کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
حدیث نمبر: 9101
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ أَلَا تُخْبِرُنَا عَنْ خَبَرِ أَبِيكَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَثُرَ الضَّيْفُ عِنْدَهُ قَالَ لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ بِضَيْفِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ اجْتَمَعَ عِنْدَهُ ضِيفَانٌ كَثِيرٌ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ مَعَ جَلِيسِهِ قَالَ فَكُنْتُ مِمَّنِ انْقَلَبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ يَا عَائِشَةُ هَلْ مِنْ شَيْءٍ قَالَتْ نَعَمْ حُوَيْسَةٌ كُنْتُ أَعْدَدْتُهَا لِإِفْطَارِكَ قَالَ فَجَاءَتْ بِهَا فِي قُعَيْبَةٍ لَهَا فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا قَلِيلًا فَأَكَلَهُ ثُمَّ قَالَ خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ فَأَكَلْنَا مِنْهَا حَتَّى مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَرَابٍ قَالَتْ نَعَمْ لُبَيْنَةٌ كُنْتُ أَعْدَدْتُهَا لَكَ قَالَ هَلُمِّيهَا فَجَاءَتْ بِهَا فَتَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَهَا إِلَى فِيهِ فَشَرِبَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ اشْرَبُوا بِاسْمِ اللَّهِ فَشَرِبْنَا حَتَّى وَاللَّهِ مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ خَرَجْنَا فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى وَجْهِي فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُوقِظُ النَّاسَ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ يُوقِظُ النَّاسَ لِلصَّلَاةِ فَمَرَّ بِي وَأَنَا عَلَى وَجْهِي فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفَةَ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حارث بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ بنو غفار کا ایک آدمی ہمارے پاس آ گیا،یہ سیدنا عبد اللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا، ابو سلمہ نے اس آدمی سے کہا: کیا تو ہمیں اپنے باپ کا واقعہ نہیں بتلائے گا؟ اس نے کہا: میرے باپ سیدنا عبد اللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مہمان زیادہ ہو جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ہر آدمی ایک مہمان کو اپنے گھر لے جائے۔ ایک رات بہت زیادہ مہمان جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی اپنے ہم نشیں کے ساتھ چلا جائے۔ میں عبد اللہ بن طہفہ ان لوگوں میں تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کھانے کی کوئی چیز ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، حویسہ (کھجور، پنیر اور گھی سے تیار شدہ کھانا) ہے، میں نے آپ کی افطاری کے لیے تیار کیاتھا، پھر وہ ایک چھوٹے پیالے میں لے کر آگئیں، پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس کو پکڑا، اس سے کچھ تناول کیا اور پھر فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ کھاؤ۔ پس ہم نے اس سے کھایا،یہاں تک کہ ہم (زیادہ سیر ہو جانے کی وجہ سے) اس کو دیکھ نہیں رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ سے فرمایا: کیا کوئی مشروب ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تھوڑا سا دودھ ہے، میں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے آؤ۔ پس وہ لے کر آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پکڑا، اپنی منہ کی طرف اٹھایا اور اس سے تھوڑا سا پیا اور پھر فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ پیو۔ پس ہم نے پیا،یہاں تک کہ اللہ کی قسم! ہم (کثرت ِ سیرابی کی وجہ سے) اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے، پھر ہم وہاں سے نکل کر مسجد میں آگئے اور میں چہرے کے بل لیٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز کے لیے جگانے کے لیے فرمانے لگے: نماز، نماز، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلتے تھے تو لوگوں کو نماز کے لیے جگاتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں اپنے چہرے کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں عبد اللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ لیٹنے کے اس انداز کو نا پسند کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ضیافت نہ کر سکتے تو صحابۂ کرام کو حکم فرماتے کہ وہ مہمانوں کو لے جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9101
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابن عبد الله بن طھفة، أخرجه البخاري في تاريخه الكبير : 4/ 366، في الاوسط : 1/ 152 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24015»
حدیث نمبر: 9102
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ بِسَادِسٍ أَوْ كَمَا قَالَ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ فَانْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَأَبُو بَكْرٍ بِثَلَاثَةٍ قَالَ فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي وَلَا أَدْرِي هَلْ قَالَ وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْتِ أَبِي بَكْرٍ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صَلَّيْتُ الْعِشَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى نَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ قَالَ أَوَ مَا عَشَّيْتِهِمْ قَالَتْ أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ قَالَ يَا غُنْثَرُ أَوْ يَا عَنْتَرُ فَجَدَّعَ وَسَبَّ وَقَالَ كُلُوا لَا هَنِيئًا وَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا قَالَ وَحَلَفَ الضَّيْفُ أَنْ لَا يَطْعَمَهُ حَتَّى يَطْعَمَهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هَذِهِ مِنَ الشَّيْطَانِ قَالَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ قَالَ فَأَيْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا قَالَ حَتَّى شَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا قَالَتْ لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ ثُمَّ أَكَلَ لُقْمَةً ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضَى الْأَجَلُ فَعَرَّفْنَا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ أُنَاسٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ غَيْرَ أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ كَمَا قَالَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اصحاب ِ صفہ فقیر لوگ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار فرمایا: جس کے پاس دو افراد کا کھانا ہو، وہ تیسرا بندہ لے جائے، جس کے پاس چار افراد کا کھانا ہو، وہ پانچواں اور چھٹا بندہ لے جائے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس افراد کو اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تین افراد کو لے گئے۔ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گھر میں میں، میرے باپ، میری ماں اور ہمارے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر کاایک خادم تھا، راوی کو یہ یاد نہیں رہا کہ انھوں نے بیوی کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شام کا کھانا کھا لیا، پھر وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میں نے نماز کی عشاء پڑھی، پھر وہ واپس لوٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آنے لگی، پھر وہ رات کا کافی حصہ گزر جانے کے بعد گھر واپس آئے، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو اپنے مہمانوں سے روکے رکھا؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے ان کو شام کا کھانا نہیں کھلایا؟ انھوں نے کہا: انھوں نے آپ کی آمد تک انکار کر دیا، ہم نے ان کو کھانا پیش کیا تھا، لیکن ان کا انکار ہم پر غالب آیا۔ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے نکلاور چھپ گیا، انھوں نے کہا: اے غُنْثَر! یا اے عَنْتَر! پس انھوں نے مجھے بد دعا دی اور برا بھلا کہا، اور مہمانوں سے کہا: کھاؤ، خوشگوارنہ ہو، اللہ کی قسم! میں بالکل نہیں کھاؤں گا، اُدھر مہمان نے بھی قسم اٹھا لی کہ وہ بھی اس وقت نہیں کھائے گا، جب تک ابو بکررضی اللہ عنہ نہیں کھائیں گے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، پھر انھوں نے کھانا منگوایا اور کھا لیا اور کہا: اللہ کی قسم! ہم جو لقمہ پکڑتے تھے، اس کے نیچے سے اس سے زیادہ بڑھ جاتا تھا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور کھانا پہلے سے زیادہ پڑا تھا، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کھانا تو اسی مقدار میں پڑا ہوا، بلکہ اس سے زیادہ ہے، پس انھوں نے اپنی بیوی سے کہا: اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے زیادہ لگ رہا ہے، انھوں نے یہ بات تین بار دوہرائی، پس ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس سے کھایا اور کہا: یہ قسم تو شیطان کی طرف سے تھی، پھر انھوں نے لقمہ کھایا اور پھر وہ کھانا اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طر ف لے گئے اور وہ کھانا صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا، عبد الرحمن کہتے ہیں: ہمارے اور لوگوں کے ما بین معاہدہ تھا اور وہ مدت گزر گئی تھی، پس ہم نے بارہ نقیب بنائے، ہر نقیب کے ساتھ کچھ لوگ تھے، یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کی تعداد کتنی کتنی تھی، بہرحال ان کو ان کے ساتھ بھیجا تھا، پس ان سب نے اس کھانے سے کھا لیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت میں اصحاب ِ صفہ کو اَضَیَافُ الْاِسْلَام یعنی اسلام کے مہمان قرار دیا گیا۔
اَبُوْابُ تَعْظِیْمِ حُرُمَاتِ الْمُسْلِمِیْنَ
مسلمانوں کی حرمتوں کی عظمت کے ابواب
وَبَیَانُ حُقُوْقِھِمْ وَالشَّفْقَۃِ عَلَیْھِمْ وَالنُّصْحِ لَھُمْ وَحُسْنِ الظَّنِّ بِھِمْ وَسَتْرِعَوْرَاتِھِمْ وَغَیْرِ ذٰلِکَ۔
مسلمانوں کے حقوق،ان پر شفقت کرنے، ان کی خیرخواہی کرنے، ان کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور ان کے عیوب پر پردہ ڈالنے وغیرہ کا بیان۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 9102
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرج بنحوه وبالاختصار البخاري: 6140، ومسلم: 2057 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1712»