حدیث نمبر: 9090
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ دَخَلَ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا فَقَالَ كُلُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ فَيَحْتَقِرَ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن عبید کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کا ایک گروہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماکے پاس آیا، انھوں نے روٹی اور سرکہ پیش کیا اور کہا: کھاؤ، یہ چیز پیش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بہترین سالن سرکہ ہے، اس میں آدمی کی ہلاکت ہے کہ اس کے پاس اس کے بھائیوں کا ایک گروہ جائے اور وہ گھر میں موجودہ چیز کو بطورِ ضیافت پیش کرنے کو حقیر سمجھے اور اس میں لوگوں کی ہلاکت ہے کہ جو چیز ان کی میزبانی میں پیش کی جائے، وہ اس کو حقیر سمجھیں۔
حدیث نمبر: 9091
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَدَعَا لَهُ بِمَا كَانَ عِنْدَهُ فَقَالَ لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ لَوْلَا أَنَّا نُهِينَا أَنْ يَتَكَلَّفَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ لَتَكَلَّفْنَا لَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی گیا، انھوں نے ضیافت میں ماحضر پیش کیا اور کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تکلف سے منع نہ کیا ہوتا یا اگر ہم کو اپنے ساتھی کے تکلف کرنے سے منع نہ کیا جاتا تو ہم تمہارے لیے تکلّف کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا ایک متن اس طرح روایت کیا گیا ہے: سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَتَکَلَّفَنَّ أَحَدٌ لِضَیْفِہٖ مَالَایَقْدِرُ عَلَیْہِ۔)) … کوئی آدمی مہمان کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر تکلف نہ کرے۔ (صحیحہ:۲۴۴۰)
اسلام سادگی اور حقیت پر مبنی مذہب ہے، اس میں تکلف و تصنع اور خوشامد و چاپلوسی کی کوئی گنجائش نہیں، جہاں شریعت نے مہمان کی میزبانی کو فرض قرار دیا ہے، وہاں تکلف سے بچنے کی بھی تلقین کی ہے، تاکہ کوئی آدمی مہمان کی خدمت کو بوجھ نہ سمجھے اور میزبان کے غریب ہونے کی صورت میں گھر کے افراد کے کھانے پینے کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
شقیق کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک دوست سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انھوںنے (بطورِ میزبانی) روٹی اور کوئی نمکین چیز پیش کی اور کہا: لَوْلَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَھَانَا عَنِ التَّکَلُّفِ لَتَکَلَّفْتُ لَکُمْ۔ فَقَالَ صَاحِبِی: لَوْکاَنَ فِی مِلْحِنَا سَعْتَرٌ، فَبَعَثَ بِمِطْھَرَتِہِ إِلَی الْبَقَّالِ، فَرَھَّنَھَا، فَجَائَ بِسَعْتَرٍ، فَأَلْقَاہُ فِیْہِ، فَلَمَّا أَکَلْنَا قَالَ صَاحِبِی: اَلْحَمْدِ لِلَّہِ الَّذِی قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا۔ فَقَالَ سَلْمَانُ: لَوْقَنَعْتَ بِمَا رُزِقْتَ لَمْ تَکُنْ مِطْھَرَتِی مَرْھُوْنَۃً عِنْدَالْبَقَّالِ۔ … اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلف سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تمھاری خاطر تکلف
کرتا۔ میرے دوست نے کہا: اگر نمکین ڈش میں پہاڑی پودینہ ڈال دیا جاتا (تو بہت اچھا ہوتا)۔ انھوں نے کوئی لوٹا نُما برتن بطور گروی سبزی فروش کی طرف بھیجا اور پودینہ منگوایا۔ جب ہم کھانا کھا چکے تو میرے دوست نے کہا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اس رزق پر قناعت کرنے کی توفیق بخشی جو اس نے ہمیں دیا۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو نے اپنے رزق پر قناعت کی ہوتی تو میرا برتن سبزی فروش کے پاس گروی نہ پڑا ہوتا۔ (مستدرک حاکم: ۴/۱۲۳، صحیحہ: ۲۳۹۲)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلف کرنے سے منع فرمایا، صحابۂ کرام اس کا مفہوم یہ سمجھے تھے کہ گھر میں جو موجود ہے، اسے مہمان کی میزبانی کے لیے کافی سمجھا جائے اور مہمان کو چاہیے کہ ماحضر پر قناعت کرے اور اپنی پسند کی کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔ ہاں اگر اصرار کے ساتھ کسی سے اس کی پسند کے متعلق پوچھا جائے تو اظہار کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔
ہم لوگ حقیقی باہمی محبت سے محروم ہیں، قرابتداروں کے حقوق سے غافل ہیں اور ظاہری رکھ رکھاؤ کو بڑی ترجیح دیتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ شرمو کو شرمی کا ضابطہ ترک کر دیں اور مسلمانوں سے بحیثیت مسلمان تعلق رکھیں اور ہر معاملے میں اعتدال برتیں۔ مثلا اگر گرمی کے موسم میں آنے والے مہمان کو بازار سے قیمتی مشروب خرید کر پلانے کی استطاعت نہ ہو، تو گھر میں تیار کی جانے والی شکنجبیں وغیرہ پلا دی جائے، تاکہ مہمان بھی سیراب ہو جائے اور میزبانی کا حق بھی پورا ہو جائے۔ یہی معاملہ کھانے وغیرہ کا ہے۔
اسلام سادگی اور حقیت پر مبنی مذہب ہے، اس میں تکلف و تصنع اور خوشامد و چاپلوسی کی کوئی گنجائش نہیں، جہاں شریعت نے مہمان کی میزبانی کو فرض قرار دیا ہے، وہاں تکلف سے بچنے کی بھی تلقین کی ہے، تاکہ کوئی آدمی مہمان کی خدمت کو بوجھ نہ سمجھے اور میزبان کے غریب ہونے کی صورت میں گھر کے افراد کے کھانے پینے کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
شقیق کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک دوست سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انھوںنے (بطورِ میزبانی) روٹی اور کوئی نمکین چیز پیش کی اور کہا: لَوْلَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَھَانَا عَنِ التَّکَلُّفِ لَتَکَلَّفْتُ لَکُمْ۔ فَقَالَ صَاحِبِی: لَوْکاَنَ فِی مِلْحِنَا سَعْتَرٌ، فَبَعَثَ بِمِطْھَرَتِہِ إِلَی الْبَقَّالِ، فَرَھَّنَھَا، فَجَائَ بِسَعْتَرٍ، فَأَلْقَاہُ فِیْہِ، فَلَمَّا أَکَلْنَا قَالَ صَاحِبِی: اَلْحَمْدِ لِلَّہِ الَّذِی قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا۔ فَقَالَ سَلْمَانُ: لَوْقَنَعْتَ بِمَا رُزِقْتَ لَمْ تَکُنْ مِطْھَرَتِی مَرْھُوْنَۃً عِنْدَالْبَقَّالِ۔ … اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلف سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تمھاری خاطر تکلف
کرتا۔ میرے دوست نے کہا: اگر نمکین ڈش میں پہاڑی پودینہ ڈال دیا جاتا (تو بہت اچھا ہوتا)۔ انھوں نے کوئی لوٹا نُما برتن بطور گروی سبزی فروش کی طرف بھیجا اور پودینہ منگوایا۔ جب ہم کھانا کھا چکے تو میرے دوست نے کہا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اس رزق پر قناعت کرنے کی توفیق بخشی جو اس نے ہمیں دیا۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو نے اپنے رزق پر قناعت کی ہوتی تو میرا برتن سبزی فروش کے پاس گروی نہ پڑا ہوتا۔ (مستدرک حاکم: ۴/۱۲۳، صحیحہ: ۲۳۹۲)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلف کرنے سے منع فرمایا، صحابۂ کرام اس کا مفہوم یہ سمجھے تھے کہ گھر میں جو موجود ہے، اسے مہمان کی میزبانی کے لیے کافی سمجھا جائے اور مہمان کو چاہیے کہ ماحضر پر قناعت کرے اور اپنی پسند کی کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔ ہاں اگر اصرار کے ساتھ کسی سے اس کی پسند کے متعلق پوچھا جائے تو اظہار کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔
ہم لوگ حقیقی باہمی محبت سے محروم ہیں، قرابتداروں کے حقوق سے غافل ہیں اور ظاہری رکھ رکھاؤ کو بڑی ترجیح دیتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ شرمو کو شرمی کا ضابطہ ترک کر دیں اور مسلمانوں سے بحیثیت مسلمان تعلق رکھیں اور ہر معاملے میں اعتدال برتیں۔ مثلا اگر گرمی کے موسم میں آنے والے مہمان کو بازار سے قیمتی مشروب خرید کر پلانے کی استطاعت نہ ہو، تو گھر میں تیار کی جانے والی شکنجبیں وغیرہ پلا دی جائے، تاکہ مہمان بھی سیراب ہو جائے اور میزبانی کا حق بھی پورا ہو جائے۔ یہی معاملہ کھانے وغیرہ کا ہے۔