کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
حدیث نمبر: 9084
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ قَالَ أَنْ تُطْعِمَ الطَّعَامَ وَتَقْرَأَ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کھانا کھلانا اور سلام کہنا ہر شخص کو، تیری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … مہمان کے اکرام کی بنیاد ذاتی معرفت نہیں ہونی چاہیے، جیسا کہ اکثر لوگوں کا رویہ بن چکا ہے، آج کل دو چیزوں کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے، ایک ذاتی معرفت اور ایک سرمایہ داری، جس مہمان میں یہ دو صفات نہ ہوں، اس کے ساتھ تو دعا سلام لینا گوارہ نہیں کیا جاتا، یہ فرق اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔
حدیث نمبر: 9085
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَحْفَظْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی ضیافت کرے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے ہمسائے کی حفاظت کرے، اسی طرح جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
حدیث نمبر: 9086
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ قَالَهَا ثَلَاثًا قَالُوا وَمَا كَرَامَةُ الضَّيْفِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مہمان کا اکرام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن، اور اس کے بعد بھی اگر وہ بیٹھا رہے تو ضیافت اس پر صدقہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 9087
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يُضِيفُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی میں کوئی خیر نہیں ہے، جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام انسانیت کی تکریم اور غمگساری کا خواہاں ہے، اسی خواہش کا تقاضا ہے کہ مہمان کی عزت کی جائے، اس کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا جائے، حسب ِ استطاعت اور خوش دلی سے اس کی مہمانی کی جائے اور اس کے آرام و راحت کا خیال رکھا جائے۔ اسلام نے نہ صرف مہمانی پر زور دیا، بلکہ اس کے تمام آداب مقرر کر دیے اور جہاں مہمان نوازی کو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لانے کا تقاضا قرار دیا، وہاں مہمان کو بھی تنبیہ کر دی کہ وہ اپنے میزبان کے پاس اتنا نہ ٹھہرے کہ وہ اس سے تنگ آ جائے۔ بہر حال مہمان نوازی سے جی چرانا خیرو بھلائی سے محرومی کاباعث ہے، مہمان خیرو برکت کا باعث بنتا ہے، جب سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی نے خود کو اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہمان کی میزبانی کا حق ادا کیا تو ان کے اندازِ میزبانی پر اللہ تعالیٰ مسکرائے اور یہ آیات نازل فرما دیں: {وَیُؤثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْکَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} (سورۂ حشر: ۹) … اور وہ (دوسرے حاجتمندوں کو) اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ اُن کو سخت بھوک ہو اور جو لوگ نفسوں کی بخیلی سے بچ گئے، وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ (الصحیحۃ:۳۲۷۲)
اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے عمل پر تعجب کرے اور مسکرائے اور رہتی دنیا تک اپنے کلام میں اس کا تذکرہ کر دے۔ لہٰذاہمیں خوشنودیٔ الہی کے حصول کے لیے، فقر و فاقہ سے نہ ڈرتے ہوئے فراخ دلی سے مہمان کی خدمت کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ خیر و برکت کے دروازے کھول دے گا۔ غور فرمائیں کہ میزبانی کے وصف سے محروم شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے برکتا اور خیر سے محروم قرار دیا ہے۔
قارئین کرام! یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہم لوگ معرفت اورعدم معرفت کو سامنے رکھ کر مہمانوں کی میزبانی میں بہت زیادہ فرق کرتے ہیں۔ مثلا ایک مہمان کی پرتکلف خدمت کی، ایک کو صلح شلح پہ ٹال دیا، ایک کو اتنا کمتر سمجھا کہ اسے چائے وائے کا ست کرنا بھی گوارہ نہ کیا اورکسی کے لیے تو گھر سے نکلنا ہی مناسب نہ سمجھا اور بچے یا خادم کے ذریعے اسے کوئی پیغام بھیج دینا ہی کافی سمجھ لیا۔
احباب! یہ فرق کیوں ہے؟ کیا اس لیے نہیں کہ پہلے سے جناب کی دوستی تھی، دوسرے سے کچھ دعا وسلام تھا اور تیسرا اجنبی تھا۔
کیا ایسی میزبانی میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام دکھائی دیتا ہے؟ کیا اسلام کے رشتے کو مد نظر رکھا گیا ہے؟کیا مہمان کییہ خدمتیں بطورِ مہمان ہیںیا ذاتی تعلق کی بنا پر؟ میزبانی کے ایسے انداز سے ہمیں باز آ جانا چاہئے، یہ مسکراہٹوں کے تبادلے اور دنیاداری ہے۔
اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے عمل پر تعجب کرے اور مسکرائے اور رہتی دنیا تک اپنے کلام میں اس کا تذکرہ کر دے۔ لہٰذاہمیں خوشنودیٔ الہی کے حصول کے لیے، فقر و فاقہ سے نہ ڈرتے ہوئے فراخ دلی سے مہمان کی خدمت کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ خیر و برکت کے دروازے کھول دے گا۔ غور فرمائیں کہ میزبانی کے وصف سے محروم شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے برکتا اور خیر سے محروم قرار دیا ہے۔
قارئین کرام! یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہم لوگ معرفت اورعدم معرفت کو سامنے رکھ کر مہمانوں کی میزبانی میں بہت زیادہ فرق کرتے ہیں۔ مثلا ایک مہمان کی پرتکلف خدمت کی، ایک کو صلح شلح پہ ٹال دیا، ایک کو اتنا کمتر سمجھا کہ اسے چائے وائے کا ست کرنا بھی گوارہ نہ کیا اورکسی کے لیے تو گھر سے نکلنا ہی مناسب نہ سمجھا اور بچے یا خادم کے ذریعے اسے کوئی پیغام بھیج دینا ہی کافی سمجھ لیا۔
احباب! یہ فرق کیوں ہے؟ کیا اس لیے نہیں کہ پہلے سے جناب کی دوستی تھی، دوسرے سے کچھ دعا وسلام تھا اور تیسرا اجنبی تھا۔
کیا ایسی میزبانی میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام دکھائی دیتا ہے؟ کیا اسلام کے رشتے کو مد نظر رکھا گیا ہے؟کیا مہمان کییہ خدمتیں بطورِ مہمان ہیںیا ذاتی تعلق کی بنا پر؟ میزبانی کے ایسے انداز سے ہمیں باز آ جانا چاہئے، یہ مسکراہٹوں کے تبادلے اور دنیاداری ہے۔
حدیث نمبر: 9088
عَنْ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يَقْرِنِي وَلَمْ يُكْرِمْنِي ثُمَّ نَزَلَ بِي أَقْرِيهِ أَوْ أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ قَالَ بَلِ اقْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک آدمی کے پاس گیا، اس نے نہ میری ضیافت کی اور نہ میری عزت کی، پھر اگر وہی آدمی میرے پاس آ جائے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو اس کے کیے کا بدلہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تو اس کی ضیافت کر۔
حدیث نمبر: 9089
عَنْ سِنَانِ بْنِ سَنَّةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا سنان بن سنّہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شکریہ ادا کرنے والے کھانے والے کا اجر روزہ رکھنے والے اور صبر کرنے والے کی طرح ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بندے کو ہر حالت میں شریعت کے تقاضے پورے کرنے چاہیے۔ اگر مال دار، کھاتا پیتا ہے تو اللہ کی نعمتیں استعمال کرکے شکر ادا کرے اور اس کی فرمانبرداری میں لگا رہے اور اگر تنگی ترشی ہے تو اللہ کے لیے صبر کرے، اس کی تقسیم پر راضی رہے، اس طرح دونوں حالتوں میں آدمی اجر وثواب کا حقدار ٹھہرے گا۔