حدیث نمبر: 9070
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
وضاحت:
فوائد: … آج کے مفاد پرستانہ اور ابن الوقتی دور میں ہمسائیوں کے حقوق کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے، ان کے حقوق کی ادائیگی تو کجا، سرے سے ان کی شناخت ہی نہیں کی جاتی۔گلی کے ایک کونے میں صف ِ ماتم بچھی ہوتی ہے تو دوسرے کونے پہ شادی کی رسومات رقص کناں ہوتی ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمسائے کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائی جائے۔
حدیث نمبر: 9071
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ بَدَلَ يَسْكُتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں لِیَسْکُتْ کی بجائے لِیَصْمُتْ کے الفاظ ہیں۔ (دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔)
حدیث نمبر: 9072
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ ، جن کو صحبت کا شرف حاصل ہوا تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کے ساتھ احسان کرے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
حدیث نمبر: 9073
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالُوا وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ قَالُوا وَمَا بَوَائِقُهُ قَالَ شَرُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ بندہ مؤمن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ بندہ مؤمن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ بندہ صاحب ایمان نہیں ہے۔ تین مرتبہ فرمایا، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص کہ جس کا ہمسایہ اس کے شر سے امن میں نہ ہو۔ انھوں نے کہا: بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا شرّ۔
حدیث نمبر: 9074
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلْيُكْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ لِيَسْكُتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کچھ صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
حدیث نمبر: 9075
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ الْأَنْصَارِيِّ (قَالَ يَزِيدُ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ) قَالَ خَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَنَا بِهِ قَائِمٌ وَرَجُلٌ مَعَهُ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً قَالَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ وَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قَامَ بِكَ الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَتَدْرِي مَنْ هُوَ قُلْتُ لَا قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک انصاری آدمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا، پس جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ایک آدمی آپ پر متوجہ تھا، میں نے سمجھا کہ ان دونوں کی کوئی ضرورت ہو گی، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ترس آنے لگا، بہرحال جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے آپ کو اتنی دیر کھڑے رکھا کہ مجھے تو آپ پر ترس آنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ کون تھا؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، انھوں نے مجھے ہمسائے کے بارے اتنی وصیتیں کیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو عنقریب وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔
حدیث نمبر: 9076
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … میراث صرف قریبی رشتہ داروں کا حق ہوتا ہے، لیکن جب ہمسائیوں کے حقوق کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تاکید کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں لگا کہ یہ تو میراث کے بھی حقدار قرار پائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے بھی حق ہیں اور ان میں ہمسائیوں کے حقوق کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے، لیکن اس دور کا مسلمان مکمل اسلام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہے، ہر ایک اپنی ذات کے لیے چند اعمال کا تعین کر کے اسی کو کافی سمجھ بیٹھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے بھی حق ہیں اور ان میں ہمسائیوں کے حقوق کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے، لیکن اس دور کا مسلمان مکمل اسلام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہے، ہر ایک اپنی ذات کے لیے چند اعمال کا تعین کر کے اسی کو کافی سمجھ بیٹھا ہے۔
حدیث نمبر: 9077
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ أَوْ قَالَ خَشِيتُ أَنْ يُوَرِّثَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: میں تو ڈرنے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی قرار دینے لگے ہیں۔
حدیث نمبر: 9078
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 9079
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 9080
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوصِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھے ہمسائے کے بارے میں اتنی نصیحتیں کرتا ہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا ہے کہ اس کو میرا وارث بنانے لگا ہے۔
حدیث نمبر: 9081
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ساتھی وہ ہے، جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین پڑوسی وہ ہے، جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دنیا میں اپنے پڑوسیوں اور ہمسائیوں کے حق میں اچھا ثابت ہونے والے کو اللہ تعالیٰ کا پڑوس نصیب ہو گا۔
حدیث نمبر: 9082
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا طَبَخْتَ فَأَكْثِرِ الْمَرَقَةَ وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ أَوِ اقْسِمْ بَيْنَ جِيرَانِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس کا شوربا زیادہ کر کے اپنے ہمسائیوں کا خیال رکھا کرو یا (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا) اپنے ہمسائیوں کے مابین تقسیم کیا کرو۔
حدیث نمبر: 9083
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمسائے کے علاوہ بندہ سیر نہیں ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَـیْـــــًـا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرًا۔} … اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں،یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔ (سورۂ نسائ:۳۶)
ہر وہ شخص آپ کے حسن سلوک کا مستحق ہے، جس سے کسی نہ کسی انداز میں آپ کا واسطہ پڑے، مثلا ہم جماعت، ہم سفر اور ایک دفتر میں کام کرنے والے لوگ، وغیرہ۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختلف قسم کے انسانوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور پڑوسیوں کی تین قسمیں ذکر کیں: (۱)رشتہ دار پڑوسی، (۲)اجنبی پڑوسی اور (۳)پہلو کا ساتھییعنی ساتھ بیٹھنے والا۔
اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور نیک سلوک کرنا چاہیے، خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہوں، خواہ مسلمان ہوں یایہودو نصرانی ہوں۔
ہر وہ شخص آپ کے حسن سلوک کا مستحق ہے، جس سے کسی نہ کسی انداز میں آپ کا واسطہ پڑے، مثلا ہم جماعت، ہم سفر اور ایک دفتر میں کام کرنے والے لوگ، وغیرہ۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختلف قسم کے انسانوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور پڑوسیوں کی تین قسمیں ذکر کیں: (۱)رشتہ دار پڑوسی، (۲)اجنبی پڑوسی اور (۳)پہلو کا ساتھییعنی ساتھ بیٹھنے والا۔
اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور نیک سلوک کرنا چاہیے، خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہوں، خواہ مسلمان ہوں یایہودو نصرانی ہوں۔