کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9103
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالُوا لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ صحابہ نے کہا: کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9103
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 11198، والبزار: 61، ابويعلي: 2372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3281»
حدیث نمبر: 9104
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ تین بار فرمایا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب اور مسلمانوں کے لیڈروں کے لیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9104
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «متن الحديث صحيح، وقد تكلم بعض اھل العلم علي الاختلاف الذي وقع في الاسناد، أخرجه النسائي: 7/ 157 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7941»
حدیث نمبر: 9105
عَنْ تَمِيمِ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثًا وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالُوا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے، دین خیرخواہی ہے۔ تین دفعہ فرمایا، ایک روایت میں ہے: صرف اور صرف دین خیرخواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے لیے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ اس کی وحدانیت کے بارے میں صحیح اعتقاد رکھا جائے اور خلوص نیت کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی خیرخواہییہ ہے کہ اس کی تصدیق کی جائے اور اس کے احکام پر عمل کیا جائے، رسول کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ اس کی نبوت ورسالت کی تصدیق کی جائے اور اس کے اوامر و نواہی کے تقاضے پورے کیے جائیں،ائمہ مسلمین کے لیے خیرخواہییہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ ان کی مصلحتوں کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9105
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 55، وعلقه البخاري في صحيحه في باب قول النبي صلي الله عليه وآله وسلم : الدين النصيحة لله ولرسوله ولائمة المسلمين وعامتھم۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17064»
حدیث نمبر: 9106
عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دَعُوا النَّاسَ فَلْيُصِبْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا اسْتَنْصَحَ رَجُلٌ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ بعض بعض سے نفع حاصل کر سکے، ہاں جب کوئی کسی سے نصیحت طلب کرے تو وہ نصیحت کرے۔
وضاحت:
فوائد: … لوگوں کو چھوڑ دینے سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والوں اور خریدنے والوں کو چھوڑ دو، وہ آپس میں سودا کر لیں گے، تم بیچ میں آ کر قیمتوں کے مشورے نہ دو اور دلّالی نہ کرو، ہاں جب کوئی آدمی مشورہ طلب کرے تو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر اس کی خیرخواہی کر دی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9106
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 3/ 15، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 28282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18471»
حدیث نمبر: 9107
عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَبَضَ يَدَهُ وَقَالَ النُّصْحُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا اور فرمایا: ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنی ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9107
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19374»
حدیث نمبر: 9108
عَنْ زَيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ يَخْطُبُ يَوْمَ تُوُفِّيَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الْآنَ ثُمَّ قَالَ اسْتَعْفُوا لِأَمِيرِكُمْ فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ وَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَرَطَ عَلَيَّ وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ وَفِي رِوَايَةٍ وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زیاد بن علاقہ کہتے ہیں: جس دن سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، اس دن سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر مسلمانوں سے خطاب کیا اور کہا: تم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور نیا امیر آنے تک وقار اور سکینت اختیار کرو، بس وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر کہا: اپنے امیر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے لیے معافی کا سوال کرو، کیونکہ وہ معافی کو پسند کرتے تھے۔ ایک حدیث بھی سن لو، أَمَّا بَعْدُ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر یہ شرط لگائی کہ میں ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کروں۔ ایک روایت میں ہے: اور تو ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کرے اور کافر سے براء ت کا اظہار کرے۔ اس مسجد کے ربّ کی قسم! میں نے اسی چیز پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، اور اب میں تم سب کی خیرخواہی کر رہا ہوں۔ پھر انھوں نے بخشش کا سوال کیا اور نیچے اتر آئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9108
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 58، ومسلم: 56 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19365»
حدیث نمبر: 9109
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ مَا تَعَبَّدَنِي بِهِ عَبْدِي إِلَيَّ النُّصْحُ لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز، جس کے ذریعے بندہ میری عبادت کرتا ہے، یہ ہے کہ میرے لیے خیرخواہی کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9109
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر الافريقي ضعيف، وعلي بن يزيد بن ابي ھلال الالھاني واھي الحديث، أخرجه الطبراني في الكبير : 7880، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22544»
حدیث نمبر: 9110
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ وَقَالَ شَاذَانُ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ وَذَكَرَ شَاذَانُ أَيْضًا حَدِيثَ الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص امانتدار ہو تا ہے، جس سے مشورہ طلب کیا جائے۔ شاذان راوی نے یہ حدیث بھی ذکر کی: نیکی پر رہنمائی کرنے والا اس نیکی کو کرنے والے کی طرح ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا مطلب ہے کہ مسلمان کے لیے خیر و بھلائی کو پسند کرنا، یہ بڑی جامع احادیث ہیں، بظاہر تو دو چار الفاظ پر مشتمل ہیں کہ ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنی ہو گی۔ لیکن دوسرے تمام مسلمانوں کے جملہ حقوق بیان کر دیئے ہیں، کسی کے لیے خیر چاہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حتی الوسع اس کو فائدہ پہنچایا جائے، اس کو اچھا مشورہ دیا جائے اور اس کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، بالخصوص جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے مشورہ طلب کرے تو مشورہ دیتے وقت تمام مفید اور مضر پہلوؤں کو واضح کیا جائے اور کسی بخل سے کام نہ لیا جائے۔
اگلے باب کی احادیث پر غور کرنے سے خیر خواہی کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9110
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير ف: 17/ 629 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22718»
حدیث نمبر: 9111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مومن سے دنیا کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے ایک تکلیف دور کرے گا، جو آدمی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا، جو فرد کسی تنگدست اور بدحال پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی تائید ونصرت میں لگا رہتا ہے، اور جو علم کی جستجو میں کسی راستے پر چلتا ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے جنت کی طرف جانے والے راستے کو آسان کردیتا ہے، جب لوگ اللہ تعالی ٰکے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب ِ الہی کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کی ایک دوسرے کو تعلیم دیتے ہیں تو ان پر سکینت کا نزول ہوتا ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر ان ہستیوں میں کرتا ہے، جو اس کے پاس ہیں اور جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آخرت کے سلسلے میں اعلی نسب اور آباء و اجداد کی عظمت کام نہیں آئے گی، جس کا عمل ناقص ہو گی، اس کی قدر نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9111
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7421»
حدیث نمبر: 9112
عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ نَجَّى مَكْرُوبًا فَكَّ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا، جو آدمی کسی مغموم اور پریشان حال کو نجات دلاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی روزِ قیامت کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کر دے گا اور جو آدمی اپنے بھائی کی حاجت کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کو پورا کرتا رہتا ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … جب کسی مسلمان کے شرّ سے دوسرے مسلمان کو نقصان پہنچنے کا واضح خطرہ ہو تو ایسے میں دوسرے مسلمان کو متنبہ کرنے کے لیے محدود حد تک پردہ پوشی کا قانون توڑ دینا چاہیے،یہ بات احادیث سے ثابت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9112
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط : 8129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17084»
حدیث نمبر: 9113
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو بے یارو مدد گار چھوڑتا ہے، جو آدمی اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے درپے رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں، جس نے کسی مسلمان سے کوئی پریشانی دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کرے گا اور جس نے کسی مسلمان پر پردہ ڈالا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس پر پردہ ڈالے گا۔
وضاحت:
فوائد: … لَا یُسْلِمُہ کے معانی ہیں: بے یارو مددگار چھوڑنا، دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا، کسی کے حوالے کر دینا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9113
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2442، 6951، ومسلم: 2580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5646»
حدیث نمبر: 9114
عَنْ سَلَّامِ بْنِ عَمْرٍو الْيَشْكُرِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِخْوَانُكُمْ أَحْسِنُوا إِلَيْهِمْ أَوْ فَأَصْلِحُوا إِلَيْهِمْ وَاسْتَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَكُمْ وَأَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائیوں کے ساتھ احسان کرو اور جو چیز تم کو مغلوب کر دے، تم اس کے معاملے میں اپنے بھائیوں سے مدد طلب کرو اور جو چیز ان پر غالب آ جائے، تو اس کے معاملے میں ان کی مدد کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9114
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه أبو يعلي: 920، والبخاري في الادب المفرد : 190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23535»
حدیث نمبر: 9115
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ أَخْلَافًا فَقَالَ لَهُ أَلَا تَسْتَاكُ فَقَالَ إِنِّي لَأَفْعَلُ وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دوآدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان کی ضرورت ایک ہی تھی، ان میں سے ایک نے جب گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے منہ سے بد بو محسوس کی اور فرمایا: کیا تو مسواک نہیں کرتا؟ اس نے کہا: جی میں ضرور کرتاہوں، لیکن بات یہ ہے کہ میں نے تین دنوں سے کھانا نہیں کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، پس وہ اس کو لے گیا اور اس کی ضرورت پوری کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9115
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، قابوس بن ابي ظبيان ليّن،يكتب حديثه ولا يحتج به، أخرجه الطبراني: 12611، والبيھقي: 1/ 39 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2409»