کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9132
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ يَتَّبِعُهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ يَتَّبِعُهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہدایت کی طرف بلایا تو اس کو اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر جتنا اجر ملے گا، جبکہ ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں آئے گی، اس طرح جس نے گمراہی کی طرف بلایا تو اس کو اس کے پیچھے چلنے والوں کے گناہوں جتنا گناہ ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو امورِ صالحہ کا سبب بننا چاہیے، نہ کہ برے کاموں کا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9132
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2674، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9149»
حدیث نمبر: 9133
عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وَزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی، جبکہ ان عاملوں کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، اسی طرح جس نے اسلام میں برا طریقہ وضع کیا، اس کو اس کا گناہ بھی ملے گا اور اس کے بعد اس کو اپنانے والوں کا گناہ بھی ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … اچھا طریقہ وہ ہے، جس کا شریعت میں اچھے ہونے کا تعین ہو چکا ہے، اس حدیث ِ مبارکہ میں اچھے طریقے کو جاری کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی نیکی کی ایسے انداز میں ابتدا کرے کہ دوسرے لوگوں کو بھی رغبت ہو اور وہ بھی وہی نیکی شروع کر دیں، چونکہ ابتدا کرنے والا لوگوں کے اس نیک عمل کا سبب بنا، اس لیے وہ اس عمل کی بنا پر تمام لوگوں کے اجر و ثواب کا مستحق ہو گا، مذکورہ بالا حدیث درج ذیل موقع پر بیان کی گئی، اس واقعہ سے اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتاہے: سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی صَدْرِ النَّہَارِ قَالَ فَجَاء َہُ قَوْمٌ حُفَاۃٌ عُرَاۃٌ مُجْتَابِی النِّمَارِ أَوْ الْعَبَاء ِ مُتَقَلِّدِی السُّیُوفِ عَامَّتُہُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ کُلُّہُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْہُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَی بِہِمْ مِنْ الْفَاقَۃِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلّٰی ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: {یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا۔} وَالْآیَۃَ الَّتِی فِی الْحَشْرِ{اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہَ} تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِینَارِہِ مِنْ دِرْہَمِہِ مِنْ ثَوْبِہِ مِنْ صَاعِ بُرِّہِ مِنْ صَاعِ تَمْرِہِ حَتّٰی قَالَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ قَالَ فَجَاء َ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ کَادَتْ کَفُّہُ تَعْجِزُ عَنْہَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتّٰی رَأَیْتُ کَوْمَیْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِیَابٍ حَتّٰی رَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَہَلَّلُ کَأَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ أَجْرُہَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْء ٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ۔)) … ہم دن کے شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے تو ایک قوم ننگے پاؤں ننگے بدن چمڑے کی عبائیں پہنے تلوراوں کو لٹکائے ہوئے حاضر ہوئی ان میں سے اکثر بلکہ سارے کے سارے قبیلہ مضر سے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس ان کے فاقہ کو دیکھ کر متغیر ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے پھر تشریف لائے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان اور اقامت کہی۔ پھر آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: {یٰا اَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَا ئً وَّاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَا ئَ لُوْنَ بِہ وَالْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا} … اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں سے بھی، بے شک اللہ ہمیشہ سے تم پر پورا نگہبان ہے۔ (سورۂ نسآئ: ۱) اور وہ آیت جو سو رۂ حشر میں ہے: {یٰا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ اس سے پور ی طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔ (سورۂ حشر: ۱۸)، پس آدمی اپنے دینار اور درہم اور اپنے کپڑے اور گندم کے صاع سے اور کھجور کے صاع سے صدقہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا اگرچہ کھجور کا ٹکڑا ہی ہو پھر انصار میں سے ایک آدمی تھیلی اتنی بھاری لے کر آیا کہ اس کا ہاتھ اٹھا نے سے عاجز ہو رہا تھا، پھر لوگوں نے اس کی پیروی کییہاں تک کہ میں نے دو ڈھیر کپڑوں اور کھانے کے دیکھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس کندن کی طرح چمکتا ہوا نظر آ نے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی، جبکہ ان عاملوں کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، اسی طرح جس نے اسلام میں برا طریقہ وضع کیا، اس کو اس کا گناہ بھی ملے گا اور اس کے بعد اس کو اپنانے والوں کا گناہ بھی ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ (صحیح مسلم: ۱۶۹۱)
جس آدمی نے زیادہ مقدار میں صدقہ کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے عمل کو سراہا ہے، کیونکہ اس کے عمل کی وجہ سے دوسرے لوگوں میں رغبت پیدا ہوئی۔
یہی معاملہ برے عمل کا ہے، جو آدمی دوسرے لوگوں کی برائیوں کا سبب بنے گا، تو اس کو ان کی برائیوں کا گناہ ملے گا، جب کہ کسی کی وجہ سے کسی کے گناہ میں کمی واقع نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9133
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1017، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19369»
حدیث نمبر: 9134
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا أَعْطَاهُ فَأَعْطَى الْقَوْمُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ وَمِنْ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ سَنَّ شَرًّا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ عَلَيْهِ وَزْرُهُ وَمِنْ أَوْزَارِ مَنْ تَبِعَهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے عہد ِ نبوت میں سوال کیا، لوگوں نے اسے کچھ نہ دیا، پھر ایک آدمی نے اس کو کوئی چیز دی اور اسے دیکھ کر دوسرے لوگوں نے بھی اس کو کچھ نہ کچھ دیا،یہ صورتحال دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھا طریقہ جاری کیا اور پھر اس کو اپنایا گیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کی پیروی کرنے والوں کا بھی، جبکہ ان کے اپنے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جس نے برا طریقہ وضع کیا اور پھر اس کو اپنا لیا گیا تو اس کو اپنا گناہ بھی ملے گا اور اس طریقے کو اپنانے والوں کا بھی، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے بھی واضح ہو رہا ہے کہ اچھے طریقے کو جاری کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں نیک عمل کی ابتداء کی جائے، جس سے دوسرے لوگوں میں رغبت پیدا ہو اور وہ بھی وہی عمل کرنا شروع کر دیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9134
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 2964، والطبراني في الاوسط : 3705، والحاكم: 2/ 516 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23678»
حدیث نمبر: 9135
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي قَالَ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری سواری تھک گئی ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی سواری دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو سواری نہیں ہے، البتہ تو فلاں کے پاس جا، (وہ تجھے سواری دے دے گا)۔ پس وہ اس آدمی کے پاس گیا اور اس نے واقعی اس کو سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نیکی پر دلالت کرتا ہے، اس کو بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نیکی کا سبب بننا بھی نیکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9135
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1893، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17212»
حدیث نمبر: 9136
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) نَحْوُهُ وَفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عِنْدِي فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أَدُلُّهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث بیان کی گئی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو سواری نہیں ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ایسے شخص کی طرف اس کی رہنمائی نہ کروں، جو اس کو سواری دے دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نیکی پر دلالت کرتا ہے، اس کو بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9136
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22695»
حدیث نمبر: 9137
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَتَاهُ اذْهَبْ فَإِنَّ الدَّالَ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس آنے والے ایک آدمی سے فرمایا: تو جا، پس بیشک نیکی پر دلالت کرنے والا اس کو کرنے والے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9137
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23415»
حدیث نمبر: 9138
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا مُعَاذُ أَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ عَلَى يَدَيْكَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! اللہ تعالیٰ کا تیرے ذریعے کسی مشرک کو ہدایت دے دینا،یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دنیا میں ملنے والی سب سے بڑی نعمت ہدایت ہے، کیونکہیہی وہ نعمت ہے، جو دائمی اور ابدی کامیابی کا سبب بنتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9138
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، بقيه بن الوليد ضعيفيعتبر به، وھو يدلس تدليس التسوية، وشيخه ضبارة مجھول، ودويد بن نافع فليس بذاك القوي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22424»
حدیث نمبر: 9139
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ سَأَلَهُ سَائِلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سوالی نے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سفارش کرو، تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان سے جو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کی فقہ یہ ہے کہ محتاج کی جائز ضرورت پوری کرنے کے لیے سفارش کرنی چاہیے، اگر سفارش قبول ہو گئی تو بہت خوب، بصورت ِ دیگر سفارش کرنے کا ثواب تو ملے گا۔
دوسرے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عطا کرنے یا نہ کرنے میں سے جو کچھ چاہا، وحییا الہام کے ذریعے اپنے نبی کی زبان پر ظاہر کر دے گا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃًیَّکُنْ لَّہ نَصِیْبٌ مِّنْھَا وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃًیَّکُنْ لَّہ کِفْلٌ مِّنْھَا وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ مُّقِیْتًا۔} … جو کوئی سفارش کرے گا، اچھی سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہوگا اور جو کوئی سفارش کرے گا، بری سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک بوجھ ہوگا اور اللہ ہمیشہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (سورۂ نسائ: ۸۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9139
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1432 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19813»
حدیث نمبر: 9140
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَى قَالَ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو نماز، روزے اور صدقے کی بہ نسبت زیادہ فضیلت والے درجے کی خبر نہ دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرابت کی اصلاح کرنا اور رشتوں میں فساد ڈالنا تو (دین کو) مونڈ دینے والی چیز ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اہل اسلام بھائی بھائی ہیں،انسانی لغزشوں کی وجہ سے کبھی کبھییہ رشتۂ اخوت متأثر ہو جاتا ہے، جس کی بنا پر پورے مسلم معاشرے میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو جا تا ہے، اس لیے صلح کروانے کو عظیم صدقہ شمار کیا گیا ہے، جو بعض مسلمان دوسرے مسلمانوں کے حق میں کرتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا} (سورۂ حجرات: ۹) … اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے مابین صلح کر وا دیا کرو۔ عہدِ نبوی میں عمرو بن عوف کی اولاد کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا تھا، ان کے مابین صلح صفائی کروانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود کچھ صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لے گئے تھے۔ (بخاری، مسلم) معلوم ہوا کہ جب بعض مسلمان جھگڑ پڑیں تو دوسرے لوگ اس بات کے ذمہ دار ہوں گے کہ ان کے مابین صلح کروا دیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9140
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4919، والترمذي: 2509 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28058»