کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غصے کو پی جانے اور غصے نہ ہونے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9169
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ لِلَّهِ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی گھونٹ ایسا نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں غصے کے اس گھونٹ سے زیادہ پسندیدہ ہو، جس کو بندہ پی جاتا ہے، جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسے گھونٹ کو پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے پرہیز گار لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {الَّذِیْنَیُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّاء ِ وَالضَّرَّاء ِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔} … جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۳۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9169
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2726، والطبراني: 12217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3017»
حدیث نمبر: 9170
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ جَرْعَةً أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے نے کوئی ایسا گھونٹ نہیں پیا، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ فضیلت والا ہو غصے کے اس گھونٹ سے، جس کو وہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرنے کے لیے پی جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9170
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2726، والطبراني: 12217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6114»
حدیث نمبر: 9171
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَالَ ((مَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَنْتَصِرَ دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي حُورِ الْعِينِ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ وَمَنْ تَرَكَ أَنْ يَلْبَسَ صَالِحَ الثِّيَابِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي حُلَلِ الْإِيمَانِ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غصے کو پی جائے، حالانکہ وہ بدلہ لینے پرقادر بھی ہو، اللہ تعالیٰ اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اس کو یہ اختیار دے گا کہ وہ جس حورِ عین کو پسند کرتا ہے، اس کو لے لے۔اور جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کرتے ہوئے اچھا لباس نہیں پہنا، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس کوبھی ساری مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کی جو پوشاک پسند کرتا ہے، وہ پہن لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9171
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 415، والبيھقي في الشعب : 6149 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15704»
حدیث نمبر: 9172
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت پچھاڑنے والا طاقتور نہیں ہوتا، بلکہ اصل طاقتور اور پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9172
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2609 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7218»
حدیث نمبر: 9173
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ((مَا تَعُدُّونَ فِيكُمُ الصُّرَعَةَ)) قَالَ قُلْنَا الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ قَالَ ((لَا وَلَكِنَّ الصُّرَعَةَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم زبردست پہلوان کس کو سمجھتے ہو؟ ہم نے کہا: وہ ہے کہ جس کو دوسرے لوگ نہ پچھاڑ سکتے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، زبردست پہلوان تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر کنٹرول کر لیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9173
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6442، ومسلم: 2608 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3626»
حدیث نمبر: 9174
عَنِ ابْنِ حَصْبَةَ أَوْ أَبِي حَصْبَةَ عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ ((تَدْرُونَ مَا الصُّرَعَةُ)) قَالَ قَالُوا الْصَّرِيعُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الرَّجُلُ يَغْضَبُ فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ وَيَقْشَعِرُّ شَعْرُهُ فَيَصْرَعُ غَضَبَهُ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے، اور بیشک آگ کو پانی کے ذریعے ہی بجھایا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لوگ جسمانی لحاظ سے تنومند اور طاقتور شخص کو پہلوان سمجھتے ہیں، لیکن شریعت ِ اسلامیہ کی روشنی میں اصل پہلوان وہ ہے جو غیظ و غضب کے وقت اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے اور کوئی ایسا اقدام نہیں کرتا، جس پر اسے بعد میں ندامت ہو۔ جیسے عام لوگ غصے کی حالت میں شیطانی اور دیوانی جذبات سے سرشار ہو کر اپنا بہت زیادہ نقصان کر دیتے ہیں اور پھر ندامت کے آنسو بہانا شروع کر دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے پرہیز گار لوگوں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، درج ذیل حدیث سے غصہ پی جانے کی اہمیت کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9174
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه البيھقي في الشعب : 3341 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23503»
حدیث نمبر: 9175
عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تَغْضَبْ)) فَأَعَادَ عَلَيْهِ حَتَّى أَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ ((لَا تَغْضَبْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جاریہ بن قدامہ سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نفع بخش بات بتلاؤ، لیکن وہ مختصر ہونی چاہیے، تاکہ میں اس کو یاد کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو غصے نہ ہوا کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی دفعہ یہ بات دوہرائی اور ہر بار یہی فرماتے رہے کہ تو غصہ نہ کر۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سائل اور مخاطب کی صلاحیت کودیکھ کر اس کا مطالبہ پورا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9175
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 532، وابويعلي: 6838، والطبراني: 2102، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20626»
حدیث نمبر: 9176
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ ((لَا تَغْضَبْ)) قَالَ قَالَ الرَّجُلُ فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَإِذَا الْغَضَبُ يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نصیحت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو غصے نہ ہوا کر۔ اس آدمی نے کہا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان پر غور کیا تو یہ نتیجہ نکالا کہ غصہ سارے کے سارے شرّ کو محیط ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9176
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه عبد الرزاق: 20286، والبيھقي: 10/ 105 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23171 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23558»
حدیث نمبر: 9177
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ مُرْنِي بِأَمْرٍ وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ حَتَّى أَعْقِلَهُ قَالَ ((لَا تَغْضَبْ)) فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَالَ ((لَا تَغْضَبْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے کوئی حکم دیں اور زیادہ چیزوں کا ذکر نہ کریں، تاکہ میں اس کو سمجھ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غصے نہ ہوا کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی بات دوہراتے ہوئے فرمایا کہ غصے نہ ہوا کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9177
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6116، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8729»
حدیث نمبر: 9178
عَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِذَا اسْتَشَاطَ السُّلْطَانُ تَسَلَّطَ الشَّيْطَانُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حکمران طیش میں آتا (اور غصے سے آگ بگولا ہوتا) ہے تو اس وقت شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حکمرانوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے اور غیظ و غضب کی عادت کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے، اسی طرح لوگوںکے لیے بھی ناجائز ہے کہ ایسے امور کو سر انجام دیں، جن سے حکمران کو غصہ آتا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9178
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال محمد بن عطية، أخرجه الطبراني في الكبير : 17/444 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18147»
حدیث نمبر: 9179
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا ذَا يُبَاعِدُنِي مِنْ غَضَبِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ((لَا تَغْضَبْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سی چیز مجھے اللہ تعالیٰ کے غضب سے دور کر سکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غصے نہ ہوا کر۔
وضاحت:
فوائد: … غصہ کی دو قسمیں ہیں: (۱) محمود اور (۲) مذموم محمود غصہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے لیے ہو، یعنی جب اللہ تعالیٰ کی حرمتیں پامال کی جا رہی ہوں تو اسلامی غیرت و حمیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان کو غصہ آنا چاہئے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرعی حددود و قیود سے اعراض کے وقت غصے میں آجاتے تھے، لیکن اس معاملے میں بھی مصلحت اور حکمت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗوَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔} … اور نہ نیکیبرابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ (سورۂ فصلت: ۳۴)
مذموم غصہ سے روکا گیا ہے، اس سے مراد وہ غصہ ہے، جس میں انسان اپنے مزاج کی تیزی کی وجہ سے مبتلا ہو جاتا ہے یا اپنی ذاتی چودھراہٹ اور اَنا کی بنا پر یا برادری و خاندانی عصبیتوں کی وجہ سے ذاتی مسائل میں پھنس جاتا ہے اور اسلامی قوانین کی رو رعایت رکھے بغیر غیظ و غضب کے شعلے اگلنے لگتا ہے، اس غصے سے شیطانی مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی حالت میں (اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ) پڑھنے کی تلقین کی ہے اور وجہ یہ بیان کی کہ اس کا جوش غضب ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ (بخاری، مسلم) ہمیں چاہئے کہ ہمارے غیظ و غضب، غیرت و حمیت اور صلح و صفائی کا معیار اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام ہوں۔ مذموم غصے کو سمجھنے کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۹۱۸۴)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9179
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6635»