کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے¤اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9063
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ إِذَا اتَّقَى اللَّهَ وَأَشَارَ مَالِكٌ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے یا کسی اور کے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ساتھ مالک راوی نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 9064
عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزَى بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ماں باپ دونوں کی طرف سے ہو جانے والے یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں اپنے ساتھ ملا لیا،یہاں تک کہ وہ یتیم اس سے غنی ہو گیا تو ایسے آدمی کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی اور جس نے مسلمان غلام آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم سے آزادی کا باعث ہو گا، اس غلام کا ہر عضو آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے کفایت کرنے والا ہو گا۔
حدیث نمبر: 9065
عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ مَالِكٌ أَوِ ابْنُ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَوْ رَجُلًا مُسْلِمًا كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زرارہ بن اوفی اپنی قوم کے مالک یا ابن مالک نامی صحابی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے مسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے یتیم ہو جانے والے بچے کو اپنے کھانے پینے میں اپنے ساتھ رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس یتیم کو غنی کر دیا تو اس کے لیے قطعی طور پر جنت واجب ہو جائے گی، جس مسلمان نے مسلمان غلام کو آزاد کیا تو یہ آگ سے اس کی آزادی کاباعث بنے گا اور جس آدمی نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے۔
حدیث نمبر: 9066
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں یتیم اور عورت کے حقوق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ویسے تو ہر مسلمان کے حقوق ادا کرنا ضروری ہیں، بہرحال یتیم اور عورت جیسے بے آسرا افراد کے حقوق کی ادائیگی میں زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
قابل غور بات ہے کہ بیوی کو ضعیف کہا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اس کا تعلق امیر گھرانے سے ہو گا، لیکن شادی کے بعد وہ خاوند کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، اگر وہی بد اخلاق ہو تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور بیوی کے والدین اور بھائیوں کی محبت اور دولت کی وجہ سے اس کی بے سکونی میں کمی نہیں آتی۔ ایسی بیچاری خاتون کو نہ طلاق لینے میں فائدہ نظر آتا ہے اور نہ نکاح میں سکون ملتا ہے۔ ہم نے کئی عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے خاوندوں کے غریب ہونے کی وجہ سے بچوں کا خرچہ بھی اپنے والدین سے لاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خاوند کا رویہ کسی ظالم و جابر سے کم نہیں ہوتا۔ کیا ایسی بناتِ آدم کا یہی قصور ہے کہ انھوں نے نکاح کے وقت ان ناعاقبت اندیشوں کو اپنا خاوند تسلیم کر لیا تھا؟ کیا ہے کوئی ترس کھانے والا؟
قابل غور بات ہے کہ بیوی کو ضعیف کہا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اس کا تعلق امیر گھرانے سے ہو گا، لیکن شادی کے بعد وہ خاوند کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، اگر وہی بد اخلاق ہو تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور بیوی کے والدین اور بھائیوں کی محبت اور دولت کی وجہ سے اس کی بے سکونی میں کمی نہیں آتی۔ ایسی بیچاری خاتون کو نہ طلاق لینے میں فائدہ نظر آتا ہے اور نہ نکاح میں سکون ملتا ہے۔ ہم نے کئی عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے خاوندوں کے غریب ہونے کی وجہ سے بچوں کا خرچہ بھی اپنے والدین سے لاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خاوند کا رویہ کسی ظالم و جابر سے کم نہیں ہوتا۔ کیا ایسی بناتِ آدم کا یہی قصور ہے کہ انھوں نے نکاح کے وقت ان ناعاقبت اندیشوں کو اپنا خاوند تسلیم کر لیا تھا؟ کیا ہے کوئی ترس کھانے والا؟
حدیث نمبر: 9067
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ امْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ وَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی دل کی سختی کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اور مسکین کو کھانا کھلایا کر۔
حدیث نمبر: 9068
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَسَحَ رَأْسَ يَتِيمٍ لَمْ يَمْسَحْهُ إِلَّا لِلَّهِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ وَفَرَّقَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کسی یتیم کے سر پھر ہاتھ پھیرا تو اس کا ہاتھ جتنے بالوں پر سے گزرے گا، اس کو اتنے بالوں کے بقدر نیکیاں ملیں گی اور جس نے یتیم بچے یا بچی کے ساتھ احسان کیا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت ِ شہادت اوردرمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 9069
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ كَالَّذِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کے لیے محنت کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہیں۔