کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
حدیث نمبر: 9116
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنانعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے محبت کرنے، باہم ہمدردی کرنے اور ایک دوسرے پر رحم کرنے میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جب اس کا ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے باقی سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی تکلیف کا ایسا احساس ہونا چاہیے، جیسے تکلیف میں مبتلا اپنے عضو میں ہوتا ہے۔ اگر پاؤں میں درد ہو تو جسم کا باقی حصہ اس تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے ساری رات بیدار رہتا ہے، لیکن اگر کوئی مسلمان کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو دوسرے مسلمانوں کو ٹس سے مس نہ ہو، یہ قطعی طور پر اہل اسلام کا رویہ نہیں ہے، جبکہ عصر حاضر میں لاپرواہی اور لا ابالی پن کا ایسا غلبہ ہے کہ مسلمان مفاد پرست ہو کر رہ گیا ہے، اسلام کا دعوی تو ہے، لیکن روحِ اسلام اور تقاضۂ اسلام سے محرومی ہے۔
حدیث نمبر: 9117
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْمُؤْمِنُ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِذَا اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنانعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے مومن ایک آدمی کی مانند ہیں، جب اس کا سر تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں پڑ جاتا ہے اور جب اس کی آنکھ دکھتی ہے تو سارے کا سارا جسم دکھنے لگتا ہے۔
حدیث نمبر: 9118
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا بعض حصہ بعض کو مضبوط کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 9119
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِأَهْلِ الْإِيمَانِ كَمَا يَأْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِي الرَّأْسِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اہل ایمان لوگوں سے مؤمن کا تعلق وہ ہے جو جسم سے سر کا ہوتا ہے، مؤمن دوسرے اہل ایمان کی خاطر ایسے ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جیسے سر کی بیماری کی وجہ سے سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 9120
عَنْ سَيَّارٍ أَنَّهُ سَمِعَ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيَّ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَتُحِبُّ الْجَنَّةَ)) قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ((فَأَحِبَّ لِأَخِيكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ خالد بن عبدا للہ قسری نے کہا، جبکہ وہ منبر پر خطاب کر رہے تھے: میرے باپ نے میرے دادے سے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو جنت کو پسند کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ، وہی کچھ اپنے بھائی کے لیے پسند کر۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو جو خیر و بھلائی اپنے لیے پسند ہو، وہ ان ہی امورِ خیر کو دوسرے مسلمانوں کے لیے پسند کرے اور عملی طور پر حتی الوسع اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کوشش بھی کرے، اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ جیسے گھر کے سربراہ کے ذمے گھر کے افراد کے حقوق ہیں،اسی طرح اس پر رشتہ دار اور غیر رشتہ دار مسلمانوں کے حقوق بھی عائد ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9121
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّهُ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ خیر و بھلائی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر اس حدیث مبارکہ کے یہ الفاظ بیان کیے جاتے ہیں: ((لَایُؤْمِن أحَدُکُمْ حَتّٰییُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔)) اوریہ الفاظ بھی ثابت ہیں، اس حدیث میں مِنَ الْخَیْرِ کے الفاظ کی زیادتی اس حدیث کے معنی و مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ اَلْخَیْرِ کے کلمے میں بڑی جامعیت پائی جاتی ہے، یہ کلمہ احکام شریعت کی تعمیل اور دنیوی و اخروی مباحات پر مشتمل ہے اور شریعت کے منع کردہ امور کو خارج کرتا ہے۔ یعنی مسلمان کا کامل اخلاق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ جو دنیوی خیر و منفعت اور اخروی خیر و بھلائی اپنے لیے پسند کرتا ہے، اسے اپنے اسلامی بھائی کے لیے بھی پسند کرے اور جس بری چیز کو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اسے اپنے بھائی کے حق میں بھی ناپسند کرے۔