کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9122
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا)) قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ ((تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ)) وَفِي لَفْظٍ ((تَحْجِزُهُ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بات تو سمجھ آ رہی ہے کہ ہم مظلوم کی مدد کریں، بھلا ظالم کی مدد کیسے کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ظلم سے منع کرو۔ ایک روایت میں ہے: تم اس کو ظلم سے روکو، یہ دراصل اس کی مدد ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو امور ِ خیر کی تعلیم دینا، ہر جائز معاملے میں اس کی مدد کرنا اور اس کو معصیت والے کاموں سے روکنا، یہ سب اس کی تائید و نصرت کی شکلیں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9122
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2443 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13110»
حدیث نمبر: 9123
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((أَدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ)) فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ كَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَقَالَ ((لَا بَأْسَ لِيَنْصُرَ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّ لَهُ نُصْرَةً وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو لڑکے لڑ پڑے، ایک کا تعلق مہاجرین سے تھا اور دوسرے کاانصار سے، اول الذکر نے آواز دی: او مہاجرو! آخر الذکر نے یوں للکارا: او انصاریو! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر آگئے اورفرمایا: کیا جاہلیت والی پکار پکاری جا رہی ہے؟ صحابہ نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! بس ایک لڑکے نے دوسرے کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مار دیا ہے، (اس وجہ سے لڑائی ہو گئی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن چاہیےیہ کہ آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے، وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہو تو اس کو ظلم سے منع کرے،یہ اس کے لیے مدد ہو گی اور اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی تائید و نصرت کرے۔
وضاحت:
فوائد: … مہاجرین اور انصار اچھے لقب ہیں،یہ القاب شریعت ِ اسلامیہ کے منتخب ہیں، لیکن جب ان کو غلط جگہ پر استعمال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ناپسند کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9123
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14521»
حدیث نمبر: 9124
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((مَنْ أُذِلَّ عِنْدَهُ مُؤْمِنٌ فَلَمْ يَنْصُرْهُ وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَنْصُرَهُ أَذَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موجود گی میں مؤمن کو ذلیل کیا گیا اور اس نے اس کی مدد نہ کی، جبکہ وہ اس کی مدد کرنے پر قادر ہو تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو ساری مخلوق کے سامنے ذلیل کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9124
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه الطبراني في الكبير : 5554 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16081»
حدیث نمبر: 9125
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ روزِ قیامت آگ کو اس کے چہرے سے ہٹا دے۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! یہ مومن کی شان ہے، غور سے پڑھیں اور اپنے معاملات پر غور کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9125
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1931 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28086»
حدیث نمبر: 9126
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ يَعِيبُهُ بَعَثَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ بَغَى مُؤْمِنًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن کو کسی ایسے منافق سے بچایا جو اس کی عیب جوئی کر رہا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتہ نازل کریں گے، جو روزِ قیامت اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا، اور جس نے مؤمن کو عیب دار قرار دینے کے لیے کسی معیوب چیز کے ساتھ اس کا پیچھا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے پل پر روک لے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9126
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، اسماعيل بن يحييٰ المعافري فيه جھالة، وذكر الذھبي ھذا الحديث من غرائبه، ويحييٰ بن ايوب، مختلف فيه، حسن الحديث، الا ان له غرائب ومناكيريجتنبھا اصحاب الصحاح، أخرجه ابوداود: 4883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15734»