کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9152
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں پسندیدہ لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں اور اخلاق اچھے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … دنیا کی زندگی آخرت کی تیاری کا واحد ذریعہ ہے، اربوں انسان آئے اور اپناکردار ادا کر کے اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گئے، ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد آنے والوں کے ساتھ بھییہی کچھ ہو گا۔ ماضی ہو یا حال و مستقبل، سعادت مند وہ ہے جو دنیا میں رہ کر جنت کے زیادہ سے زیادہ اسباب جمع کرے۔سیدنا عبد اللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو بدو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((طُوْبٰی لِمَنْ طَالَ عُمُرُہٗوَحَسُنَعَمَلُہُ۔)) (صحیحہ: ۱۸۳۶) … اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال نیک ہوں۔
جو انسان اس صفت سے محروم رہے گا،وہ دنیاو آخرت کی خیر و بھلائی سے محروم رہے گا، ایسا انسان دن بدن اللہ تعالیٰ کا مقروض ہوتا جا ئے گا، ایسا بیچارہ نہ تو زندہ ہے کہ وہ زندگی سے فائدہ اٹھا سکے اور نہ مردہ ہے کہ نیک اعمال ترک کرنے اور برے اعمال کا ارتکاب کرنے پر اسے ملامت نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9152
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 254، والبزار: 1971 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9224»
حدیث نمبر: 9153
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمنوں میں ایمان کے لحاظ سے کامل ترین وہ لوگ ہیں جن کااخلاق اچھا ہو اور ان میں سب سے بہتر وہ ہیں، جو اپنی بیویوں کے لیے بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9153
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4682 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7396»
حدیث نمبر: 9154
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ النَّاسُ بِهِ النَّارَ فَقَالَ الْأَجْوَفَانِ الْفَمُ وَالْفَرْجُ وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ بِهِ النَّاسُ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُسْنُ الْخُلُقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کس چیز کی وجہ سے لوگ سب سے زیادہ آگ میں گھسیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَجْوَفَانِ، یعنی منہ اور شرمگاہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ کس عمل کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسن اخلاق۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9154
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 4246، والترمذي: 2004 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7894»
حدیث نمبر: 9155
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مجھے اس مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اخلاقِ صالحہ کی تکمیل کروں۔
وضاحت:
فوائد: … ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کی وجہ سے عرب سب سے اچھے اخلاق والے تھے، لیکن بعد میں کفر و شرک کی وجہ سے گمراہ ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی سابق اخلاقی اقدار کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9155
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه البزار: 2740، والبيھقي: 10/ 191 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8939»
حدیث نمبر: 9156
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے، جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9156
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3759، 6029 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6767م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6767»
حدیث نمبر: 9157
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَأَعَادَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ الْقَوْمُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَحْسَنُكُمْ خُلُقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو اس شخص کے بارے میں بتلا دوں جو روزِ قیامت مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو تین دفعہ اسی بات کو دوہرایا، پھر لوگوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9157
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البخاري في الادب المفرد : 272 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6735»
حدیث نمبر: 9158
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّوَّامِ الْقَوَّامِ بِآيَاتِ اللَّهِ بِحُسْنِ خُلُقِهِ وَكَرَمِ ضَرِيبَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک (اعتدال اور دوام کے ساتھ) راہِ صواب پر چلنے والا مسلمان اپنے حسن اخلاق اور طبعی عفو و درگزر کی وجہ سے اس آدمی کا درجہ پا لیتا ہے جو بہت زیادہ روزے رکھنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی اٰیات کے ساتھ بہت زیادہ قیام کرنے والا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … حسن اخلاق اور عفو و درگذر میں نفس کو ضبط کرنا پڑتا ہے اور ان اعمال سے دل کو تسکین ملتی ہے، مسلم معاشرے میں بہترین ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9158
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير و الاوسط ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6648»
حدیث نمبر: 9159
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ الْخُلُقِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ (وَفِي لَفْظٍ) دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی حسن اخلاق کے ذریعے رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جس آدمی نے حسن اخلاق کو اپنا لیا، وہ یہ سمجھتا ہے کہ سب سے آسان عمل حسن اخلاق اور لوگوں کے ساتھ اچھے موڈ میں رہنا ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ اہل اسلام کی اکثریت کو سرے سے حسن اخلاق کے تقاضوں کا شعور ہی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9159
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4798 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25527»
حدیث نمبر: 9160
عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ (وَفِي رِوَايَةٍ) كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِی فاَحْسِنْ خُلُقِی۔ اللہ! تو نے میری تخلیق کو خوبصورت بنایا، پس میرے اخلاق کو بھی خوبصورت بنا دے)۔
وضاحت:
فوائد: … جس حدیث میں اس دعا کو آئینہ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، اس کو ابن سنی نے روایت کیا ہے، لیکن وہ روایت ضعیف ہے۔ لہٰذا یہ دعا تو ثابت ہے، لیکن اس کا کسی موقع کے ساتھ خاص کرنا ثابت نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی تخلیق کے حسن کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9160
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 374، والبيھقي في الشعب : 8543 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25736»
حدیث نمبر: 9161
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَتَذَاكَرُ مَا يَكُونُ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ فَصَدِّقُوا وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَيَّرَ عَنْ خُلُقِهِ فَلَا تُصَدِّقُوا بِهِ وَإِنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو الدرادء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئندہ ہونے والے امور کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ ایک پہاڑ اپنی جگہ سے سرک گیا ہے تو تصدیق کر لو، لیکن جب تم سنو کہ کسی آدمی کا اخلاق تبدیل ہو گیا ہے تو اس بات کی تصدیق نہ کرو، کیونکہ وہ عنقریب اسی اخلاق کی طرف لوٹے گا،جس پر اس کی فطرت بنائی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر دیکھایہ گیا ہے کہ لوگوں کی عملی اور علمی کی کیفیات بدلتی رہتی ہیں، لیکن ان کے اخلاق اور مزاج تبدیل نہیں ہوتے، کئی افراد کو دیکھا کہ ان کی عبادت کی روٹین بہت اچھی ہوتی ہے، لیکن جب ان کا خلافِ مزاج امور سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ بداخلاق، زبان دراز، سخت گو اور گالی گلوچ کرنے والے ثابت ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9161
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، الزھري لم يدرك ابا الدرداء ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28047»
حدیث نمبر: 9162
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَسَاوِيكُمْ أَخْلَاقًا الثَّرْثَارُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اور روزِ قیامت میرے سب سے زیادہ قریبی وہ لوگ ہوں گے جو تم میں سے اخلاق کے لحاظ سے بہت عمدہ ہوں اور تم میں سے میرے ہاں سب سے زیادہ نفرت والے اور روزِ قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو برے اخلاق والے، فضول بولنے والے، تکبر کرنے والے اور گفتگو کے لیے باچھوں کو موڑنے والے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں حسنِ اخلاق کی ترغیب دی گئی ہے اور غیر ضروری، غیر محتاط اور تصنع و بناوٹ سے گفتگو کرنے اور اس کے ذریعے سے دوسروں پر رعب و برتری جتانے سے اجتناب کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ گویا کم بولنا اور سادگی سے گفتگو کرناپسندیدہ ہے اور اس کے برعکس زیادہ بولنا اور وہ بھی دوسروں پر ہیکٹر جمانے کے لیے گفتگو میں تیزی و طراری اور تصنع اختیار کرنا سخت ناپسندیدہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9162
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 515، وابن حبان: 482، والطبراني في الكبير : 22/ 588، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17884»
حدیث نمبر: 9163
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9163
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18647»
حدیث نمبر: 9164
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَبِي سَمُرَةُ جَالِسٌ أَمَامِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ لَيْسَا مِنَ الْإِسْلَامِ وَإِنَّ أَحْسَنَ النَّاسِ إِسْلَامًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما تھے اور میرے باپ سمرہ رضی اللہ عنہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بدگوئی اور بدزبانی، اسلام سے نہیں ہے اور اسلام کے لحاظ سے سب سے اچھے لوگ وہ ہیں، جن کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9164
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 514، وابويعلي: 7468، والطبراني: 2072 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21120»
حدیث نمبر: 9165
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا مُعَاذُ اتْبِعِ السَّيِّئَةَ بِالْحَسَنَةِ تَمْحُهَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! برائی کے بعد نیکی کیا کرو، تاکہ وہ اس کو مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9165
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 1987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22337»
حدیث نمبر: 9166
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ ((اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ)) قَالَ وَكِيعٌ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ مُعَاذٍ فَوَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ السَّمَاعُ الْأَوَّلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور بدی کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ اس کو مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ معاذ راوی نے کہا: میں نے اپنی کتاب میں عَنْ اَبِی ذَرٍّ کے الفاظ پائے اور یہی پہلا سماع تھا۔
وضاحت:
فوائد: … برائی کے بعد نیکی کرنے سے برائی کا اثر زائل ہو جاتا ہے اور اس سوچ اور فکر سے آہستہ آہستہ اور بالآخر مزاج میں اتنی ترقی پیدا ہو جاتی ہے کہ بندہ برائیوں سے باز آ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9166
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21681»
حدیث نمبر: 9167
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ أَفْضَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ أَثْقَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن ترازو میں سب سے زیادہ فضیلت والی اور ایک روایت کے مطابق سب سے زیادہ وزن والی چیز حسن اخلاق ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9167
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2002، 2013، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28044»
حدیث نمبر: 9168
عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ ((مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ وَلَيْسَ شَيْءٌ أَثْقَلَ فِي الْمِيزَانِ مِنَ الْخُلُقِ الْحَسَنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا ، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو نرمی کا فراخی کے ساتھ حصہ دیا گیا، اس کو اس کا خیر کا حصہ دے دیا گیا اور کوئی عمل ایسا نہیں ہے، جو ترازو میں حسن اخلاق کی بہ نسبت زیادہ وزنی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … حسن اخلاق تعلیمات ِ اسلامیہ کے سلسلے کا ایک اہم باب ہے، اس کو اپنانے کے لیے تعلیم، مصلحت اور حکمت کی ضرورت ہے، تمام احادیث کو غور سے پڑھنے کے بعد حسن اخلاق کو سمجھنے اور اس کو اپنانے کی کوشش کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها / حدیث: 9168
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28104»