادہ مستحق تھیں۔
بعضیورپی ممالک میں غلو کی حد تک حیوانات کے ساتھ نرمی پائی جاتی ہے۔ میں نے (مجلہ ہلال: مجلد ۲۷، ج: ۹، ص: ۱۲۶) میں حیوان اور انسان کے عنوان میں ان کے غلو کی درج ذیل مثال پڑھی: تقریبا۱۹۵۰ء کی بات ہے، کوبنہاجن کے ریلوے سٹیشن میں چمگادڑوں نے تہ بتہ گھونسلے بنا رکھے تھے، جب یہ طے پایا کہ اس سٹیشن کی عمارت کو گرا کر اس کی تعمیرِ نو کی جائے تو بلدیہ نے چمگادڑوں کو تتر بتر ہونے سے بچانے کے لیے ایک گنبد تعمیر کیا، جس پر ہزارہا پونڈ صرف کیے گئے۔
تین سال پہلے کی بات ہے کہ انگلینڈ کی ایک بستی میں دو چٹانوں کے درمیان ایک سوراخ میں کتیا کا پلّاگر گیا، اس کو بچانے کے لیے اربابِ حکومت نے چٹانوں کو کاٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرکے سو آدمیوں کو مامور کیا۔
جب سے سائنسی علوم کے حصول کے لیے حیوانات کا استعمال شروع ہوا، جیسا کہ انگلینڈ نے اپنے راکٹ یا میزائل میں کتے کو اور امریکہ نے بندر کو بھیجا تھا، اس وقت سے بعض علاقوں میں عام رائے یہی پائی جا رہی ہے کہ حیوانات کو اسی قسم کے سلوک کا مستحق سمجھا جائے۔ (سلسلۃالأحادیث الصحیحۃ:۱/ ۶۹، رقم: ۳۰)
صحابہ و تابعین کے آثار و اقوال: یہ اس موضوع سے متعلقہ مرفوع احادیث تھیں، اب ہم صحابہ و تابعین کے آثار پیش کرتے ہیں: ۱۔ مسیب بن دار رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں:رایت عمر بن الخطاب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ضرب جمَّالا، وقال: لم تحمل علی بعیرک ما لا یطیق۔ (طبقات ابن سعد۷/ ۱۲۷)
میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ ایک اونٹ والے کو مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تو اس اونٹ پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ کیوں لادتا ہے؟
۲۔ عاصم بن عبیداللہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ان رجلا حد شفرۃ، و اخذ شاۃ لیذبحھا، فضربہ عمر رضی اللہ عنہ بالدرۃ، وقال: اتعذب الروح؟! الا فعلت ھذا قبل ان تاخذھا۔ (سنن بیھقي۹/۲۸۰)
ایک آدمی نے ذبح کرنے کے لیے بکری پکڑی اور اس کے سامنے چھری تیز کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کوڑے لگائے اور کہا: کیا تو اس کی روح کو عذاب دینا چاہتا ہے؟ بکری کو پکڑنے سے پہلے چھری تیز کیوں نہیں کر لی؟
۳۔ محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ان عمر رضی اللہ رای رجلا یجر شاۃ لیذبحھا، فضربہ بالدرۃ، وقال: سُقْھا، لا أم لک، الی الموت سوقا جمیلا۔ (سنن بیھقي: ۹/۲۸۱)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ بکری کو ذبح کرنے کے لیے اس کو کھینچ کر لے جا رہا تھا۔ آپ نے اسے کوڑے لگائے اور کہا: تیری ماں مرے! اس کو موت کی طرف اچھے انداز میں لے کر جا۔
۴۔ وہب بن کیسان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ان ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ رای راعی غنم فی مکان قبیح، وقد رای ابن عمر مکانا امثل منہ، فقال ابن عمر: ویحکیا راعی! حولھا، فانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول: کل راع مسؤول عن رعیتہ۔ (مسند احمد: ۵۸۶۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک چرواہا ویران سی جگہ پر بکریاں چرا رہا تھا۔ جب ابن عمر نے اچھی چراگاہ دیکھی تو اسے کہا: او چرواہے! تو مرے! اپنی بکریوں کو فلاں مقام میں چرنے کے لیے لے جا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر نگہبان سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
۵۔ معاویہ بن قرہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: کان لا بی الدرداء رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جمل یقال لہ: (دمون)، فکان اذا استعارہ منہ، قال: لا تحملوا علیہ الا کذا وکذا، فانہ لایطیق اکثر من ذالک، فلما حضرتہ الوفاۃ قال: یا دمون! لا تخاصمنی غدا عند ربی؛ فانی لم اکن احمل علیک الا ما تطیق۔ (تاریخ دمشق ابن عساکر۴۷/ ۱۸۵)
سیدنا ابودردائ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک اونٹ تھا، اس کو دمون کہتے تھے، جب کوئی آدمی ان سے عاریۃً اونٹ لیتا تو آپ اس کے لیے بوجھ کا تعین کرتے کہ اس مقدار سے زیادہ نہ لادنا، کیونکہ اس میں اس سے زیادہ طاقت نہیں ہے، جب سیدنا ابودرداء کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے اونٹ سے مخاطب ہو کر کہا: اے دمون! کل میرے رب کے پاس مجھ سے کوئی جھگڑا نہ کرنا، کیونکہ میں تجھ پر اتنا بوجھ لادتا تھا، جتنی تجھے طاقت تھی۔
۶۔ ابو عثمان ثقفی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: کان لعمر بن عبد العزیز غلام یعمل علی بغل لہ، یاتیہ بدرھم کل یوم، فجاء یوما بدرھم ونصف، فقال: أما بدا لک؟ قال: نفقت السوق۔ قال: لا؛ ولکنک أتعبت البغل! أجِمّہ ثلاثۃ ایام۔ (سلسلۃ الاحادیث الصحیۃ: ۳۰، وقال: أخرجہ الامام ااحمد فی الزھد: ۱۹/ ۵۹/ ۱)
عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کا غلام ان کے خچر پر کام کرتا تھا اور ہر روز ایک درہم کما کر لاتا تھا، ایک دن وہ ڈیڑھ درہم کما کر لایا۔ آپ نے اسے کہا: یہ (آدھا درہم زیادہ) کیسے ممکن ہوا؟ اس نے کہا: آج بازار میں بڑی تیزی تھی۔ انھوں نے کہا: نہیں، تو نے تو خچر کو تھکا دیا، اب تین دنوں تک اس کو آرام کرنے دے۔
یہ وہ احادیث و آثار ہیں، جن میں جانوروں کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چونکہ اسلام ایک آسمانی مذہب ہے، جو کہ مختلف احکام پر مشتمل ہے، جن میں بعض جانوروں کو حرام اور بعض جانوروں کو حلال کیا گیا ہے اور جو جانور انسان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ان کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان امور کا سارے کا سارا انحصار اللہ تعالیٰ کی حکمت و دانائی پر ہے، جس حرام جانور کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اس کے ساتھ بھی نرم رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بلی اور کتے کی مثالیں گزر چکی ہیں۔
اس لحاظ سے اسلام یکتا و یگانہ دین ہے، جس میں غیر انسانی مخلوق کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرنے کا پابند بنایا گیا ہے اور باقاعدہ طور پر انسان کو اس امر کا مکلَّف ٹھہرایا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9210
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطيالسي في مسنده : 1400 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10738»