حدیث نمبر: 9092
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((حَقُّ الضِّيَافَةِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضیافت کا حق تین دن ہے، اس کے بعد مہمان جو کچھ پائے گا، وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 9093
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9094
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَحَدٍ حَتَّى يُؤْثِمَهُ)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ قَالَ ((يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يَقْرِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضیافت تین ایام ہے اور مہمان کا جائزہ ایک دن رات تک ہے، اور کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کے پاس اس قدر ٹھہرے کہ اسے گنہگار کر دے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اسے گنہگار کیسے کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی صورت یہ ہے کہ مہمان اس کے پاس ٹھہرے، جبکہ اس کے پاس ضیافت کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … جائزہ سے مراد طاقت کے مطابق بہترین کھانا ہے، ویسے ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد مہمان پر صدقہ ہو گا۔
معلوم ہو اکہ مہمان کے لیے پہلے عمدہ کھانے کا اہتمام کیا جائے، لیکن تکلف سے بچنا ضروری ہے، اس کے بعد دو دن مزید معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، تین دنوں کے بعد میزبانی بطورِ صدقہ ہو گی۔
آج کل لوگ معرفت والے مہمانوں کے لیے بہت تکلف کرتے ہیں، بلکہ ایک ایک دسترخوان پر چھ سات سات ڈشیں سج جاتی ہیں، بعض لوگ تو ایسی ضیافت کے لیے قرض بھی لے لیتے ہیں اور بعض کو دیکھا ہے کہ وہ ایسی میزبانی کر کے اپنے مہینے کے روٹین خرچ کو خراب کر دیتے ہیں اور مہینے کے آخر میں پریشان نظر آتے ہیں، جبکہ اجنبی مہمان کو ایک قسم کا کھانا کھلانے میں ہر آدمی کے لیے دشوار نظر آتا ہے۔ یہ تمام امور مسنون ضیافت کا تقاضا نہیں ہیں۔
معلوم ہو اکہ مہمان کے لیے پہلے عمدہ کھانے کا اہتمام کیا جائے، لیکن تکلف سے بچنا ضروری ہے، اس کے بعد دو دن مزید معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، تین دنوں کے بعد میزبانی بطورِ صدقہ ہو گی۔
آج کل لوگ معرفت والے مہمانوں کے لیے بہت تکلف کرتے ہیں، بلکہ ایک ایک دسترخوان پر چھ سات سات ڈشیں سج جاتی ہیں، بعض لوگ تو ایسی ضیافت کے لیے قرض بھی لے لیتے ہیں اور بعض کو دیکھا ہے کہ وہ ایسی میزبانی کر کے اپنے مہینے کے روٹین خرچ کو خراب کر دیتے ہیں اور مہینے کے آخر میں پریشان نظر آتے ہیں، جبکہ اجنبی مہمان کو ایک قسم کا کھانا کھلانے میں ہر آدمی کے لیے دشوار نظر آتا ہے۔ یہ تمام امور مسنون ضیافت کا تقاضا نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 9095
عَنِ الْعَبَّاسِ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يَقُولُ تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا فَأَصَابَنِي سَبْعَ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا شَدَّتْ مَضَاغِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں سات دنوں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا رہا، میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں کھجوریں تقسیم کیں، میرے حصے میں سات کھجوریں آئیں، ان میں ایک ردّ ی کھجور بھی تھی، جبکہ وہ مجھے سب سے زیادہ پسند تھی، اس کو بڑے زور سے چبانا پڑا۔
حدیث نمبر: 9096
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ طَعَامًا فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَلَا يَسْأَلْهُ عَنْهُ فَإِنْ سَقَاهُ شَرَابًا مِنْ شَرَابِهِ فَلْيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ وَلَا يَسْأَلْهُ عَنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے کوئی کھانا کھلائے تو اس کو چاہیے کہ وہ کھانا کھا لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے، اس طرح اگر وہ کوئی مشروب پلائے تو وہ پی لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے۔
حدیث نمبر: 9097
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ أَبِي كَرِيمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ مَحْرُومًا كَانَ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہمان کی (پہلی) رات کی ضیافت ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر وہ میزبان کے ملحقہ صحن میں اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ اس حق سے محروم رہتا ہے تو یہ اس پر قرض ہو گا، مہمان چاہے تو اس کو تقاضا کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 9098
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَيُّمَا مُسْلِمٍ أَضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَإِنَّ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهُ حَتَّى يَأْخُذَ بِقَرَى لَيْلَتِهِ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کسی قوم کا مہمان بنا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا، تو ہر مسلمان پر حق ہو گا کہ وہ اس مہمان کی مدد کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان کی کھیتی اور مال سے اپنی اس رات کی مہمانی کا حق وصول کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … میزبانی، مہمان کا حق ہے۔ میزبان کو چاہیے کہ خندہ پیشانی کے ساتھ اس کا استقبال کرے اور حسب ِ استطاعت اور خوش دلی سے اس کی مہمان نوازی کا حق ادا کرے۔
حدیث نمبر: 9099
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((أَيُّمَا ضَيْفٍ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَدْرِ قِرَاهُ وَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مہمان کسی قوم کے پاس اترا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا تو اس کے لیے جائز ہو گا کہ وہ اپنی میزبانی کے بقدر چیز لے لے، اس میں اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 9100
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يَقْرُونَنَا فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِذَا نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں بعض علاقوں کی طرف بھیجتے ہیں، جب ہم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں، جو ہماری ضیافت نہیں تو اس کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ایسی چیز کا حکم دیں، جو مہمان کے لیے مناسب ہو، تو تم اس چیز کو قبول کرو، اور اگر وہ ایسے نہ کریں تو تم ان سے مہمان کا وہ حق وصول کرو جو ان کا ادا کرنا بنتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … والدین اور بیوی بچوں کے حقوق کی طرح مہمان کی ضیافت بھی ایک حق ہے، جیسے جب خاوند اپنی بیوی کی جائز ضروریات پوری نہ کر رہا ہو تو اس کی بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مال سے اپنا حق چوری کر لیا کرے، ایسے ہی مہمان کا معاملہ ہے کہ میزبان اس کی ضیافت کا حق ادا نہیں کر رہے تو وہ ان سے اپنا حق وصول کر سکتاہے۔ یہ دراصل اسلام کا حسن ہے کہ ایک آدمی اپنے علاقے اور اہل وعیال سے دور ہے تو دوسرے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس کی میزبانی کا حق ادا کریں۔