کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9141
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا عَنِ الطَّرِيقِ فَأُدْخِلَ بِهَا الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک درخت سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی، پس ایک آدمی نے اس کو کاٹ کر راستے سے دور کر دیا اور اس وجہ سے اس کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9141
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: ص 2021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8026»
حدیث نمبر: 9142
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِجِذْلِ شَوْكٍ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ لَأُمِيطَنَّ هَذَا الشَّوْكَ عَنِ الطَّرِيقِ أَنْ لَا يَعْقِرَ رَجُلًا مُسْلِمًا قَالَ فَغُفِرَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان آدمی کا ایسے راستے سے گزر ہوا، جس پر کانٹوں والا تنہ تھا، اس نے کہا: میں ضرور ضرور ان کانٹوں کو راستے سے ہٹا دوں گا، تاکہ کوئی مسلمان زخمی نہ ہو جائے، پس اس وجہ سے اس کو بخش دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9142
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8479»
حدیث نمبر: 9143
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلَ عَبْدٌ الْجَنَّةَ بِغُصْنِ شَوْكٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَأَمَاطَهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی خاردار شاخ کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گیا، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ مسلمانوں کے راستے پر تھی اور اس نے اس کو ہٹا دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9143
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9235»
حدیث نمبر: 9144
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي عَلَى طَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ فَقَالَ لَأَرْفَعَنَّ هَذَا لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ لِي فَرَفَعَهُ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ بِهِ وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی راستے پر جا رہا تھا، وہاں اس نے کانٹے دار شاخ پائی اور کہا: میں اس کو ضرور ضرور دور کروں گا، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وجہ سے مجھے بخش دے، پس اس نے اس کو ہٹا دیااور اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش کر جنت میں داخل کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9144
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10294»
حدیث نمبر: 9145
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ شَجَرَةٌ فِي طَرِيقِ النَّاسِ تُؤْذِي النَّاسَ فَأَتَاهَا رَجُلٌ فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگوں کے راستے میں ایک درخت تھا، اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، پس ایک آدمی آیا اور اس کو لوگوں کی گزرگاہ سے ہٹا دیا، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس تحقیق میں نے اس بندے کو دیکھا کہ وہ جنت میں اس درخت کے سائے میں حسب ِ منشا زندگی گزار رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9145
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 3058، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12599»
حدیث نمبر: 9146
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَتَلْتُ عَبْدَ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِسِتْرِ الْكَعْبَةِ وَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ (وَفِي رِوَايَةٍ) عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ فَقَالَ أَمِطِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عبد العزی بن خطل کو قتل کیا، جبکہ وہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں، جس سے میں فائدہ حاصل کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کر، یہ تیرے لیے صدقہ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9146
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2618 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20040»
حدیث نمبر: 9147
(وَفِي لَفْظٍ) قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ فَقَالَ انْظُرْ مَا يُؤْذِي النَّاسَ فَاعْزِلْهُ عَنْ طَرِيقِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (ایک روایت میں ہے): میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی چیز کی خبر دیں، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، جو چیز لوگوں کو تکلیف دے رہی ہو، اس کو راستے سے ہٹا دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9147
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20027»
حدیث نمبر: 9148
(وَفِي لَفْظٍ آخَرَ) قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ أَوْ أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (ایک روایت میں ہے) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے ایسے عمل کی نشاندہی کرو، جو مجھے جنت میں داخل کر دے یا جس سے میں فائدہ حاصل کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاؤ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9148
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20030»
حدیث نمبر: 9149
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ وَرَأَيْتُ فِي مَسَاوِي أَعْمَالِهَا النُّخَامَةَ تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے میرے امت کے اچھے اور برے عمل پیش کیے گئے، میں نے اچھے اعمال میں راستے سے ہٹا دی جانے والی تکلیف دہ چیز کو اور برے اعمال میں مسجد میں پڑی ہوئی اس بلغم کو دیکھا، جس کو دفن نہیں کیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9149
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 553، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21882»
حدیث نمبر: 9150
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ زَحْزَحَ عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا يُؤْذِيهِمْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ حَسَنَةً وَمَنْ كُتِبَ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةٌ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کے راستے سے ایسے چیز کو ہٹا دیا، جو ان کو تکلیف دیتی تھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی لکھے گا اور جس کے لیے نیکی لکھ دی گئی، اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9150
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط : 32 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28027»
حدیث نمبر: 9151
عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى أَنَّ مَرْيَمَ فَقَدَتْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَدَارَتْ بِطَلَبِهِ فَلَقِيَتْ حَائِكًا فَلَمْ يُرْشِدْهَا فَدَعَتْ عَلَيْهِ فَلَا تَزَالُ تَرَاهُ تَائِهًا فَلَقِيَتْ خَيَّاطًا فَأَرْشَدَهَا فَدَعَتْ لَهُ فَهُمْ يُؤْنَسُ إِلَيْهِمْ أَيْ يُجْلَسُ إِلَيْهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے ہیں: ایک دن مریم علیہا السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کو گم پایا اور ان کو تلاش کرنے کے لیے اِدھر اُدھر گھومنے لگیں، وہ ایک جولاہے کو ملیں، لیکن اس نے ان کی رہنمائی نہیں کی، پس انھوں نے اسے بد دعا دی،یہی وجہ ہے کہ تو ان کو بے قدرا دیکھتا تھا، پھر وہ ایک درزی کو ملیں، اس نے ان کی رہنمائی کی، پس انھوں نے اس کو دعا دی، اسی سبب سے تو دیکھتا ہے کہ درزی سے مانوس ہوا جاتا ہے، یعنی لوگ اس کے پاس بیٹھتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں بھی دراصل مسلمان کی فضیلت کا بیان ہے، جس کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا باعث ِ اجر وثواب ہے، وہ خود کتنا عظیم ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9151
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا اثر مقطوع، وليس في السنة ما يشھد له ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23628»